نکاح،طلاق اور اس کے متعلقہ مسائل کا بیان
عدت کا بیان
٭ عدت کی تعریف:
خاوند سے مفارقت کے بعد عورت ایک مخصوص مدت تک انتظار کرتی ہے،اس دوران میں وہ کسی سے منگنی یاشادی نہیں کر سکتی اور نہ ہی اس مقصدکے لیے خود کو بنا سنوار سکتی ہے،اس مدت کو عدت کہتے ہیں۔
٭ عدت کا حکم:
خاوند سے ہر طرح کی جدائی کے بعد،خواہ اس کی زندگی میں ہوئی یا اس کی موت کی و جہ سے،عورت پر عدت گزارنا فرض ہے۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ﴾’’اور مطلقہ عورتیں تین ماہواری تک انتظار کریں۔‘‘[4]
نیز فرمایا:﴿وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا﴾
’’اور جو(شوہر)تم میں سے فوت ہو جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ(بیویاں)چار ماہ دس دن انتظار کریں۔‘‘[1]
ہاں،وہ مطلقہ جسے نکاح کے بعد اورجماع سے پہلے طلاق ہو گئی،اس پر عدت نہیں ہے اور اگر اس کے لیے مہر مقرر کیا گیا ہے تو اسے نصف مہر دیا جائے گا اوراگر مہر مقرر نہیں ہے تو اس کے لیے کسی کارآمد چیز کا تحفہ ہے،اس لیے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا ۖ فَمَتِّعُوهُنَّ وَسَرِّحُوهُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا﴾
’’اے ایمان والو!جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو اور پھر ہاتھ لگانے سے پہلے انھیں طلاق دے دو تو ان پر تمھارے لیے کوئی عدت نہیں ہے،جو تم شمار کرو،پس تم انھیں کچھ فائدہ(خرچہ)دے دو اور اچھے طریقے سے چھوڑ دو۔‘‘[2]
٭ عدت کی حکمت:
1: طلاق رجعی کی صورت میں خاوند کو اپنی مطلقہ کو واپس لانے کا موقع مل سکے گا۔
2: نسب کو اختلاط سے محفوظ کرنے کے لیے،یعنی دوران عدت،رحم کے حمل سے صاف اور خالی ہونے کا علم ہوجائے گا۔٭
3: وفات کی عدت کی صورت میں عورت اپنے خاوند کے ساتھ وفاداری کا اظہار کرے گی اور اس کے خاندان کے ساتھ مواسات و غمخواری میں شریک سمجھی جائے گی۔
٭ عدت کی قسمیں:
1: وہ مطلقہ جسے حیض آتا ہے اس کی عدت تین حیض ہیں۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ﴾
’’اور مطلقہ عورتیں تین ماہواری تک انتظار کریں۔‘‘[3]
آزاد عورت(جو لونڈی نہیں)کو جب ایسے’’طہر‘‘ میں طلاق ہو جائے جس میں جماع نہ ہوا ہو تو اس کے بعد ’’حیض‘‘ پھر ’’طہر‘‘ پھر ’’حیض‘‘پھر’ ’طہر‘‘ ہونے کے بعد حیض آجائے تو حیض سے پاک ہونے پر وہ آزاد ہے اور اس کی عدت پوری ہو گئی۔اگر ہم مذکورہ آیت میں قروء کے لفظ سے ’’طہر‘‘(پاکیزگی کا وقت)مراد لیں،جیسا کہ جمہور کی رائے ہے تو
٭ اور اگر حمل ظاہر ہو گیا تو بچہ طلاق دینے والے کا شمار ہو گا۔اگر عدت گزارے بغیر یہ خاتون نئی شادی کر لیتی اور نئے خاوند سے مجامعت حاصل ہو جاتی تو پھر بچے کے متعلق یہ اشتباہ رہنا تھا کہ معلوم نہیں یہ پہلے خاوند کا ہے یا دوسرے خاوند کا۔لیکن عدت کی وجہ سے نسب خلط ملط ہونے سے بچ گیا۔(ع،ر)
اس تفسیر کے مطابق تیسرے’ ’حیض‘‘ کے آنے ہی پر عدت ختم ہو جائے گی(کیونکہ تین طہر پورے ہو چکے ہوں گے)اور یہ بھی ملحوظ رہے کہ اگر’’حیض‘‘ کے دوران میں طلاق ہوئی ہے تو عدت میں تین حیض کی گنتی میں اس حیض کو شمار نہیں کیا جائے گا بلکہ اس کے علاوہ تین حیض کا مکمل ہونا ضروری ہو گا۔اور اگر لونڈی کو طہر میں طلاق ہوئی ہے تو اس کی عدت دو حیض ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:’طَلَاقُ الْأَمَۃِ تَطْلِیقَتَانِ،وَعِدَّتُھَا حَیْضَتَانِ‘
’’لونڈی کے لیے دو طلاقیں ہیں اور اس کی عدت دو ماہواری ہے۔‘‘[1]
2: جس عورت کو ماہواری ہی نہیں آتی،بڑھاپے کی و جہ سے یا کمسنی کی بنا پر اور اسے طلاق ہو گئی تو اس کی عدت تین ماہ ہے۔فرمان ربانی ہے:
﴿وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِن نِّسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ﴾
’’تمھاری وہ عورتیں جو(عمر رسیدہ ہونے کی بنا پر)حیض سے مایوس ہو گئی ہیں،اگر تمھیں(ان کی عدت کے متعلق)شک ہے تو(سنو)ان کی عدت تین ماہ ہے اور ان کی بھی(یہی عدت ہے)جنھیں(کمسنی کی وجہ سے)ماہواری ابھی تک نہیں آئی۔‘‘[2]
3: مطلقہ حاملہ کی عدت ’’وضع حمل‘‘ ہے،خواہ آزاد ہو،یا لونڈی۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ﴾
’’حمل والی عورتوں کی میعاد وضع حمل ہے۔‘‘[3]
4: وہ مطلقہ جو ماہواری والی ہو مگر کسی معروف سبب(رضاعت یا بیماری)کی بنا پر اسے حیض نہیں آ رہا تو وہ حیض آنے کا انتظار کرے گی،چاہے مدت طویل ہو جائے اور اگر حیض نہ آنے کا سبب معلوم نہیں تو اس کے لیے عدت ایک سال ہے۔نو ماہ ’’مدت حمل‘‘ اور تین ماہ ’’عدت‘‘ کے اور لونڈی ہو تو اس کے لیے گیارہ ماہ عدت ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مہاجرین اور انصار میں یہی فیصلہ فرمایا تھا اور کسی نے انکار نہیں کیا تھا۔’’صاحب مغنی‘‘ نے اس روایت کو ابن منذر کی طرف منسوب کیا ہے۔)
5: جس عورت کا خاوند فوت ہو جائے،اس کی عدت چار ماہ دس دن ہے،اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا﴾
’’اور جو تم میں سے فوت ہو جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ(بیویاں)چار ماہ دس دن تک انتظار کریں۔‘‘[1]
6: استحاضہ والی عورت جس کا مدت حیض گزر جانے کے باوجودخون نہیں تھم رہا،اگر حیض اور استحاضے کا امتیاز کر سکتی ہے یا اس کے لیے استحاضے کی بیماری سے پہلے ماہواری کے ایام کی عادت معروف ہے تو ’’ایام حیض‘‘ سے ہی عدت شمار کرے گی۔لیکن اگر وہ حیض و استحاضہ کے مابین امتیاز نہیں کر سکتی اور اس کے ہاں ایام حیض کی کوئی عادت بھی معروف نہیں ہے تو اس کی عدت تین ماہ ہے اور یہ حکم مستحاضہ کی نماز کے حکم سے اخذ کیا گیا ہے۔
7: جس عورت کا خاوند غائب ہو جائے اور اس کی زندگی اور موت کا کوئی علم نہ ہو رہا ہو تو وہ خبر ملنے کی امید ختم ہونے سے لے کر چار سال تک خاوند کا انتظار کرے،پھر چار ماہ دس دن مزید عدت شمار کرے اس کے بعد چاہے تو نئی شادی کر سکتی ہے۔
٭ ایک عدت میں دوسری عدت کی مداخلت:
کبھی ایک عدت میں دوسری عدت کی مداخلت ہو جاتی ہے،جیسا کہ ذیل کی صورتوں میں ہے:
1: ’’طلاق رجعی‘‘ کی صورت میں ایک ماہواری یا دو ماہواری کے بعد خاوند فوت ہو جائے تو عدت طلاق،عدت وفات کی طرف منتقل ہو جائے گی،چنانچہ وہ چار ماہ دس دن عدت گزارے گی اور اس کا آغاز طلاق دینے والے خاوند کی وفات کے دن سے ہو گا،یہ اس لیے کہ رجعی طلاق والی عورت بیوی کے حکم میں ہوتی ہے،لہٰذا وفات کے بعد وہ بحیثیت بیوہ وفات کی عدت گزارے گی،جبکہ طلاق بائن والی عورت کا معاملہ اس کے برعکس ہے،چنانچہ اس کی عدت،عدت وفات کی طرف منتقل نہیں ہو گی،اس لیے کہ رجعی طلاق والی اپنے خاوند کی وارث ہوتی ہے،جبکہ طلاق بائن والی وارث نہیں ہوتی۔
2: مطلقہ کو حیض یا دو حیض کے بعد اگر حیض آنا بند ہو جائے تو تین ماہ عدت شمار کرے گی۔
3: چھوٹی نابالغہ مطلقہ یا بڑی عمر کی عورت جسے ماہواری نہیں آتی،اس کو ایک ماہ یا دو ماہ کے بعد ماہواری آ جائے تو اب وہ عدت تین ماہ نہیں بلکہ تین حیض شمار کرے گی لیکن اگر تین ماہ گزرنے کے بعد ماہواری آئے تو پھر اس کی عدت ختم ہو چکی ہے۔
4: مطلقہ عورت جو مہینوں یا ’’ایام ماہواری‘‘ سے عدت شمار کر رہی ہے،اگر اس اثنا میں اس کا حمل ظاہر ہو جائے تو اس کی عدت ’’وضع حمل‘‘ ہے،اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ﴾’’اور حمل والیوں کی عدت ’’وضع حمل‘‘ ہے۔‘‘[2]
تنبیہ:استبرائے رحم:جو شخص کسی وجہ سے شادی شدہ یا مملوک لونڈی کا مالک بن گیا تو وہ ’’استبرائے رحم‘‘(رحم کے خالی ہونے)سے پہلے وطی(جماع)نہیں کر سکتا ’’استبرائے رحم‘‘ کی مدت ایک حیض یا وضع حمل ہے یا پھر اتنی مدت کا گزر جانا ہے جس سے واضح ہو جائے کہ یہ حاملہ نہیں ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((لَا تُوطَأُ حَامِلٌ حَتّٰی تَضَعَ،وَلَا غَیْرُ ذَاتِ حَمْلٍ حَتّٰی تَحِیضَ حَیْضَۃً))
’’وضع حمل سے پہلے حاملہ(لونڈی)سے وطی(مجامعت)نہ کی جائے اور نہ ’’غیر حاملہ‘‘سے،یہاں تک کہ اسے ایک حیض آجائے۔‘‘٭[1]
اگر آزاد خاندانی عورت کے ساتھ کسی شبہ کی وجہ سے وطی ہو گئی یا غصب اور اغواکی گئی عورت سے زنا کیا گیا تو ’’استبرائے رحم‘‘کے لیے تین ماہواریاں ضروری ہیں۔لیکن اگر ماہواری نہیں آتی تو تین ماہ عدت ہے اور اگر حاملہ ہو گئی ہے تو ’’وضع حمل‘‘ عدت ہے۔فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
((مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلَا یَسْقِ مَائَ ہُ وَلَدَ غَیْرِہِ))
’’جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لا چکا ہے وہ دوسرے کے بچے کو اپنا پانی نہ دے(استبرائے رحم سے قبل جماع نہ کرے۔‘‘)[2]
نیز فرمایا:’لَا تَسْقِ مَائَ کَ زَرْعَ غَیْرِکَ‘ ’’اپنا پانی غیر کی کھیتی کو نہ دے(زنا نہ کر۔‘‘)[3]