جنازے کا بیان
تعویذ گنڈہ کی تحریم
منکے اور تعویذ استعمال کرنا حرام ہیں۔کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ تعویذ یا منکے گلے میں ڈالے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
((مَنْ عَلَّقَ تَمِیمَۃً فَقَدْ أَشْرَکَ))’’جس نے ’’تمیمہ‘‘(منکا وغیرہ)گلے میں ڈالا،اس نے شرک کیا۔‘‘[1]
نیز ارشاد ہے:((مَنْ عَلَّقَ تَمِیمَۃً فَلَا أَ تَمَّ اللّٰہُ لَہُ،وَمَنْ عَلَّقَ وَدْعَۃً فَلَا وَدَعَ اللّٰہُ لَہُ))
’’جو منکے گلے میں ڈالے،اللہ اس کی مراد پوری نہ کرے اور جو کوئی کوڈ یا سیپیاں گلے میں ڈالے،اسے اللہ آرام نہ دے۔‘‘[2]
اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ پیتل کا کڑا ہاتھ میں ڈالے ہوئے ہے۔آپ نے فرمایا:’’افسوس یہ کیا ہے۔‘‘ اس نے کہا:’’کمزوری دور کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔‘‘ آپ نے فرمایا:((اِنْزِعْھَا فَإِنَّھَا لَا تَزِیدُکَ إِلَّا وَھْنًا،وَإِنَّکَ لَوْ مِتَّ وَھِيَ عَلَیْکَ مَا أَفْلَحْتَ أَبَدًا))
’’اسے اتار دے،یہ تیری کمزوری اور زیادہ کرے گا۔اگر تو اس حال میں مر گیا تو کبھی کامیاب نہیں ہو گا۔‘‘[3]