نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابۂ کرام ؓ کی سختیاں، بھوک اور پیاس برداشت کرنا
مؤذنِ رسول حضرت بلال بن ربَاح ؓ کا سختیاںبرداشت کرنا
حضرت ابن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے اسلام کو ظاہر کرنے والے سات آدمی ہیں۔ حضورﷺ،حضرت ابو بکر اور حضرت عمار اور ان کی والدہ حضرت سمیّہ اور حضرت صہیب اور حضرت بلال اور حضرت مقدادؓ ۔ اللہ تعالیٰ نے حضورﷺ کی حفاظت ان کے چچا کے ذریعہ سے کی اور حضرت ابو بکر کی حفاظت ان کی قوم کے ذریعہ سے کی۔ باقی تمام آدمیوں کو مشرکین نے پکڑ کر لوہے کی زرہیں پہنائیں اور انھیں سخت دھوپ میں ڈال دیا جس سے وہ زرہیں بہت گرم ہوگئیں۔ اور حضرت بلالؓ کے علاوہ باقی سب نے مجبور ہوکر ان مشرکوں کی بات مان لی، لیکن حضرت بلال کو اللہ کے دین کے بارے میں اپنی جان کی کوئی پروا نہ تھی اور ان کی قوم کے ہاں ان کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔چناں چہ مشرکوں نے حضرت بلال کو پکڑ کر لڑکوں کے حوالے کردیا جو انھیں مکہ کی گلیوں میں چکر دیتے پھرتے اور وہ اَحداَحدکہتے رہتے(یعنی معبود ایک ہی ہے) 1
حضرت مجاہد کی حدیث میںاس طرح ہے کہ باقی حضرات کو مشرکین نے لوہے کی زِرہیں پہنا کر سخت دھوپ میں ڈال دیا جس سے وہ زِرہیں سخت گرم ہوگئیں، اور لوہے کی گرمی اور دھوپ کی گرمی کی وجہ سے ان حضرات کو بہت زیادہ تکلیف ہوئی ۔ شام کو ابو جہل لَعَنَہُ اللّٰہُ نیزہ لیے ہوئے ان حضرات کے پاس آیا اور انھیں گالیاں دینے لگا اور انھیں دھمکی دینے لگا۔2
حضرت مجاہد کی ایک حدیث میں یوں ہے کہ مشرکین حضرت بلال ؓ کے گلے میں رسی ڈال کر مکہ کے دونوں اَخْشَبَین پہاڑوں کے درمیان لیے پھرتے ۔3
حضرت عروہ بن زبیر ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت بلالؓ بنو جمح قبیلہ کی ایک عورت کے غلام تھے، اور مشرکین اُن کو مکہ کی تپتی ہوئی ریت پر لٹا کر تکلیف پہنچاتے اور ان کے سینے پر پتھر رکھ دیتے تاکہ ان کی کمر گرم رہے اور یہ تنگ آکر مشرک ہوجائیں، لیکن وہ اَحد اَحد کہتے رہتے۔ ورقہ (ابنِ نوفل بن اسد بن عبدالعزّیٰ حضرت خدیجہؓکے چچازاد بھائی) اس حال میں ان کے پاس سے گزرتے اور کہتے: اے بلال! اَحد اَحد، یعنی واقعی معبود ایک ہی ہے۔ (اور مشرکوں سے کہتے) اللہ کی قسم! اگر تم نے ان کو قتل کردیا تو میں ان کی قبر کو برکت اور رحمت کی جگہ بناؤں گا۔4
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ ورقہ بن نوفل حضرت بلال ؓ کے پاس سے گزرتے اور مشرک انھیں تکلیفیں پہنچا رہے ہوتے اور حضرت بلال اَحد اَحد کہہ رہے ہوتے، یعنی معبود ایک ہی ہے۔ تو ورقہ کہتے: واقعی معبود ایک ہی ہے۔ اور اے بلال! وہ معبود اللہ ہے۔ پھر ورقہ بن نوفل اُمیّہ بن خلف کی طرف متوجہ ہوتے جو کہ حضرت بلال کو تکلیفیں پہنچا رہا ہوتا تھا، تو ورقہ کہتے: میں اللہ عزّوجل کی قسم کھا کر کہتا ہوں! اگر تم نے اسے قتل کردیاتو میں ان کی قبر کو برکت اور رحمتِ خداوندی کی جگہ بناؤں گا۔ ایک دن حضرت ابو بکر صدّیق ؓ کا حضرت بلال پر گزر ہوااور وہ مشرک ان کو تکلیفیں پہنچارہے تھے، تو حضرت ابوبکر نے اُمیّہ سے کہا: ارے! کیا تم اس مسکین کے بارے میں اللہ سے نہیں ڈرتے ہو؟ کب تک (ان کو یوں سزا دیتے رہو گے؟) اُمیّہ نے کہا: تم نے ہی تو ان کو بگاڑا ہے اب تم ہی ان کو ان تکلیفوں سے چھڑاؤ ۔ حضرت ابو بکر نے کہا: اچھا، میں انھیں چھڑانے کے لیے تیار ہوں۔ میرے پاس ایک کالا غلام ہے جو اُن سے زیادہ مضبوط اور طاقت ور ہے، اور وہ تمہارے دین پر ہے۔ وہ غلام تمہیں حضرت بلال کے بدلہ میں دیتا ہوں۔ اُمیّہ نے کہا: مجھے قبول ہے۔ حضرت ابو بکر نے کہا: وہ میں نے تمہیں دے دیا۔ حضرت ابوبکر نے اپنا وہ غلام دے کر حضرت بلال کو لے لیا اور انھیں آزاد کردیا۔ مکہ سے ہجرت کرنے سے پہلے حضرت ابو بکر ؓ نے اِسلام کی وجہ سے حضرت بلال ؓ کے علاوہ چھ اور غلاموں کو آزاد کیا ۔ 1
ابنِاسحاق سے روایت ہے کہ جب دوپہر کو تیز گرمی ہوجاتی تو اُمیّہ حضرت بلال ؓ کو لے کر باہر نکلتا اور مکہ کی پتھریلی زمین پر اُن کو کمر کے بَل لٹا دیتا۔پھر وہ کہتا کہ ایک بڑا پتھر ان کے سینے پر رکھ دیا جائے۔ چناںچہ ایک بڑا پتھر ان کے سینے پر رکھ دیا جاتا۔ پھر حضرت بلال سے کہتا: تم ایسے ہی (ان تکلیفوں میں مبتلا) رہو گے یہاں تک کہ یا تو تم مر جاؤ یا محمد ( ؑ) کا اِنکارکرکے لات اور عزّیٰ کی عبادت شروع کردو۔ لیکن حضرت بلال ان تمام تکلیفوں کے باوجود اَحد اَحد کہتے رہتے کہ معبود تو ایک ہی ہے۔ حضرت عمار بن یاسر ؓ نے یہ چند اَشعار کہے ہیں جن میں انھوں نے حضرت بلال اور اُن کے ساتھیوں کے تکلیفیں اٹھانے کا اور حضرت ابوبکر ؓ کے حضرت بلال کو آزاد کرنے کا ذکر کیا ہے۔
حضرت ابو بکر ؓ کا لقب عتیق تھا یعنی دوزخ سے آزاد۔ (حضور ﷺ نے اُن کو یہ لقب دیا تھا، یا اُن کی والدہ نے اُن کا یہ نام رکھا تھا)
جَزیَ اللّٰہُ خَیْرًا عَنْ بِلَالٍ وَّصَحْبِہٖ
عَتِیقًا وَّأَخْزٰی فَاکِھًا وَّأبَا جَھْلٖ
اللہ تعالیٰ حضرت بلال اور ان کے ساتھیوں کی طرف سے عتیق (حضرت ابو بکر ؓ ) کو جزائے خیر عطا فرمائے اور فاکہ اور ابوجہل کو رسوا کرے۔
عَشِـیَّۃَ ھَمَّا فِيْ بِـلَالٍ بِسَوْئَ ۃٍ
وَلَمْ یَحْذَرَا مَا یَحْذَرُ الْمَرْئُُ ذُو الْعَقْلٖ
میں اس شام کو نہیں بھولوں گا جس شام کو یہ دونوں حضرت بلال کو سخت تکلیف دینا چاہتا تھے، اور عقل مند آدمی جس تکلیف سے بچتا ہے یہ دونوں اس سے بچنا نہیں چاہتے تھے۔
بِتَوْحِیْدِہٖ رَبَّ الْأَنَامِ وَقَوْلِہٖ
شَھِدْتُّ بِأَنَّ اللّٰہَ رَبِّيْ عَلَی مَھْلٖ
وہ دونوں حضرت بلال کو اس وجہ سے تکلیفیں دینا چاہتے تھے، کیوں کہ حضرت بلال لوگوں کا ایک خدا مانتے تھے اور کہتے تھے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ میرا ربّ ہے اور اس پر میرا دل مطمئن ہے۔
فَإِنْ یَّقْتُلُوْنِيْ یَقْتُلُوْنِيْ فَلَمْ أَ کُنْ
لِأُشْرِکَ بِالرَّحْمٰنِ مِنْ خِیْفَۃِ الْقَتْلٖ
اگر یہ مجھے مارنا چاہتے ہیں تو ضرور مار دیں، میں قتل کے ڈر سے رحمن کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرسکتا ہوں۔
فَیَا رَبَّ إِبْرَاھِیْمَ وَالْعَبْدِ یُوْنُسَ
وَمُوْسٰی وَعِیْسٰی نَجِّنِيْ ثُمَّ لَا تُبْلٖ
لِمَنْ ظَلَّ یَھْوَی الْغَيَّ مِنْ آلِ غَالِبٍ
عَلَی غَیْرِ بِرٍّ کَانَ مِنْہُ وَلَا عَدْلٖ
اے ابراہیم اور یونس اور موسی اور عیسیٰ ؑ کے ربّ ! مجھے نجات عطا فرما اور پھر مجھے آلِ غالب کے اُن لوگوں کے ذریعہ آزمایش میں نہ ڈال جو گمراہ ہونا چاہتے ہیں اور نہ وہ نیک ہیں اور نہ انصاف کرنے والے ۔ 1