نماز کا بیان

نماز جمعہ کا بیان

1 نماز جمعہ کا حکم: نماز جمعہ فرض ہے،اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللّٰهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ﴾ ’’اے ایمان والو!جب جمعہ کے دن نماز کی اذان ہو جائے تو تم اللہ کے ذکر کی طرف جلدی آجایا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔‘‘[3] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَیَنْتَھِیَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ وَّدْعِھِمُ الْجُمُعَاتِ أَوْ لَیَخْتِمَنَّ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوبِھِمْ،ثُمَّ لَیَکُونُنَّ مِنَ الْغَافِلِینَ)) ’’لوگ جمعہ ترک کرنے سے باز آجائیں یا پھر اللہ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا،پھر وہ غافلوں میں سے ہو جائیں گے۔‘‘[4] نیز فرمایا:((اَلْجُمُعَۃُ حَقٌّ وَّاجِبٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ فِي جَمَاعَۃٍ إِلَّا أَرْبَعَۃً:عَبْدٌ مَّمْلُوکٌ،أَوِامْرَأَۃٌ،أَوْ صَبِيٌّ،أَوْ مَرِیضٌ)) ’’جمعہ،جماعت کے ساتھ ہر مسلمان پر حق اور لازم ہے،البتہ چار قسم کے لوگوں پر(واجب نہیں ہے۔)مملوک غلام،عورت،بچہ اور بیمار۔‘‘[5] 2 نماز جمعہ کی مشروعیت کی حکمت: نماز جمعہ جن مقاصد کے لیے مشروع ہے،ان میں ایک یہ ہے کہ شہر یا دیہات کے ان ذمہ دار،بالغ اور مکلف افراد جو شہری ذمہ داریوں کو برداشت کرنے کی قدرت رکھتے ہیں،ایک جگہ اکٹھا کیا جائے تاکہ مسلمانوں کے امام یا خلیفہ،(یا ان کا نائب)اہل اسلام کے دین ودنیا سے متعلقہ اہم ترین بیانات اور قراردادوں کو سن سکیں۔اور وہ(اہل اسلام)ترغیب وترہیب اور وعد و وعید پر مبنی ضروری باتیں ذہن نشین کر کے اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کریں اور ان پر عمل و سعی کی کوشش کریں تو اس طرح وہ پورا ہفتہ جوش وخروش اور خوشی کے ساتھ اسلامی احکام پر عمل پیرا ہوتے رہیں گے۔ جمعے کی شرائط وخصائص پر اگر ایک نظر ڈال لی جائے تو مذکورہ بالا حکمت کی نشاندہی واضح ہو جاتی ہے۔اس لیے کہ اس کی شرائط میں جماعت ہے| اور یہ کہ سب لوگ ایک ہی جگہ جمعہ ادا کریں اور خطبہ سربراہ حکومت یا اس کا نمائندہ ارشاد فرمائے اور دوران خطبہ گفتگو حرام ہے۔غلام،عورت،نابالغ اور بیمار پر جمعہ میں حاضر ہونا ضروری نہیں ہے۔اس لیے کہ یہ پورے مکلف نہیں ہیں اور منبر پر ارشاد کردہ ذمہ داریوں کے پورا کرنے کی قدرت و استطاعت نہیں رکھتے۔ 3 یوم جمعہ کی فضیلت: یوم جمعہ دنیا کے تمام ایام سے افضل اور عظیم ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا ہے: ((خَیْرُ یَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَیْہِ الشَّمْسُ یَوْمُ الْجُمُعَۃِ،فِیہِ خُلِقَ آدَمُ وَفِیہِ أُدْخِلَ الْجَنَّۃَ وَفِیہِ أُخْرِجَ مِنْھَا،وَلَا تَقُومُ السَّاعَۃُ إِلَّا فِي یَوْمِ الْجُمُعَۃِ)) ’’بہترین دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے،جمعے کا دن ہے،اس میں آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی،وہ بہشت میں داخل کیے گئے اور اسی دن وہاں سے نکالے گئے اور قیامت بھی جمعے کے دن ہی قائم ہو گی۔‘‘[1] اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اس دن کو عظمت دی ہے،لہٰذا اس میں کثرت سے نیکیاں کی جائیں اور گناہوں سے اجتناب کیا جائے۔ 4 جمعے کے آداب اور جمعے کے دن کے مسنون اعمال: ٭ جمعے میں شریک ہونے والوں پر لازم ہے کہ وہ نہالیں،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((غُسْلُ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ وَاجِبٌ عَلٰی کُلِّ مُحْتَلِمٍ))’’جمعے کے دن ہر بالغ(مسلمان)پر غسل واجب ہے۔‘‘[2] ٭ اچھے اور صاف ستھرے کپڑے پہنیں اور خوشبو استعمال کریں:ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ((عَلٰی کُلِّ مُحْتَلِمٍ الْغُسْلُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ،وَیَلْبَسُ مِنْ صَالِحِ ثِیَابِہِ،وَإِنْ کَانَ لَہُ طِیبٌ مَّسَّ مِنْہُ)) ٭:ر سول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:’جُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَّطَھُورًا‘ صحیح البخاري،التیمم،باب،حدیث:335 ’’میرے لیے ساری زمین مسجد اور پاک کرنے والی بنا دی گئی ہے۔‘‘ نیز صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے تالابوں پر نماز جمعہ پڑھنا ثابت ہے بنابریں اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسجد کی عمارت کے علاوہ مقامات میں بھی جمعہ جائز ہے۔(الاثری) ’’تمام بالغ مسلمان جمعے کے دن غسل کریں اور اچھے کپڑے پہنیں اور اگر خوشبو ہے تو استعمال کریں۔‘‘[1] ٭ نماز اور خطبہ کے وقت سے پہلے مسجد میں آنا نہایت فضیلت کا باعث ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنِ اغْتَسَلَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ غُسْلَ الْجَنَابَۃِ ثُمَّ رَاحَ فِي السَّاعَۃِ الْأُولٰی فَکَأَنَّمَا قَرَّبَ بَدَنَۃً،وَمَنْ رَّاحَ فِي السَّاعَۃِ الثَّانِیَۃِ فَکَأَنَّمَا قَرَّبَ بَقَرَۃً،وَمَنْ رَّاحَ فِي السَّاعَۃِ الثَّالِثَۃِ فَکَأَنَّمَا قَرَّبَ کَبْشًا أَقْرَنَ،وَمَنْ رَّاحَ فِي السَّاعَۃِ الرَّابِعَۃِ فَکَأَنَّمَا قَرَّبَ دَجَاجَۃً،وَمَنْ رَّاحَ فِي السَّاعَۃِ الْخَامِسَۃِ فَکَأَنَّمَا قَرَّبَ بَیْضَۃً،فَإِذَا خَرَجَ الإِْمَامُ حَضَرَتِ الْمَلَائِکَۃُ یَسْتَمِعُونَ الذِّکْرَ)) ’’جو شخص جمعہ کے دن غسل جنابت کی طرح غسل کرے اور پہلے وقت میں ہی چل پڑے تو گویا اس نے اللہ کے تقرب میں اونٹ دیا اور جو دوسرے وقت میں جائے،گویا اس نے گائے تقرب کے لیے دی اور جو تیسرے وقت میں جائے تو گویا اس نے سینگ والا مینڈھا دیا اور جو چوتھے وقت میں جائے،وہ ایسا ہے جیسے اس نے مرغی کی قربانی دی اور جو پانچویں وقت میں جائے،گویا اس نے انڈہ قربانی میں دیا اور جب امام خطبہ کے لیے آتا ہے تو فرشتے ذکر سننے کے لیے حاضر ہو جاتے ہیں۔‘‘[2] ٭ مسجد میں داخل ہونے کے بعد جتنے نوافل آسانی سے پڑھ سکے،پڑھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ((لَا یَغْتَسِلُ رَجُلٌ یَّوْمَ الْجُمُعَۃِ وَیَتَطَھَّرُ مَا اسْتَطَاعَ مِنْ طُھْرٍ وَّیَدَّھِنُ مِنْ دُھْنِہِ أَوْیَمَسُّ مِنْ طِیبِ بَیْتِہِ،ثُمَّ یَخْرُجُ فَلَا یُفَرِّقُ بَیْنَ اثْنَیْنِ ثَمَّ یُصَلِّي مَاکُتِبَ لَہُ ثُمَّ یُنْصِتُ إِذَا تَکَلَّمَ الإِْمَامُ،إِلَّا غُفِرَ لَہُ مَا بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْجُمُعَۃِ الْأُخْرٰی)) ’’جو شخص جمعہ کے دن غسل کرتا ہے اور استطاعت کے مطابق اچھی طرح وضو کرتا ہے اور تیل یا خوشبو لگاتا ہے اور پھر مسجد میں پہنچ جاتا ہے اور دو آدمیوں میں تفریق نہیں کرتا اور جو اس کے لیے مقدر ہے نماز پڑھتا ہے،پھر امام کے خطبہ میں خاموش رہتا ہے تو اگلے جمعہ تک کے اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں،(بشرطیکہ بڑے گناہوں کا ارتکاب نہ کرے)۔‘‘ [3] ٭ امام کے خطبہ شروع کرنے پر گفتگو ترک کر دے اور کنکریوں وغیرہ سے مشغولیت منقطع کرے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:((إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِکَ:أَنْصِتْ،یَوْمَ الْمجُمُعَۃِ وَالإِْمَامُ یَخْطُبُ،فَقَدْ لَغَوْتَ)) ’’اگر جمعہ کے دن امام خطبہ دے رہا ہو اور تو اپنے ساتھی کو کہے ’’خاموش ہوجا‘‘ تو تونے(بھی)لغو کام کیا۔‘‘[1] نیز فرمایا:’مَنْ مَّسَّ الْحَصٰی فَقَدْ لَغَا‘ ’’جو کنکریوں کو ہاتھ لگائے،اس نے لغو کام کیا۔‘‘[2] ٭: اگر کوئی شخص مسجد میں اس وقت آتا ہے،جب امام خطبہ دے رہا ہو تو پہلے تحیۃ المسجد کے طور پر دو ہلکی رکعتیں پڑھ لے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد عالی ہے: ((إِذَا جَائَ أَحَدُکُمْ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَالإِْمَامُ یَخْطُبُ،فَلْیَرْکَعْ رَکْعَتَیْنِ وَالْیَتَجَوَّزْ فِیھِمَا)) ’’جب تم میں سے کوئی جمعہ کے دن اس وقت آئے جب امام خطبہ دے رہا ہو تو وہ دو رکعتیں پڑھ لے اور ان میں تخفیف سے کام لے۔‘‘[3] ٭ مسجد میں بیٹھنے والوں کی گردنیں نہ پھلانگے اور نہ ان کے درمیان تفریق کرے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو لوگوں کی گردنوں پر سے گزرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: ’اِجْلِسْ فَقَدْ آذَیْتَ‘ ’’بیٹھ جا تو نے ایذا دی ہے۔‘‘[4] نیز فرمایا:’فَلَا یُفَرِّقُ بَیْنَ اثْنَیْنِ‘ ’’اور وہ(اکٹھے بیٹھنے والے)دو آدمیوں میں تفریق نہ کرے۔‘‘[5] ٭ جمعہ کی اذان کے بعد خرید و فروخت حرام ہے۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللّٰهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ﴾ ’’اے ایمان والو!جمعہ کے دن جب نماز کی اذان ہو جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلد نکلو اور تجارت چھوڑ دو۔‘‘[6] ٭: جمعہ کی رات یا دن میں سورئہ کہف کی تلاوت مستحب ہے۔ارشاد نبوی ہے:((مَنْ قَرَأَ سُورَۃَ الْکَھْفِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ أَضَائَ لَہُ مِنَ النُّورِ مَا بَیْنَ الْجُمُعَتَیْنِ)) ’’جو شخص جمعہ کے دن ’’سورئہ کہف‘‘ پڑھتا ہے تو دو جمعوں کے درمیان اس کے لیے نور چمکتا رہتا ہے۔‘‘[7] ٭: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جمعہ کے دن کثرت سے درود وسلام پڑھنا چاہیے۔اس لیے کہ آپ کا ارشاد ہے: ((أَکْثِرُوا مِنَ الصَّلَاۃِ عَلَيَّ فِي یَوْمِ الْجُمُعَۃِ وَلَیْلَۃِ الْجُمُعَۃِ،فَمَنْ فَعَلَ ذٰلِکَ کُنْتُ لَہُ شَھِیدًا)) وَّشَفِیعًا یَّوْمَ الْقِیَامَۃِ‘ ’’جمعہ کے دن اور رات کثرت سے مجھ پر درود پڑھا کرو۔جو اس کی تعمیل کرے گا میں قیامت کے دن اس کے لیے گواہ اور سفارشی ہوں گا۔‘‘٭ ٭: جمعہ کے دن کثرت سے دعا کرنا بہتر ہے،اس لیے کہ اس دن میں ایک ساعت دعا کی قبولیت کی ہے،جو اس وقت میں دعا کرتا ہے اللہ سبحانہ وتعالیٰ اسے قبول کرتا ہے اور جو مانگے دیتا ہے۔ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:((إِنَّ فِي الْجُمُعَۃِ لَسَاعَۃً لَّا یُوَافِقُھَا مُسْلِمٌ یَّسْأَلُ اللّٰہَ فِیھَا خَیْرًا إِلَّا أَعْطَاہُ إِیَّاہُ)) ’’جمعہ کے دن میں ایک ایسا وقت ہے کہ جب کوئی مسلمان اللہ کا بندہ اس میں اللہ عزوجل سے اچھائی کا سوال کرے تو وہ یقینا اسے دیتا ہے۔‘‘[1] بعض روایات میں ہے کہ یہ وقت امام کے خطبے کے لیے بیٹھنے سے لے کر نماز سے فارغ ہونے تک کے درمیان میں ہے۔[2] اور بعض کا قول یہ ہے کہ یہ عصر کے بعد ہے۔[3] 5 وجوب جمعہ کی شرائط: ٭ مرد ہونا کیونکہ عورت پر جمعہ واجب نہیں ہے۔٭ آزاد ہونا کیونکہ غلام پر جمعہ واجب نہیں ہے۔٭ بالغ ہونا کیونکہ نابالغ پر جمعہ واجب نہیں ہے۔٭ تندرست ہونا کیونکہ بیمار جو بیماری کی وجہ سے جمعہ میں شریک نہیں ہو سکتا،اس پر جمعہ واجب نہیں ہے۔٭ مقیم ہونا کیونکہ مسافر پر جمعہ واجب نہیں ہے۔اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:((اَلْجُمُعَۃُ حَقٌّ وَّاجِبٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ فِي جَمَاعَۃٍ إِلَّا أَرْبَعَۃً:عَبْدٌ مَّمْلُوکٌ،أَوِ امْرَأَۃٌ،أَوْ صَبِيٌّ،أَوْ مَرِیضٌ)) ’’جمعہ،چار کے سوا سب مسلمانوں پر واجب اور ثابت ہے(اور وہ چار یہ ہیں)غلام مملوک،عورت،نابالغ ٭: [ضعیف] امام سیوطی نے الجامع الصغیر میں اس حدیث کو امام بیہقی کی ’’شعب الایمان‘‘حدیث:3033کی طرف منسوب کیا ہے اور اس کے حسن ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے لیکن امام مناوی نے ’’فیض القدیر‘‘(شرح الجامع الصغیر)میں اس کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ امام سیوطی کی بات درست نہیں ہے کیونکہ بالخصوص اس سند میں درست بن زیاد ہے جسے امام ابوزرعہ وغیرہ نے ’’واہٍ‘‘ قرار دیا ہے،نیز اس میں یزید الرقاشی ہے جسے امام نسائی وغیرہ نے متروک قرار دیا ہے:(112/2،حدیث:1405)،لہٰذا یہ سند ضعیف ہے۔ لڑکا اور بیمار۔‘‘[1] اور فرمایا:((مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَعَلَیْہِ الْجُمُعَۃُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ إِلَّا عَلٰی مَرِیضٍ أَوْمُسَافِرٍ أَوِ صَبِيٍّ أَوْ مَمْلُوکٍ ....)) ’’اللہ سبحانہ وتعالیٰ اور آخرت پر یقین رکھنے والے ہر مومن پر جمعہ کے دن جمعہ واجب ہے مگر بیمار،مسافر،عورت،نابالغ اور غلام پر(واجب نہیں)‘‘ [2] ہاں جس پر جمعہ واجب نہیں ہے،اگر وہ امام کے ساتھ نماز جمعہ ادا کر لیتا ہے تو وہ اس کے لیے کافی ہے۔وہ اس کے بعد نماز ظہر نہیں پڑھے گا۔ 6 صحت جمعہ کی شرائط: ٭ آبادی(گاؤں،دیہات،شہر)ہو تو جمعہ صحیح ہے،صحرا یا سفر میں جمعہ درست نہیں ہے،٭ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں شہروں،بستیوں اور دیہات میں جمعہ ہوتا تھا جبکہ بادیہ نشینوں کو اس کا حکم آپ نے نہیں دیا تھا اور نہ ہی یہ ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سفر میں اس کا اہتمام کیا ہو۔ ٭ مسجد کی عمارت یا صحن ہی میں جمعہ درست ہے،اس کے علاوہ کھلے میدانوں میں بوقت ضرورت جمعہ درست ہے۔ ٭ نماز سے پہلے خطبہ ضروری ہے۔اس کے بغیر نماز جمعہ نہیں ہے،اس لیے کہ جمعہ کی مشروعیت خطبہ(جس میں وعظ و تذکیر ہوتا ہے)کے لیے ہی ہے۔ ٭ بستی سے دور رہنے والے پرجمعہ واجب نہیں ہے:جس شہر(یا آبادی)میں جمعہ کی اقامت کا انتظام ہو،اس سے تین میل دور رہنے والے پر جمعہ واجب نہیں ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’اَلْجُمُعَۃُ عَلٰی کُلِّ مَنْ سَمِعَ النِّدَائَ‘ ’’جمعہ ہر اس شخص پر ہے جو اذان سن سکتا ہے۔‘‘[3] ٭ حدیث نبوی ہے:’’ساری زمین میرے لیے مسجد بنا دی گئی ہے۔‘‘(صحیح البخاري،التیمم،باب:1،حدیث:335)اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا’’:تم جہاں ہو جمعہ قائم کرو۔‘‘ مصنف ابن أبي شیبۃ:440/1۔میں بھی یہ اثر مروی ہے،عینی نے اسے صحیح کہا ہے۔کذا في عون المعبود:283-280/3 اس سے معلوم ہوا کہ جمعہ کھلے میدان میں بھی درست ہے۔(الاثری) اور عام طور پر تین میل سے زیادہ مؤذن کی اذان نہیں سنی جاسکتی۔تین میل٭ ساڑھے چار کلومیٹر ہوتا ہے۔ 7 جمعہ کی ایک رکعت یا کم پانے والے شخص کا حکم: مسبوق(بعد میں ملنے والا)جمعہ کی ایک رکعت جماعت کے ساتھ پڑھ لے تو اس کے ساتھ ایک اور ملالے،اس کی نماز پوری ہو جائے گی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:((مَنْ أَدْرَکَ رَکْعَۃً مِّنَ الصَّلَاۃِ فَقَدْ أَدْرَکَ الصَّلَاۃَ))’’جو شخص(کسی)نماز کی ایک رکعت پالے تو اس نے نماز پالی ہے۔‘‘[1] اور جو ایک رکعت سے کم پائے،مثلاً:سجدے میں شامل ہو تو وہ ظہر کی نماز چار رکعت پڑھے اور امام کے سلام کے بعد پوری کرے۔ 8 ایک شہر میں متعدد جمعوں کا اہتمام: اگر مسجد نمازیوں کی گنجائش سے تنگ ہے اور اس کی توسیع کا امکان بھی نہیں ہے تو شہر کی دوسری مسجد یا مساجد میں حسب ضرورت اس کا انتظام کیا جاسکتا ہے۔ 9 نماز جمعہ کی کیفیت اور طریقہ: سورج کے زوال کے بعد امام آکر موجود لوگوں کو سلام کہے اور منبر پر چڑھ جائے۔جب بیٹھ جائے تو مؤذن ظہر کی اذان کی طرح اذان کہے،مؤذن جب اذان سے فارغ ہو جائے تو امام کھڑا ہوکر لوگوں کو خطبہ دے۔ابتدا اللہ کی تعریف اور اس کی حمد و ثنا سے کرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام کہے اور لوگوں کو اونچی آواز کے ساتھ وعظ ونصیحت کرے،اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوامر بتائے اور منہیات سے اجتناب کی تلقین کرے،ترغیب وترہیب کا انداز اپنائے اور وعد ووعید کے ذریعے لوگوں کو سمجھائے اور پھر تھوڑی دیر کے لیے بیٹھ جائے اور پھر کھڑا ہو کر دوبارہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی حمد وثنا پر مشتمل خطبہ پڑھے،اس لہجہ اور اس آواز کے ساتھ کہ گویا وہ کسی دشمن فوج سے ڈرا رہا ہے۔اس سے فارغ ہو جائے تو امام منبر سے نیچے اتر آئے پھر مؤذن نماز کی طرح اقامت کہے اور امام لوگوں کو دو رکعت پڑھائے،جس میں اونچی آواز سے قراء ت کرے،بہتر٭ یہ ہے کہ پہلی رکعت میں سورئہ فاتحہ کے بعد ٭ اس کا اطلاق پاک و ہند کے گنجان آباد علاقوں پر نہیں ہوتا،بالعموم تین میل کے اثناء میں بستیاں اور آبادیاں موجود ہیں،لہٰذا ہر بستی میں جمعہ کا انتظام کرنا لازم ہے۔البتہ جہاں صحرائی علاقے ہیں،وہاں موجود کسی اکیلے مرد پر جمعہ لازم نہیں ہوگا،اس لیے کہ وہ مسافر کے حکم میں ہے۔(الاثری) ٭ صحیح مسلم،حدیث:877،میں سورۂ جمعہ اور سورۂ منافقون کا پڑھنا بھی ثابت ہے۔(مؤلف)اور مؤطا امام مالک میں ’’سورۂ جمعہ‘‘ پہلی رکعت میں اور ’’سورۂ غاشیہ‘‘ دوسری رکعت میں پڑھنا بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے،لہٰذا ان سب پر وقتا فوقتا عمل کرنا چاہیے،یاد رہے کہ یہ سورتیں مکمل پڑھنی چاہئیں،بعض لوگ ان میں سے چند آیات پڑھ لیتے ہیں،یہ استحباب وسنت کے خلاف ہے۔(الاثری)