نکاح،طلاق اور اس کے متعلقہ مسائل کا بیان

سوگ اور اس کی مدت

سوگ یہ ہے کہ عدت گزارنے والی عورت زیب و زینت اور بناؤ سنگھار نہیں کرے گی،چنانچہ جس عورت کا خاوند فوت ہو جائے وہ دوران عدت سوگ کرے گی،نیز وہ خوبصورت لباس نہ پہنے،مہندی اور سرمہ نہ لگائے،خوشبو استعمال نہ کرے اور زیورات نہ پہنے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((لَا یَحِلُّ لِامْرَأَۃٍ تُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ تُحِدُّ عَلٰی مَیِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلٰی زَوْجٍ أَرْبَعَۃَ أَشْھُرٍ وَّعَشْرًا)) ٭ اگر کافرہ کنواری عورت مسلمانوں کی قید میں آکر لونڈی بنائی جائے تو جس کے حصے میں آئی ہے۔استبرائے رحم کے لیے ایک حیض کا انتظار نہیں کرے گا۔بلکہ فی الوقت اس سے جماع کر سکتا ہے۔ ’’جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لا چکی ہے،اس کے لیے تین دن سے زیادہ سوگ کرنا حلال نہیں ہے،البتہ اپنے خاوند پر چار ماہ دس دن سوگ کرے گی۔‘‘[1] نیز ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:((کُنَّا نُنْھٰی أَنْ نُّحِدَّ عَلٰی مَیِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلٰی زَوْجٍ أَرْبَعَۃَ أَشْھُرٍ وَّعَشْرًا،وَلَا نَکْتَحِلَ وَلَا نَطَّیَّبَ وَلَا نَلْبَسَ ثَوْبًا مَّصْبُوغًا إِلَّا ثَوْبَ عَصْبٍ)) ’’ہمیں منع کیا جاتا تھا کہ ہم کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کریں،البتہ خاوند پر چار ماہ دس دن کا سوگ ہے اور یہ(حکم دیا گیاکہ)دوران عدت ہم سرمہ نہ ڈالیں،اور نہ ہم خوشبو لگائیں اور یمنی لکیر دار چادروں کے سوا رنگے ہوئے کپڑے بھی نہ پہنیں۔‘‘[2] عدت والی عورت دوران عدت اپنے گھر سے باہر نہ جائے،اگر کسی ضروری کام کے لیے جانا پڑ جائے تو رات اپنے گھر ہی میں آ کر رہے،جہاں خاوند کے فوت ہوتے وقت یہ تھی،اس لیے کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خاوند کی وفات کے بعد وہاں سے اپنے میکے جانے کی اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا: ((اُمْکُثِي فِي بَیْتِکِ حَتّٰی یَبْلُغَ الْکِتَابُ أَجَلَہُ)) ’’جس گھر میں تجھے اپنے خاوند کی موت کی خبر آئی،اسی میں رہ،یہاں تک کہ عدت پوری ہو جائے۔‘‘[3] چنانچہ صحابیہ رضی اللہ عنہا نے اسی گھر میں چار ماہ دس دن کی عدت پوری کی۔