جنازے کا بیان

بیمار کی بیمار پرسی واجب ہے

مسلمان پر لازم ہے کہ اپنے بیمار مسلمان بھائی کی عیادت کرے اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أَطْعِمُوا الْجَائِعَ،وَعُودُوا الْمَرِیضَ،وَفُکُّوا الْعَانِيَ))’’بھوکے کو کھانا کھلاؤ،بیمار کی عیادت کرو اور قیدی کو چھڑاؤ۔‘‘[3] اور بہتر یہ ہے کہ طبع پرسی کے لیے جب جائے تو اس کے لیے دعائے شفا کرے اور صبر کی تلقین کرے اور ایسی باتیں کہے جس سے اس کا دل خوش ہو جائے اور وہاں زیادہ دیر تک بیٹھا نہ رہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی بیمار کی بیمار پرسی کے لیے تشریف لے جاتے تو فرماتے: ((لَا بَأْسَ طَھُورٌ إِنْ شَائَ اللّٰہُ تَعَالٰی))’’کوئی حرج نہیں،اللہ کی مشیت سے(بیماری،گناہوں سے)پاک کرنے والی ہے۔‘‘[4] لہٰذا ایک دوسرے کی عیادت کے وقت اسی پر عمل ہونا چاہیے۔