حج اور عمرے کا بیان

حج اور عمرے کا حکم

حج ہر اس مسلمان مرد اور عورت پر اللہ کی طرف سے فرض ہے،جو اس کی طرف راستہ کی طاقت رکھتا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا﴾ ’’اور لوگوں پر اللہ کے لیے بیت اللہ کا حج ہے جو اس کی طرف راستہ کی استطاعت رکھتا ہے۔‘‘[3] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((بُنِيَ الإِْسْلَامُ عَلٰی خَمْسٍ:شَھَادَۃِ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللّٰہِ،وَإِقَامِ الصَّلَاۃِ،وَإِیتَائِ الزَّکَاۃِ،وَحَجِّ الْبَیْتِ،وَصَوْمِ رَمَضَانَ)) ’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے،اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)اللہ کے رسول ہیں،نماز قائم کرنا،زکاۃ دینا،حج بیت اللہ اور رمضان المبارک کے روزے رکھنا۔‘‘[1] حج زندگی میں ایک بار فرض ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:’اَلْحَجُّ مَرَّۃً،فَمَنْ زَادَ فَھُوَ تَطَوُّعٌ‘ ’’حج ایک بار فرض ہے جو اس سے زائد کرے گا تو یہ نفل ہے۔‘‘ [2] البتہ ہر پانچ سال بعد تکرار مستحب ہے،اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ عزوجل سے روایت کرتے ہیں:((إِنَّ عَبْدًا صَحَّحْتُ لَہُ جِسْمَہُ وَوَسَّعْتُ عَلَیْہِ فِي الْمَعِیشَۃِ تَمْضِي عَلَیْہِ خَمْسَۃُ أَعْوَامٍ لَا یَفِدُ إِلَيَّ لَمَحْرُومٌ)) ’’جس بندے کو میں نے جسمانی صحت اور روزی میں وسعت دی ہے اور وہ پانچ سال گزرنے کے بعد بھی میرے پاس نہیں آتا تو وہ محروم ہے۔‘‘[3] عمرہ سنت واجبہ ہے،اس لیے کہ فرمان حق تعالیٰ ہے:﴿وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلّٰهِ﴾’’اور حج اور عمرہ اللہ کے لیے مکمل کرو۔‘‘[4] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے،جب ایک شخص نے عرض کیا کہ میرا باپ بوڑھا ہے،حج وعمرہ کی طاقت نہیں رکھتا اور نہ ہی سفر کر سکتا ہے تو فرمایا: ((حُجَّ عَنْ أَبِیکَ وَاعْتَمِرْ))’’تو اپنے باپ کی طرف سے حج اور عمرہ کر۔‘‘ [5]