قسم اور نذر کا بیان

قسم اور نذر کا بیان

قسم کا بیان: ٭ قسم کی تعریف: اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے’ ’اسمائے حسنیٰ‘‘ اور صفات کی قسم اٹھانا یمین اور حلف کہلاتا ہے،جیسا کہ کوئی یہ کہے ’’اللہ کی قسم میں یہ کام ضرور کروں گا۔‘‘یا ’’قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔‘‘ یا ’’قسم ہے اس ذات کی جو دلوں کو بدلنے والا ہے‘‘ وغیرہ۔ ٭ جائز اور ناجائز قسمیں: اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے ناموں کی قسم اٹھانا جائز ہے،اس لیے کہ نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درج ذیل قسمیں ثابت ہیں۔’’اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔‘‘ اسی طرح یہ بھی ثابت ہے ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے۔‘‘ جبرئیل علیہ السلام نے اللہ کی عزت و غلبے کی قسم اٹھاتے ہوئے کہا: ((فَوَعِزَّتِکَ!لَا یَسْمَعُ بِھَا أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَھَا)) ’’تیری عزت و عظمت کی قسم ہے جو بھی اس بہشت کا سنے گا وہ اس میں ضرور داخل ہو گا۔‘‘[1] اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے اسماء و صفات کے علاوہ کسی چیز کی قسم جائز نہیں ہے،چاہے وہ شرعاً قابل تعظیم ہی ہو،جیسا کہ کعبۃ اللہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم یا شرعاً قابل تعظیم نہ ہو جیسا کہ وطن،اس کی مٹی یا شہیدوں کے لہو کی قسم وغیرہ،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:((مَنْ کَانَ حَالِفًا فَلْیَحْلِفْ بِاللّٰہِ أَوْ لِیَصْمُتْ)) ’’جو حلف اٹھاتا ہے،وہ اللہ کا حلف اٹھائے یا خاموش رہے۔‘‘[1] اسی طرح آپ کا فرمان ہے:((لَا تَحْلِفُوا إِلَّا بِاللّٰہِ،وَلَا تَحْلِفُوا إِلَّا وَأَنْتُمْ صَادِقُونَ)) ’’اللہ کے سوا کسی کی قسم نہ اٹھاؤ اور حلف(قسم)صرف اس صورت میں اٹھاؤ جب تم سچے ہو۔‘‘[2] اور فرمایا:((مَنْ حَلَفَ بِغَیْرِ اللّٰہِ فَقَدْ أَشْرَکَ))’’جس نے غیر اللہ کی قسم کھائی اس نے شرک کیا۔‘‘[3] اور فرمایا:((مَنْ حَلَفَ بِغَیْرِ اللّٰہِ فَقَدْ کَفَرَ أَوْ أَشْرَکَ))’’غیر اللہ کا حلف اٹھانے والے نے کفر یا شرک کیا۔‘‘[4] ٭ قسم کی اقسام: قسم کی تین قسمیں ہیں:1:یمین غموس،یعنی جان بوجھ کر جھوٹی قسم اٹھانا،مثلاً:ایک شخص کہتا ہے:’’اللہ کی قسم یہ چیز میں نے پچاس میں خریدی ہے‘‘ جبکہ اس نے یہ چیز پچاس میں نہیں خریدی یا یہ کہے:’’اللہ کی قسم میں نے یہ کام کیا ہے‘‘ جبکہ اس نے یہ کام نہیں کیا تھا۔اس حلف کو ’’غموس‘‘ اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ قسم اٹھانے والے کو گناہ میں ڈبو دیتی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ذیل میں یہی قسم مراد ہے: ((مَنْ حَلَفَ عَلٰی یَمِینٍ وَّھُوَ فِیھَا فَاجِرٌ لِّیَقْتَطِعَ بِھَا مَالَ امْرِیئٍ مُّسْلِمٍ لَّقِيَ اللّٰہُ وَھُوَ عَلَیْہِ غَضْبَانُ)) ’’جو شخص کسی معاملے میں جھوٹی قسم اٹھاتا ہے تاکہ وہ اس کے ذریعے سے کسی مسلمان کا مال حاصل کر لے،وہ اللہ کو ایسی حالت میں ملے گا کہ وہ اس پر ناراض ہو گا۔‘‘[5] یمین غموس(جھوٹی قسم)کا حکم یہ ہے کہ اس میں کفارہ دینا [6] کافی نہیں ہے(اس میں کفارہ نہیں ہے)بلکہ توبہ اور استغفار ہی ضروری ہے،اس لیے کہ یہ ’’گناہ کبیرہ‘‘ہے،بالخصوص جب اس کے ذریعے سے ایک مسلمان کا مال ہتھیا لیا گیا ہو۔[1] 1: یمین لغو:جو بلا ارادہ و قصد مسلمان کی زبان پر جاری ہو جائے،جیسا کہ ’لَا وَاللّٰہِ!‘ ’وَبَلٰی وَاللّٰہِ!‘ کے الفاظ غیر ارادی طور پر منہ سے نکل جاتے ہیں،اس لیے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ یہ آیت:﴿لَّا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ﴾آدمی کی عام گفتگو کے متعلق نازل ہوئی ہے جس میں وہ کہتا ہے:نہیں نہیں اللہ کی قسم!ہاں،ہاں،اللہ کی قسم![2] اس طرح یہ بھی ’’لغو قسم‘‘ میں داخل ہے کہ قسم کے وقت انسان سمجھتا رہتا ہے کہ وہ سچ کہہ رہا ہے مگر بعد ازاں واضح ہوا کہ امر واقعہ ایسے نہیں تھا۔اس قسم کا حکم یہ ہے کہ اس میں گناہ ہے نہ کفارہ،اس لیے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَـٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا عَقَّدتُّمُ الْأَيْمَانَ﴾ ’’اللہ تم سے ’’لغو قسم‘‘ کا مؤاخذہ نہیں کرے گا،البتہ تم نے جو ارادی قسمیں کھائی ہیں،ان کا مؤاخذہ کرے گا۔‘‘[3] 3: یمین منعقدہ:یعنی مستقبل میں کسی کام کے کرنے پر حلف(قسم کھانا)جیسا کہ ایک مسلمان کہے:اللہ کی قسم میں یہ کام ضرور کروں گا یا اللہ کی قسم میں یہ کام نہیں کروں گا،پھر اگر اسے پورا نہیں کر سکا تو اسے اس قسم توڑنے پر مؤاخذہ ہو گا۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَلَـٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا عَقَّدتُّمُ الْأَيْمَانَ﴾ ’’اور جو تم نے با ارادہ قسمیں کھائی ہیں،ان پر اللہ تعالیٰ تمھارا مؤاخذہ کرے گا۔‘‘[4] اس کا حکم یہ ہے کہ جو شخص حلفیہ کام کو پورا نہیں کرے گا،وہ گناہ گار ہے اور اس پر کفارہ واجب ہو جائے گا۔ہاں اگر اس کام کو کر لے تو گناہ اور کفارہ ساقط ہو جائے گا۔ ٭ کفارہ کس طرح ساقط ہوتا ہے:قسم والے سے کفارہ اور گناہ کا سقوط دو طریقوں سے ممکن ہے: 1: جس کام کے کرنے یا نہ کرنے پر قسم کھائی ہے،اگر اس کی خلاف ورزی بھول کر ہو جائے یا غلطی سے یا مجبوری سے تو اس صورت میں کفارہ اور گناہ نہیں ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:((وُضِعَ عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأُ وَالنِّسْیَانُ وَمَا اسْتُکْرِھُوا عَلَیْہِ)) ’’میری امت سے خطا،نسیان اور جبرو اکراہ والے کاموں کا گناہ معاف کر دیا گیا ہے۔‘‘[5] 2: مجلس قسم میں قسم اٹھانے والا اگر ان شاء اللہ کہہ دے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:((مَنْ حَلَفَ عَلٰی یَمِینٍ فَقَالَ:إِنْ شَائَ اللّٰہُ لَمْ یَحْنَثْ)) ’’جو شخص کسی بات پر قسم اٹھائے اور ان شاء اللہ کہہ دے(پھراس سے وہ کام ہوجائے تو)وہ قسم توڑنے والا نہیں ہے۔‘‘[1] اور اسی وجہ سے اس پر نہ تو کفارہ ہے اور نہ ہی وہ گناہ گار ہے۔ ٭ نیک کام بجا لانے کی خاطر قسم توڑنا: اگر کوئی مسلمان کوئی ایک اچھا کام نہ کرنے کی قسم کھا لیتا ہے تو بہتر یہی ہے کہ وہ اس کارخیر کو سرانجام دے اور قسم کا کفارہ ادا کر دے،اس لیے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَلَا تَجْعَلُوا اللّٰهَ عُرْضَةً لِّأَيْمَانِكُمْ أَن تَبَرُّوا وَتَتَّقُوا وَتُصْلِحُوا بَيْنَ النَّاسِ﴾ ’’اور اللہ کو اپنی قسموں کا ہدف نہ بناؤ کہ نیکی اور پرہیز گاری نہ کرو اور لوگوں میں صلح نہ کراؤ۔‘‘[2] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:((وَإِذَا حَلَفْتَ عَلٰی یَمِینٍ فَرَأَیْتَ غَیْرَھَا خَیْرًا مِّنْھَا فَکَفِّرْ عَنْ یَّمِینِکَ وَأْتِ الَّذِي ھُوَ خَیْرٌ)) ’’جب تو کسی بات پر قسم اٹھائے اور(پھر)اس کا غیر اس سے بہتر جانے تو بہتر کام کر اور اپنی قسم کا کفارہ دے۔‘‘[3] ٭ قسم ڈالنے والے کی بات پوری کر دو: مسلمان جب کسی کو قسم دے کر کہے کہ یہ کام کر تو اس پر لازم ہے کہ وہ اس کی قسم پوری کر دے اور اسے قسم میں حانث(قسم توڑنے والا)بننے سے بچائے۔خصوصًاجبکہ اس کام کو کرنا ممکن بھی ہو۔ چنانچہ ایک دفعہ ایک عورت نے دوسری عورت کو کھانے کے لیے کھجوریں دیں۔اس نے کچھ کھا لیں تو پہلی نے اس پر قسم ڈال دی کہ وہ بقیہ کھجوریں بھی کھائے مگر اس نے بقیہ کھجوریں کھانے سے انکار کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((أَبِرِّیھَا فَإِنَّ الإِْثْمَ عَلَی الْمُحْنِثِ)) ’’اس کی قسم پوری کر،بے شک اس کا گناہ اس پر ہو گا جو(امکان کے باوجود)قسم پوری نہ کرائے۔‘‘[4] ٭ قسم کا دارومدار قسم اٹھانے والے کی نیت پر ہے: قسم کے پورا ہونے یا نہ ہونے میں قسم اٹھانے والے کی نیت کا اعتبار ہوگا۔٭اس لیے کہ اعمال کا انحصار نیتوں پر ہے اور ہر آدمی کے لیے وہی ہے جو وہ نیت کرتا ہے،چنانچہ ٭ ہاں اگر کوئی دوسرا قسم اٹھوائے تو قسم کا وہی مفہوم معتبر ہو گا جو اٹھوانے والا چاہتا ہے۔اگر قسم اٹھانے والے نے توریے کے طور پر کوئی اور مفہوم مراد لیا تو وہ اپنی قسم میں جھوٹا ہو گا،مثلاً:ایک شخص کی رقم گم ہو گئی،اسے جس پر شک تھا اس سے قسم اٹھوائی،اس نے قسم اٹھائی کہ رقم میرے پاس نہیں ہے اور نیت یہ کی کہ میری جیب میں نہیں ہے اگرچہ گھر میں ہے تو اس نے جھوٹی قسم اٹھائی۔واللہ اعلم(ع،ر) جس نے حلفًایہ کہا کہ میں زمین پر نیند نہیں کروں گا اور مراد یہ لی کہ بستر پر نیند نہیں کروں گا تو وہ قسم توڑنے والا نہیں ہے اگر بستر پر نہیں سوتا اور جس نے حلفیہ کہا کہ میں اس روئی کا کپڑا نہیں پہنوں گا اور اس کا ارادہ یہ تھا کہ چادر کے انداز میں نہیں اوڑھوں گا اور اس نے روئی کا قمیص بنا کر استعمال کیا تو وہ قسم سے منحرف ہونے والا نہیں ہے۔لیکن اگر یہ ارادہ نہ ہو تو وہ حلف سے منحرف ہونے والا ہو جائے گا۔ ٭ کفارۂ قسم: قسم کا کفارہ چار طرح کا ہے: 1: دس مساکین کو کھانا کھلانا،یعنی فی مسکین کے حساب سے ایک مد(تقریبًا دس چھٹانک)کھانا دے دیا جائے یا ایک جگہ بلا کر انھیں پیٹ بھر کر کھانا کھلایا جائے یا ہر ایک کو روٹی سالن کے ساتھ دے دی جائے۔ 2: دس مساکین کے لیے لباس مہیا کر دیا جائے،جس سے نماز میں کفایت ہو جائے۔اگر عورت کو دے تو پھر قمیص اور ساتھ اوڑھنی بھی ہونی چاہیے،اس لیے کہ یہی اس کے لیے نماز میں کفایت کرتا ہے۔ 3: مومن غلام(یا لونڈی)آزاد کرنا۔ 4: تین دن لگاتار روزے رکھنا اگر لگاتار نہ رکھ سکے تو متفرق ایام میں بھی جائز ہیں۔روزے کا حکم اس صورت میں ہے جب طعام یا لباس یا غلام آزاد کرنے کی طاقت نہ ہو،اس لیے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا حکم ہے:﴿فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ ۖ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ۚ ذَٰلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ﴾ ’’پس اس کا کفارہ دس مسکینوں کو متوسط درجے کا کھانا کھلانا ہے جو تم اپنے عیال کو کھلاتے ہو یا انھیں لباس مہیا کرنا یا ایک غلام آزاد کرنا ہے اور جسے اس کی طاقت نہیں ہے تو وہ تین دن روزے رکھے،یہ تمھاری قسموں کا کفارہ ہے۔‘‘[1] نذر کا بیان: ٭ نذر کی تعریف: نذر یہ ہے کہ کوئی مسلمان اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں کسی کام کو اپنے اوپر لازم کر لے جو پہلے اس پر لازم نہیں تھا،مثلاً:یہ کہے کہ میں اللہ کے لیے ایک دن کا روزہ رکھوں گا یا دو رکعت نماز پڑھوں گا۔ ٭ نذر کا حکم: جس نذر میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی اطاعت اور اس کی رضا مطلوب ہو،وہ نذر مباح ہے جیسا کہ روزہ رکھنے کی نذر یا خیرات کی نذر اور اس کا پورا کرنا ضروری ہے۔البتہ مقید مالی نذرمکروہ ہے،مثلاً:یہ کہے کہ اگر اللہ نے میرے مریض کو شفا دی تواتنا مال خیرات کروں گا،اس لیے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: ((نَھَی النَّبِيُّ صلی اللّٰه علیہ وسلم عَنِ النَّذْرِ،وَقَالَ إِنَّہُ لَا یَرُدُّ شَیْئًا،وَلٰکِنَّہُ یُسْتَخْرَجُ بِہِ مِنَ الْبَخِیلِ)) ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’نذر‘‘سے منع کیا ہے اور فرمایا:’’یہ کسی چیز کو رد نہیں کرتی،البتہ اس کے ذریعہ بخیل سے اس کا مال نکالا جاتا ہے۔‘‘[1] اگر ’’نذر‘‘ میں غیر اللہ کی رضا بھی مطلوب ہے تو وہ حرام ہے جیسا کہ اولیائے کرام کی قبروں کے لیے نذر یا صالحین کی ارواح کے لیے نذرونیاز،مثلاً:یوں کہے کہ میرے فلاں سردار!اگر اللہ نے میرے مریض کو شفا دے دی تو میں تیری قبر پر جانور ذبح کروں گا یا خیرات کروں گا،اس لیے کہ یہ غیر اللہ کی عبادت ہے اور شرک ہے،جسے اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے۔ارشاد ربانی ہے:﴿وَاعْبُدُوا اللّٰهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا﴾ ’’اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بناؤ۔‘‘[2] ٭ نذر کی اقسام: 1: نذر مطلق:وہ یہ کہ اللہ کا تقرب حاصل کرنے کے لیے مسلمان کسی نیکی کا مطلقًا التزام کرے،مثلاً:کہے کہ میں اللہ کے لیے تین روزے رکھوں گا یا دس مسکینوں کو کھانا کھلاؤں گا۔اس نذر کا حکم یہ ہے کہ اسے پورا کیا جائے،اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا حکم ہے:﴿وَأَوْفُوا بِعَهْدِ اللّٰهِ إِذَا عَاهَدتُّمْ﴾ ’’اور اللہ سے جب عہد کرو تو اسے پورا کرو۔‘‘[3] اور فرمایا:﴿وَلْيُوفُوا نُذُورَهُمْ﴾’’اور چاہیے کہ وہ اپنی نذریں پوری کریں۔‘‘[4] 2: نذر مطلق غیر معین:مثلاً:مسلمان یہ کہے کہ اللہ کے لیے میرے اوپر نذر ہے اور یہ متعین نہ کرے کہ کس چیز کی نذر ہے۔اس کا حکم یہ ہے کہ اسے’ ’کفارئہ یمین‘‘کی صورت میں پورا کیا جائے،اس لیے کہ آپ کا فرمان ہے: ((کَفَّارَۃُ النَّذْرِ کَفَّارَۃُ الْیَمِینِ))’’نذر کا کفارہ(جب اسے متعین نہ کرے)قسم کے کفارہ کی طرح ہے۔‘‘[5] ایک رائے یہ ہے کہ عبادات میں جو کم سے کم نذر ہو سکتی ہے،اس کی ادائیگی کی جائے،مثلاً:دو رکعت نماز یا ایک دن کا روزہ۔ 3: اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے فعل پر مقید نذر:مثلاً:یہ کہے کہ اگر اللہ نے میرے مریض کو شفا دی یا فلاں غائب کو واپس کر دیا تو اتنے مساکین کو کھانا کھلاؤں گا یا اتنے دن روزے رکھوں گا۔اگرچہ یہ انداز نذر ناپسندیدہ ہے مگر اسے پورا کرنا لازم ہے،یعنی جب اللہ تعالیٰ اس کی حاجت پوری کرے تو اس پر وہ عبادت لازم ہو جاتی ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:((مَنْ نَّذَرَ أَنْ یُّطِیعَ اللّٰہَ فَلْیُطِعْہُ))’’جو اللہ کی اطاعت کی نذر مانتا ہے،وہ اسے پورا کرے۔‘‘[1] اور اگر اللہ نے اس کی حاجت پوری نہیں کی تو پھر نذر کا پورا کرنا ضروری نہیں ہے۔ 4: مخلوق کے فعل کے ساتھ مقید نذر:اسے ’’نذر لجاج‘‘ بھی کہا جاتا ہے،مثلاً:کوئی شخص یہ کہے کہ اگر تو نے فلاں کام کیا تو میں ایک ماہ کے روزے رکھوں گا یا اپنے مال میں سے اتنی خیرات کروں گا۔اس کا حکم یہ ہے کہ نذر والے کو اختیار ہے،چاہے اسے پورا کرے یا قسم کا کفارہ ادا کرے،جب نذر سے متعلق کام میں وہ ’’حانث‘‘ ہو جائے،اس لیے کہ آپ کا فرمان ہے:((لَا نَذْرَ فِي مَعْصِیَۃٍ وَّلَا غَضَبٍ،وَکَفَّارَتُہُ کَفَّارَۃُ الْیَمِینِ))’’اللہ کی نافرمانی کی اور غصے میں نذر نہیں ہے اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے۔‘‘[2] کیونکہ یہ ’’نذر لجاج‘‘ عام طور پر غصے کے وقت ہوتی ہے،جب مخاطب کو کسی کام سے روکنا مطلوب ہوتا ہے یا اس کے ترک کرنے سے منع کرنا ہوتا ہے۔ 5: نذر معصیت:کسی حرام کام کے ارتکاب کی نذر یا کسی فرض کے ترک کی نذر،مثلاً:کسی مومن کو مارنے کی نذر یا نماز چھوڑ دینے کی نذر۔اس کا حکم یہ ہے کہ اس کا پورا کرنا حرام ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:((مَنْ نَّذَرَ أَنْ یُّطِیعَ اللّٰہَ فَلْیُطِعْہُ،وَمَنْ نَّذَرَ أَنْ یَّعْصِیَہُ فَلَا یَعْصِہِ)) ’’جو اللہ کی اطاعت کی نذر مانے وہ اسے پورا کرے اور جو اللہ کی نافرمانی کی نذر مانے وہ اس کی نافرمانی نہ کرے۔‘‘[3] البتہ بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ نافرمانی کی نذر والا ’’کفارئہ یمین‘‘ ادا کرے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((لَا نَذْرَ فِي مَعْصِیَۃٍ،وَکَفَّارَتُہُ کَفَّارَۃُ یَمِینٍ))’’نافرمانی میں کوئی نذر نہیں ہے اور اس کا کفارہ قسم کے کفارے کی طرح ہے۔‘‘[4] 6: ایسی نذر جو مسلمان کی ملکیت میں نہیں یا اس کو پورا کرنے کی اس میں استطاعت نہیں:مثلاً:یوں کہے کہ میں فلاں کا غلام آزاد کروں گا یا ہزاروں من سونا خیرات کروں گا۔اس کا حکم یہ ہے کہ اس میں ’’کفارئہ یمین‘‘ہے جیسا کہ حدیث میں ہے:((لَا نَذْرَ لِابْنِ آدَمَ فِیمَا لَا یَمْلِکُ))’’ابن آدم جس کا مالک نہیں ہے،اس میں نذر نہیں۔‘‘[5] 7: حلال چیز کو حرام قرار دینے کی نذر:اس کا حکم یہ ہے کہ اللہ نے جو اشیاء حلال قرار دی ہیں،وہ نذر سے حرام نہیں ہوں گی،جبکہ بیوی اس سے مستثنیٰ ہے،اگر اسے حرام قرار دیا ہے تو اس پر’ ’کفارئہ ظہار‘‘ ہے(ساٹھ مساکین کو کھانا کھلانا یا دو ماہ کے لگاتار روزے رکھنا)جب تک کفارہ ادا نہیں کرے گا،عورت کے قریب نہیں جا سکتا اور عورت کے علاوہ امور میں ’ ’قسم کا کفارہ‘‘ ہے۔ تنبیہ:کل مال کی خیرات کی نذر کی صورت میں تہائی مال کی خیرات کافی ہو گی،اگر ’’نذر لجاج‘‘ کی صورت ہے تو اس پر کفارئہ یمین ہے۔اگر اطاعت کی نذر ماننے والا نذر پوری کرنے سے پہلے فوت ہو جائے تو اس کا ولی اس کی طرف سے نیابتًا نیکی کا وہ کام کر سکتا ہے۔صحیح سند سے ثابت ہے کہ ایک عورت نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا:میری ماں نے مسجد قباء میں نماز پڑھنے کی نذر مانی تھی اور اسے پورا کیے بغیر فوت ہو گئی تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے مسجد قباء میں نماز پڑھنے کا حکم دیا۔