آسمانی کتابوں پر ایمان
قرآن وسنت سے دلائل
ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ جملہ کتابوں اور صحیفوں پر ایمان رکھے کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو دین اور شریعت کی حیثیت سے نازل ہوا۔ان میں سب سے بڑی چار کتابیں یہ ہیں:
1 قرآنِ کریم:ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل شدہ عظیم کتاب۔
2 تورات:جو اللہ کے رسول موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی۔
3 زبور:جو اللہ کے نبی داود علیہ السلام پر نازل ہوئی۔
4 انجیل:اللہ کے بندے اور رسول عیسیٰ علیہ السلام پر اترنے والی کتاب۔
ان میں قرآنِ پاک سب سے عظیم کتاب ہے اور ان سب آسمانی کتابوں کے مضامین ومعانی کی محافظ ہے،پہلی سب شریعتوں اور احکام کو منسوخ کرنے والی ہے۔اس بات پر نقلی اور عقلی دلائل یہ ہیں:
کتاب و سنت سے دلائل:
1: اللہ تعالیٰ نے ان کتابوں پر ایمان لانے کا حکم دیا ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا آمِنُوا بِاللّٰهِ وَرَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي نَزَّلَ عَلَىٰ رَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي أَنزَلَ مِن قَبْلُ﴾
’’اے ایمان والو!اللہ اور اس کے رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)پر اور اس کتاب پر(کماحقہ)ایمان لاؤ جو اس نے اپنے پیغمبر(آخر الزماں)پر نازل کی اور اس کتاب پر بھی ایمان لاؤ جو اس نے پہلے نازل کی۔‘‘[2]
2: اللہ تعالیٰ نے انھی کتابوں کے بارے میں فرمایا:﴿اللّٰهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ﴿٢﴾نَزَّلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَأَنزَلَ التَّوْرَاةَ وَالْإِنجِيلَ﴿٣﴾مِن قَبْلُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَأَنزَلَ الْفُرْقَانَ﴾
’’اللہ کے سوا کوئی(سچا)معبود نہیں،وہ زندہ اور کائنات کو تھامنے والا ہے۔اس نے آپ پر حق والی کتاب نازل کی جو پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اور اس سے پہلے اس نے انسانوں کی ہدایت کے لیے تورات اور انجیل نازل کی تھیں اور(اب)حق و باطل میں امتیاز کرنے والی کتاب اتاری ہے۔‘‘[1]
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ الْكِتَابِ وَمُهَيْمِنًا عَلَيْهِ﴾
’’اور ہم نے آپ کی طرف حق کے ساتھ کتاب نازل کی ہے جو پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اور ان(کی اصل تعلیمات)کی محافظ ہے۔‘‘[2]
نیز فرمایا:﴿وَآتَيْنَا دَاوُودَ زَبُورًا﴾’’اور ہم نے داود کو زبور دی۔‘‘[3] مزید فرمایا:﴿وَإِنَّهُ لَتَنزِيلُ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴿١٩٢﴾نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ﴿١٩٣﴾عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِينَ﴿١٩٤﴾بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِينٍ﴿١٩٥﴾وَإِنَّهُ لَفِي زُبُرِ الْأَوَّلِينَ﴿١٩٦﴾
’’اور بے شک یہ کتاب رب العالمین کی نازل کردہ ہے ’’روح الامین‘‘ نے اسے آپ کے دل پر اتارا ہے تاکہ آپ ڈرانے والوں میں سے ہو جائیں،(یہ کتاب)واضح عربی زبان میں ہے اور پہلی کتابوں میں بھی اس کا ذکر ہے۔‘‘[4]
نیز ارشادِ ربانی ہے:﴿إِنَّ هَـٰذَا لَفِي الصُّحُفِ الْأُولَىٰ﴿١٨﴾صُحُفِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَىٰ﴿١٩﴾
’’بے شک یہی(دعوت)پہلے صحیفوں میں بھی ہے،(یعنی)ابراہیم وموسیٰ علیہما السلام کے صحیفوں میں۔‘‘[5]
3: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بہت سی احادیث میں آسمانی کتابوں کے بارے میں خبر دی ہے۔فرمایا:
((إِنَّمَا بَقَائُ کُمْ فِیمَنْ سَلَفَ مِنَ الْأُمَمِ کَمَا بَیْنَ صَلَاۃِ الْعَصْرِ إِلٰی غُرُوبِ الشَّمْسِ،أُوتِيَ أَہْلُ التَّوْرَاۃِ التَّوْرَاۃَ فَعَمِلُوا بِہَا حَتَّی انْتَصَفَ النَّہَارُ،ثُمَّ عَجَزُوا فَأُعْطُوا قِیرَاطًا قِیرَاطًا،ثُمَّ أُوتِيَ أَہْلُ الإِْنْجِیلِ الإِْنْجِیلَ فَعَمِلُوا بِہِ حَتّٰی صُلِّیَتِ الْعَصْرُ،ثُمَّ عَجَزُوا فَأُعْطُوا قِیرَاطًا قِیرَاطًا،ثُمَّ اُوتِیتُمُ الْقُرْآنَ فَعَمِلْتُمْ بِہِ حَتّٰی غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَأُعْطِیتُمْ قِیرَاطَیْنِ قِیرَاطَینِ،فَقَالَ أَہْلُ الْکِتَابِ:ہٰؤُلآَئِ أَقَلُّ مِنَّا عَمَلًا وَّ أَکْثَرُ أَجْرًا،قَالَ اللّٰہُ:ہَلْ ظَلَمْتُکُمْ مِّنْ حَقِّکُمْ مِّنْ شَيْئٍ؟ قَالُوا:لَا،قَالَ:ہُوَ فَضْلِي أُوتِیہِ مَنْ أَشَائُ))
’’پہلے لوگوں کے مقابلے میں امتِ محمدیہ کی زندگی نمازِ عصر سے غروبِ آفتاب تک کے مابین وقت کے برابر ہے۔تورات والوں کو تورا ت عطا ہوئی تو دوپہر تک انھوں نے اس پر عمل کیا،پھر عاجز آگئے اور ایک ایک قیراط(اجرت)کے مستحق ٹھہرے،پھر انجیل والوں کو انجیل ملی،وہ نمازِ عصر پڑھے جانے تک اس پر عمل کرتے رہے،پھر عاجز آگئے اور ایک ایک قیراط کے مستحق بنے۔(عمل کی مدت کم لیکن مزدوری اہلِ تورات کے برابر)،پھر تمھیں قرآن ملا،تم نے غروب آفتاب تک اس پر عمل کیا اور دو دو قیراط کے مستحق قرار دیے گئے۔اہل کتاب نے(یہ بات سنی تو)کہا:’’ان لوگوں کے عمل کا وقت ہم سے تھوڑا ہے اور اجرت زیادہ۔‘‘اللہ تعالیٰ نے فرمایا:’’کیا میں نے تمھارے حق میں کمی کی ہے؟‘‘ انھوں نے کہا:’’نہیں۔‘‘ فرمایا:’’پھر یہ میرا فضل ہے،جسے چاہوں(زیادہ)دوں۔‘‘[1] نیز فرمایا:
((خُفِّفَ عَلٰی دَاوُدَ عَلَیْہِ السَّلَامُ الْقُرْآنُ فَکَانَ یَأْمُرُ بِدَوَابِّہِ فَتُسْرَجُ فَیَقْرَأُ الْقُرْآنَ(التَّوْرَاۃَ،أَوِ الزَّبُورَ)قَبْلَ أَنْ تُسْرَجَ دَوَابُّہُ،وَلَا یَأْکُلُ إِلَّا مِنْ عَمَلِ یَدَیْہِ))
’’داود علیہ السلام پر قرآن(قراء ت)آسان کردیا گیا تھا۔وہ گھوڑوں پر زین رکھنے کا حکم دیتے اور زین لگانے سے قبل کتاب اللہ کی قراء ت مکمل کر لیتے اور اللہ تعالیٰ کے یہ نبی علیہ السلام صرف اپنے ہاتھ کی کمائی کھاتے تھے۔‘‘[2] مزید فرمایا:((لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَیْنِ:رَجُلٌ آتَاہُ اللّٰہُ الْقُرْآنَ فَہُوَ یَتْلُوہُ آنَائَ اللَّیْلِ وَ آنَائَ النَّہَارِ))
’’رشک صرف دو آدمیوں پر کرنا چاہیے،(ان میں سے)ایک وہ(ہے)جسے اللہ نے دولتِ قرآن سے نوازا ہے اور وہ دن اور رات کی گھڑیوں میں قرآن پڑھتارہتا ہے۔‘‘[3]
یہ بھی فرمایا:((تَرَکْتُ فِیکُمْ مَّا إِنِ اعْتَصَمْتُمْ بِہِ فَلَنْ تَضِلُّوا أَبَدًا:کِتَابُ اللّٰهِ وَسُنَّۃُ نَبِیِّہِ))
’’میں تم میں ایسی چیز چھوڑ کر جا رہا ہوں،اگر تم نے اسے مضبوطی سے تھامے رکھا(اس پر عمل کیا)تو ہرگز کبھی بھی گمراہ نہیں ہو گے،(وہ چیز)اللہ کی کتاب اور اس کے نبی(صلی اللہ علیہ وسلم)کی سنت ہے۔‘‘[4]
آپ نے فرمایا:((لَا تُصَدِّقُوا أَہْلَ الْکِتَابِ وَلَا تُکَذِّبُوہُمْ،وَقُولُوا:اٰمَنَّا بِالَّذِي أُنْزِلَ إِلَیْنَا وَ أُنْزِلَ إِلَیْکُمْ،وَ إِلٰہُنَا وَ إِلٰہُکُمْ وَاحِدٌ وَّ نَحْنُ لَہٗ مُسْلِمُونَ))
’’اہل کتاب کی تصدیق اور تکذیب نہ کرو اور کہو کہ ہم اس پر،جو ہماری طرف اور جو تمھاری طرف اتارا گیا ہے، ایمان رکھتے ہیں،ہمارا اور تمھارا معبود ایک ہی ہے اور ہم اسی کے مطیع ہیں۔‘‘[1]
4: ہر دور میں اطرافِ عالم کے لاکھوں کروڑوں علماء،حکماء اور اہلِ ایمان یہ حقیقت تسلیم کر چکے ہیں اور اس پر پکا یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور پوری مخلوق میں سے بہترین لوگوں پر کتابیں نازل کی ہیں اور ان میں اپنی صفاتِ عظیمہ،غیبی احوال،احکامِ دین،اپنے وعدے اور وعیدیں(بُرے افعال پر دھمکیاں)درج کی ہیں۔