نماز کا بیان
نوافل
1: نوافل کی فضیلت:
نفل نماز کی بڑی فضیلت ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
((مَا أَذِنَ اللّٰہُ لِعَبْدٍ فِي شَيئٍ أَفْضَلَ مِنْ رَّکْعَتَیْنِ یُصَلِّیھِمَا،وَإِنَّ الْبِرَّ لَیُذَرُّ عَلٰی رَأْسِ الْعَبْدِ مَادَامَ فِي صَلَاتِہِ))
’’اللہ تعالیٰ نے بندے کو کسی ایسی چیز کی اجازت نہیں دی جو ان دو نوافل سے بہتر ہو،جنھیں وہ ادا کرتا ہے اور بندہ جب تک اپنی نماز میں رہتا ہے اس کے سر پر نیکی ڈالی جاتی ہے۔‘‘[2]
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہشت میں معیت کا سوال کیا تو آپ نے فرمایا:
((فَأَعِنِّي عَلٰی نَفْسِکَ بِکَثْرَۃِ السُّجُودِ))’’کثرتِ سجود(کثرتِ نوافل)کے ساتھ میری معاونت کرو۔‘‘[3]
2: نفل نماز کی حکمت:
فرض نمازوں میں کمی کو نوافل سے پورا کیا جائے گا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((إِنَّ أَوَّلَ مَا یُحَاسَبُ النَّاسُ بِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنْ أَعْمَالِھِمْ:اَلصَّلَاۃُ،قَالَ،یَقُولُ رَبُّنَا عَزَّوَجَلَّ لِلْمَلَائِکَۃِ۔وَھُوَ أَعْلَمُ:۔اُنْظُرُوا فِي صَلَاۃِ عَبْدِي أَتَمَّھَا أَمْ نَقَصَھَا؟ فَإِنْ کَانَتْ تَامَّۃً کُتِبَتْ لَہُ تَامَّۃً،وَإِنْ کَانَ انْتَقَصَ مِنْھَا شَیْئًا،قَالَ:اُنْظُرُوا ھَلْ لِّعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ؟ فَإِنْ کَانَ لَہُ تَطَوُّعٌ قَالَ:أَتِمُّوا لِعَبْدِي فَرِیضَتَہُ مِنْ تَطَوُّعِہِ،ثُمَّ تُؤْخَذُ الْأَعْمَالُ عَلٰی ذَاکُمْ))
’’قیامت کے دن لوگوں کے اعمال میں سب سے پہلے نماز کا حساب ہو گا،اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرشتوں کو حکم دیں گے اور وہ خوب جانتا ہے۔میرے بندے کی نماز دیکھو،اس نے اسے مکمل کیا ہے یا ناقص چھوڑا ہے۔اگر پوری ہے تو لکھ دیا جائے گا کہ اس کی نماز مکمل ہے اور اگر کچھ کمی ہوئی تو حکم فرمائے گا کہ میرے بندے کی نفل نماز دیکھو اگر نوافل اس کی نماز میں ہوں گے تو اللہ فرمائے گا:میرے بندے کے فرائض کو اس کے نوافل سے پورا کر دو اور پھر باقی اعمال بھی اسی طرح دیکھے جائیں گے۔‘‘[4]
3: نوافل کا وقت:
چار اوقات کے سوا دن اور رات کے سب اوقات میں نفل پڑھے جاسکتے ہیں۔وہ چار اوقات یہ ہیں:
٭ فجر کے بعد سورج طلوع ہونے تک۔
٭ سورج نکلنے سے لے کر ایک نیزہ سورج کے اونچا ہونے تک۔
٭ سورج جب سر کے اوپر ہوتا ہے،زوال تک۔
٭ عصر کے بعد سے سورج کے غروب ہونے تک۔
اس لیے کہ عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا:
((صَلِّ صَلَاۃَ الصُّبْحِ ثُمَّ أَقْصِرْ عَنِ الصَّلَاۃِ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ حَتّٰی تَرْتَفِعَ،فَإِنَّھَا تَطْلُعُ بَیْنَ قَرْنَيْ شَیْطَانٍ،وَحِینَئِذٍ یَّسْجُدُ لَھَا الْکُفَّارُ،ثُمَّ صَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاۃَ مَشْھُودَۃٌ مَّحْضُورَۃٌ حَتّٰی یَسْتَقِلَّ الظِّلُّ بِالرُّمْحِ،ثُمَّ أَقْصِرْ عَنِ الصَّلَاۃِ فَإِنَّہُ حِینَئِذٍ تُسَجَرُ جَھَنَّمُ(أَيْ یُوقَدُ عَلَیْھَا)فَإِذَا أَقْبَلَ الْفَيْئُ فَصَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاۃَ مَشْھُوْدَۃٌ مَّحْضُورَۃٌ حَتّٰی تُصَلِّيَ الْعَصْرَ،ثُمَّ أَقْصِرْ عَنِ الصَّلَاۃِ حَتّٰی تَغْرُبَ الشَّمْسُ،فَإِنَّھَا تَغْرُبُ بَیْنَ قَرْنَيْ شَیْطَانٍ،وَحِینَئِذٍ یَّسْجُدُ لَھَا الْکُفَّارُ))
’’صبح کی نماز پڑھ،پھر سورج کے طلوع اور اونچا ہونے تک نماز سے رک جا،اس لیے کہ یہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے اور اس وقت کفار اسے سجدہ کرتے ہیں،پھر نماز پڑھ،یقینا نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور سورج کے سیدھا سر پر ہونے(زوال)کے وقت نماز سے رک جا،اس لیے کہ اس وقت جہنم بھڑکائی جاتی ہے اور پھر زوال کے بعد نماز پڑھ،اس لیے کہ نماز کے لیے فرشتے حاضر ہوتے ہیں،پھر نماز عصر پڑھ،پھر اس کے بعد غروب آفتاب تک ٹھہر جا،اس لیے کہ یہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے اور اس وقت کفار اسے سجدہ کرتے ہیں۔‘‘[1]
4 بیٹھ کر نفل ادا کرنا:
بیٹھ کر نفل پڑھنا جائز ہے،البتہ کھڑے ہو کر پڑھنے کی نسبت بیٹھ کر پڑھنے میں آدھا ثواب ملتا ہے۔| اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
’صَلَاۃُ الرَّجلِ قَاعِدًا نِصْفُ الصَّلَاۃِ‘ ’’آدمی کا بیٹھ کر نماز پڑھنا نصف نماز کے برابر ہے۔‘‘[2]
٭ فرائض و نوافل کسی عذر کی وجہ سے بیٹھ کر ادا کیے جائیں تو پورا ثواب ملتا ہے اگر بلاعذر بیٹھا جائے اور اسے طریقہ نہ بنایا جائے تو نوافل ادا ہو جائیں گے اور نصف ثواب ملے گا جبکہ فرائض ادا نہیں ہوں گے کیونکہ قیام رکن ہے جس کے چھوٹنے سے عمل باطل ہو جاتا ہے واللہ اعلم(ع،ر)
٭ نفلی نماز کی اقسام:
1: تحیۃ المسجد:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:’إِذَا دَخَلَ أَحَدُکُمُ الْمَسْجِدَ فلَا یَجْلِسْ حَتّٰی یُصَلِّيَ رَکْعَتَیْنِ‘
’’جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو وہ دو رکعت پڑھے بغیر نہ بیٹھے۔‘‘[1]
2: نماز چاشت:
یہ چار سے آٹھ رکعات تک ہے۔اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیان فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
((اِبْنَ آدَمَ!اِرْکَعْ لِي أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ مِنْ أَوَّلِ النَّھَارِ أَکْفِکَ آخِرَہُ))’’اے ابن آدم!دن کے اول حصے میں میرے لیے چار رکعات پڑھ،میں اس کے آخر میں تیرے لیے کفایت کروں گا۔‘‘[2]
3: تراویح رمضان:
اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِیمَانًا وَّاحْتِسَابًا غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ))
’’جس نے ایمان اور طلب ثواب کے ساتھ رمضان کا قیام کیا تو اس کے پچھلے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔‘‘[3]
4: وضو کے بعد کی دو رکعتیں:
اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:((لَا یَتَوَضَّأُ رَجُلٌ مُّسْلِمٌ فَیُحْسِنُ الْوُضُوئَ فَیُصَلِّي صَلَاۃً إِلَّا غَفَرَ اللّٰہُ لَہُ مَا بَیْنَہُ وَبَیْنَ الصَّلَاۃِ الَّتِي تَلِیھَا))
’’جو مسلمان اچھا وضو کرتا ہے،پھر نماز پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے اگلی نماز تک کے گناہ معاف کر دیتا ہے۔‘‘[4]
5: سفر سے واپس آکر بستی کی مسجد میں دو رکعتیں پڑھنا:
کیونکہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے ثابت ہے۔کعب بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:((کَانَ(النَّبِيُّ صلی اللّٰه علیہ وسلم)إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ فَرَکَعَ فِیہِ رَکْعَتَیْنِ))’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے واپس آتے تو پہلے مسجد میں جاتے اور دو رکعتیں پڑھتے تھے۔‘‘[5]
6: توبہ کی دو رکعات:
اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’مَا مِنْ رَّجُلٍ یُّذْنِبُ ذَنْبًا ثُمَّ یَقُومُ فَیَتَطَھَّرُ ثُمَّ یُصَلِّي(رَکْعَتَیْنِ)ثُمَّ یَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ إِلَّا غَفَرَ اللّٰہُ لَہُ‘
’’جو آدمی کوئی گناہ کرتا ہے،پھر وضو کرتا ہے اور دو رکعت نماز پڑھ کر اللہ سے بخشش کا طالب ہوتا ہے تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ اسے معاف کر دیتا ہے۔‘‘[1]
7: مغرب سے پہلے دو رکعتیں:
اس لیے کہ آپ کا فرمان ہے:((صَلُّوا قَبْلَ صَلَاۃِ الْمَغْرِبِ‘(ثُمَّ)قَالَ فِي الثَّالِثَۃِ:’لِمَنْ شَائَ))’’مغرب کی نماز سے پہلے نماز پڑھو‘‘ اور تیسری مرتبہ فرمایا جو چاہے۔‘‘[2]
8: استخارہ کے لیے دو رکعتیں:
اس لیے کہ آپ کا فرمان ہے:((إِذَا ھَمَّ أَحَدُکُمْ بِالْأَمْرِ فَلْیَرْکَعْ رَکْعَتَیْنِ مِنْ غَیْرِ الْفَرِیضَۃِ ثُمَّ لِیَقُلْ:اَللّٰھُمَّ!إِنِّي أَسْتَخِیرُکَ بِعِلْمِکَ،وَأَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ،وَأَسْأَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ الْعَظِیمِ فَإِنَّکَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ،وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ،وَأَنْت عَلَّامُ الْغُیُوبِ،اَللّٰھُمَّ!إِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ ھٰذَا الْأَمْرَ خَیْرٌ لِّي فِي دِیْنِي وَ مَعَاشِي وَ عَاقِبَۃِ أَمْرِي فَاقْدُرْہُ لِي وَ یَسِّرْہُ لِي ثُمَّ بَارِکْ فِیْہِ،وَإِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ ھٰذَا الْأَمْرَ شَرٌّ لِّي فِي دِینِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَۃِ أَمْرِي فَاصْرِفْہُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْہُ،وَاقْدُرْلِيَ الْخَیْرَ حَیْثُ کَانَ،ثُمَّ أَرْضِنِي بِہِ))
’’جب تم میں کوئی کسی کام کا ارادہ کرے تو دو رکعات نفل پڑھ کر یہ دعا(دعائے استخارہ)پڑھے،یعنی ’’اے اللہ!میں تیرے علم کے ساتھ تجھ سے اچھائی طلب کرتا ہوں اور تیری قدرت کے ساتھ،قدرت کا طالب ہوں اور تجھ سے تیرے فضل عظیم کا سوال کرتا ہوں تو قدرت رکھتا ہے،مجھے قدرت نہیں ہے تو جانتا ہے میں نہیں جانتا اور تو پوشیدہ امور کو خوب جانتا ہے۔اے اللہ!اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے دین،میری معاش اور نتیجہ کے طور پر میرے لیے درست ہے تو اسے میرے لیے مقدر کر اور آسان کر اور پھر مجھے اس میں برکت دے اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے دین،میری معاش اور نتیجہ کے اعتبار سے میرے لیے شر ہے تو اسے مجھ سے ہٹا دے اور مجھے اس سے دور کردے اور میرے لیے اچھائی مقدر کر جہاں بھی ہے اور پھر مجھے اس پر راضی کر دے۔‘‘[3]
9: نماز حاجت:
مسلمان جب کوئی کام کرنا چاہے تو وضو کر کے دو رکعت نماز پڑھے اور اللہ تعالیٰ سے اپنی ضرورت کا سوال کرے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
((مَنْ تَوَضَأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوئَ ثُمَّ صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ یُتِمُّھُمَا،أَعْطَاہُ اللّٰہُ مَا سَأَلَ مُعَجَّلًا أَوْ مُؤَخَّرًا))
’’جو شخص اچھی طرح وضو کرتا ہے،پھر اچھے طریقے سے دو رکعتیں پڑھتا ہے،اللہ تعالیٰ جلد یا بدیر اس کا سوال پورا کر دیں گے۔‘‘[1]
10: نماز تسبیح:
یہ چار رکعات ہیں،ہر رکعت میں قراء ت کے بعد پندرہ بار یہ ذکر کرے((سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ))اور رکوع میں دس بار اور رکوع سے سر اٹھا کر دس بار،پھر سجدہ میں دس بار اور سجدہ سے اٹھ کر دس بار،پھر دوسرے سجدہ میں دس بار اور دو رکعتوں کے درمیان جلسۂ استراحت میں دس بار٭ اس طرح ہر رکعت میں پچھتر تسبیحات ہوں گی۔اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا عباس رضی اللہ عنہ کو مخاطب ہو کر مندرجہ بالا طریقے سے صلاۃ تسبیح پڑھنے کا کہا اور فرمایا:
((إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تُصَلِّیَھَا فِي کُلِّ یَوْمٍ مَّرَّۃً فَافْعَلْ،فَإِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَفِي کُلِّ جُمُعَۃٍ مَّرَّۃً،فَإِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَفِي کُلِّ شَھْرٍ مَّرَّۃً،فَإِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فِفِي کُلِّ سَنَۃٍ مَّرَّۃً،فَإِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَفِي عُمُرِکَ مَرَّۃً))
’’اگر تو روزانہ پڑھ سکے تو پڑھ،اگر اس کی طاقت نہیں ہے تو ہفتہ میں ایک بار اور اگر اس کی بھی طاقت نہیں تو سال میں ایک بار،اگر یہ بھی نہ کر سکے تو زندگی میں ایک بار ضرور پڑھ۔‘‘[2]
11: سجدئہ شکر:
مسلمان کو کوئی پسندیدہ نعمت حاصل ہو جائے یا کسی خوفناک چیز سے نجات مل جائے تو وہ اللہ کے لیے اس نعمت پر سجدئہ شکر بجا لائے۔اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی خوش کن خبر آتی تو آپ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے لیے سجدئہ شکر بجا لاتے تھے۔جبرائیل علیہ السلام ایک بار یہ پیغام لائے کہ ’’جو شخص آپ پر ایک بار درود پڑھے گا،اللہ جل مجدہ اس کے لیے دس رحمتیں نازل فرمائیں گے۔‘‘ تو آپ نے سجدئہ شکر ادا کیا۔[3]
12: سجدئہ تلاوت:
سجدئہ تلاوت بھی مشروع ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
((إِذَا قَرَأَ ابْنُ آدَمَ السَّجْدَۃَ فَسَجَدَ اعْتَزَلَ الشَّیْطَانُ یَبْکِي،یَقُولُ:یَاوَیْلَہْ!أُمِرَ ابْنُ آدَمَ بِالسُّجُودِ فَسَجَدَ فَلَہُ الْجَنَّۃُ،وَأُمِرْتُ بِالسُّجُودِ فَأَبَیْتُ فَلِيَ النَّارُ))
٭ نمازی ہر رکعت کے بعد جلسۂ استراحت یا تشہد کے لیے بیٹھتا ہے گویا ہر رکعت کے بعد بیٹھ کر وہ دس بار یہ تسبیحات پڑھے گا۔(ع‘ر)
’’ابن آدم جب سجدہ کی آیت پڑھ کر سجدے کرتا ہے تو شیطان الگ ہو کر روتا ہے اور کہتا ہے افسوس!ابن آدم کو سجدے کا حکم ملا تو اس نے سجدہ کرلیا،اس کے لیے بہشت ہے اور مجھے سجدے کا حکم دیا گیا تو میں نے نافرمانی کی،میرے لیے جہنم ہے۔‘‘[1]
جب کوئی مسلمان ’’آیت سجدہ‘‘ پڑھے یا سنے تو وہ سجدہ کرے اور سجدے کو جاتے اور اٹھتے وقت اللہ اکبر کہے اور سجدے میں یہ دعا پڑھے:
((سَجَدَ وَجْھِيَ لِلَّذِي خَلَقَہُ وَصَوَّرَہُ وَشَقَّ سَمْعَہُ وَبَصَرَہُ تَبَارَکَ اللّٰہُ أَحْسَنُ الْخَالِقِینَ))
’’میرے چہرے نے اس(اللہ تعالیٰ کی)ذات کے لیے سجدہ کیا،جس نے اسے پیدا کیا اور اس کے کان اور آنکھیں بنائیں،پس اللہ احسن الخالقین برکت والا ہے۔‘‘[2]
اس میں زیادہ ثواب ہے کہ سجدہ کرنے والا باوضو ہو اور قبلہ رخ ہو کر سجدہ کرے۔قرآن پاک میں سجدے کے مقامات معلوم ہیں اور وہ پندرہ ہیں۔عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قرآن پاک میں پندرہ آیات سجدہ پڑھائیں،جن میں سے تین مفصلات میں ہیں اور ’’سورۂ حج‘‘ میں دو سجدے ہیں۔[3]