زکاۃ کا بیان

زکاۃ کے مصارف کا بیان

زکاۃ کے آٹھ مصرف ہیں،جو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنی کتاب مقدس میں ذکر کیے ہیں۔ارشاد ہے:﴿إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ﴾ ’’صدقات،فقراء،مساکین،اس پر کام کرنے والے،جن کے دلوں کی تالیف مطلوب ہو،قیدی آزاد کرانے میں،مقروض لوگوں کے لیے،اللہ کے راستہ میں اور مسافروں کے لیے ہیں،یہ اللہ کی طرف سے فریضہ ہے اور اللہ جاننے والا،حکمت والا ہے۔‘‘[2] ٭ زکاۃ کے مصارف کی وضاحت: 1: فقراء::اس سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے پاس اتنا مال نہیں ٭ بضم تاء،ایک قسم کی نبات ہے جس کا بیج کڑوا ہوتا ہے اور پانی میں بھگو کر استعمال کیاجاتا ہے۔(المنجد،اردو) ہوتا کہ وہ اپنے عیال کی ضروریات:خوراک،پانی،لباس اور رہائش پوری کرسکیں،چاہے وہ کسی نصاب کے مالک ہی ہوں۔٭ 2: مسکین:یہ احتیاج میں کبھی فقیر سے کم تر ہوتا ہے اور کبھی زیادہ مگر ہر معاملہ میں ان کے احکام ایک ہی ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض احادیث میں مسکین کی تعریف کی ہے۔چنانچہ ارشاد ہے: ((لَیْسَ الْمِسْکِینُ الَّذِي یَطُوفُ عَلَی النَّاسِ تَرُدُّہُ اللُّقْمَۃُ وَاللُّقْمَتَانِ وَالتَّمْرَۃُ وَالتَّمْرَتَانِ،وَلٰکِنِ الْمِسْکِینُ الَّذِي لَا یَجِدُ غِنًی یُّغْنِیہِ،وَّلَا یُفْطَنُ لَہُ فَیُتَصَدَّقُ عَلَیْہِ،وَلَا یَقُومُ فَیَسْأَلَ النَّاسَ)) ’’مسکین وہ نہیں ہے جو ایک دو لقموں یا ایک دو کھجور کی خاطر لوگوں کے پاس چکر لگاتا پھرے بلکہ مسکین وہ ہے جس کی ضروریات پوری نہیں ہو رہیں،گمنامی میں رہتا ہے کہ اسے خیرات نہیں دی جا رہی اور نہ ہی وہ کھڑا ہو کر لوگوں سے سوال کرتا ہے۔‘‘ [1] 3: عامل علی الزکاۃ:اس سے مرادزکاۃ وصول کرنے والا یازکاۃ اکٹھی کرنے والا یازکاۃ کا نگران ومنتظم اور تحریر کرنے والا(سیکرٹری)ہے،انھیں زکاۃ کی مد سے تنخواہ ادا کی جاسکتی ہے،چاہے وہ غنی ہی ہوں،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’لَا تَحِلُّ الصَّدَقَۃُ لِغَنِيٍّ إِلَّا لِخَمْسَۃٍ:لِعَامِلٍ عَلَیْھَا،أَوْرَجُلٍ اشْتَرَاھَا بِمَالِہِ،أَوْغَارِمٍ،أَوْ غَازٍ فِي سَبِیلِ اللّٰہِ،أَوْ مِسْکِینٍ تُصُدِّقَ عَلَیْہِ مِنْھَا فَأَھْدٰی مِنْھَا لِغَنِيٍّ‘ ’’غنی کے لیے صدقہ حلال نہیں ہے مگر پانچ کے لیے،صدقہ میں کام کرنے والا،جواپنے مال سے اسے خرید لے،مقروض انسان،اللہ کے راستہ میں لڑنے والا اور مسکین جسے صدقہ کا مال دیا گیا اور وہ اس میں سے کسی غنی کو ہدیہ دے دے۔‘‘ [2] 4: جن کے ’’دلوں کی تالیف‘‘ مطلوب ہو:اس سے مراد وہ شخص ہے جس کی اسلامی حالت تو کمزور ہو،البتہ برادری میں اس کا اثر ورسوخ ہو۔ایسے شخص کی دلجوئی کے لیے زکاۃ دی جائے تاکہ وہ اسلام میں پختہ ہو جائے اور لوگوں کے لیے مفید ثابت ہو یا وہ اس کے شر سے بچ سکیں۔اسی طرح اس سے مراد وہ کافر بھی ہے جو ایمان اور اسلام کی طلب وطمع ٭ ایسے شخص کی دو حیثیتیں ہیں،صاحبِ نصاب ہونے کی بنا پر غنی ہے،لہٰذا وہ اپنے مال کی زکاۃ ادا کرے گا اور موجودہ مال کا اہل و عیال کے لیے کافی نہ ہونے کی وجہ سے فقیر بھی ہے،سو وہ زکاۃ کا مستحق بھی ہے تو اسے زکاۃ دینا درست ہے۔(ع۔و) میں ہے،اسے اوراس کی قوم کو اسلام کی ترغیب کے لیے زکاۃ دینی چاہیے۔ اسی طرح یہ حصہ مصلحت کی خاطر ہر اس شخص کے لیے استعمال ہو سکتا ہے جو کسی بھی صورت میں اسلام اور مسلمانوں کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے،جیسا کہ بعض صحافت سے تعلق رکھنے والے اصحاب قلم وغیرہ۔ 5: گردن آزاد کرانے میں:اس مصرف سے مراد مسلمان غلام ہے کہ زکاۃ کے مال سے اسے خرید کر آزاد کیا جائے یا غلام ’’مکاتب‘‘٭ ہے توزکاۃ سے اس کی کتابت کی اقساط(اس کے مالک کو)ادا کی جائیں تاکہ وہ آزاد ہو جائے۔ 6: مقروض:اس سے مراد ایسا صاحب قرض ہے جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی میں مقروض نہیں ہوا اور اس کی ادائیگی بہت مشکل ہو تو اسے زکاۃ سے اس قدر دیا جائے کہ قرض کی ادائیگی اس کے لیے آسان ہو جائے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((إِنَّ الْمَسْأَلَۃَ لَا تَصْلُحُ إِلَّا لِثَلَاثَۃٍ:لِذِي فَقْرٍ مُّدْقِعٍ،أَوْلِذِي غُرْمٍ مُّفْظِعٍ،أَوْ لِذِي دَمٍ مُّوجِعٍ)) ’’سوال صرف تین قسم کے لوگوں کے لیے جائز ہے،فقیر کے لیے جو بہت شدت میں ہے۔مقروض(غارم)کے لیے جسے قرض کی وجہ سے بہت پریشانی ہے اور خون کی دیت کی ذمہ داری دینے والا،جو اس کے لیے دکھ کا باعث بن گئی ہے۔‘‘ [1] 7: اللہ کے راستہ میں:اس سے مراد اسلامی جہادہے جو اللہ کے دین کی عظمت اور اعلاء کے لیے کیا جارہا ہے،بنابریں غازی کوزکاۃ دی جاسکتی ہے،چاہے وہ غنی ہے۔اس کے علاوہ اس مد میں حج اور عمرہ کرنے والے بھی شامل ہیں،ان لوگوں کو ضرورت کی بنا پر زکاۃ دی جاسکتی ہے۔٭ 8: ابن سبیل:اس سے مراد وہ مسافر ہے جو اپنے شہر سے دور ہو،سفر میں ضروریات پوری کرنے کے لیے اس کوزکاۃ دی جاسکتی ہے،چاہے وہ اپنے علاقے میں غنی ہی ہو،اس لیے کہ اگر سفر میں اس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مال ٭ مکاتب:وہ غلام جس نے اپنے مالک سے مخصوص رقم کے عوض آزادی حاصل کرنے کا تحریری معاہدہ کر رکھا ہو۔واللہ اعلم(ع،ر) ٭ مصارف زکاۃ میں سے ایک مصرف ’’في سبیل اللّٰہ‘‘ ہے،اس سے مراد اللہ کے راستے میں لڑنے والا غازی اور حج یا عمرے کو جانے والا شخص ہے۔متاخرین میں سے بعض نے فی سبیل اللہ کے مفہوم کو وسعت دیتے ہوئے مساجد،شفاخانوں،مدارس اور یتیم خانوں کی تعمیر اور دیگر رفاہی کام وغیرہ،مثلاً:پل اور سڑکوں وغیرہ کی تعمیر کو بھی اس میں شامل کیا ہے لیکن یہ موقف محل نظر ہے،سلف میں سے کوئی بھی اس کا قائل نہیں۔تاہم مدارس کے مسافر یا نادار طلبہ،نادار یتیموں پر مالِ زکاۃ خرچ کرنا درست ہے،نیز اس سے نادار مریضوں کا علاج کرنا بھی صحیح ہے جبکہ بعض علماء نے بیان کیا ہے کہ فی سبیل اللہ سے مراد مجاہدین فی سبیل اللہ ہی ہیں لیکن جہاد کا مقصد چونکہ اعلائے کلمۃ اللہ ہے،اس لیے اس کے مفہوم میں ہر وہ عمل شامل ہے جو اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے کیا جائے،چنانچہ تعلیم و تعلم،مدارس دینیہ اور دینی کتابوں کی نشرواشاعت وغیرہ اسی قبیل سے ہیں،لہٰذا ان پر زکاۃ خرچ کی جا سکتی ہے۔واللہ اعلم۔تفصیل کے لیے دیکھیے:أبحاث ھیئۃ کبار العلماء:95/1،وتمام المنۃ للإمام الألباني،ص:382،والموسوعۃ الفقھیۃ لحسین بن عودۃ:120/3،وفقہ الزکاۃ للقرضاوي۔(عبدالولی) نہیں ہے تو وہ محتاج ہے،البتہ اسے اگر قرض مل سکتا ہے تو اس پر لازم ہے کہ قرض حاصل کرے اور اس وقت تک اس کوزکاۃ نہ دی جائے جب تک وہ اپنے علاقے میں غنی ہے۔ تنبیہات: 1: اگر کوئی مسلمان اپنی زکاۃ مذکورہ مصارف میں سے کسی ایک مد میں دے دے تو جائز ہے،البتہ یہ ہے کہ ان مصارف میں اہم اور زیادہ ضروریات والے کو مقدم قرار دے،ہاں اگرزکاۃ کا مال بہت زیادہ ہے اور آٹھ مصارف میں سے ہر نوع پر وہ تقسیم کرے تو زیادہ بہتر ہے۔ 2: جن افراد کا خرچہ کسی کے ذمہ ہے،وہ انھیں اپنی زکاۃ نہیں دے سکتا،جیسا کہ والدین،اولاد اور بیوی،اس لیے کہ اگر یہ محتاج ہوں تو ان کا خرچ ادا کرنا اس پر لازم اور فرض ہے۔ 3: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آل کو ان کے خصوصی شرف ومقام کی وجہ سے زکاۃ نہیں دی جاسکتی اور ان سے مراد بنو ہاشم،آل علی،آل جعفر،آل عقیل اور آل عباس ہیں،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:’إِنَّ الصَّدَقَۃَ لَا تَنْبَغِي لِآلِ مُحَمَّدٍ(صلی اللّٰه علیہ وسلم)إِنَّمَا ھِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ‘ ’’صدقہ آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جائز نہیں کیونکہ یہ لوگوں(کے مالوں)کی میل ہے۔‘‘ [1] 4: مسلمان اپنی زکاۃ مسلمان سربراہ حکومت کو دے دے تو کافی ہے،چاہے وہ ظالم ہو،اس سے ادائیگی کرنے والے کی ذمہ داری پوری ہو جائے گی،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ کے بارے میں فرمایا:’إِذَا أَدَّیْتَھَا إِلٰی رَسُولِي فَقَد بَرِئْتَ مِنْھَا،فَلَکَ أَجْرُھَا،وَإِثْمُھَا عَلٰی مَنْ بَدَّلَھَا‘ ’’جب تو اسے میرے قاصد کو ادا کر دے تو تو بری ہو گیا اور گناہ گار وہ ہے جو اس میں تبدیلی کرے گا۔‘‘[2] 5: کافر اور فاسق کوزکاۃ نہ دی جائے،مثلاً:نماز کا تارک اور احکام اسلام کا مذاق اڑانے والا،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ((تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِیَائِ ھِمْ وَتُرَدُّ عَلٰی فُقَرَائِ ھِمْ))’’زکاۃ مسلمان اغنیاء سے لی جائے اور مسلمان فقراء کو دی جائے۔‘‘ [3] اسی طرح دولت مند اور کمانے والے تندرست آدمی کو بھی زکاۃ نہ دی جائے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’لَاحَظَّ فِیھَا لِغَنِيٍّ وَّلَا لِقَوِيٍّ مُّکْتَسِبٍ‘ ’’اس میں غنی اور کمانے والے طاقت ور کا کوئی حصہ نہیں ہے۔‘‘[4] اس سے مراد وہ کمانے والا ہے جس کی کمائی اس کی ضرورت کے لیے پوری ہو جائے۔ 6: ایک شہر کی زکاۃ دوسرے شہر میں جو نماز قصر کرنے کی مسافت پر ہے،منتقل نہ کی جائے یا اس سے بھی بعید،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’تُرَدُّ عَلٰی فُقَرَائِ ھِمْ‘ کہا ہے،جس کا ظاہری مفہوم یہی ہے کہ اسی شہر کے فقراء میں زکاۃ تقسیم کی جائے،البتہ علماء نے اس سے یہ صورت مستثنیٰ قرار دی ہے کہ اغنیاء کے شہر میں اگر فقراء نہ ہوں یا دوسرے شہر میں ضرورت زیادہ ہو تو ایک شہر سے دوسرے شہر میں زکاۃ منتقل کی جاسکتی ہے۔بہرصورت ذمہ دار افراد اس پر غور کریں گے۔ 7: ایک شخص نے مستحق زکاۃ سے قرض لینا ہے،اگر اسے قرض کی ادائیگی کی توقع ہے کہ جب ہی میں قرض طلب کروں گا،وہ کوشش کر کے اس کی ادائیگی کر دے گا تو وہ زکاۃ میں اسے رکھ سکتا ہے لیکن اگر اسے اس فقیر سے قرض کی وصولی کی امید نہیں ہے یا اس نیت سے زکاۃ دیتا ہے کہ فقیر یہی رقم مجھے واپس قرض میں دے دے گا تو اس طرح ادائیگیٔ زکاۃ ناجائز ہو گی۔ 8: زکاۃ کی ادائیگی نیت کے بغیر نہیں ہوگی،اگر نیت کے بغیر کسی کو دے دی توزکاۃ ادا نہیں ہو گی،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ،وَإِنَّمَا لِکُلِّ امْرِی ئٍ مَّا نَوٰی‘ ’’اعمال کا انحصار نیتوں پر ہے اور ہر انسان کے لیے وہ ہے جو وہ نیت کرے۔‘‘ [1] لہٰذا دینے والے پر لازم ہے کہ وہ اپنے مال کی فرض زکاۃ ادا کرنے کی نیت کرے اور ارادہ محض اللہ کی رضا جوئی ہو،اس لیے کہ ہر عبادت میں اخلاص شرط ہے،جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ﴾ ’’اور انھیں یہی حکم ملا ہے کہ اخلاص کے ساتھ اللہ کی عبادت کریں۔‘‘[2]