حج اور عمرے کا بیان
احرام کی سنتیں
سنتوں سے مراد وہ اعمال ہیں جن کے ترک سے دم لازم نہیں آتا،البتہ انسان بہت بڑے اجر سے محروم ہو جاتا ہے اور وہ یہ ہیں:
1: احرام کے وقت غسل کرنا:نفاس اور حیض والی کے لیے بھی یہی حکم ہے،اس لیے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نفاس سے تھیں،انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہانے کا حکم دیا تھا۔[5]
2: احرام کا صاف،پاک،سفید اور دو چادروں میں ہونا،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی معمول تھا۔[1]
3: احرام نفل نماز یا فرض نماز سے فارغ ہو کر باندھنا۔
4: احرام سے پہلے ناخن کاٹنا،مونچھیں صاف کرنا،بغل کے بال اکھیڑنا اور زیر ناف بال صاف کرنا،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسی پر عمل تھا۔
5: حالت بدلنے کے وقت تلبیہ کا تکرار اور تجدید،جیسا کہ محرم سوار ہوتا ہے،اترتا ہے یا نماز پڑھتا ہے وغیرہ۔
6: ’’تلبیہ‘‘ کے بعد دعا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے درود پڑھنا،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ’’تلبیہ‘‘ سے فارغ ہوتے تو اپنے رب سے جنت کا سوال کرتے اور جہنم سے پناہ مانگتے۔‘‘[2]