جہاد کا بیان

جہاد کا حکم،اقسام اور حکمت

جہاد کا حکم: مخصوص جہاد یعنی حربی کافروں کے ساتھ جنگ فرض کفایہ ہے مسلمانوں میں سے کچھ لوگ اگر یہ فریضہ سرانجام دے رہے ہوں تو باقی لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے،اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنفِرُوا كَافَّةً ۚ فَلَوْلَا نَفَرَ مِن كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَائِفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ﴾ ’’اور یہ مناسب نہیں کہ سارے مسلمان نکل پڑیں،پس کیوں نہیں نکلتا ہر قوم میں سے ایک گروہ تاکہ وہ دین کی سمجھ حاصل کریں اور جب اپنی قوم میں آئیں تو ان کو ڈرائیں تاکہ وہ(برے کاموں سے)بچ سکیں۔‘‘[1] البتہ جن افراد کو امام متعین کر کے جہاد کا حکم دے،ان کے حق میں جہاد فرض عین ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا‘ ’’اور جب تمھیں جہاد کے لیے نکلنے کا کہا جائے تو نکلو۔‘‘[2] اسی طرح اگر دشمن شہر پر حملہ آور ہو جائے تو عورتوں سمیت اس شہر کے سب باشندوں پر دفاع اور لڑائی فرض ہوجاتی ہے۔ ٭ جہاد کی اقسام: 1: حربی کفار سے جہاد کرنا اور یہ ہاتھ،مال،زبان اور دل کے ساتھ ہوتا ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:((جَاھِدُوا الْمُشْرِکِینَ بِأَمْوَالِکُمْ وَأَنْفُسِکُمْ وَأَلْسِنَتِکُمْ))’’مشرکین سے اپنے مالوں،جانوں اور زبانوں کے ساتھ جہاد کرو۔‘‘[3] 2: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نافرمانوں(فاسقوں)سے جہاد کرنا اور یہ بھی ہاتھ،زبان اور دل کے ساتھ ہوتا ہے۔چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((مَنْ رَّأٰی مِنْکُمْ مُّنْکَرًا فَلْیُغَیِّرْہُ بِیَدِہِ،فَإِنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِہِ،فَإِنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِہِ،وَذٰلِکَ أَضْعَفُ الإِْیمَانِ)) ’’تم میں سے جو کوئی برا کام دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے بدلے،اگر اس کی طاقت نہیں ہے تو زبان سے بدلے اور اگر اس کی بھی طاقت نہیں تو دل سے ہی برا جانے اور یہ کمزور ترین ایمان ہے۔‘‘[1] 3: شیطان سے جہاد کرنا،یعنی انسان اس کے ڈالے ہوئے شبہات و وسواس کو اپنے دل سے نکال دے اور اس کی مزین کردہ شہوات کو ترک کر دے،اس لیے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿وَلَا يَغُرَّنَّكُم بِاللّٰهِ الْغَرُورُ﴾’’اور شیطان اللہ کے بارے میں تمھیں ہرگز دھوکا نہ دے سکے۔‘‘[2] اور فرمایا:﴿إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا﴾’’بے شک شیطان تمھارا دشمن ہے،سو تم اسے اپنا دشمن سمجھو۔‘‘[3] 4: نفس سے جہاد کرنا،یعنی انسان اپنے نفس کو دینی امور کی تعلیم کی طرف مائل کرے اور ان پر عمل کے لیے اسے آمادہ کرے،نفسانی خواہشات سے دور رہنے اور نفس کی رعونتوں سے بچنے کی سعی کرے۔٭ ٭ جہاد کی حکمت: جہاد کی تمام اقسام میں یہ حکمت پوشیدہ ہے کہ ایک اللہ کی عبادت کی جائے اور ظلم و تعدی اور شر کو مٹایا جائے،جانوں اور مالوں کا تحفظ کیا جائے،حق و عدل کا بول بالا ہو اور خیرات و فضیلت کے کام عام ہوں۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلّٰهِ﴾ ’’اور ان سے لڑتے رہو،یہاں تک کہ فتنہ اور فساد نہ رہے اور دین سارے کا سارا اللہ کے لیے ہو جائے۔‘‘[4] جہاد کی فضیلت: جہاد اور اللہ کی راہ میں شہادت کے فضائل میں بہت سی واضح آیات اور صحیح احادیث وارد ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاد اللہ عزوجل کا تقرب حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ اور افضل عبادت ہے۔چند ایک بطور نمونہ پیش خدمت ہیں۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿إِنَّ اللّٰهَ اشْتَرَىٰ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُم بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ ۚ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ ۖ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ وَالْقُرْآنِ ۚ وَمَنْ أَوْفَىٰ بِعَهْدِهِ مِنَ اللّٰهِ ۚ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُم بِهِ ۚ وَذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ﴾ ٭ بعض لوگ نفس سے جہاد کرنے کو جہاد اکبر کہتے ہیں،حالانکہ اس بارے میں کوئی صحیح دلیل موجود نہیں اور جو بیہقی نے کتاب الزہد اور خطیب نے تاریخ بغداد میں جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوہ سے واپس آئے تو فرمایا:’’تم جہاد اصغر کر کے آئے ہو،اب جہاد اکبر کرو۔‘‘(اپنی خواہشات کے خلاف جہاد کرو،)اس روایت کی سند سخت ضعیف ہے۔(مؤلف) ’’بے شک اللہ نے جنت کے بدلے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال خرید لیے ہیں،وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں،پس قتل کرتے ہیں اور قتل کیے جاتے ہیں۔اللہ کا یہ سچا وعدہ تورات،انجیل اور قرآن میں ہے اور اللہ سے زیادہ وعدہ پورا کرنے والا کون ہے۔سو تم اس اپنی بیع(تجارت)پر جو تم نے کی ہے،خوش ہو جاؤ،اوریہ بہت بڑی کامیابی ہے۔‘‘[1] اور فرمایا:﴿إِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُم بُنْيَانٌ مَّرْصُوصٌ﴾ ’’یقینااللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے،جو اس کی راہ میں صفیں بنا کر لڑتے ہیں،گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔‘‘[2] اور فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَىٰ تِجَارَةٍ تُنجِيكُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ﴿١٠﴾تُؤْمِنُونَ بِاللّٰهِ وَرَسُولِهِ وَتُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ﴿١١﴾يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَيُدْخِلْكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ وَمَسَاكِنَ طَيِّبَةً فِي جَنَّاتِ عَدْنٍ ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ﴾ ’’اے ایمان والو!کیا میں تمھیں ایک ایسی تجارت کی نشاندہی کروں جو تمھیں دردناک عذاب سے نجات دے گی(وہ یہ کہ)تم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاؤ اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جہاد کرو،اگر تم جانتے ہو تو یہ تمھارے لیے بہتر ہے۔وہ تمھارے گناہ بخش دے گا اور تمھیں ایسے باغوں میں داخل کرے گا،جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں اور ہمیشگی کے باغوں میں اچھی رہائش گاہیں دے گا اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔‘‘[3] اور شہید ہونے والے مجاہدین کی فضیلت میں ارشاد فرمایا: ﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللّٰهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ﴿١٦٩﴾فَرِحِينَ بِمَا آتَاهُمُ اللّٰهُ مِن فَضْلِهِ﴾ ’’اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے ہیں انھیں تم مردے ہر گز نہ سمجھوبلکہ وہ زندہ ہیں،اپنے رب کے پاس روزی دیے جاتے ہیں۔اللہ نے انھیں جو اپنا فضل دیا ہے،وہ اس پر خوش ہیں۔‘‘[4] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ انسانوں میں سے افضل کون ہے؟ تو فرمایا:((مُؤْمِنٌ یُّجَاھِدُ بِنَفْسِہِ وَمَالِہِ فِي سَبِیلِ اللّٰہِ،ثُمَّ مؤْمِنٌ فِي شِعْبٍ مِّنَ الشِّعَابِ یَعْبُدُ اللّٰہَ رَبَّہُ وَیَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّہِ)) ’’وہ مومن افضل ہے جو اپنی جان و مال کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرے،پھر وہ مومن جو کسی پہاڑ کی گھاٹی میں اللہ کی عبادت کرے اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھے۔‘‘[1] نیز ارشاد فرمایا:((مَثَلُ الْمُجَاھِدِ فِي سَبِیلِ اللّٰہِ۔وَاللّٰہُ أَعْلَمُ بِمَنْ یُّجَاھِدُ فِي سَبِیلِہِ۔کَمَثَلِ الصَّائِمِ الْقَائِمِ،وَتَوَکَّلَ اللّٰہُ لِلْمُجَاھِدِ فِي سَبِیلِہِ بِأَنْ یَّتَوَفَّاہُ أَنْ یُّدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ أَوْ یُرْجِعَہُ سَالِمًا مَّعَ أَجْرٍ أَوْ غَنِیمَۃٍ)) ’’اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال ایسی ہے جیسا کہ(دن کو)روزہ رکھنے والا اور(رات کو)قیام کرنے والا اور اللہ کو خوب معلوم ہے کہ کون اس کی راہ میں جہاد کر رہا ہے۔’’مجاہد فی سبیل اللہ‘‘اللہ کی کفالت(ذمہ)میں ہے کہ اگر اسے فوت(یا شہید)کرے گا تو اسے بہشت میں داخل کرے گایاسلامتی ثواب اور غنیمت کے ساتھ(واپس گھر کی طرف)لوٹا دے گا۔‘‘[2] ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا:مجھے ایسا عمل بتائیں جو میرے لیے جہاد کے اجر کے برابر ہو۔آپ نے فرمایا:’’میری دریافت میں ایسا عمل نہیں۔‘‘ اور مزید ارشاد فرمایا:((ھَلْ تَسْتَطِیعُ إِذَا خَرَجَ الْمُجَاھِدُ أَنْ تَدْخُلَ مَسْجِدَکَ فَتَقُومَ وَلَا تَفْتُرَ وَتَصُومَ وَلَا تُفْطِرَ،قَالَ:وَمَنْ یَّسْتَطِیعُ ذٰلِکَ؟)) ’’کیا تو اس بات کی طاقت رکھتا ہے کہ جب مجاہد جہاد کے لیے جائے تو تو اپنی مسجد میں داخل ہو کر قیام میں لگا رہے اور انقطاع نہ کرے اور روزہ رکھے اور افطار نہ کرے۔اس نے کہا:اس کی کس کو طاقت ہے؟‘‘[3] نیز فرمایا:’وَالَّذِي نَفْسِي بِیَدِہِ!لَا یُکْلَمُ أَحَدٌ فِي سَبِیلِ اللّٰہِ۔وَاللّٰہُ أَعْلَمُ بِمَنْ یُّکْلَمُ فِي سَبِیلِِہِ۔إِلَّا جَائَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَاللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ وَالرِّیحُ رِیحُ الْمِسْکِ‘ ’’مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!جو کوئی اللہ کے راستے میں زخمی ہوتا ہے اور اللہ کو خوب معلوم ہے کہ کون اس کی راہ میں زخمی ہوا ہے۔وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس(کے خون)کا رنگ(شہادت کے)خون کی طرح ہو گا اور مہک کستوری کی سی ہو گی۔‘‘[4] مزید فرمایا:’مَنْ مَّاتَ وَلَمْ یَغْزُ وَلَمْ یُحَدِّثْ نَفْسَہُ بِغَزْوٍ،مَاتَ عَلٰی شُعْبَۃٍ مِّنْ نِّفَاقٍ‘ ’’جو کوئی اس حال میں مرا کہ کفار سے غزوہ نہیں کیا اور نہ اپنے دل سے غزوہ کرنے کی بات کی،وہ نفاق کے ایک شعبے پر مرا۔‘‘[1] نیز ارشاد ہوا:’وَالَّذِي نَفْسِي بِیَدِہِ!لَوْلَا أَنَّ رِجَالًا مِّنَ الْمُؤْمِنِینَ لَا تَطِیبُ أَنْفُسُھُمْ أَنْ یَّتَخَلَّفُوا عَنِّي،وَلَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُھُمْ عَلَیْہِ،مَا تَخَلَّفْتُ عَنْ سَرِیَّۃٍ تَغْزُو فِي سَبِیلِ اللّٰہِ،وَالَّذِي نَفْسِي بِیَدِہِ!لَوَدِدْتُّ أَنِّي أُقْتَلُ فِي سَبِیلِ اللّٰہِ ثُمَّ أُحْیَا ثُمَّ أُقْتَلُ ثُمَّ أُحْیَا ثُمَّ أُقْتَلُ،ثُمَّ أُحْیَا،ثُمَّ أُقْتَلُ‘ ’’قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!اگر ایسا نہ ہو کہ مومن مجھ سے پیچھے رہنا پسند نہیں کرتے اور میں بھی انھیں(سفر جہاد کے لیے)سواری دینے کی طاقت نہیں پاتا(اگر یہ دونوں باتیں نہ ہوں)تو میں اللہ کی راہ میں لڑنے والے کسی بھی فوجی دستے سے پیچھے نہ رہوں۔قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!میں پسند کرتا ہوں کہ میں اللہ کی راہ میں قتل کیا جاؤں،پھر زندہ کیا جاؤں،پھرقتل کیا جاؤں،پھر زندہ کیا جاؤں،پھر قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں،پھر قتل کیا جاؤں۔‘‘[2] نیز فرمایا:’مَا اغْبَرَّتْ قَدَمَا عَبْدٍ فِي سَبِیلِ اللّٰہِ فَتَمَسَّہُ النَّارُ‘ ’’جس بندے کے قدم اللہ کے راستہ میں غبار آلود ہوں اس کو جہنم کی آگ نہیں لگے گی۔‘‘[3] فرمان نبوی ہے: ((مَا أَحَدٌ یَّدْخُلُ الْجَنَّۃَ یُحِبُّ أَنْ یَّرْجِعَ إِلَی الدُّنْیَا،وَلَہُ مَا عَلَی الْأَرْضِ مِنْ شَيْئٍ إِلَّا الشَّھِیدُ یَتَمَنّٰی أَنْ یَّرْجِعَ إِلَی الدُّنْیَا فَیُقْتَلَ عَشْرَ مَرَّاتٍ،لِمَا یَرٰی مِنَ الْکَرَامَۃِ)) ’’بہشت میں داخل ہونے والے کو زمین پر جو کچھ ہے اگر دے دیا جائے تو پھر بھی وہ واپس دنیا میں آنا نہیں چاہے گا،سوائے شہید کے کہ وہ اس اعزاز کی بنا پر جو اسے ملا،تمنا کرے گا کہ وہ دنیا میں واپس جائے اور دس بار قتل ہو جائے۔‘‘[4]