نکاح،طلاق اور اس کے متعلقہ مسائل کا بیان

عول کا بیان

٭ عول کی تعریف: مخرج،یعنی اصل مسئلے کا مقررہ حصوں کے لیے پورا نہ ہو سکنے کی صورت میں سہام میں اضافہ کرنے اور نتیجتاً ہر ذوی الفروض کے مقررہ حصے میں حصوں کی نسبت سے کمی آنے کو علم میراث کی اصطلاح میں ’’عول‘‘ کہتے ہیں۔ ٭ عول کا حکم: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے سوا تمام صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عول سے کام لیا جائے۔بایں وجہ تمام مسلمانوں میں اس کے مطابق عمل جاری ہے۔ کن اصول میں عول واقع ہوتا ہے؟ عول چھ،بارہ اور چوبیس میں واقع ہوتا ہے۔چھ میں عول 9,8,7 اور 10کی طرف(طاق عدد ہو یا جفت)ہوتا ہے۔بارہ میں 15,13 اور سترہ کی طرف(صرف طاق میں)اور چوبیس میں صرف ستائیس کی طرف عول ہوتا ہے۔عول کی مثالیں درج ذیل ہیں: 1: چھ کا عول سات تک::خاوند،حقیقی بہن اور دادی،اصل مسئلہ چھ سے بنا۔خاوند کو نصف(تین)حقیقی بہن کو بھی نصف(تین)اور دادی کو چھٹا حصہ(ایک)ملا۔پس مسئلہ کا سات کی طرف عول ہو گیا۔ 2: چھ کا عول آٹھ کی طرف::خاوند،دو حقیقی بہنیں اور ماں۔اصل مسئلہ چھ سے بنا۔نصف(تین)خاوند کے اور دو تہائی(چار)دو حقیقی بہنوں کے اور چھٹا حصہ(ایک)ماں کا ہوا۔تو مسئلہ آٹھ کی طرف عول ہو گیا۔ 3: بارہ کا عول تیرہ کی طرف::بیوی،ماں اور دو پدری بہنیں:اصل مسئلہ بارہ ہوا کیونکہ مسئلے میں سدس اور ربع جمع ہیں،بیوی کو چوتھا حصہ(تین)ملا اور ماں کو چھٹا حصہ(دو)جبکہ دو علاتی بہنوں کو دو تہائی حصہ(آٹھ)ملا۔مسئلے کا تیرہ کی طرف عول ہوا۔ 4: چوبیس کا عول ستائیس کی طرف::بیوی،دادا،ماں اور دو بیٹیاں:مسئلہ چوبیس سے بناکیونکہ یہاں ثمن اور سدس جمع ہو گئے ہیں،آٹھواں حصہ(تین)بیوی کو،چھٹا حصہ(چار)دادا کو،چھٹا حصہ(چار)ماں کو اور دو تہائی(سولہ)دو بیٹیوں کو ملے۔مسئلے کا عول ستائیس کی طرف ہوا۔ ٭ اصول بنانے کا طریقہ: ورثاء کی درج ذیل چار حالتیں ہیں: 1: ورثاء صرف عصبہ مرد ہوں۔ 2: ورثاء عصبہ،مرد و خواتین ہوں۔ 3: عصبہ کے ساتھ اصحاب الفروض بھی ہوں۔ 4: صرف اصحاب الفروض ہوں۔ اگر پہلی صورت ہو تو افراد کی تعداد رؤوس کے مطابق اصل مسئلے کا تعین ہو گا،مثلاً:میت کے تین بیٹے ہوں تو اصل مسئلہ تین ہو گا،ہر ایک کو ایک ایک حصہ مل جائے گا اور اگر دوسری صورت(عصبہ مرد و خواتین)ہو تو بھی ان کا اصل مسئلہ افراد کے مطابق ہو گا،البتہ مرد کو دو عورتوں کے برابر حصہ ملے گا،مثلاً:میت کا ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں تو مسئلہ چار سے ہے دو حصے بیٹے کے اور ایک ایک ہر ایک بیٹی کا ہو گا۔ اگر تیسری اور چوتھی صورت ہو،یعنی عصبہ کے ساتھ اصحاب الفروض بھی ہوں یا صرف اصحاب الفروض ہوں تو اصل مسئلہ فروض(حصوں)سے حاصل ہو گا،مثلاً:میت کا خاوند،بیٹا اور بیٹی ہو تو خاوند کا حصہ ربع(چوتھائی)سے اصل چار ہو گا۔جس میں چوتھائی(ایک)خاوند کو اور باقی اس کی اولاد میں﴿لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ﴾کے مطابق دو بیٹے کو اور ایک بیٹی کو ملے گا۔صورت مسئلہ یوں ہو گی۔ اصل مسئلہ:4 خاوند 1 بیٹا 2 بیٹی 1 اصل مسئلہ:4:جب کسی مسئلے میں ایک یا زیادہ صاحب فرض ہوں تو ہم درج ذیل نسب اربعہ(چار نسبتوں)کی مدد سے تصحیح مسئلہ کا عدد نکالیں گے۔نسب اربعہ یہ ہیں: (۱)۔تماثل (۲)۔تداخل (۳)۔توافق (۴)۔تخالف٭ ٭ چار نسبتوں کی تعریف:دو عدد ایک دوسرے کے مساوی ہوں تو نسبت تماثل ہے،مثلاً:(2 اور2)اگر دو عددوں میں سے ایک چھوٹا ہو اور دوسرا بڑا،اور چھوٹا بڑے کو پورا پورا تقسیم کر دے تو نسبت تداخل ہے،مثلاً:تین اور چھ۔اگر چھوٹا بڑے کو پورا پورا تقسیم نہ کرے بلکہ دونوں ایک تیسرے عدد پر پورے پورے تقسیم ہو جائیں تو نسبت توافق ہے،جیسا کہ چار اور چھ اور اگر دونوں کو تیسرا عدد بھی پورا پورا تقسیم نہ کرے تو نسبت تخالف(تباین)ہے،جیسے تین اور چار ہے۔(فاروق صارم) اگر اصحاب الفروض کے حصے متماثل ہیں،جیسے دونوں نصف یا دونوں سدس لینے والے ہوں تو ایک فرض کو بنیاد مسئلہ بنا لیا جائے گا،مثلاً:خاوند اور بہن ہر ایک کے لیے نصف ہے تو ایک کے نصف کو بنیاد بنا لیں گے کیونکہ نسبت تماثل ہے،لہٰذا اصل مسئلہ دو سے ہو گا اور صورت مسئلہ یوں ہو گی: اصل مسئلہ:2 خاوند 1 حقیقی بہن 1 اگر اصحاب الفروض کے حصے میں ’’تداخل‘‘ ہے(جیسے چھ اور تین)تو بڑے عدد پر اکتفا ہو گا کیونکہ چھوٹا عدد بڑے عدد میں داخل ہے،لہٰذا بڑے عدد کو مقام مسئلہ پر لکھا جائے گا اور اس کے مطابق تقسیم ہو گی۔میت اپنے بعد ماں،دو مادری بھائیوں اور چچا کو چھوڑ کر فوت ہو گئی صورت مسئلہ یوں ہو گی۔ اصل مسئلہ:6 ماں 1 دو مادری بھائی 2 چچا 3 اصل مسئلہ:6:وضاحت:مسئلہ چھ سے بنا۔ماں کو سدس(ایک)ملا اور دو مادری بھائیوں کو ثلث،یعنی دو ملے،جبکہ چچا کو بحیثیت عصبہ باقی تین مل گئے۔اس مسئلے میں سدس ہے،جس کا مخرج چھ ہے اور اسی کو بنیاد مسئلہ قرار دیا گیا ہے،جبکہ ثلث کا اصل(تین)سدس کے اصل(چھ)میں داخل تھا۔ اگر دونوں عددوں میں توافق ہو تو دونوں عددوں میں اقل نسبت دیکھی جائے گی،پھر ایک کے وفق کو دوسرے کامل عدد میں ضرب دی جائے گی،حاصل ضرب اصل مسئلہ ہو گا،مثلاً:ایک عورت خاوند،ماں،تین بیٹے اور ایک بیٹی چھوڑ کر مر گئی تو خاوند کو ربع ملے گا،جس کا اصل چار ہے اور ماں کو چھٹا حصہ ملے گا،جس کا اصل چھ ہے،دونوں عدد(چار اور چھ)دو پر برابر تقسیم ہو جاتے ہیں،لہٰذا کسی ایک کے نصف کو دوسرے کامل عدد میں ضرب دینے سے حاصل ضرب بارہ آئے گا اور یہی اصل مسئلہ ہے اور اسی کے مطابق ورثاء میں تقسیم ہو گی۔صورت مسئلہ یوں ہو گی: اصل مسئلہ 12 بیٹا 2 خاوند 3 بیٹا 2 ماں 2 بیٹی 1 بیٹا 2 اصل مسئلہ:12:اگر دونوں عددوں میں نسبت تخالف ہو تو ایک کامل عدد کو دوسرے کامل عدد میں ضرب دی جائے گی اور حاصل ضرب اصل مسئلہ ہو گا،مثلاً:خاوند،ماں اور حقیقی بھائی ہو تو خاوند کو نصف ملے گا،جس کا اصل دو ہے اور ماں کو ثلث جس کا اصل تین ہے،پھر دونوں عددوں کے درمیان نسبت تخالف ہے،لہٰذا دو کو تین میں ضرب دی تو حاصل ضرب چھ ہوئے۔یہی اصل مسئلہ ہے اور اسی کے مطابق تقسیم ہو گی۔ حل:اصل مسئلہ:6 اصل مسئلہ:6(2 x 3 =6) خاوند 3 ماں 2 حقیقی بھائی 1 کسر اور اس کے حل کا طریقہ: اگر ورثاء کے بعض حصے ان پر پورے پورے تقسیم نہ ہوں،یعنی ان میں کسر واقع ہو تو درج ذیل طریقہ اپنایا جائے گا: کسر ایک فریق پر ہے اور سہم(حصہ)اور عدد رؤوس(عدد افراد)میں نسبت توافق ہے تووفق عدد رؤوس کو لے کر اصل مسئلے کے اوپر درج کریں گے،اور اسے اصل مسئلے کے عدد میں ضرب دیں گے،حاصل ضرب سے مسئلے کی تصحیح ہو گی،جسے آگے الگ خانے میں درج کیا جائے گا،پھر ہر وارث کو جو اصل مسئلے سے ملا ہے،اس کو اصل مسئلے کے اوپر درج شدہ وفق سے ضرب دی جائے گی،حاصل ضرب اس فریق کا حصہ ہو گا۔مثلاً:ایک عورت مر گئی اور خاوند،دو بیٹے اور دو بیٹیاں چھوڑ گئی تو حل:ٹیبل:6 2 بیٹا 3 2 اصل مسئلہ:(4 x 2 = 8) بیٹا 2 خاوند 1 2 بیٹی 1 بیٹی 1 اصل مسئلہ:4:اگر کسر ایک فریق پر واقع ہے اور اس کے رؤوس اورسہام میں نسبت تخالف(تباین)ہے تو کامل عدد رؤوس کو لے کر اصل مسئلہ کے اوپر درج کریں گے،اور اسے اصل مسئلہ سے ضرب دیں گے۔حاصل ضرب سے مسئلے کی تصحیح ہو گی،جسے الگ جامعہ کی حیثیت سے الگ خانے میں لکھیں گے،پھر ہر وارث کو جو اصل مسئلہ سے ملا ہے،اسے اصل مسئلہ کے اوپر درج شدہ عدد سے ضرب دیں گے۔حاصل ضرب سے حسب سابق عمل کریں گے۔مثلاً:بیوی،بیٹا اور بیٹی کا مسئلہ آٹھ سے بنا۔بیوی کا آٹھواں حصہ،یعنی ایک اور باقی سات عصبہ(اولاد)کا حصہ ہے،جو تین رؤوس پر للذکر مثل حظ الانثیین کے مطابق پورے پورے تقسیم نہیں ہورہے۔رؤوس اور سہام میں نسبت تخالف ہے،لہٰذا کل عدد رؤوس(تین)کو اصل مسئلہ(آٹھ)کے اوپر رکھا اور ضرب دی تو چوبیس ہوئے جس سے مسئلہ کی تصحیح ہو گی اور حسب سابق عمل ہو گا۔(ٹیبل:7)کامل عدد رؤوس تین ہیں 3 اصل مسئلہ:8 x 3 = 24 بیوی 1 3 بیٹا 7 14 بیٹی 7 اصل مسئلہ:8:اگر ایک سے زیادہ فریق پر کسر واقع ہو تو طریق عمل یہ ہے کہ جس فریق کے رؤوس اورسہام میں کسر واقع ہوئی ہے،اگر دونوں میں نسبت توافق ہے تو وفق رؤوس اور اگر تخالف ہو تو کل عدد رؤوس کو ساتھ ہی درج کیا جائے گا،پھر ان درج شدہ اعداد(اعداد مثبتہ)پر نسب اربعہ کی روشنی میں غور کیا جائے گا۔اگر اعداد مثبتہ میں نسبت تماثل ہے تو ایک عدد کو متعین کیا جائے گا۔تداخل ہو تو بڑے عدد کو لیا جائے گا۔توافق ہو تو ایک کے وفق کو کامل عدد میں ضرب دیں گے اور تباین کی صورت میں کامل عدد کو کامل سے ضرب دیں گے اور حاصل ضرب کو لیا جائے گا،جو حاصل ضرب آخر میں حاصل ہو گا،اسے اصل مسئلہ کے اوپر درج کریں گے اور اسے اصل مسئلہ میں ضرب دے کر حاصل ضرب الگ طور پر اگلے خانہ میں جامعہ کے طور پر درج کریں گے۔اس تصحیح سے حسب مذکور تقسیم کریں گے۔ دو فریق پر کسر کی ایک مثال یہ ہے کہ ایک شخص فوت ہو گیا اور دوبیویاں اور دو بھائی چھوڑ گیا۔مسئلہ چار سے ہے۔چوتھا حصہ(ایک)دو بیویوں کے لیے ہوا،دونوں پر کسر ہے اور باقی(تین)بوجہ عصبہ دونوں بھائیوں کو ملے تو پھر دونوں پر کسر ہے۔بیویوں کے رؤوس اور سہام میں نسبت تخالف ہے،لہٰذا عدد رؤوس(دو)محفوظ ہوئے۔اسی طرح دو بھائیوں اور ان کے سہام میں بھی تخالف ہے کیونکہ تین اور دو میں نسبت تخالف ہے،لہٰذا دو عدد محفوظ ہوئے۔اب چونکہ بیویوں اور بھائیوں کے عدد مثبت دو،دو ہیں اور نسبت تماثل ہے،اس لیے ایک عدد پر اکتفا کیا اور اس کو اصل مسئلہ کے اوپر درج کیا اور اصل مسئلہ کے ساتھ ضرب دی تو ایک اور جامعہ(جامعۃ التصحیح)حاصل ہوا،جسے اگلے خانہ میں درج کیا اور اس کے مطابق تقسیم کر دی،یہ عدد رؤوس میں تماثل کی مثال تھی۔صورت مسئلہ درج ذیل نقشہ میں ملاحظہ فرمائیں(:ٹیبل نمبر:8)نسبت تماثل کی مثال) اصل مسئلہ 4:4:عدد رؤوس مثبتہ:2 عدد رؤوس مثبتہ:2 2 اصل مسئلہ:8=2x4 بیوی 1 1 بیوی 1 بھائی 3 3 بھائی 3 اعداد رؤوس میں تداخل اور تخالف کی مثال کہ ایک شخص فوت ہو گیا اور چار بیویاں،تین بیٹیاں اور دو بہنیں چھوڑ گیا اس صورت مسئلہ میں تینوں فریق پر کسر واقع ہے اور ہر فریق اپنے سہام سے نسبت تخالف رکھتا ہے،پس ہر فریق کا عدد رؤوس محفوظ ہوا اور ساتھ ہی درج ہوا۔پھر ان میں باہمی نسبت دیکھی گئی تو دو اور چار میں تداخل ہوئی۔لہٰذا بڑے عدد چار پر اکتفا کیا۔پھر چار اور تین میں نسبت تخالف پائی تو ایک کامل عدد کو دوسرے کامل عدد میں ضرب دی،یعنی تین کو چار سے ضرب دی تو حاصل ضرب بارہ ہوئے،جسے اصل مسئلہ کے اوپر درج کیا،پھر بارہ کو اصل مسئلہ سے ضرب دی تو دو سو اٹھاسی(288)ہوئے اسے(جامعۃ التصحیح)میں الگ طور پر لکھا اور پھر حسب سابق تقسیم کی گئی۔صورت مسئلہ یہ ہے:ٹیبل:9 اصل مسئلہ:24 12 بیوی 9 اصل مسئلہ:24 بیٹی 16 64 24x 24 = 288 بیٹی 64 بیوی 3 9 بیٹی 64 بیوی 9 حقیقی بہن 5 30 بیوی 9 حقیقی بہن 30