جہاد کا بیان
جہاد کے آداب
جہاد کے چند آداب ہیں،نصرت و امداد کے عوامل ہونے کی بنا پر جنھیں ملحوظ رکھنا انتہائی ضروری ہے اور یہ حسب ذیل ہیں:
1: فوجی راز اور جنگی چالوں کو افشا نہ کرنا،جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا کہ آپ اگر کسی ایک طرف لڑائی کا ارادہ کرتے تو اشارہ(توریہ)کسی دوسری طرف کا کر دیتے۔[3]
2: افراد لشکر،رموز و اشارات اور خصوصی علامات استعمال کریں تاکہ دشمن کے ساتھ اختلاط یا قرب مکانی کے وقت ایک دوسرے کو پہچان سکیں۔جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر سمجھایا کہ اگر تم پر دشمن اچانک حملہ کر دے تو تمھاری باہمی نشانی ’حٰمٓ لَا یُنْصَرُونَ‘ہے۔[1]
اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کی معیت میں ایک فوجی دستے کی علامت و شعار ’أَمِتْ أَمِتْ‘(مار،مار)کا لفظ تھا۔[2]
3: جنگ شروع ہو جائے تو خاموشی اختیار کرو،اس لیے کہ شور و شغب سے قوی میں انتشار اور فکری پراگندگی پیدا ہوگی جو شکست کا موجب بن جائے گی۔چنانچہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم لڑائی کے وقت چیخ و پکار کو پسند نہیں کرتے تھے۔
4: جنگ کے لیے مناسب جگہ کی تلاش اور لڑنے والوں کی بہترین تربیت اور دشمن پر وار کرنے کے لیے مناسب وقت کا انتخاب بہت ضروری ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگی چالوں میں جگہ اور وقت کے انتخاب کو اہمیت دی جاتی تھی۔[3]
5: اعلان جنگ سے پہلے کافروں کو اسلام یا صلح کی دعوت دی جائے،اگر دونوں باتوں سے انکار کر دیں تو پھر لڑائی کا اعلان کر دیا جائے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کو’’امیر لشکر‘‘مقرر کر کے روانہ کرتے تو اسے اس کی ذات اور مسلمانوں کے بارے میں اچھی وصیتیں فرماتے تھے،مثلًا:
((إِذَا لَقِیتَ عَدُوَّکَ مِنَ الْمُشْرِکِینَ فَادْعُھُمْ إِلٰی ثَلٰثِ خِصَالٍ،فَأَیَّتُھُنَّ مَا أَجَابُوکَ فَاقْبَلْ مِنْھُمْ وَکُفَّ عَنْھُمْ:ثُمَّ ادْعُھُمْ إِلَی الإِْسْلَامِ،فَإِنْ أَجَابُوکَ فَاقْبَلْ مِنْھُمْ وَکُفَّ عَنْھُمْ۔وَ ذَکَرَ الْحَدِیثَ۔فَإِنْ ھُمْ أَبَوْ فَسَلْھُمُ الْجِزْیَۃَ،فَإِنْ ھُمْ أَجَابُوکَ فَاقْبَلْ مِنْھُمْ وَ کُفَّ عَنْھُمْ،فَإِنْ ھُمْ أَبَوْا فَاسْتَعِنْ بِاللّٰہِ وَقَاتِلْھُمْ))
’’جب مشرک دشمنوں سے تیرا سامنا ہو تو انھیں تین باتوں میں سے ایک کی دعوت دے،وہ ان باتوں میں سے تیری جونسی بات مان لیں وہ ان سے قبول کر اور ان سے جنگ ترک کر دے(،سب سے پہلے)ان کو اسلام کا پیغام دے،مان جائیں تو قبول کر اور جنگ موقوف کر دے لیکن اگر انکار کر دیں تو ان سے جزیہ مانگ،اگر مان جائیں تو قبول کر اور لڑائی بند کر دے اور اگر(جزیہ دینے)سے بھی انکار کر دیں تو پھر اللہ کی مدد طلب کر اور ان سے جنگ کر۔‘‘[4]
6: غنیمت کے مال میں سے چوری نہ کریں اور عورتوں،نابالغ بچوں،بوڑھوں اور راہبوں کو قتل نہ کریں،بشرطیکہ یہ لڑائی کرنے میں شریک نہ ہوں اور اگر لڑائی میں حصہ لے رہے ہوں تو ان کا قتل کرنا جائز ہے،نابالغ بچوں کے قتل سے بھی احتراز کرے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے امراء کو یہ حکم جاری کیا تھا:
((اِنْطَلِقُوا بِاسْمِ اللّٰہِ وَبِاللّٰہِ وَعَلٰی مِلَّۃِ رَسُولِ اللّٰہِ،وَلَا تَقْتُلُوا شَیْخًا فَانِیًا وَّلَا طِفْلًا وَّلَا صَغِیرًا وَّلَا امْرَأَۃً،وَلَا تَغُلُّوا،وَضُمُّوا غَنَائِمَکُمْ وَأَصْلِحُوا وَأَحْسِنُوا،إِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِینَ))
’’اللہ کے نام اور اس کی مدد سے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملت پر قائم رہتے ہوئے چلو اور ضعیف بوڑھے،چھوٹے بچے اور عورت کو قتل نہ کرو،نیز غنیمت میں خیانت نہ کرو اور اموال غنیمت اکٹھا کر لو۔اصلاح کی کوشش کرو اور احسان کرو۔بے شک اللہ احسان کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘[1]
7: اگر کسی مسلمان نے کسی کافر کو اس کی جان کی امان دے دی ہے تو اس کا احترام کیا جائے اور عہد کی خلاف ورزی نہ کی جائے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’لَا تَغْدِرُوا‘ ’’عہد کی خلاف ورزی نہ کرو۔‘‘[2]
نیز فرمایا:((إِنَّ الْغَادِرَ یُنْصَبُ لَہُ لِوَائٌ یَّوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیُقَالُ:ھٰذِہِ غَدْرَۃُ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ))
’’عہد کی خلاف ورزی کرنے والے کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا نصب کر دیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ فلاں ابن فلاں کی غداری(عہد کی خلاف ورزی)ہے۔‘‘[3]
8: دشمن کو آگ میں نہ جلائیں،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:((إِنْ وَّجَدْتُّمْ فُلَانًا فَاقْتُلُوہُ وَلَا تُحَرِّقُوہُ،فَإِنَّہُ لَا یُعَذِّبُ بِالنَّارِ إِلَّا رَبُّ النَّارِ))
’’اگر تم فلاں کو پکڑ لو تو اسے قتل کر دینا،آگ سے نہ جلانا،اس لیے کہ آگ کا عذاب،آگ کا مالک(اللہ تعالیٰ)ہی دیتا ہے۔‘‘[4]
9: دشمن مقتولوں کا مثلہ(اعضاء وغیرہ کاٹنا)نہیں کرنا چاہیے۔عمران بن حصین رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خیرات کرنے کی ترغیب دلاتے اور مثلہ کرنے سے منع کرتے تھے۔نیز فرمایا:’أَعَفُّ النَّاسِ قِتْلَۃً أَھْلُ الإِْیمَانِ‘ ’’ایمان والے قتل کرنے میں سب سے بہتر طریقہ اپناتے ہیں۔‘‘[5]
10: دشمنان اسلام کے خلاف اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے مدد کی دعا کی جائے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میدان معرکہ میں یہ دعا کرتے تھے:((اَللّٰھُمَّ!مُنْزِلَ الْکِتَابِ وَمُجْرِيَ السَّحَابِ وَھَازِمَ الْأَحْزَابِ اھْزِمْھُمْ وَانْصُرْنَا عَلَیْھِمْ))
’’اے اللہ!کتاب اتارنے والے،بادل جاری کرنے والے اور(دشمن)جماعتوں کو شکست دینے والے!ان کو شکست دے اور ان کے مقابلے میں ہماری مدد کر۔‘‘[1] نیز فرمایا:
((ثِنْتَانِ لَا تُرَدَّانِ أَوْقَلَّمَا تُرَدَّانِ:الدُّعَائُ عِنْدَ النِّدَائِ،وَعِنْدَ الْبَأْسِ حِینَ یُلْحِمُ بَعْضُھُمْ بَعْضًا))
’’دو دعائیں رد نہیں ہوتیں،یا بہت کم رد ہوتی ہیں۔نماز کی اذان کے وقت اور لڑائی کے وقت جب وہ(مسلمان و کفار)ایک دوسرے کو کاٹ رہے ہوتے ہیں۔‘‘[2]