فرشتوں پر ایمان

عقلی دلائل

1: عقل فرشتوں کے وجود کا انکار نہیں کرتی کیونکہ عقل تو ان چیزوں کو رد اور باطل قرار دیتی ہے جو اجتماعِ ضِدَّین کا سبب ہوں جیسے ایک ہی وقت میں کسی چیز کا موجود اور معدوم ہونا یا دو متضاد اشیاء کا ایک ہی وقت میں یکجا ہونا جیسے اندھیرا اور روشنی وغیرہ،جبکہ فرشتوں کا وجود مان لینے سے مندرجہ بالا امور میں سے کچھ بھی لازم نہیں آتا۔ 2: سب دانا اس بات پر متفق ہیں کہ کسی چیز کے نتائج و اثرات اس کے وجود پر دلالت کرتے ہیں۔فرشتوں کے اثرات و نتائج بھی ان کے وجود پر دلالت کرتے ہیں۔دیکھیے ان میں روح الامین علیہ السلام ہیں،جن کے ذریعے سے انبیاء ورسل علیہم السلام کے پاس وحی آتی تھی،یہ ایک ایسا نتیجہ ہے جو ان کے وجود پر صریح دلالت کرنے والا ہے۔تمام جاندار مخلوقات کی روح بھی فرشتے ہی قبض کرتے ہیں،یہ بھی ایک واضح ’’اثر‘‘ ہے جو ملک الموت اور اس کے ساتھیوں کے موجود ہونے کی واضح دلیل ہے۔قرآنِ پاک میں ہے:﴿قُلْ يَتَوَفَّاكُم مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِي وُكِّلَ بِكُمْ﴾’’کہہ دو کہ موت کا فرشتہ جو تم پر مقرر کیا گیا ہے،تمھاری روحیں قبض کر لیتا ہے۔‘‘[3] انسان کا جنوں اور شیاطین کی شرارتوں اور اذیت رسانیوں سے محفوظ رہنا،جبکہ یہ ان کے درمیان زندگی گزارتا ہے۔وہ اسے دیکھتے ہیں مگر انسان انھیں نہیں دیکھ سکتا۔وہ اسے اذیت وتکلیف میں مبتلا کر سکتے ہیں مگر یہ ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا حتیٰ کہ یہ ان کے شر کو بھی دور نہیں کر سکتا۔یہ اس حقیقت کی واضح دلیل ہے کہ انسان کی حفاظت کے لیے فرشتے مقرر ہیں جو اس کی حفاظت کرتے ہیں اور اُسے تکلیف نہیں پہنچنے دیتے۔چنانچہ ارشادِ ربانی ہے: ﴿لَهُ مُعَقِّبَاتٌ مِّن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ اللّٰهِ﴾’’اس کے آگے اور پیچھے محافظ فرشتے ہیں،جو اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔‘‘[1] 3: کوئی چیز نظر کی کمزوری،یاکسی چیز کو دیکھنے کی پوری استعداد نہ رکھنے کی بنا پر دکھائی نہ دے تو اس سے اس کے وجود کی نفی نہیں ہو جاتی۔دیکھیے عالمِ مشاہدہ میں کتنی اشیاء ایسی ہیں جنھیں دیکھنے سے نگاہ قاصر ہے۔مگر اب ایسے امور بھی مشاہدے میں آگئے ہیں،جنھیں پہلے نگاہ دیکھنے سے قاصر تھی۔مائیکرو سکوپ کے ذریعے سے انھیں اب واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔