زکاۃ کا بیان

صدقۂ فطر کا بیان

صدقۂ فطر کا حکم: مسلمانوں پر فطرانہ دینا واجب ولازم ہے،اس لیے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: ’فَرَضَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم زَکَاۃَ الْفِطْرِ،صَاعًا مِّنْ تَمْرٍ أَوْصَاعًا مِّنْ شَعِیرٍ،عَلَی الْعَبْدِ وَالْحُرِّ وَالذَّکَرِ وَالْأُنْثٰی وَالصَّغِیرِ وَالْکَبِیْرِ مِنَ الْمُسْلِمِینَ‘ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلام اور آزاد،مرد اور عورت،چھوٹے اور بڑے سب مسلمانوں پر صدقۂ فطر کھجور یا جو کا ایک صاع فرض کیا ہے۔‘‘ [3] 2. صدقۂ فطر کی حکمت: لغو ورفث کے آثار سے روزے دار کو یہ خیرات صاف وپاک کر دے گی،جبکہ عید کے دن فقرا ء ومساکین کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے سے بھی بے نیاز ہو جائیں گے۔ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ((فَرَضَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم زَکَاۃَ الْفِطْرِ طُھْرَۃً لِّلصَّائِمِ مِنَ اللَّغْوِ وَالرَّفَثِ وَطُعْمَۃً لِّلْمَسَاکِینِ)) ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ دار کو لغو ورفث سے پاک کرنے اور مساکین کی خوراک کے لیے صدقۂ فطر فرض کیا ہے۔‘‘[1] اور فرمایا:’أَغْنُوھُمْ عَنْ طَوَافِ ھٰذَا الْیَوْمِ‘ ’’اس دن ان(مساکین)کو سوال سے بے نیاز کردو۔‘‘[2] 3. صدقۂ فطر کی مقدار اور جن چیزوں سے یہ ادا کیا جائے گا: صدقۂ فطر کی مقدار ایک صاع ہے اور ایک صاع،چار مد(دو کلو 100گرام)کا ہوتا ہے اور شہر میں جو خوراک گندم،جو،کھجور،چاول،کشمش اور پنیر میں سے زیادہ استعمال ہوتی ہو،اسی میں سے یہ صدقہ ادا کیا جائے گا،ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چھوٹے بڑے،آزاد وغلام کی طرف سے ایک صاع طعام یا ایک صاع پنیر یا ایک صاع جو یا ایک صاع کھجور یا ایک صاع کشمش کا نکالتے تھے۔[3] 4. فطرانہ کی ادائیگی،نقدی سے یا غلہ سے: لازم یہی ہے کہ صدقۂ فطر میں خوراک کی انواع میں سے کوئی جنس دی جائے،اس کے بجائے بلا ضرورت نقد رقم نہیں دینی چاہیے،اس لیے کہ رسول اللہ سے یہ ثابت نہیں ہے کہ آپ نے طعام کے بدلے نقد روپے کی ادائیگی کی ہو بلکہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے بھی یہ بات ثابت نہیں ہے،البتہ صرف ضرورت کے وقت نقدی دی جاسکتی ہے۔ 5. صدقۂ فطر کے وجوب اور ادائیگی کا وقت: صدقۂ فطر شوال کی پہلی تاریخ،یعنی عید کی رات کی ابتدا سے واجب ہو جاتا ہے اور عید کی نماز سے پہلے ادائیگی ضروری ہے،ہاں ایک دو دن پہلے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے صدقۂ فطر ادا کرنا ثابت ہے،جس سے جواز نکلتا ہے اور افضل وقت یہ ہے کہ عید کی صبح صادق کے بعد اور نماز عید سے پہلے ادا ہو،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ نماز کی طرف جانے سے پہلے زکاۃ فطر ادا کرلی جائے،[4] اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے: ((فَرَضَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم زَکَاۃَ الْفِطْرِ طُھْرَۃً لِّلصَّائِمِ مِنَ اللَّغْوِ وَالرَّفَثِ وَطُعْمَۃً لِّلْمَسَاکِینِ،مَنْ أَدَّاھَا قَبْلَ الصَّلَاۃِ فَھِيَ زَکَاۃٌ مَّقْبُولَۃٌ،وَمَنْ أَدَّاھَا بَعْدَ الصَّلَاۃِ فَھِيَ صَدَقَۃٌ مِّنَ الصَّدَقَاتِ)) ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ دار کو لغو ورفث سے پاک کرنے اور مساکین کو خوراک مہیا کرنے کے لیے صدقۂ فطر فرض قرار دیا ہے،چنانچہ جو نماز سے پہلے ادا کرے گا،وہ زکاۃ ہے،اللہ تعالیٰ اسے قبول کرے گا اور جو نماز کے بعد ادا کرے گا تو یہ عام خیرات ہے۔‘‘ [1] 6. صدقۂ فطر کا مصرف: اس کے مصارف بھی عام مالی زکاۃ کی طرح ہیں،البتہ باقی مصارف کے بجائے بہتر یہ ہے کہ فقراء اور مساکین کو یہ خیرات دی جائے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:’أَغْنُوھُمْ عَنْ طَوَافِ ھٰذَا الْیَوْمِ‘ ’’اس دن ان(مساکین)کو سوال سے بے نیاز کر دو۔‘‘ [2] غیر فقراء کو اس صورت میں دیا جاسکتا ہے،جب فقراء نہ ہوں یا ان کی ضرورت معمولی ہو یا فقیر کے علاوہ دوسرے حقداروں کی ضرورت بہت زیادہ ہو۔ تنبیہات: 1: دولت مند عورت اپنے فقیر خاوند کو صدقۂ فطر دے سکتی ہے،جبکہ خاوند اپنی بیوی کوزکاۃ نہیں دے سکتا،اس لیے کہ بیوی کا خرچ خاوند پر لازم ہے اور خاوند کا خرچ بیوی پر نہیں ہے۔ 2: اس شخص سے صدقۂ فطر ساقط ہو جائے گا جو ایک دن کی خوراک کا بھی مالک نہیں ہے،اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کسی نفس کو اس کی وسعت سے زیادہ مکلف نہیں کرتا۔ 3: ایک دن کی خوراک سے زیادہ کا مالک جب صدقۂ فطر کسی کو دے گا تو یہ اس کے لیے کفایت کرے گا،اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ﴾’’اللہ سے اتنا ڈرو جتنی تم طاقت رکھتے ہو۔‘‘[3] 4: ایک شخص کا صدقۂ فطر کئی افراد کو دیا جاسکتا ہے اور کئی افراد کا صدقہ ایک فرد کو بھی دیا جاسکتا ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس معاملہ میں کسی قسم کی حدبندی اور تعیین وارد نہیں۔ 5: مسلمان پر زکاۃ فطر اسی شہر میں واجب ہے جس میں وہ مقیم ہے۔ 6: ایک شہر سے دوسرے شہر میں زکاۃ فطر منتقل نہ کی جائے،اِلَّا یہ کہ کوئی ضرورت درپیش ہو،نیز اس معاملہ میں اس کا حکم زکاۃ والا ہے۔