حج اور عمرے کا بیان

ممنوعات احرام

ان سے وہ اعمال مراد ہیں جن سے شارع نے منع کیا ہے اور ان میں سے بعض کے کرنے پر فدیہ(دم یا روزہ یا طعام)لازم ہو جاتا ہے اور بعض کے کرنے پر گناہ،وہ یہ ہیں: 1: سر کو کسی چیز سے ڈھانپ لینا۔ 2: بال مونڈنا،چاہے قلیل مقدارمیں ہوں،برابرہے کہ سرکے بال ہوں یا جسم کے کسی اور حصہ کے۔ 3: ناخن کاٹنا چاہے ہاتھوں کے ہوں یا پاؤں کے۔ 4: خوشبو لگانا۔ 5: سلا ہوا کپڑا پہننا۔ 6: خشکی کا شکار کرنا،اس لیے کہ اللہ رب العزت کا فرمان ہے:﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنتُمْ حُرُمٌ﴾ ’’اے ایمان والو!احرام کی حالت میں تم شکار نہ کرو۔‘‘[3] 7: جماع تک پہنچا دینے والا بوسہ وغیرہ،اس لیے کہ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ﴾’’حج میں شہوت کی بات،گناہ اور جھگڑا نہیں ہے۔‘‘[4] ’’رفث‘‘سے مراد وہ امور ہیں،جو مرد اور عورت کے جنسی ملاپ کا باعث بن جائیں۔ 8: نکاح کرنا یا پیغام نکاح دینا،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’لَا یَنْکِحُ الْمُحْرِمُ وَلَا یُنْکِحُ وَلَا یَخْطُبُ‘ ’’محرم نہ خود نکاح کرے اور نہ کسی کا نکاح کرے اور نہ ہی وہ پیغام نکاح دے۔‘‘ [5] 9: جماع کرنا،اس لیے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے:﴿فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ﴾’’حج میں رفث،گناہ اور جھگڑا نہیں ہے۔‘‘[1]