نماز کا بیان
سنت وتر،سنت فجر،مؤکدہ سنتیں اور دیگر نوافل
٭ نماز وتر کا بیان
1: نماز وتر کا حکم اور اس کی تعریف:
وتر لازمی سنت ہے،جسے کسی حال میں بھی مسلمان ترک نہ کرے۔عشاء کے بعد رات کے نوافل کے آخر میں ایک رکعت کو وتر کہتے ہیں،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:((صَلَاۃُ اللَّیْلِ مَثْنٰی مَثْنٰی،فَإِذَا خَشِيَ أَحَدُکُمُ الصُّبْحَ صَلّٰی رَکْعَۃً وَّاحِدَۃً،تُوتِرُ لَہُ مَاقَدْ صَلّٰی))
’’رات کی نماز دو دو رکعت ہے،جب تم میں سے کسی کو صبح ہونے کا اندیشہ ہو جائے تو ایک رکعت پڑھے،اس طرح اس کی ساری پڑھی ہوئی نماز وتر(طاق)بن جائے گی۔‘‘[1]
2: وتر سے قبل سنت طریقہ کیا ہے:
مسنون طریقہ یہ ہے کہ وتر سے پہلے کم از کم دو رکعت یا زیادہ سے زیادہ دس رکعات تک پڑھے،پھر وتر پڑھے۔اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی معمول تھا۔
3: وتر کا وقت:
عشاء کی نماز کے بعد سے لے کر طلوعِ فجر سے پہلے تک،وتر کا وقت ہے۔بہتر یہ ہے کہ رات کے آخری حصے میں اسے پڑھا جائے،اگرچہ ابتدائی حصے میں بھی جائز ہے،الّا یہ کہ بیدار نہ ہونے کا اندیشہ ہو(تو عشاء کے بعد سونے سے پہلے پڑھ لے)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
((مَنْ خَافَ أَنْ لَّا یَقُومَ مِنْ آخِرِ اللَّیْلِ فَلْیُوتِرْ أَوَّلَہُ،وَمَنْ طَمِعَ أَنْ یَّقُومَ آخِرَہُ فَلْیُوتِرْ آخِرَ اللَّیْلِ،فَإِنَّ صَلَاۃَ آخِرِ اللَّیْلِ مَشْھُودَۃٌ وَّذٰلِکَ أَفْضَلُ))
’’جس کا خیال یہ ہو کہ وہ رات کے آخری حصہ میں بیدار نہیں ہو سکے گا تو وہ اول حصے میں وتر پڑھ لے اور جو گمان کرتا ہے کہ وہ آخری حصے میں بیدار ہو جائے گا،وہ رات کے آخری حصے میں ہی وتر پڑھے،اس لیے کہ رات کے آخری حصہ کی نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور وہ افضل ہے۔‘‘[2]
4: جو شخص وتر پڑھے بغیر سو جائے اور صبح ہو جائے:
ایک مسلمان سویا رہا اور وتر نہ پڑھ سکا اور اسی طرح صبح ہو گئی تو وہ صبح کی نماز سے پہلے قضا کر لے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’إِذَا أَصْبَحَ أَحَدُکُمْ وَلَمْ یُوتِرْ فَلْیُوتِرْ‘’’اگر تم میں سے کوئی شخص صبح ہونے تک وتر نہ پڑھ سکے تو(صبح کے وقت بھی)وتر پڑھ لے۔‘‘[3]
نیز ارشاد ہے:’مَنْ نَّامَ عَنْ وِّتْرِہِ أَوْ نَسِیَہُ فَلْیُصَلِّہِ إِذَا ذَکَرَہُ‘ ’’جو سویا رہا یا بھول گیا اور وتر نہ پڑھ سکا تو جب یاد آئے وتر پڑھ لے۔‘‘[4]
5: وتر میں کس طرح کی قراء ت کرنی چاہیے:
وتر سے پہلی دو رکعتوں میں سورئہ فاتحہ کے بعد ’’سورۂ اعلی‘‘ اور ’’سورۂ کافرون‘‘ پڑھے اور وتر کی رکعت میں ’’سورۂ اخلاص‘‘ اور ’’معوذتین‘‘ کی تلاوت کرے۔[1]
6: ایک رات میں کئی وتر پڑھنے کی کراہت:
ایک ہی رات میں وتر کا تکرار ناجائز ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:’لَا وِتْرَانِ فِي لَیْلَۃٍ‘ ’’ایک رات میں دو وتر نہیں ہیں۔‘‘[2]
7: جس شخص نے رات کے اول حصہ میں وتر پڑھا اور پھر آخری حصہ میں نفل پڑھنا چاہتا ہے تو وہ صرف نفل پڑھے،وتر کا اعادہ نہ کرے،اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’لَا وِتْرَانِ فِي لَیْلَۃٍ‘ ’’ایک رات میں دو وتر نہیں۔‘‘[3]
٭ سنت فجر کا بیان:
1: فجر کی سنتوں کا حکم:
وتر کی طرح یہ دو رکعتیں بھی سنت مؤکدہ ہیں،اس لیے کہ یہ رکعتیں دن کی نماز کی ابتدا ہیں،جبکہ وتر رات کی نماز کا اختتام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معمول سے ان کا مؤکدہ ہونا ثابت ہوتا ہے،اس لیے کہ آپ نے ہمیشہ ان کی پابندی کی ہے اور کبھی ترک نہیں کیں۔اور اپنے اس فرمان عالی سے ترغیب بھی دلائی ہے:’رَکْعَتَا الْفَجْرِ خَیْرٌ مِّنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیھَا‘ ’’صبح کی دو رکعتیں دنیا ومافیہا سے بہتر ہیں۔‘‘[4]
نیز ارشاد ہے:’لَا تَدَعُوا رَکْعَتَيِ الْفَجْرِ،وَإِنْ طَرَدَتْکُمُ الْخَیْلُ‘ ’’صبح کی دو رکعتیں ترک نہ کرو،چاہے(دشمن کے)گھوڑے تمھارے مقابلہ میں ہوں۔‘‘[5]
2: صبح کی سنتوں کا وقت:
صبح کی سنتوں کا وقت طلوع فجر اور صبح کی فرض نماز کے درمیان ہے۔اگر ایک شخص سورج طلوع ہونے تک نہ جاگ سکا اور سویا رہا یا اسے نسیان ہو گیا تو سورج طلوع ہونے کے بعد پڑھے یا جب یاد آئے پڑھ لے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
’مَنْ لَّمْ یُصَلِّ رَکْعَتَيِ الْفَجْرِ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَلْیُصَلِّھِمَا‘ ’’جس نے صبح کی دو رکعتیں سورج طلوع ہونے تک نہیں پڑھیں،وہ طلوع کے بعد پڑھے۔‘‘[6]
ایک جنگ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سورج چڑھے تک سوئے رہے،چنانچہ بیدار ہونے کے بعد اس جگہ سے ہٹ کر آگے بڑھے اور بلال رضی اللہ عنہ کو اذان کہنے کا حکم دیا اور پہلے دو رکعتیں پڑھیں،پھر صبح کی نماز ادا کی۔[1]
3: سنتیں ادا کرنے کا طریقہ:
دو خفیف(ہلکی)رکعتیں پڑھنی چاہئیں۔سورئہ فاتحہ پڑھنے کے بعد سورۂ کافرون اور سورئہ اخلاص پڑھے اگر صرف سورئہ فاتحہ پر اکتفا کرے تو بھی جائز ہے۔عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے فرضوں سے پہلے دو خفیف رکعتیں پڑھتے تھے،مجھے شک ہوتا کہ شاید آپ نے سورئہ فاتحہ بھی پڑھی ہے یا نہیں۔[2]
نیزابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی دو رکعتوں میں﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾اور﴿قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ﴾پڑھتے تھے اور آہستہ پڑھتے تھے۔[3]
٭ سنن رواتب:
فرائض سے پہلے یا بعد میں جو مؤکدہ سنتیں پڑھی جاتی ہیں،رواتب کہلاتی ہیں اور وہ یہ ہیں:ظہر سے پہلے چار یا دو اور بعد میں دو رکعتیں اور دو رکعتیں مغرب کے بعد اور عشاء کے بعد دو اور دو رکعتیں نماز فجر سے پہلے۔ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
((حَفِظْتُ مِنَ النَّبِيِّ صلی اللّٰه علیہ وسلم عَشْرَ رَکْعَاتٍ:رَکْعَتَیْنِ قَبْلَ الظُّھْرِ،وَرَکْعَتَیْنِ بَعْدَھَا،وَرَکَعَتَیْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ فِي بَیْتِہِ،وَرَکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْعِشَائِ فِي بَیْتِہِ،وَرَکْعَتَیْنِ قَبْلَ صَلَاۃِ الصُّبْحِ))
’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دس رکعتیں یاد کی ہیں،دو رکعتیں ظہر سے پہلے اور دو اس کے بعد اور دو مغرب کے بعد گھر میں،دو رکعتیں عشاء کے بعد گھر میں اور دو رکعتیں صبح کی نماز سے پہلے۔‘‘[4]
اور عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:’أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللّٰه علیہ وسلم کَانَ لَا یَدَعُ أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّھْرِ وَرَکْعَتَیْنِ قَبْلَ الْغَدَاۃِ‘
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور صبح سے پہلے دو رکعتیں ترک نہیں کرتے تھے۔‘‘[5]
نیز آپ کا ارشاد ہے:’بَیْنَ کُلِّ أَذَانَیْنِ صَلَاۃٌ‘ ’’ہر دو اذانوں(اذان اور اقامت)کے درمیان میں نماز ہے۔‘‘[6]
نیز فرمایا:’رَحِمَ اللّٰہُ امْرَئً ا صَلّٰی أَرْبَعًا قَبْلَ الْعَصْرِ‘
’’اللہ سبحانہ وتعالیٰ اس شخص پر رحم کرے،جس نے عصر سے پہلے چار رکعات پڑھیں۔‘‘[1]