جہاد کا بیان
جہاد میں رباط:تعریف،حکم اور فضیلت
٭ رباط کی تعریف:
اسلامی لشکر کا پوری طرح مسلح ہو کر خطرے کی جگہوں اور سرحدوں پر،جہاں امکان ہے کہ دشمن اندر آ سکتا ہے یا مسلمانوں کی آبادی پر حملہ آور ہو سکتا ہے،ٹھہرنا ’’رباط‘‘کہلاتا ہے۔
٭ رباط کا حکم:
جہاد کی طرح یہ بھی فرض کفایہ ہے،جب بعض افراد یہ فریضہ سرانجام دے رہے ہوں تو باقی لوگوں سے ساقط ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے دشمن کے مقابلہ میں اس کا حکم یوں دیا ہے۔
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾
’’اے ایمان والو!صبر کرو،ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کرو اور(دشمن کے مقابلہ میں)جمے رہو اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔‘‘[1]
٭ رباط کی فضیلت:
دشمن اسلام کے مقابلہ میں ڈٹ جانا،افضل عمل اور اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا:
((رِبَاطُ یَوْمٍ فِي سَبِیلِ اللّٰہِ خَیْرٌ مِّنَ الدُّنْیَا وَمَا عَلَیْھَا))’’اللہ کے راستہ میں ایک دن کی نگہبانی کرنا دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔‘‘ [2] اور فرمایا:
((کُلُّ الْْمَیِّتِ یُخْتَمُ عَلٰی عَمَلِہِ إِلَّا الْمُرَابِطَ،فَإِنَّہُ یَنْمُو لَہُ عَمَلُہُ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ وَیُؤَمَّنُ مِنْ فَتَّانِ الْقَبْرِ))
’’ہر فوت شدہ کا عمل ختم ہو جاتا ہے،البتہ اسلامی سرحدوں کی نگرانی کرنے والے کا عمل قیامت تک بڑھتا رہے گا اور وہ قبر میں منکر نکیر کی آزمائش سے محفوظ رہے گا۔‘‘[3]
نیز فرمایا:’حُرِّمَتِ النَّارُ عَلٰی عَیْنٍ سَھَرَتْ فِي سَبِیلِ اللّٰہِ‘ ’’اس آنکھ پرجہنم کی آگ حرام کر دی گئی ہے،جو اللہ کے راستہ میں بیدار رہی۔‘‘[4]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انس بن ابو مرثد غنوی رضی اللہ عنہما کو ایک رات فوج کے پہرے کا حکم دیا،صبح ہونے پر وہ آئے تو آپ نے پوچھا:’’تو آج رات نیچے اترا ہے؟ ’’انس رضی اللہ عنہ نے عرض کی:میں نماز اور قضائے حاجت کے سوا نہیں اترا۔
تو فرمایا:’قَدْ أَوْجَبْتَ،فَلَا عَلَیْکَ أَنْ لَّا تَعْمَلَ بَعْدَھَا‘’’تو نے جنت واجب کر لی ہے،آج کے بعد تو کوئی بھی(نفل)عمل نہ کرے تو تجھ پر کوئی حرج نہیں۔‘‘[5]
جہاد کے لیے تیاری کا وجوب:
اسباب و آلات اور ہمہ قسم کے جنگی ہتھیار مہیا کرنا بھی جہاد کی طرح فرض ہے،اس لیے کہ اس کے بغیر جہاد نہیں ہو سکتا۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللّٰهِ وَعَدُوَّكُمْ﴾
’’اور جہاں تک ہو سکے ان کے(مقابلے کے)لیے طاقت تیار کرو اور گھوڑے بھی تیار رکھو اس سے تم اللہ کے اور اپنے دشمن کو ڈرا سکو گے۔‘‘[1]
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر کہتے ہوئے سنا:
﴿وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ﴾((أَلَا!إِنَّ الْقُوَّۃَ الرَّمْيُ،أَلَا!إِنَّ الْقُوَّۃَ الرَّمْيُ،أَلَا!إِنَّ الْقُوَّۃَ الرَّمْيُ))
’’اور ان کے لیے جو قوت مہیا کر سکتے ہو،تیار رکھو۔سنو!بے شک قوت تو رمی(پھینکنا)ہے،بے شک قوت تو رمی ہے،بے شک قوت تو رمی(پھینکنا)ہے۔‘‘ [2] اور فرمایا:
((إِنَّ اللّٰہَ لَیُدْخِلُ بِالسَّھْمِ الْوَاحِدِ الثَّلَاثَۃَ الْجَنَّۃَ:صَانِعَہُ یَحْتَسِبُ فِي صَنْعَتِہِ الْخَیْرَ،وَالرَّامِيَ بِہِ،وَالْمُمِدَّ بِہِ وَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم:اِرْمُوا وَارْکَبُوا،وَأَنْ تَرْمُوا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَرْکَبُوا،وَکُلُّ مَا یَلْھُو بِہِ الْمَرْئُ الْمُسْلِمُ بَاطِلٌ،إِلَّا رَمْیَہُ بِقَوْسِہِ،وَتَأْدِیبَہُ فَرَسَہُ،وَمُلَاعَبَتَہُ امْرَأَتَہُ،فَإِنَّھُنَّ مِنَ الْحَقِّ))
’’بے شک اللہ ایک تیر کی وجہ سے تین انسانوں کو جنت میں داخل کرے گا۔ثواب کے حصول کے لیے اسے بنانے والا،اسے پھینکنے والا اور پھینکنے کے لیے دینے والا۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تیر اندازی اور سواری سیکھو اور سواری سیکھنے سے تیر اندازی مجھے زیادہ پسند ہے۔مسلمان آدمی کا ہر کھیل بے فائدہ ہے لیکن تین کھیل بے فائدہ شمار نہیں ہوتے۔اپنی کمان میں مہارت حاصل کرنا،اپنے گھوڑے کو جنگی چالیں سکھانا،اپنی بیوی کے ساتھ خوش گپی کرنا کیونکہ یہ چیزیں حق ہیں۔‘‘[3]
اس وجہ سے تمام مسلمانوں پر،خواہ وہ ایک حکومت قائم کر چکے ہوں،یا(بدقسمتی سے)مختلف حکومتوں کی صورت میں رہ رہے ہوں،لازم ہے کہ ہتھیار تیار رکھیں اور جنگی سامان مہیا کریں اور مردوں کو حرب و قتال کی تربیت دیں،جس سے وہ نہ صرف دشمن کے حملے کو روک سکیں بلکہ اللہ کے دین کی عظمت اور زمین میں عدل و خیر اور امن و سلامتی کے لیے انھیں اللہ کے راستہ میں آگے بڑھ کر بھی حملہ کرنا پڑے تو کر سکیں۔
مسلمانوں پر یہ بھی لازم ہے کہ فوجی ٹریننگ کا جبری انتظام کریں۔جو نوجوان اٹھارہ سال کی عمر کا ہوجائے تو ڈیڑھ سال کے لیے لازمی عسکری خدمت کے لیے اسے طلب کر لیا جائے۔اس مدت میں وہ جنگ و قتال کے فنون کی تربیت حاصل کرے اور پھر اس کا نام مسلمان فوج میں رجسٹر کر لیا جائے۔اس طرح جیسے ہی اس کو طلب کیا جائے گا،وہ جہاد کے لیے تیار ہو گا۔اگر اس کی نیت درست ہے تو اس رجسٹریشن کی و جہ سے ان شاء اللہ مجاہد فی سبیل اللہ کے مرتبے پر ہے۔
یہ بھی مسلمانوں پر لازم ہے کہ جنگی سامان تیار کرنے والی فیکٹریاں لگائیں اور دنیا میں جس انداز کا سامان جنگ تیار ہو رہا ہے یا ہو سکتا ہے،خود تیار کریں۔چاہے اس کے لیے انھیں غیر ضروری خور و نوش،لباس اور رہائش کے اخراجات ترک کرنے پڑیں۔یہ ایک ایسی ذمہ داری ہے جس سے فریضہ ٔجہاد مکمل اور بہترین طریقے سے سر انجام دیا جا سکتا ہے۔ورنہ وہ مجرم ہوں گے اور دنیا و آخرت میں اللہ کے عذاب سے دوچار ہوں گے۔
ارکان جہاد:
شرعی جہاد(جس کے نتیجے میں فتح یا شہادت حاصل ہو)کے چند ارکان مندرجہ ذیل ہیں:
1: نیت کا درست ہونا۔اس لیے کہ عملوں کا انحصار نیتوں پر ہے۔
جہاد میں صرف اللہ کے حکم کی بلندی مقصود ہونی چاہیے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص حمیت کی بنیاد پر لڑائی کرتا ہے اور دوسرا ریا کے لیے،ان میں سے اللہ کے رستے میں(لڑنے والا)کون سا ہے؟ آپ نے فرمایا:
((مَنْ قَاتَلَ لِتَکُونَ کَلِمَۃُ اللّٰہِ ھِيَ الْعُلْیَا فَھُوَ فِي سَبِیلِ اللّٰہِ))’’جو صرف،اس لیے لڑتا ہے کہ اللہ کا دین بلند ہو،وہ مجاہد فی سبیل اللہ ہے۔‘‘[1]
2: جہاد کسی مسلمان امام(حکمران یا اس کے نائب)کی زیر قیادت،اس کے جھنڈے کے تحت اور اس کی اجازت سے ہو۔مسلمانوں کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ امام کے بغیر زندگی بسر کریں،چاہے ان کی تعداد تھوڑی ہی کیوں نہ ہو اور اسی طرح یہ بھی جائز نہیں کہ وہ امام اور حکمران کی قیادت اور اجازت کے بغیر لڑائی کریں۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے:﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللّٰهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ﴾
’’اے ایمان والو!اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اپنے میں سے حکومت والوں کی بھی اطاعت کرو۔‘‘[2]
اس لیے مسلمانوں کے ہر اس گروہ پر لازم ہے جس کا کوئی شرعی امام نہیں اور وہ اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے کہ اپنے میں سے ایک ایسے مرد کو اپنے لیے امام چن کر اس کے ہاتھ پر بیعت کرے،جس میں امامت کی زیادہ سے زیادہ شرطیں،مثلًا:علم،تقوٰی اور کفایت و اہلیت وغیرہ پائی جائیں،پھر اپنی صفیں منظم کریں اور اپنے اندر اتفاق و اتحاد کی فضا پیدا کریں اور زبان،مال اور ہاتھ سے جہاد شروع کریں،پھر اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرے گا۔
3: پوری قوت صرف کر کے ممکنہ حد تک سامان جنگ اور ہتھیاروں سے لیس ایک لشکر جرار تیار رکھنا،اس لیے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ﴾’’اور جہاں تک ہو سکے ان کے لیے قوت تیار رکھو۔‘‘[1]
4: ماں باپ یا ان میں سے کوئی ایک زندہ ہے تو ان کی رضا حاصل کرنی چاہیے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مرد آیا اور جہاد کی اجازت طلب کی تو آپ نے پوچھا:’’کیا تیرے والدین زندہ ہیں۔‘‘اس نے کہا:’’ہاں،فرمایا:’’ان کی خدمت کا جہاد ادا کر۔‘‘[2]
ا لّا یہ کہ دشمن اس کی اپنی مسلم آبادی پر حملہ آور ہو جائے یا امام کسی کو متعین کر کے جہاد کا حکم صادر کر دے تو ماں باپ سے اجازت لینا ساقط ہو جاتا ہے۔
5: امام کی فرمانبرداری اور اطاعت،اس لیے کہ جو امام کی نافرمانی میں مرا وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
((مَنْ کَرِہَ مِنْ أَمِیرِہِ شَیْئًا فَلْیَصْبِرْ عَلَیْہِ،فَإِنَّہُ لَیْسَ أَحَدٌ مِّنَ النَّاسِ یَخْرُجُ مِنَ السُّلْطَانِ شِبْرًا فَمَاتَ عَلَیْہِ إِلَّا مَاتَ مِیتَۃً جَاھِلِیَّۃً))
’’جو اپنے امیر کی کوئی چیز ناپسند کرتا ہے تو اس پر صبر کرے،اس لیے کہ جو کوئی اپنے امیر کی اطاعت سے ایک بالشت خارج ہوا اور مر گیاتو وہ جاہلیت کی موت مرا۔‘‘[3]
لڑائی کے لیے کن باتوں کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے:
مجاہد پر لازم ہے کہ معرکہ میں داخل ہوتے وقت درج ذیل امور کو پیش نظر رکھے:
1: جنگ میں ثابت قدم رہنا اور اپنی جان کی بازی لگا دینا،اس لیے کہ میدان جنگ سے فرار اور شکست کو اللہ عزوجل نے حرام قرار دیا ہے۔چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوهُمُ الْأَدْبَارَ﴾’’اے ایمان والو!جب تم کافروں کو جنگ میں ملو تو انھیں پیٹھ دے کر نہ بھاگو۔‘‘[4]
تاہم یہ اس صورت میں ہے کہ جب کفار دوگنے سے زیادہ نہ ہوں،اگر زائد ہوں،مثلًا:ایک مسلمان کے مقابلے میں
تین یا زیادہ کافر ہوں تو میدان جنگ چھوڑ دینا یا مسلم فوج سے تعاون حاصل کرنے کے لیے پیچھے ہٹنا،شکست و فرار میں شمار نہیں ہوتا،اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿إِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ أَوْ مُتَحَيِّزًا إِلَىٰ فِئَةٍ﴾’’مگر جنگی تدبیر یا جماعت میں ملنے کے لیے(میدان جنگ سے)ہٹنا(اس سے مستثنیٰ ہے۔)‘‘[1]
2: اللہ تعالیٰ کی طرف سے قوت حاصل کرنے کے لیے اللہ رب العزت کے وعدے،وعید اور نیک بندوں کے لیے اس کی دوستی و نصرت کو ذہن نشین کرے اور دل و زبان سے اس کا ذکر کرے۔اس طرح اسے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے مزید قوت ملے گی اور دل میں اطمینان اور مضبوطی پیدا ہو گی۔
3: احکام میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرے اور کسی معاملے میں بھی ان کی ہدایات کی خلاف ورزی نہ کرے اور نہ ہی منہیات(گناہوں)کا ارتکاب کرے۔
4: آپس کے جھگڑے اور باہمی نزاع ختم کر دے،اس لیے کہ میدان جنگ میں متحد ہو کر داخل ہونا لازم ہے،مجاہدین کے دل اور جسم سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ مل کر مضبوط ہونے چاہئیں۔
5: صبر وتلقین کا مظاہرہ کریں اور دشمن کو میدان سے بھگانے تک مجاہدین جان کی بازی لگا دیں۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا لَقِيتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا وَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴿٤٥﴾وَأَطِيعُوا اللّٰهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ ۖ وَاصْبِرُوا ۚ إِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصَّابِرِينَ﴾
’’اے ایمان والو!جب(دشمن کی کسی)جماعت سے تمھاری لڑائی ہو جائے تو ثابت قدم رہو اور اللہ کابہت ذکر کرو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں نہ جھگڑو ورنہ تم بزدل ہو جاؤ گے اور تمھاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر کرو،یقینا اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘[2]