جہاد کا بیان
ذمیوں کے احکام
٭ عقد ذمہ:
کفار میں سے جو کوئی جزیہ دینے پر آمادہ ہو جائے اور حدود،مثلًا:قتل،چوری اور پامالی ٔعزت میں اسلامی احکام کی پابندی قبول کر لے،اسے امان و تحفظ مہیا کرنا ’’عقد ذمہ‘‘ ہے۔
٭ ذمیوں سے معاہدہ کرنے کا کون مجاز ہے؟:
امام یا اس کا نائب،یعنی امیر لشکر ہی ’’عقد ذمہ‘‘کی منظوری دے سکتا ہے اور یہ معاملہ طے کر سکتا ہے،کوئی اور اس معاملے میں کوئی استحقاق نہیں رکھتا۔البتہ عام مسلمان مرد اور عورت کسی بھی کافر کو پناہ یا امان دے سکتے ہیں،جیسا کہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا نے فتح مکہ کے دن ایک مشرک کو پناہ دی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو برقرار رکھتے ہوئے فرمایا:’قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ یَا أُمَّ ھَانِیئٍ‘ ’’ام ہانی!جسے تو نے پناہ دی ہے،ہم اسے تحفظ دیتے ہیں۔‘‘[3]
٭ ذمیوں اور مسلمانوں میں تمیز:
لباس وغیرہ میں مسلمانوں اور ذمیوں کے مابین امتیاز ضروری ہے تاکہ ان کی پہچان رہے اور ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کیا جائے اور انھیں جگہ دینے کے لیے اٹھنا بھی نہیں چاہیے اور نہ ہی ان کے لیے سلام میں پہل کی جائے اور نہ ہی کسی مجلس میں صدر کے مقام پر انھیں بٹھایا جائے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
((لَا تَبْدَؤُوا الْیَھُودَ وَلَا النَّصَارٰی بِالسَّلَامِ،فَإِذَا لَقِیتُمْ أَحَدَھُمْ فِي طَرِیقٍ فَاضْطَرُّوہُ إِلٰی أَضْیَقِہِ))
’’یہود و نصاریٰ کو سلام کہنے میں پہل نہ کرو،جب تم ان میں سے کسی ایک کو راستے میں ملو تو انھیں تنگ راستے کی طرف مجبور کر دو۔‘‘[4]
٭ ذمیوں کو کن چیزوں سے روکا جائے گا:
1: نئے گرجوں اور مذہبی عبادت گاہوں کی تعمیر اور منہدم شدہ عبادت گاہوں کی جدید تعمیر سے ان کو منع کر دیا جائے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
((لَا تُبْنٰی کَنِیسَۃٌ فِي الإِْسْلَامِ،وَلَا یُجَدَّدُ مَا خَرِبَ مِنْھَا))
’’اسلام میں نہ(کسی نئے)کلیسا کی تعمیر کی جائے اور نہ ہی کسی بوسیدہ اور خراب کی تجدید کی جائے۔‘‘[1]
2: ’’ذمی‘‘کافر کا گھر کسی مسلمان کے گھر کے اوپر نہ بنایا جائے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
((اَلإِْسْلَامُ یَعْلُو وَلَا یُعْلٰی عَلَیْہِ))’’اسلام بلند ہوتا ہے اور اس پر اور کوئی اونچا نہیں ہوتا۔‘‘[2]
3: وہ مسلمانوں کے سامنے علانیہ شراب نوشی اور خنزیر کا گوشت نہیں کھا سکتے اور سرعام رمضان میں خور ونوش بھی نہیں کر سکتے بلکہ یہ لوگ ایسی چیزیں،جو مسلمانوں کے لیے حرام ہیں،چھپ کر استعمال کر سکتے ہیں تاکہ مسلمانوں کے لیے فتنے کا باعث نہ بن جائیں۔
٭ کن چیزوں سے عقد ذمہ ٹوٹ سکتا ہے؟:
درج ذیل امور سے عقد ذمہ ٹوٹ جائے گا:
٭ جزیہ ادا کرنے سے انکار کر دیں۔
٭ معاہدے میں جن اسلامی احکام کی پابندی قبول کی تھی،ان کے عدم التزام سے۔
٭ قتل،ڈاکہ،جاسوسی،دشمن جاسوس کو تحفظ مہیا کرنے اور مسلمان عورت سے زنا،ایسے گھناؤنے جرائم میں ملوث ہونے کی وجہ سے۔
٭ اللہ تعالیٰ،اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کی کتاب(قرآن)کی گستاخی کرنے سے۔
٭ذمیوں کے حقوق:
مسلمانوں پر لازم ہے کہ ذمیوں کی جان،مال اور عزت کا تحفظ کریں اور انھیں کسی بھی انداز میں تکلیف نہ دیں،جب تک وہ اپنے عہد پر قائم رہیں اور اسے نہ توڑیں،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’مَنْ قَتَلَ مُعَاھَدًا لَّمْ یَرَحْ رَائِحَۃَ الْجَنَّۃِ‘
’’جس نے کسی معاہد(ذمی)کو قتل کیا وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھ سکے گا۔‘‘[3]
اگر یہ لوگ عہد توڑ دیں اور ایسے کام کریں جن سے عہد ٹوٹ جاتا ہے تو ان کے خون اور مال حلال ہیں اور حاکم کو انھیں قتل کرنے،فدیہ لے کر چھوڑنے اور معاف کر دینے کا اختیار ہے مگر عورتیں اور ان کی اولادیں اس صورت میں بھی حلال نہیں ہیں،اس لیے کہ مجرم کے جرم کی سزا دوسرے کو نہیں دی جاتی۔