نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابۂ کرام ؓ کی سختیاں، بھوک اور پیاس برداشت کرنا

حضرت عمار بن یاسر ؓ اور ان کے گھر والوں کا سختیاں برداشت کرنا

حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمار ؓ اور اُن کے گھر والوں کو بہت زیادہ تکلیفیں دی جا رہی تھیں کہ اُن کے پاس سے حضور ﷺ کا گزر ہوا۔ آپ نے فرمایا: اے آلِ عمار! اے آلِ یاسر ! خوش خبری سنو! تم سے وعدہ ہے کہ (ان تکلیفوں کے بدلہ میں) تم کو جنت ملے گی۔ 1 حضرت عثمان ؓ فرماتے ہیں کہ میں حضور ﷺ کے ساتھ مکہ کی پتھریلی زمین بَطْحَا پر چل رہا تھا کہ میں نے دیکھا کہ حضرت عمار اور اُن کے والد اور والدہ ؓ تینوں کو دھوپ میں ڈال کر سزا دی جا رہی ہے تاکہ وہ اِسلام سے پھر جائیں۔ حضرت عمار کے والد نے کہا: یا رسول اللہ! ساری عمر ایسا ہی ہوتا رہے گا؟ آپ نے فرمایا: اے آلِ یاسر! صبر کرو۔ اے اللہ!آلِ یاسر کی مغفرت فرما اور تونے ان کی مغفرت ضرور کردی ۔ 2 حضرت عبداللہ بن جعفر ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت یاسر اور حضرت عمار اور حضرت عمار کی والدہ ؓ کے پاس سے حضور ﷺ کا گزر ہوا۔ ان تینوںکو اللہ (کے دین) کی وجہ سے اَذیت پہنچائی جا رہی تھی۔ آپ نے اُن سے فرمایا: اے آلِ یاسر ! صبر کرو۔ اے آلِ یاسر! صبر کرو، کیوں کہ تم سے وعدہ کیا گیا ہے کہ تم کو جنت ملے گی۔ 3 ابن الکلبی کی روایت میں یہ ہے کہ ان تینوں کے ساتھ عبداللہ بن یاسر ؓ تھے۔ اور ملعون ابوجہل نے حضرت سمیہ ؓ کی شرمگاہ میں نیزہ مارا جس سے وہ شہید ہوگئیںاور حضرت یاسر ؓ بھی ان ہی تکلیفوں میں انتقال فرما گئے اور حضرت عبداللہ ؓکو بھی تیر مارا گیا جس سے وہ گر گئے۔1 اِمام احمد کی روایت حضرت مجاہد سے منقول ہے کہ اِسلام میں شہادت کا مرتبہ سب سے پہلے حضرت عمار ؓکی والدہ حضرت سمیہ ؓ کو ملا جن کی شرمگاہ میں ابوجہل نے نیزہ مارا تھا۔2 حضرت ابوعبید ہ بن محمد بن عمار بیان کرتے ہیں کہ مشرکوں نے حضرت عمار ؓکو پکڑ کر اتنی تکلیفیں پہنچائیں کہ آخر (ان کو اپنی جان بچانے کے لیے) حضور ﷺ کی شان میں گستاخانہ بول بولنے پڑے اور مشرکوں کے معبودوں کی تعریف کرنی پڑی۔ جب وہ حضور ﷺ کی خدمت میں آئے تو اُن سے حضور ﷺ نے پوچھا: تم پر کیا گزری؟ انھوں نے کہا: یا رسول اللہ! بہت برا ہوا۔ مجھے اتنی تکلیف پہنچائی گئی کہ آخر مجھے مجبور ہوکر آپ کی گستاخی کرنی پڑی اور اُن کے معبودوں کی تعریف کرنی پڑی۔ آپ نے فرمایا: تم اپنے دل کو کیسا پاتے ہو؟ انھوںنے کہا: میں اپنے دل کو ایمان پر مطمئن پاتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: پھر تو اگروہ دوبارہ تمہیں ایسی سخت تکلیفیں پہنچائیں تو تم بھی دوبارہ (جان بچانے کے لیے )ویسے ہی کرلینا جیسے پہلے کیا ۔ 3 ابو عبید نے حضرت محمد (بن عمار ؓ) سے نقل کیا ہے کہ حضور ﷺ کی حضرت عمار سے ملاقات ہوئی۔ حضرت عمار رو رہے تھے۔ حضور ﷺ اُن کی آنکھوں سے آنسو پوچھنے لگے اور آپ فرما رہے تھے کہ کفار نے تم کو پکڑ کر پانی میں اتنے غوطے دیے کہ تم کو فلاں فلاں (نازیبا اور گستاخی کی) باتیں کہنی پڑیں، (جب تمہارا دل مطمئن تھا تو ان باتوں کے کہنے میں کوئی حرج نہیں)۔ اگر وہ دوبارہ ایسی حرکت کریں تو تم دوبارہ ان کے سامنے اسی طرح کہہ دینا۔ حضرت عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ مشرکوں نے حضرت عمار بن یاسر ؓ کو آگ میں جلایا تھا۔ حضور ﷺ اُن کے پاس سے گزرے اور آپ اُن کے سر پر اپنا ہاتھ پھیر رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ اے آگ! تو عمار کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوجا جیسے تو حضرت ابراہیم ؑ کے لیے ہوگئی تھی۔ (اے عمار!) تمہیں ایک باغی جماعت قتل کرے گی (یعنی تم شہادت پاؤگے)۔ 1