نکاح،طلاق اور اس کے متعلقہ مسائل کا بیان
ترکہ کی تقسیم اور اس کا طریقۂ کار
ترکہ کی تقسیم کا طریق کار علم فرائض میں اصل اور مطلوب و مقصود ہے،ہم اس کے متعدد طرق میں سے دو پر اکتفا کرتے ہیں:پہلا طریق یہ کہ ترکہ سامان کی شکل میں ہو اور دوسرا طریق یہ کہ ترکہ نقدی رقم کی صورت میں ہو۔پہلا طریق ’’تقریط‘‘کے نام سے مشہورومعروف ہے۔تقریط سے مراد یہ ہے کہ ترکہ کو چوبیس اجزا میں تقسیم کر دیا جائے اور ان میں سے ہر جز کو قیراط کا نام دیا جاتا ہے۔اس میں کیفیت عمل یہ ہے کہ تم چوبیس قیراط کا عدد،تصحیح کے عدد کے بعد اگلے خانہ میں درج کرو اور اگر عدد قیراط اور عدد تصحیح کے درمیان نسبت تماثل ہو تو تقسیم آسان ہے کہ ہر وارث کو قراریط سے وہی ملے گا جس قدر عدد تصحیح سے درج کر چکے ہیں۔مثلاً:ورثاء میں بیوی،ماں اور بیٹا ہوں تو صورت مسئلہ حسب ذیل ہو گی:
عدد تصحیح۔عدد قیراط
24 24
ثمن بیوی 3 3
سدس ماں 4 4
باقی بیٹا 17 17
اگر تصحیح اور قراریط(اجزاء)کے دونوں عددوں میں نسبت تماثل نہ ہو بلکہ وہ کسی بھی ایک نسبت میں متفق ہوں تو تم قراریط کے وفق کو لے لو اور اسے تصحیح کے اوپر لکھ دو اور تصحیح کے وفق کو لے لو اور اسے جامعۃالقراریط کے پیچھے الگ طور پر درج کر لو،پھر ہر وارث کو تصحیح سے جو سہام(حصص)ملیں،اسے قراریط کے وفق میں ضرب دو،پھر حاصل ضرب کو تصحیح کے اس وفق پر تقسیم کرو جو آخر میں درج کیا ہے۔حاصل قسمت اگر عدد صحیح ہو تو اسے اس کے وارث کے سامنے اور جامعہ قراریط کے نیچے درج کرو اور اگر حاصل قسمت میں صحیح عدد کے ساتھ کسر بھی آئے تو صحیح عدد کو حسب مذکور درج کرو اور کسر کو آخری جامعہ(جو تصحیح کا وفق ہے)کے نیچے لکھو۔یہ کسر وفق تصحیح کا جز ہوگی،بوقت عمل سب سے پہلے اعداد صحیحہ کو جمع کرو،پھر کسور کو جمع کر کے صحیح عدد بناؤ اور اعداد صحیح میں ملا لو،اگر عدد قراریط کے مطابق(چوبیس)مکمل ہو جائیں تو آپ کا عمل درست،وگرنہ غلط ہو گا۔صورت 3مسئلہ درج ذیل 2 مثال نمبر ۱ میں واضح ہے(:ٹیبل نمبر:11)
3 2
12 36 24 3
خاوند 3 9 6 .
ماں 2 6 4 .
بیٹا 7 14 9 1
بیٹی 7 4 2
. . . 1 .
اصل مسئلہ12 سے لیکن بیٹے اور بیٹی کے حصے میں کسر کی وجہ سے تصحیح36 سے ہے اور باقی عمل سابقہ مذکورہ قاعدے کے مطابق ہوا۔دوسری مثال یہ ہے کہ ایک شخص بیوی،ماں اور حقیقی بھائی چھوڑ کر مر گیا(حل مثال نمبر2)
2
12 24 1
بیوی 3 6 -
ماں 4 8 -
حقیقی بھائی 5 10 -
ملاحظہ:مسئلہ کے حل سے واضح ہے کہ دونوں عدد بارہ پر تقسیم ہو جاتے ہیں۔قراریط کا وفق دو اصل مسئلہ کے اوپر درج کیا اور اصل مسئلہ کا وفق،یعنی ایک جامعہ قراریط کے بعد خانہ میں درج کیا اور باقی عمل حسب سابق کیا گیا۔
واضح رہے کہ ایک پر تقسیم نہ کرنے میں کوئی ضرر نہیں کیونکہ ایک پر تقسیم کرنے سے حاصل تقسیم کے عدد میں کوئی کمی بیشی نہیں آتی بلکہ عدد وہی رہتا ہے۔الغرض حاصل ضرب ہر وارث کے سامنے درج ہو گا جو اس کا ترکہ سے حصہ شمار ہو گا۔
اگر دونوں(تصحیح اور قراریط)کے عددوں میں نسبت تخالف ہو تو کامل قراریط،یعنی چوبیس کو تصحیح کے اوپر لکھیں اور تصحیح کے عدد کو جامعہ قراریط کے بعد والے خانے میں درج کریں،پھر ہر وارث کو تصحیح میں سے جو ملا ہے،اسے کل جامعہ قراریط سے ضرب دیں،حاصل ضرب کو تصحیح کے کل عدد پر تقسیم کریں،اگر حاصل قسمت صرف صحیح عدد ہے تو جامعہ قراریط کے نیچے درج کریں اور اگر ساتھ کسر بھی ہو تو صحیح عدد کو جامعہ قراریط میں اور کسر کو اس کے آگے آخری جامعہ میں لکھیں،یہ کسر آخری جامعہ کے عدد کا جز ہو گی،پھر ان کسور کو جمع کر کے صحیح عدد بنا لیں اور اعداد صحیحہ میں جمع کر لیں،پس قراریط کا عدد چوبیس مکمل ہو جائے گا۔مثال:کوئی شخص بیوی،ماں اور دو علاتی(پدری)بہنیں چھوڑ کر مر گیا۔
24
12 13 24 13
بیوی 3 3 5 7
ماں 2 2 3 9
پدری بہن 4 4 7 5
پدری بہن 4 4 7 5
. . . 2 .
تفصیل:
1:صورت مسئلہ میں تصحیح اور قراریط کے درمیان نسبت تخالف(تباین)ہے کیونکہ تیرہ کا عدد چوبیس کے عدد کے مخالف ہے،یعنی کسی بھی نسبت پر متفق نہیں،اس لیے دونوں عدد کامل طور پر اپنے اپنے مقامات پر درج کیے گئے۔
2:جامعہ اخیرہ میں درج شدہ کسروں کو جمع کیا تو ان سے صحیح عدد دو ہوا،جسے ہم نے جامعہ قراریط کے نیچے درج کردیا،جب اسے صحیح اعداد کے ساتھ جمع کیا تو چوبیس قراریط مکمل ہوئے،جس سے معلوم ہوا کہ ہمارا عمل درست ہے۔
دوسرا طریق:یہ ہے کہ جب ترکہ نقدی،یعنی درہم و دینار پیسے وغیرہ ہوں تو تب بھی طریقۂ تقسیم پہلے سے زیادہ مختلف نہیں ہو گا مگر یہ کہ آپ نقدی کی کامل مقدار کو اس خانہ میں درج کریں گے جہاں قراریط کا عدد چوبیس لکھا تھا اور باقی عمل حسب سابق ہو گا،مثلاً:ایک عورت خاوند اور بیٹا چھوڑ کر مر گئی،جبکہ اس کا ترکہ چالیس ریال ہے:(ٹیبل:14)
10
4 40 1
خاوند 1 10 .
بیٹا 3 30 .
وضاحت::صورت مسئلہ میں تصحیح اور ترکہ پر غور کیا تو دیکھا کہ دونوں میں نسبت توافق بالربع ہے تو ہم نے تصحیح کاوفق ایک لے کر جامعہ اخیرہ میں درج کیا اور وفق ترکہ کو لے کر تصحیح(اصل مسئلہ)کے اوپر لکھا،پھر ہم نے خاوند کے حصہ(ایک)کو جو اصل مسئلہ سے ملا تھا،وفق ترکہ دس کے ساتھ ضرب دی تو حاصل دس ہوئے۔پھر اسے جب وفق تصحیح(ایک)پر تقسیم کیا تو وہی دس کا عدد قائم رہا،جسے ہم نے وارث(خاوند)کے سامنے درج کر دیا،اس طرح بیٹے کا حصہ نکالا گیا۔نتیجتاً خاوند کو چالیس میں سے دس ملے جو ترکہ کا چوتھائی(1/4)ہے۔ایک بیٹے کو تیس مل گئے جو چالیس سے تین چوتھائی(3/4)ہیں۔
ایک اور مثال:خاوند،ماں اور سگا بھائی جبکہ ترکہ ساٹھ درہم ہیں۔اس مثال میں توافق بالسدس ہے۔(ٹیبل:15)
10
6 60 1
خاوند 3 30 .
ماں 2 20 .
حقیقی بھائی 1 10 .
ایک اور مثال:ورثاء بیوی،ماں اور باپ ہیں اور ترکہ 235 درہم ہے،اس مثال میں اصل مسئلہ(تصحیح)ترکہ سے نسبت تخالف رکھتا ہے۔مثال کا حل پیش خدمت ہے(ٹیبل:16)
235
12 235 12
بیوی 3 58 9
ماں 4 78 4
باپ 5 97 11
2
وضاحت:اس مثال میں تصحیح اور ترکہ کے درمیان کوئی نسبت نہیں،اس لیے اس میں کیفیت عمل طریقۂ تقریط سے مختلف نہیں،ماسوا اس کے کہ قراریط کے مقام پر ترکہ کا اندراج ہوا،باقی مکمل عمل حسب سابق جاری و ساری ہو گا۔پس بیوی کو چوتھائی،یعنی تین حصے ملے،جس کو کل ترکہ دو سو پینتیس(235)سے ضرب دی،پھر حاصل ضرب کو تصحیح بارہ پر تقسیم کیا تو اٹھاون(58)حاصل ہوئے جسے جامعہ ترکہ کے تحت بیوی کے خانہ میں درج کیا،باقی نو کی کسر بعد والے خانہ جامعہ اصل مسئلہ میں درج کیا۔اس کسر کو9/12 کی شکل میں لکھنا بھی درست ہے اور یہ ایک صحیح عدد کے تین ربع کے مساوی ہے۔اس طرح ماں کے چار سہام کو کل ترکہ(جو اصل مسئلہ کے اوپر درج ہے)سے ضرب دی،پھر حاصل ضرب کو بارہ پر تقسیم کیا تو اٹھہتر(78)حاصل ہوئے جبکہ کسر کا عدد چار نکلا،جسے ماں کے خانہ میں درج کر دیا۔باپ کے پانچ سہام کو جب اسی عمل سے گزارا تو ستانوے(97)حاصل ہوئے،جبکہ کسر گیارہ ہے،اسے بھی باپ کے خانہ میں درج کر دیا۔تمام کسور کا مجموعہ چوبیس(24)ہوا،جن سے صحیح عدد دو بنا،اور اسے جدول کے نیچے لکھ دیا گیا۔مجموع ترکہ پورا ہوگیا، لہٰذا عمل درست ہوا اور یہی مطلوب تھا۔٭
مناسخہ اور اس کا طریقۂ کار:
کسی میت کے ترکہ کی تقسیم سے قبل اس کا کوئی وارث فوت ہو جائے تو میت ثانی کے ورثاء کے حصص کی معرفت جس عمل سے ہوتی ہے،اسے مناسخہ کہتے ہیں۔
٭ طریق کار:
اس میں طریق کار یہ ہے کہ پہلے میت اول کے مسئلہ کی تصحیح کرو۔پھر میت ثانی کے آگے علامت(میت)’’ت‘‘ درج کرو۔پھر میت اول کے ورثاء میں سے جو میت ثانی کا بھی وارث ہو،اس کی میت ثانی سے جدید قرابت لکھ دو،مثلاً:ایک عورت جو میت اول کی بیوی تھی اور دوسری میت کی ماں ہے تو(ماں)لکھ دو،اس کا اندراج ترکہ اولیٰ سے ملنے والے سہام کے سامنے کرو۔اور اگر(میت ثانی کے)نئے وارث ایک یا زیادہ ہوں تو ان کو جدول اول کے نیچے الگ جدول میں درج کرو۔پھر میت ثانی کے مسئلہ کی تصحیح کرو۔پھر میت ثانی کی تصحیح اور اس کے ہاتھ میں موجود سہام کے درمیان غور کرو،اگر تصحیح ثانی کے مطابق سہام تقسیم ہو جائیں تو پہلی تصحیح کافی ہے،مثلاً:ایک عورت خاوند ماں،بیٹا اور بیٹی چھوڑ گئی،متوفیہ کے ترکہ کی تقسیم سے پہلے ہی اس کا خاوند بھی مذکور بیٹا اور بیٹی چھوڑ کر مر گیا۔مسئلہ اولیٰ بارہ سے بنا،پھر بیٹا اور بیٹی کے سہام میں کسر واقع ہونے سے چھتیس(36)سے تصحیح ہوئی۔میت ثانی کا مسئلہ تین سے بنا،جبکہ اس کے سہام نو تھے جو میت اول سے ملے،یہ سہام اس کے مسئلہ تین کے مطابق ورثاء میں تقسیم ہو سکتے ہیں۔لہٰذا دونوں مسئلوں کی تصحیح چھتیس سے ہی قائم رہی۔اسے آخر میں ’’جامعہ مناسخہ‘‘ میں درج کیا۔اب تمام سہام اسی جامعہ کے تحت درج کرو۔مسئلہ ثانیہ سے جس کا کوئی حصہ نہیں اس کے سہام جامعہ مناسخہ میں وہی لکھو جو اسے مسئلہ اولیٰ سے ملے ہیں اور جس کو مسئلہ ثانیہ سے بھی کچھ ملا ہے اسے جامعۃ الفریضہ کے اوپر درج شدہ وفق سے ضرب دو۔پھر حاصل ضرب میں وہ سہام بھی جمع کر لو جو مسئلہ اولیٰ سے اسے ملے ہیں۔پھر اسے(مجموعہ کو)جامعہ مناسخہ میں درج کر لو۔اس طرح:
3 3
12 36 3 36
خاوند 3 9 ت . .
ماں 2 6 . . 6
بیٹا 7 14 بیٹا 2 20
بیٹی 7 بیٹی 1 10
٭ صورت مسئلہ کے حل میں مولف(حفظہ اللہ)نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کا مذہب اختیار کیا ہے جو اس صورت میں ماں کو کل مال کا ثلث دیتے ہیں جبکہ جمہور کے نزدیک اس مسئلہ میں ماں کو بیوی / خاوند کے حصے کے بعد باقی مال کا ثلث ملے گا،اور اصل مسئلہ چار سے ہے۔(عبدالولی)
ملاحظہ:یہاں ’’ت‘‘ سے مراد فوت شدہ شخص ہوتا ہے۔
اگر میت ثانی کے سہام اس کے مسئلہ کے مطابق ورثاء پر پورے پورے تقسیم نہ ہوں اور نسبت توافق ہو تو سہام کا وفق لے کر جامعہ فریضہ کے اوپر درج کرو اور مسئلہ ثانیہ کا وفق لے کر مسئلہ اولیٰ کے اوپر لکھو اور اس میں ضرب دو۔حاصل ضرب جامعہ اخیرہ میں رکھو،جو جامعہ مناسخہ ہے،پھر ہر وارث کے ہاتھ میں جو ہے اس کو مسئلہ اولیٰ کے اوپر درج شدہ وفق میں ضرب دو۔حاصل ضرب کو اس کے سامنے جامعہ مناسخہ کے تحت درج کرو اور اگر اس کو مسئلہ ثانیہ میں سے کچھ ملا ہے تو اسے مسئلہ ثانیہ کے اوپر درج شدہ وفق میں ضرب دو۔حاصل ضرب میں مسئلہ اولیٰ سے ملنے والے سہام بھی جمع کر
لو،اور اسے(مجموعہ کو)جامعہ مناسخہ میں درج کرو،یہ اس وارث کا حصہ ہے۔
ایک شخص بیوی،بیٹی اور سگی بہن چھوڑ گیا،پھر بیٹی فوت ہو گئی،وہ اپنی والدہ(جو میت اول کی بیوی ہے)خاوند اور بیٹا چھوڑ گئی۔صورت مسئلہ درج ذیل ہے:
وضاحت:اس مثال میں مسئلہ اولیٰ آٹھ سے بنا،جبکہ مسئلہ ثانیہ بارہ سے بنا۔میت ثانی کو چارسہام ملے۔اس کے سہام(چار)اور مسئلہ ثانی(12)کے درمیان توافق بالربع ہے۔لہٰذا سہام کا وفق،یعنی ایک،مسئلہ ثانیہ کے اوپر درج کیا،اور مسئلہ ثانی کا وفق(تین)مسئلہ اولیٰ کے اوپر درج کیا۔باقی عمل حسب سابق ہوا۔
3 1
8 12 24
بیوی 1 ماں 2 5
بیٹی 4 ت .
بہن 3 09
خاوند 3 03
03 بیٹا 7 07
اگر میت ثانی کے سہام کی اس کے مسئلہ سے نسبت تخالف ہو تو کل سہام کو مسئلہ ثانیہ کے اوپر درج کرو اور مسئلہ ثانیہ کا عدد مسئلہ اولیٰ کے اوپر رکھو اور اس میں ضرب دو۔حاصل ضرب کو مسئلہ ثانیہ کے بعد والے جامعہ مناسخہ میں لکھ دو۔اس طرح حسب سابق پورا پورا عمل کرو،مثلاً:ایک شخص بیوی،تین بیٹے اور ایک بیٹی چھوڑ کر مر گیا،ترکہ کی تقسیم سے قبل اس کی بیوی اپنے مذکور تین بیٹے اور ایک بیٹی چھوڑ کر انتقال کر گئی۔صورت مسئلہ درج ذیل ہے(:ٹیبل:20)
7 1
8 ت . .
بیوی 1 ت . .
بیٹا 2 بیٹا 2 16
بیٹا 2 بیٹا 2 16
بیٹا 2 بیٹا 2 16
بیٹی 1 بیٹی 1 08
ملاحظہ:(۱):میت ثانی(بیوی)کا کوئی نیا وارث نہیں جس کو جدول اول کے نیچے الگ جدول میں درج کیا جاتا۔
(۲):اس مثال کے حل میں عمل حسب سابق ہوا۔
خنثیٰ مشکل:
خنثیٰ مشکل سے مراد ایسا بچہ ہے جس پر ولادت کے بعد مذکر یا مؤنث ہونے کے آثار واضح نہ ہوں۔چاہیے کہ بلوغت تک اس کا انتظار کر لیا جائے تاکہ اس کا حال واضح ہو جائے۔قبل از انتظار ارادہ تقسیم ہو تو بعض اہل علم کے نزدیک طریقۂ تقسیم یہ ہے کہ اسے نصف حصہ مذکر کا اور نصف حصہ مؤنث کا دے دیا جائے۔
اس میں طریقۂ عمل یہ ہے کہ اسے مذکر سمجھ کر مسئلہ کی تصحیح کی جائے،پھر دوسری بار اسے مؤنث سمجھ کر تصحیح کی جائے،یہ تب ہے جب وہ اکیلا ہو۔اگر وہ دو ہوں تو حصے چار رکھے جائیں گے جن کو آگے ہم تفصیل سے ذکر کریں گے۔
تصحیح کے بعد دونوں مسئلوں میں نسب اربعہ کی روشنی میں غور کریں گے تاکہ ایک ہی عدد(جامعہ)بن جائے۔پھر حاصل ضرب کو عدد الاحوال(اصل اول)میں ضرب دیں۔حاصل ضرب سے مسئلہ کی تصحیح ہو گی،اسے جامعۃالفریضہ کے بعد الگ جامعہ قرار دے کر لکھ لیں،پھر اسی جامعہ عدد کو اصل مسئلہ پر تقسیم کریں اور خارج قسمت کو اوپر درج کریں،پھر ہر وارث کو جو اصل مسئلہ سے ملا ہے اس کو اس کے اوپر والے ہر عدد میں ضرب دیں اور دونوں عددوں کو جمع کریں۔حاصل عدد کو عدد احوال(حالتوں کی گنتی)پر تقسیم کریں،جو حاصل ہو اسے اس وارث کے سامنے جامعہ کبرٰی کے تحت لکھ دیں اور اسی طرح دوسرے وارث کو دیں۔آخر میں ہر وارث کے سہام جمع کریں۔اگر جامعہ کبرٰی کے برابر ہو جائیں تو مسئلہ درست،وگرنہ غلط ہے،مثلاً:ایک شخص ایک بیٹا اور خنثیٰ چھوڑ کر مر گیا۔(ٹیبل:21)
6 4
2 3 12
بیٹا 1 2 7
خنثی 1 1 5
مسئلہ کا حل اور وضاحت:اس مسئلہ کے حل میں درج ذیل چار امور ملحوظ رہیں:
1:ہم نے مسئلہ کی تصحیح دو بار کی۔ایک بار باعتبار مذکر کے اور دوسری بار باعتبار مؤنث کے۔
2:جب ہم نے دونوں تصحیحو ں پر غور کیا تو نسبت تخالف پائی تو ایک کامل عدد تصحیح کو دوسرے کامل عدد میں ضرب دی تو حاصل ضرب چھ ہوئے۔پھر ہم نے چھ کو عدد احوال(دو)میں ضرب دی تو بارہ حاصل ہوئے جسے ہم نے جامعہ تصحیح(جامعہ کبرٰی)قرار دیا۔
3:جامعہ تصحیح کے عدد بارہ کو ہر فریضہ(تصحیح)پر تقسیم کیا تو تصحیح اول سے چھ کا عدد حاصل ہوا جو اوپر درج کر دیا اور تصحیح ثانی سے چار حاصل ہوا جسے اوپر درج کر دیا۔
4:ہر وارث کو دونوں تصحیحوں میں سے جو سہام ملے انھیں اس کے اوپر والے عدد سے ضرب دی تو مجموعی طور پر دس ہوئے جسے عدد احوال(دو)پر تقسیم کیا تو پانچ حاصل ہوئے،جسے خنثیٰ کے بالمقابل جامعہ تصحیح کے نیچے درج کر دیا اور یہ اس کا حصہ ہے اور اسی طرح بیٹے کو چودہ حاصل ہوئے جو عدد احوال پر تقسیم کرنے سے سات ہوئے۔یہ بیٹے کا حصہ ہے جسے اس کے بالمقابل جامعہ تصحیح میں درج کر دیا،کل بارہ ہوئے۔
ایک اور مثال:وہ دو بیٹے اور ایک خنثیٰ چھوڑ کر فوت ہوا۔صورت مسئلہ یوں ہو گی۔اس مثال کے حل میں بھی طریقۂ عمل سابقہ طریقہ سے مختلف نہیں ہے۔حل:
10 6
3 5 30
بیٹا 1 2 11
بیٹا 1 2 11
خنثٰی 1 1 8
اس باب میں بعض اہل علم کا طریقۂ تقسیم ایک اور بھی ہے،وہ یہ کہ خنثیٰ کو مذکر سمجھ کر مسئلہ بنایا جائے،پھر مؤنث سمجھ کر مسئلہ کی تصحیح ہو۔جس صورت میں خنثیٰ کے علاوہ ورثاء کا کم حصہ بنتا ہو،وہ دیا جائے اور باقی ترکہ صورت حال واضح ہونے تک محفوظ کر لیا جائے یا پھر کسی بھی تقسیم پر باہم مصالحت کر لیں۔
اس میں طریقۂ عمل یہ ہے کہ خنثیٰ کو مذکر سمجھ لیا جائے کیونکہ ورثاء کا کم حصہ یقینی ہے اور باقی حصہ محفوظ کر لیا جائے۔گزشتہ مثال میں ایک بیٹا اور ایک خنثیٰ تھا،اس لیے دو تصحیحوں کی ضرورت ہوئی،یعنی اولاً مسئلہ دو سے بنا،اس صورت میں خنثیٰ کو مذکر(بیٹا)سمجھا گیا۔پھر ثانیاً مسئلہ تین سے بنا جس میں خنثیٰ کو مؤنث(بیٹی)سمجھا گیا۔دونوں تصحیحوں میں نسبت تخالف ہوئی۔ایک کو دوسری تصحیح کامل میں ضرب دی تو چھ حاصل ہوئے۔یہ عدد جامعہ تصحیح قرار پایا۔بیٹے کو دو تصحیحوں سے مجموعی طور پر تین ملے،جو جامعہ تصحیح میں درج کر دیے اور خنثیٰ کو مجموعی طور پردو ملے جو جامعہ تصحیح میں درج ہوئے۔باقی ایک سہم خنثیٰ کا حال واضح ہونے تک موقوف ہو گیا۔اگر مذکر کی علامات نمایاں ہو گئیں تو یہ تین اسے ہی مل جائیں گے اور اگر مؤنث قرار پایا تو ایک سہم(حصہ)بیٹے کو مل جائے گا۔اگر کوئی اشکال ہوا تو باہم رضامندی سے مکمل کرکے تقسیم کریں گے۔اس مثال کے حل میں ایک باقی بچ گیا کیونکہ جامعہ تصحیح چھ ہے اور کل تقسیم شدہ سہام(حصے)پانچ ہیں،چنانچہ ایک حصہ کشف حال تک محفوظ رہے گا۔
2 3 6
بیٹا 1 2 3
خنثیٰ 1 1 2