ذبح،شکار،کھانوں اور مشروبات کا بیان

ذبح،شکار،کھانوں اور مشروبات کا بیان

ذبح کا بیان: ٭ زکاۃ کی تعریف: جن جانوروں کا کھانا حلال ہے،انھیں ذبح یا نحر کرنا ’’زکاۃ‘‘کہلاتا ہے۔ ٭ کن جانوروں کو ذبح اور کن کو نحر کیا جاتا ہے: بکری،بھیڑ اور پرندوں کی ہمہ اقسام کو ذبح کیا جاتا ہے۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ﴾’’اور ہم نے اس کو ذبح عظیم(مینڈھا)عوض میں دیا۔‘‘[1] اسی طرح گائے کو ذبح کیا جاتا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تَذْبَحُوا بَقَرَةً﴾’’بے شک اللہ تمھیں حکم کرتا ہے کہ ایک گائے ذبح کرو۔‘‘[2] البتہ اس کا ’’نحر‘‘ بھی جائز ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گائے کا نحر(سینہ کے قریب سے کاٹنا)بھی ثابت ہے،بنا بریں اس کو حلال کرنے کی دو جگہیں ہوئیں ذبح کی جگہ اور نحر کی جگہ۔اونٹ کو صرف نحر کیا جاتا ہے،ذبح نہیں۔ نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کو کھڑا کر کے سینے کے قریب سے کاٹا تھا اور اس کا بایاں ہاتھ بندھا ہوا تھا۔[3] ٭ ذبح اور نحر کی تعریف: ’’ذبح‘‘ حلق اور نرخرا کی رگیں کاٹنا اور ’’نحر‘‘ لبہ(سینے کے بالائی حصے)میں چھرا گھونپنا ہے،لبہ گردن کے نیچے قلادہ کی جگہ کو کہتے ہیں،اس جگہ ’’آلۂ ذبح‘‘گھونپا جائے تو دل کو جا لگتا ہے،جس سے جانور کی فوری موت واقع ہو جاتی ہے۔ ٭ ذبح اور نحر کا طریقہ: ذبح یہ ہے کہ جانور کو بائیں پہلو پر قبلہ رخ کر کے ڈال دیا جائے،پھر تیز چھری کے ساتھ ’’بِسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ ‘‘کہہ کر جلدی سے حلقوم،شاہ رگ اور رگیں کاٹ دے۔اور نحر اس طرح کہ اونٹ کو کھڑا کر کے بائیں ہاتھ سے باندھ دیا جائے،پھر اس کے سینہ کے گڑھے میں،جو قلادہ(پٹا ڈالنے کی جگہ)کے متصل ہے،تیز دھار آلہ مارتا رہے،یہاں تک کہ اس کی جان نکل جائے۔ابن عمر رضی اللہ عنہما نے دیکھا کہ ایک شخص اونٹنی بٹھا کر ذبح کرنا چاہتا ہے تو انھوں نے کہا:اسے کھڑا کر اور باندھ لے یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے۔ ٭ ذبح کے درست ہونے کی شرائط: 1: آلۂ ذبح تیز ہوجس سے سارا خون نکل جائے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:((مَا أَنْھَرَ الدَّمَ،وَذُکِرَ اسْمُ اللّٰہِ فَکُلْ،لَیْسَ الظُّفُرَ وَالسِّنَّ)) ’’جو(جانور ایسے آلے سے ذبح کیا جائے جو)خون بہا دے اور اس پر اللہ کا نام لیا جائے،اسے کھاؤ(جبکہ)ناخن اور ہڈی(کے ساتھ ذبح کرنا درست)نہیں۔‘‘[1] 2: بسم اللہ واللہ اکبر یا صرف بسم اللہ پڑھے،اس لیے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللّٰهِ عَلَيْهِ﴾ ’’جس جانور پر اللہ کا نام نہ ذکر کیا جائے،اسے نہ کھاؤ۔‘‘[2] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((مَا أَنْھَرَ الدَّمَ،وَذُکِرَ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ فَکُلُوہُ)) ’’جو خون بہا دے اور اس پر اللہ کا نام لیا جائے،اسے کھاؤ۔‘‘[3] 3: حلق کے ساتھ شاہ رگ اور دونوں جانب کی رگیں ایک ہی بار کاٹ دے۔ 4: ذبح کرنے والا مسلمان،عاقل اور بالغ ہو یا سمجھدار لڑکا،نیز عورت اور کتابی بھی ذبح کر سکتے ہیں،اس لیے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَّكُمْ﴾’’اور اہل کتاب کا طعام تمھارے لیے حلال ہے۔‘‘[4] اور ان کے طعام سے ان کا ذبیحہ مراد ہے۔ 5: کنویں میں گر جانے یا جانور کے بھاگ جانے کی وجہ سے اگر ذبح ممکن نہیں ہے تو اس کے جسم کے کسی حصہ پر زخم لگا دیا جائے،جس سے خون کا اجراء ہو جائے تو یہ ذبح شرعًا درست ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اونٹ بھاگ کھڑا ہوا،ایک آدمی نے اس کو تیر مارا اور گرا لیا تو آپ نے فرمایا: ((إِنَّ لِھٰذِہِ الْبَھَائِمِ أَوَابِدَ کَأَوَابِدِ الْوَحْشِ،فَمَا فَعَلَ مِنْھَا ھٰذَا فَافْعَلُوا بِہِ ھٰکَذَا)) ’’ان جانوروں میں وحشی جانوروں کی طرح بھاگنے والے(بھی)ہوتے ہیں،چنانچہ ان میں جو ایسا کرے تو ان کے ساتھ اسی طرح کرو۔‘‘[1] علماء نے ان سب جانوروں کو جن کا ذبح معروف طریقہ سے نہیں ہو سکتا،مذکورہ طریقے پر ہی قیاس کیا ہے۔ تنبیہات: 1: اگر ذبیحہ کے پیٹ میں حمل ہے،اس کی تخلیق بھی پوری ہو چکی ہے اور اس کے بال اگ چکے ہیں تو ماں کا ذبح اس کا ذبح ہے اور اس کو کھانا جائز ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا:((کُلُوہُ إِنْ شِئْتُمْ،فَإِنَّ ذَکَاتَہُ ذَکَاۃُ أُمِّہِ)) ’’اگر چاہو تو کھا سکتے ہو،اس لیے کہ اس کی ماں کا ذبح کرنا اس کا ذبح ہے۔‘‘[2] 2: بھول کر اگر ’’بسم اللہ‘‘ نہ پڑھ سکے تو ذبح میں کوئی نقص نہیں ہے،اس لیے کہ نسیان میں امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر مؤاخذہ نہیں ہے۔حدیث مبارکہ میں ہے: ((وُضِعَ عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأُ وَالنِّسْیَانُ وَمَا اسْتُکْرِھُوا عَلَیْہِ))’’میری امت سے خطا،نسیان اور جس کام میں ان پر جبرکیا جائے،معاف کر دیا گیا ہے۔‘‘[3] 3: ذبح میں اس حد تک مبالغہ کہ جانور کی گردن پوری کٹ جائے،صحیح نہیں ہے اگر اتفاقیہ ہو جائے تو بلا کراہت اسے کھانا جائز ہے۔ 4: ذبح کرنے والا اگر ذبح کے آداب کی مخالفت کرے کہ جن جانوروں کو ’’ذبح‘‘ کیا جاتا ہے،ان کو ’’نحر‘‘ کر دے یا ’’نحر‘‘ والے جانور کو ’’ذبح‘‘ کر دے تو مع الکراہت(ناپسندیدگی کے ساتھ)اسے کھانا جائز ہے۔٭ 5: بیمار جانور یا جس کا گلا گھٹ جائے یا جسے چوٹ لگ جائے یا پہاڑ سے گر جائے یا جسے سینگ لگ جائے یا جسے درندے نے کھا لیا ہو،اگر زندہ مل جائے اور ذبح کرنے سے اس کی روح خارج ہوئی نہ کہ مذکورہ اسباب سے تو اس کا کھانا جائز ہے،اس لیے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ﴾’’مگر وہ جسے تم نے ذبح کر لیا۔‘‘[4] یعنی جس میں تمھیں روح محسوس ہوئی اور ذبح کر کے اس کی روح جدا کی تو وہ حلال ہے۔ 6: ذبح کی تکمیل سے پہلے اگر ذبح کرنے والا اپنا ہاتھ کھینچ لے اور کافی دیر بعد پھر ذبح کرے تو علماء ایسے ذبیحہ کے نہ کھانے کا حکم فرماتے ہیں۔اِ لَّا یہ کہ پہلی بار ذبح کا عمل پورا کر دیا گیا تھا تو تب جائز ہے۔ ٭ کراہت سے مراد یہ ہے کہ بچا جائے تو ثواب ہے نہ بچا جائے تو گناہ نہیں،اسے کراہت تنزیہی کہتے ہیں اور کبھی کراہت کا لفظ،حرمت کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے اسے کراہت تحریمی کہتے ہیں مکروہ تحریمی کا ارتکاب سخت گناہ ہے۔واللہ اعلم(ع،ر) شکار کا بیان: ٭ شکار کی تعریف: خشکی میں رہنے والا وحشی جانور(جو گھر کا پالتو نہ ہو،)یا پانی میں ہی رہنے والے جانور کو حاصل کرنا شکار کہلاتا ہے۔ ٭ شکار کا حکم: حج یا عمرے کے لیے احرام باندھنے والے کے علاوہ سب لوگ شکار کر سکتے ہیں۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَإِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوا﴾’’اور جب احرام سے حلال ہو جاؤ(احرام کھول دو)تو شکار کر سکتے ہو۔‘‘[1]البتہ لہو و لعب کے طور پر اس کو اپنانا درست نہیں ہے۔ ٭ شکار کی اقسام: شکار دو قسم کا ہے،ایک بحری شکار،یعنی سمندر میں رہنے والے جانور مچھلی وغیرہ کو پکڑنا۔ اس کا حکم یہ ہے کہ محرم اور غیر محرم سب کے لیے حلال ہے۔ان جانوروں میں البتہ آبی(سمندری)انسان اور آبی خنزیر حلال نہیں ہیں،اس لیے کہ یہ نام میں انسان اور خنزیر کے ساتھ شریک ہیں،جن کا کھانا حرام ہے۔[2] اور دوسرا برّی شکار۔اس کی بہت سی اجناس ہیں۔جنھیں شریعت نے مباح قرار دیا ہے وہ مباح ہیں اور جن سے منع کر دیا ہے،وہ ممنوع ہیں۔ ٭ شکار کا ذبح کرنا: سمندری شکار کی موت ہی اس کا ذبح ہے،بس اس کے بارے میں یہ حکم ہے کہ اسے زندہ نہ کھایا جائے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((أُحِلَّتْ لَنَا مَیْتَتَانِ:اَلْحُوتُ وَالْجَرَادُ))’’دو مردہ چیزیں ہمارے لیے حلال ہیں:مچھلی اور ٹڈی۔‘‘[3] اور بری جانور اگر زندہ ہاتھ لگ جائے تو اس کا ذبح کرنا ضروری ہے،ذبح کیے بغیر اس کا کھانا جائز نہیں ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((وَمَا صِدْتَّ بِکَلْبِکَ غَیْرِ مُعَلَّمٍ فَأَدْرَکْتَ ذَکَاتَہُ فَکُلْ))’’اور جو تو نے نہ سدھائے ہوئے کتے کے ذریعے سے شکار کیا اور(پھر)ذبح کر لیا تو اسے کھا لے۔‘‘[4] اگر مردہ ملے تو اس کا کھانا اس وقت جائز ہے،جب وہ درج ذیل شرائط پر پورا اترتا ہو: 1: شکار کرنے والا ایسا شخص ہو جو ذبح کر سکتا ہو،مثلاً:یہ کہ وہ مسلمان،عاقل اور سمجھدار ہو۔ 2: تیر چلاتے وقت یا کتا چھوڑتے وقت اس نے ’’بسم اللہ‘‘ پڑھی ہو۔ارشاد نبوی ہے:((مَا صِدْتَّ بِقَوْسِکَ فَذَکَرْتَ اسْمَ اللّٰہِ فَکُلْ۔وَمَا صِدْتَّ بِکَلْبِکَ غَیْرِ مُعَلَّمٍ فَأَدْرَکْتَ ذَکَاتَہُ فَکُلْ)) ’’جو تو نے کمان(یا گولی)کے ساتھ شکار کیا اور(اس پر)اللہ کا نام لیا تو کھا۔اور جو تو نے نہ سدھائے ہوئے کتے کے ذریعے سے شکار کیا اور(پھر)ذبح کر لیا تو اسے کھا لے۔‘‘[1] 3: آلۂ شکار تیز ہونا چاہیے جو جلد کو پھاڑ دے،اگر دھار دار اور تیز نہیں ہے،جیسا کہ لاٹھی یا پتھر تو اس کے ساتھ ذبح کیا ہوا شکار کھانا حلال نہیں ہے،اس لیے کہ وہ چوٹ لگنے سے مرے ہوئے جانور کے حکم میں ہے،الّا یہ کہ جانور زندہ مل جائے اور اسے ذبح کر لیا جائے تو پھر اس کا کھانا حلال ہے۔معراض(چوڑائی کے بل لگنے والے آلے)کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا:((فَإِذَا أَصَابَ بِعَرْضِہِ فَقَتَلَ فَإِنَّہُ وَقِیذٌ فَلَا تَأْکُلْ)) ’’جب معراض(چوڑائی والا حصہ)لگے تو نہ کھا،اس لیے کہ یہ جانور چوٹ لگنے سے مرا ہے۔‘‘[2] اگر حملہ کرنے والا کتا،باز یا شکرا ہو تو اس کا سدھایا ہوا ہونا ضروری ہے،اس لیے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَمَا عَلَّمْتُم مِّنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ تُعَلِّمُونَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللّٰهُ ۖ فَكُلُوا مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَيْهِ﴾ ’’اور جو شکاری درندے تم نے شکار کرنے کو سدھائے ہوں(اور)جن کو تم شکار کی تعلیم دیتے ہو،جس طرح کہ اللہ نے تم کو تعلیم دی ہے،جو وہ تمھارے لیے محفوظ رکھیں تو وہ تم کھا لیا کرو اور اس پر اللہ کا ذکر کیا کرو۔‘‘[3] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((وَمَا صِدْتَّ بِکَلْبِکَ الْمُعَلَّمِ فَاذْکُرِ اسْمَ اللّٰہِ ثُمَّ کُلْ)) ’’اور جو تو سدھائے ہوئے کتے کے ساتھ شکار کرے تو اللہ کا نام ذکر کر،پھر کھا۔‘‘[4] تنبیہ:سدھائے ہوئے جانور بالخصوص کتے کی پہچان یہ ہے کہ بلانے پر فورًا تعمیل کرے۔شکار پر جھپٹنے کا اشارہ دیا جائے تو جھپٹے،روکا جائے تو رک جائے،البتہ کتے کے علاوہ کسی اور جانور میں رکنے والی صفت ناممکن ہے۔ 3: شکار پکڑنے میں شکاری کتا دوسرے کتوں کے ساتھ نہ مل گیا ہو،اس لیے کہ پھر یہ پتہ نہیں چل سکے گا کہ شکار کو کس نے پکڑا ہے جس پر اللہ کا نام لیا گیا اس نے یا کسی اور کتے نے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:((وَإِنْ وَّجَدْتَّ مَعَ کَلْبِکَ کَلْبًا غَیْرَہُ وَقَدْ قَتَلَ فَلَا تَأْکُلْ،فَإِنَّکَ لَا تَدْرِي أَیُّھُمَا قَتَلَہُ)) ’’اگر تو اپنے کتے کے ساتھ دوسرا کتا دیکھے جبکہ شکار قتل ہو گیا ہے تو نہ کھا،اس لیے کہ تو نہیں جانتا کہ اسے کس نے قتل کیا۔‘‘[5] 5: شکار میں سے کتے نے کھایا نہ ہو،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((إِلَّا أَنْ یَّأْکُلَ الْکَلْبُ فَلَا تَأْکُلْ،فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ یَّکُونَ إِنَّمَا أَمْسَکَ عَلٰی نَفْسِہِ)) ’’کتا شکار میں سے کھا لے تو تو نہ کھا،مجھے اندیشہ ہے کہ اس نے اپنے لیے اسے پکڑا ہے۔‘‘[1] اور فرمان الٰہی ہے:﴿فَكُلُوا مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ﴾’’اس سے کھاؤ جو انھوں نے تمھارے لیے روک لیا ہے۔‘‘[2] تنبیہات: شکار اگرنظروں سے اوجھل ہو جائے اور بعدازاں وہ مل جائے،جبکہ اسے تیر کا نشان لگا ہے اور دوسرا کوئی نشان اس پر نہیں ہے تو اس کا کھانا جائز ہے،جب تک تین راتیں اس پر نہ گزر جائیں،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((فَکُلْہُ مَالَمْ یُنْتِنْ))’’جب تک بدبو دار نہ ہو،کھا سکتے ہو۔‘‘[3] جانور شکار کر لیا جائے اور وہ پانی میں گر کر مر جائے تو اس کا کھانا حلال نہیں ہے،اس لیے کہ وہ پانی کے سبب سے مرا ہے،تیر کی وجہ سے نہیں۔ شکاری جانور کے پکڑنے سے اگر شکار کا کوئی عضو الگ ہو جائے تو اس کا کھانا حلال نہیں ہے،اس لیے کہ وہ زندہ جانور سے جدا کیا ہوا عضو ہے اور آپ کا فرمان ہے: ((مَا قُطِعَ مِنَ الْبَھِیمَۃِ وَھِيَ حَیَّۃٌ فَھِيَ مَیْتَۃٌ))’’زندہ جانور سے جو حصہ کاٹا جائے،وہ مردار ہے۔‘‘[4] کھانے کا بیان: ٭ طعام کی تعریف: ’’طعام‘‘سے مراد ہر وہ چیز ہے جو بطور خوراک کھائی جائے،مثلاً:دانے،کھجور،گوشت وغیرہ۔ ٭ کھانے کا حکم: ہر قسم کے طعام میں اصل حلت(حلال ہونا)ہے،جیسا کہ باری تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا﴾ ’’وہی تو ہے جس نے زمین کی تمام چیزیں تمھارے لیے پیدا کی ہیں۔‘‘[5] ان میں وہی اشیاء حرام ہوں گی،جن کی حرمت کتاب و سنت یا ’’قیاس صحیح‘‘سے ثابت ہو گی کیونکہ شریعت نے کئی چیزیں اس لیے حرام کی ہیں کہ وہ جسم کے لیے نقصان دہ ہیں یا عقل کے لیے تباہ کن۔جبکہ پہلی امتوں پر بعض چیزیں امتحان کے طور پر بھی حرام کی گئی تھیں۔اللہ جل مجدہ فرماتا ہے: ﴿فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ طَيِّبَاتٍ أُحِلَّتْ لَهُمْ﴾ ’’یہودیوں کے ظلم کی وجہ سے ہم نے بعض چیزیں ان پر حرام کر دیں،جو ان کے لیے حلال تھیں۔‘‘[1] ٭ ممنوع کھانوں کی اقسام: ٭ کتاب اللہ کی رو سے ممنوع: 1: دوسرے کا مال جو ملکیت کی کسی بھی شکل سے صارف کے لیے مباح نہیں ہوا۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ﴾ ’’اور اپنے اموال باطل ذرائع سے نہ کھاؤ۔‘‘[2] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:((لَا یَحْلُبَنَّ أَحَدٌ مَّاشِیَۃَ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِہِ)) ’’بلا اجازت کوئی دوسرے کے جانور کا دودھ نہ نکالے۔‘‘[3] 2: اپنی طبعی موت مرنے والا جانور،اس میں گلا گھونٹا ہوا جانور،چوٹ لگا ہوا،دیوار سے گرنے والا اور درندے کا کھایا ہوا سب داخل ہیں۔ 3: ذبح کے وقت بہنے والا خون۔اسی طرح ’’ذبیحہ‘‘ کے خون کے علاوہ کوئی اور خون،بہے یا نہ بہے،کم ہو یا زیادہ۔ 4: خنزیر کا گوشت،خون اور چربی وغیرہ جملہ اجزاء سب حرام ہیں۔ 5: وہ چیز یا جانور جس پر اللہ کے علاوہ کسی اور کا نام لیا گیا ہو۔ 6: وہ جانور جو کسی تھان(بت خانے)پر ذبح کیے جائیں۔نیز قبروں اور ایسے قبوں پر ذبح ہونے والے جانور کہ جو عبادت غیر اللہ کی علامت و امارت کے لیے بنائے جائیں،سب اس میں داخل ہیں۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهِ وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوذَةُ وَالْمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيحَةُ وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ وَمَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ﴾ ’’مردہ جانور،خون،خنزیر کا گوشت اور جسے غیر اللہ کے لیے پکارا جائے٭ جو گلا گھونٹ کر اور جو(عصا،پتھر کی) ٭ اس کی دو صورتیں ہیں:1کسی جانور وغیرہ کو کسی پاک روح کی طرف منسوب کر کے شہرت دے دی جائے(مثلاً:پیر جیلانی رحمہ اللہ کا بکرا وغیرہ)پھر اس جانور کی تعظیم کی جائے یا اس کا گوشت خیرات کر کے ثواب اس پاک روح کو ہدیہ کیا جائے،اس لیے نہیں کہ وہ پاک روح ثواب کی محتاج ہے بلکہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے بطور انعام و اکرام ایسا بنا دیا ہے کہ وہ مخلوق کی ضروریات کو جانتی اور اس کی فریادوں کو سنتی ہے،چنانچہ وہ ہمارے اس ہدیہ ثواب سے خوش ہو کر ہماری حاجت روائی اور مشکل کشائی کرے گی خواہ اللہ کی دی ہوئی غیبی طاقت،تصرف اور اختیار سے یا اللہ سے سفارش کر کے،اس عقیدے اور طریقے سے جس جانور کو بھی غیر اللہ کے لیے پکارا اور نامزد کیا جائے گا وہ اس آیت کریمہ کی زد میں آ کر حرام ہو جائے گا کیونکہ یہ عقیدہ کتاب و سنت کے مزاج کے خلاف،حقیقت سے دور،وہم اور شرک اکبر پر مبنی ہے اور جو جانور خالق کے بجائے مخلوق کی نذر ہو جائے وہ تکبیر پڑھ کر ذبح کیا جائے تو بھی حلال نہیں ہو گا۔2 ذبح کرتے وقت تکبیر پڑھنے کے بجائے یا تکبیر پڑھنے کے ساتھ ساتھ غیر اللہ کا نام لیا جائے،یہ بھی شرک اکبر ہے۔واللہ اعلم(ع،ر) چوٹ سے مرے،جو گر کر اورسینگ لگ کر مرے اور جس کو درندہ کھا جائے،سوائے اس کے جسے تم ذبح کر لو اور جو بتوں پر ذبح کیا جائے،یہ سب تمھارے لیے حرام ہیں۔‘‘[1] مذکورہ بالا چیزوں کی حرمت ’’کتاب عزیز‘‘(قرآن مجید)سے ثابت ہے۔ ٭ سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رو سے ممنوع: 1: گھریلو گدھا حرام ہے۔جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: ((أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم نَھٰی یَوْمَ خَیْبَرَ عَنْ لُّحُومِ الْحُمُرِ الْأَھْلِیَّۃِ،وَأَذِنَ فِي لُحُومِ الْخَیْلِ)) ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن پالتو گدھے کے گوشت سے منع کر دیا اور گھوڑے کے گوشت کی اجازت دے دی۔‘‘[2] 2: پالتو گدھوں کی حرمت پر قیاس کر کے خچر بھی حرام ہے،اس لیے کہ ایک لحاظ سے گدھے کے حکم میں ہے اور اس لیے بھی کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ لِتَرْكَبُوهَا﴾’’اور گھوڑے،خچر اور گدھے تمھاری سواری کے لیے(پیدا کیے۔)‘‘[3] ’’دلیل خطاب‘‘(مفہوم مخالف)سے ان کی حرمت ثابت ہوتی ہے مگر گھوڑے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صریح نص سے حلال قرار دیا گیا ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کھانے کی اجازت دی،جیسا کہ مذکورہ حدیث جابر رضی اللہ عنہ میں ہے،لہٰذا گھوڑا حلال ہے۔ 3: کچلی والے درندے جیسا کہ شیر،چیتا،ریچھ،بھیڑیا،کتا،گیدڑ اور لومڑ،سنجاب وغیرہ،سب درندے کچلی والے حرام ہیں۔اسی طرح پنجے میں دبوچ کر کھانے والے پرندے،جیسا کہ شکرا،باز،عقاب،شاہین چیل،باشق(ایک شکاری پرندہ،)الو وغیرہ،پرندے جو جھپٹ کر پنجہ سے شکار کرتے ہیں،اس لیے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت ہے:((نَھٰی رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم عَنْ کُلِّ ذِي نَابٍ مِّنَ السِّبَاعِ،وَعَنْ کُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِّنَ الطَّیْرِ)) ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچلی والے درندوں اور پنجوں کے ذریعے سے شکار کرنے والے پرندوں(کے کھانے)سے منع کیا ہے۔‘‘[4] 4: چوپاؤں اور جانوروں میں سے وہ جانور جو انسانی فضلہ کھانے کا عادی ہو جائے،اسی طرح مرغی بھی ہے٭ ٭ لیکن ان سے وہ جلالہ(گندگی خور)جانور مراد ہیں جن کی اکثر خوراک ہی گندگی ہوتی ہے لیکن جن جانوروں کی عام خوراک گندگی نہیں ہوتی،تاہم ہر جگہ منہ مارنے کی عادت کی وجہ سے کچھ ناپسندیدہ چیزیں بھی کھا جاتے ہیں،اس سے ان کے گوشت یا دودھ میں کوئی خرابی واقع نہیں ہوتی،اللہ نے ان کے جسم میں ایسے فلٹر لگا دیے ہیں جو ان کے گوشت اور دودھ کو خراب نہیں ہونے دیتے،جیسے مرغی کا گوشت ہے یا بکری گائے بھینس وغیرہ کا گوشت اور دودھ بلا کراہت جائز ہیں۔(محمد عبدالجبار) ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت ہے:((نَھٰی رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم عَنْ أَکْلِ الْجَلَّالَۃِ وَأَلْبَانِھَا)) ’’نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غلاظت کھانے والے جانور کے گوشت اور دودھ سے منع کیا ہے۔‘‘[1] 5: جلالہ(پلیدی کھانے والی گائے)بھی حرام ہے،اگر اس کو نجاست سے دور رکھیں تاکہ اس کا گوشت یا دودھ درست ہو جائے۔تب گوشت یا دودھ استعمال کرنا جائز ہے۔ ٭ نقصانات سے بچاؤ کی بنیاد پر ممنوع: 1: ہر قسم کے زہر:اس لیے کہ زہر جسم کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔ 2: مٹی،پتھر اور کوئلہ:اس لیے کہ یہ چیزیں نقصان دہ ہیں اور ان کے کھانے میں فائدہ نہیں۔٭ 3: وہ گندی چیزیں جن سے طبیعت فطری طور پر کراہت محسوس کرتی ہے:جیسا کہ حشرات(کیڑے مکوڑے)وغیرہ،اس لیے کہ ایسی چیزیں بیماریوں کا سبب بنتی ہیں اور بدن میں ایذا رسانی کا باعث ہوتی ہیں۔ 4: جو چیزیں طبعاً نجس ہیں،جیسا کہ انسانی فضلہ اورگدھے کی لید وغیرہ،اس لیے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ﴾’’اور اللہ تعالیٰ ان پر خبیث چیزیں حرام کرتا ہے۔‘‘[2] ٭ مجبور کے لیے ممنوعات کی اباحت: اگر جان کی ہلاکت کا خطرہ ہو تو شدید بھوک کی وجہ سے زہر کے علاوہ دیگر جملہ ممنوعات لاچار کے لیے مباح قرار دی گئی ہیں تاکہ وہ ان سے اپنی زندگی بچا سکے،چاہے وہ غیر کی ملکیت ہو یا مردار اور خنزیر کا گوشت یا کوئی اور ممنوع چیز بشرطیکہ ضرورت سے زیادہ استعمال نہ کرے،اور بقدر جان بچانے کے ہی کھائے اور اس کو ناپسند سمجھے اور لذت حاصل کرنے کے لیے استعمال نہ کرے۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿فَمَنِ اضْطُرَّ فِي مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِّإِثْمٍ ۙ فَإِنَّ اللّٰهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ﴾ ’’پھر جو کوئی بھوک کی وجہ سے مجبور ہو جائے اور گناہ کی طرف میلان نہ کرے تو یقینا اللہ تعالیٰ بخشنے والا(اور)مہربان ہے۔‘‘[3] ٭ ہم جانوروں کو طاہر چیزیں کھلانے کے مکلف ہیں لیکن اگر مرغی کسی وقت تھوڑی بہت گندگی کھاجائے تو پھر بھی حلال ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تناول فرمایا تھا۔(مسند أحمد:/4 394و398,397)(محمد عبدالجبار) پینے کے مسائل: ٭ مشروب کی تعریف: بہنے والی چیزیں جو پی جاتی ہیں،مشروب کہلاتی ہیں۔ ٭ مشروب کا حکم: کھانے کی چیزوں کی طرح پینے کی چیزیں بھی مباح ہیں،اس لیے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا﴾ ’’وہی تو ہے جس نے زمین کی تمام چیزیں تمھارے لیے پیدا کی ہیں۔‘‘[1] البتہ وہ چیزیں حرام ہیں جن کی حرمت پر شرعی نص موجود ہے جیسا کہ: 1: شراب::اس لیے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ﴾ ’’شراب،جوا،بت اور قسمت کے تیر سب پلید ہیں اور شیطانی کاموں میں سے ہیں،پس ان سے اجتناب کرو۔‘‘[2] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((لَعَنَ اللّٰہُ الْخَمْرَ وَشَارِبَھَا وَسَاقِیَھَا وَبَائِعَھَا وَمُبْتَاعَھَا وَعَاصِرَھَا وَمُعْتَصِرَھَا وَحَامِلَھَا وَالْمَحْمُولَۃَ إِلَیْہِ [وَآکِلَ ثَمَنِھَا])) ’’اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے شراب،اس کے پینے والے،پلانے والے،بیچنے والے،خریدنے والے،نچوڑنے والے،نچوڑنے میں مدد کرنے والے،اٹھانے والے،جس کی طرف اٹھائی گئی ہے اور اس کی قیمت کھانے والے سب پر لعنت کی ہے۔‘‘[3] 2: بہنے والی عام چیزیں اور الکوحل پر مشتمل اشیاء جو کہ نشہ آور ہیں،اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:((کُلُّ مُسْکِرٍ خَمْرٌ،وَکُلُّ خَمْرٍ حَرَامٌ)) ’’تمام نشہ دینے والی چیزیں شراب ہیں اور ہر شراب حرام ہے۔‘‘[4] 3: دو چیزیں ملا کر بنایا ہوا نبیذ:یعنی پکی ہوئی تازہ کھجور اور جس پر پکنے کا ابھی نشان ظاہر ہو رہا ہو،اسی طرح کشمش اور تازہ کھجور کو ایک ہی برتن میں پانی ڈال کر میٹھا مشروب تیار کر لیا جائے،اس میں نشہ پیدا ہو یا نہ ہو،ممنوع ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے۔ارشاد نبوی ہے: ((لَا تَنْتَبِذُوا الزَّھْوَ وَالرُّطَبَ جَمِیعًا،وَلَا تَنْتَبِذُوا الرُّطَبَ وَالزَّبِیبَ جَمِیعًا،وَلٰکِنِ انْتَبِذُوا کُلَّ وَاحِدٍ مِّنْھُمَا عَلٰی حِدَتِہِ)) ’’زہو(سرخی مائل)اوررطب(پکی ہوئی تازہ)کھجوروں کا اکٹھا نبیذ نہ بناؤ،کشمش اور تازہ کھجور کا اکٹھا نبیذ نہ بناؤ،البتہ ہر ایک کا الگ الگ نبیذ بنا سکتے ہو۔‘‘[1] اس لیے کہ دونوں کے اختلاط سے اس میں جلدی نشہ پیدا ہو جاتا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام تک پہنچانے والے ذریعے کے طور پر اس سے منع فرما دیا ہے۔ 4: جن جانوروں کا کھانا حرام ہے،ان کا پیشاب بھی حرام ہے،اس لیے کہ وہ پلید ہیں اور پلید چیز حرام ہے۔ 5: جن جانوروں کا گوشت کھایا نہیں جاتا ان کا دودھ بھی اسی قبیل میں داخل ہے،ماسوائے انسان کے دودھ کے کہ یہ بچے کے لیے حلال ہے۔ 6: وہ تمام چیزیں جو انسانی جسم کے لیے مضر ہیں،جیسا کہ زہریلی گیسیں وغیرہ۔ 7: دھویں والے مشروبات،مثلاً:تمباکو،چرس اور سگریٹ وغیرہ،اس لیے کہ ان میں سے بعض انسانی جسم کے لیے مضر ہیں اور بعض نشہ آور ہیں اور بعض بدبودار جن سے انسان اور فرشتوں کو ایذا پہنچتی ہے اور ان صفات کی حامل اشیاء شرعًا ممنوع ہیں۔ ٭ مشروبات میں سے ’’مضطر‘‘کے لیے بعض مباح اشیاء: جس کے گلے میں کوئی چیز اٹک جائے اس کے لیے جائز ہے کہ اگر اسے کوئی حلال چیز میسر نہیں تو شراب استعمال کر لے اور اگر جان نکلنے کا خطرہ ہے جیسا کہ اسے پیاس سے مرنے کا اندیشہ ہے تو وہ بھی حرام مشروبات استعمال کر سکتا ہے،اس لیے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿إِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ﴾’’مگر جس کی طرف تم مجبور ہو جاؤ۔‘‘[2]