دیت کا بیان
دیت کا بیان
٭ دیت کی تعریف:
مستحق خون کو جو مال جنایت کے عوض میں دیا جائے،وہ دیت ہے۔٭
٭ دیت کا حکم:
دیت شریعت اسلامیہ میں ثابت ہے اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے:﴿وَدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ إِلَىٰ أَهْلِهِ إِلَّا أَن يَصَّدَّقُوا﴾
’’اور اولیاء(مقتول کے ورثاء)کو دیت دی جائے،الّایہ کہ وہ معاف کر دیں۔‘‘[3]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((مَنْ قُتِلَ لَہُ قَتِیلٌ فَھُوَ بِخَیْرِ النَّظَرَیْنِ:إِمَّا أَنْ یُّفْدٰی،وَإِمَّا أَنْ یُّقِیدَ))
’’جس کا آدمی مارا جائے،اسے دو چیزوں کے درمیان اختیار ہے کہ اسے دیت دی جائے یا قصاص دلایا جائے۔‘‘[4]
٭ دیت کس پر واجب ہوتی ہے:
جس نے کسی کو خود یا کسی طرح عمدًا قتل کیا ہے تو اس قاتل کے اپنے مال سے دیت عائد ہوتی ہے اور اگر قتل ’’شبہ عمد‘‘ہے یا ’’قتل خطا‘‘ہے تو دیت ’’عاقلہ‘‘ پر ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فیصلہ کیا ہے۔جب دو عورتیں لڑ پڑیں،ایک نے دوسری کو پتھر مارا اور اسے اور اس کے پیٹ میں بچے کو قتل کر دیا تو
٭ کیونکہ زخم کے جسم میں سرایت ہونے کی صورت میں باقی جسم کے تلف ہونے کا امکان موجود ہے۔
٭ مستحق خون:مقتول کا وارث یا زخمی جسے قصاص یا دیت لینے یا معاف کرنے کا حق ہوتا ہے۔واللہ اعلم(ع،ر)
آپ نے قاتلہ کے’ ’عاقلہ‘‘ کو دیت ادا کرنے کا حکم دیا۔[1]
’’عاقلہ‘‘ سے مراد وہ جماعت ہے جو اس کی طرف سے دیت ادا کرے گی اور اس میں اس کے آباء و اجداد،بھائی،بھائیوں کے بیٹے،چچا اور چچوں کے بیٹے شامل ہیں۔ہر ایک اپنی حالت کے مطابق اپنے حصے کی ادائیگی کرے گا اور تین سال کی مدت کی قسطیں ان پر لاگو ہوں گی،وہ ہر سال دیت کا ایک تہائی ادا کریں گے اور اگر ایک ہی بار اور فورًا ادائیگی کر سکتے ہیں تو بھی کوئی مانع نہیں ہے۔
٭ دیت کس سے ساقط ہے:
والد اپنی اولاد کو تادیب کے لیے مارتا ہے اور وہ قتل ہو جائے یا حاکم وقت کسی کو تعزیر و تادیب کے طور پر سزا دیتا ہے اور وہ مر جائے،اسی طرح استاد اپنے شاگرد کو تادیبی سزا دیتا ہے اور وہ مر جائے تو ان صورتوں میں دیت نہیں ہے قصاص تو بالا ولیٰ نہیں ہے بشرطیکہ تادیب کے لیے معروف حدود سے تجاوز نہ کیا ہو۔
دیات کا تعین:
٭ دیتِ نفس:
اگر مرنے والا آزاد اور مسلمان تھا تو اس کی دیت ایک سو اونٹ یا ایک ہزار مثقال٭ سونا یا بارہ ہزاردرہم چاندی یا دو سو گائے یا دو ہزار بھیڑ بکریاں ہیں۔
اور اگر قتل’ ’شبہ عمد‘‘ ہے تو دیت مغلظہ ہو گی،یعنی سو اونٹوں میں چالیس حاملہ اونٹنیاں بھی ہوں گی اور اگر’ ’قتل خطا‘‘ ہے تو دیت مغلظہ نہیں بلکہ مخفّفہ ہو گی،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((أَلَا!وَإِنَّ قَتِیلَ خَطَإِ الْعَمْدِ۔بِالسَّوْطِ وَالْعَصَا وَالْحَجَرِ۔(فِیہِ)دِیَۃٌ مُّغَلَّظَۃٌ،مِائَۃٌ مِّنَ الإِْبِلِ،مِنْھَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِھَا أَوْلَادُھَا مِنْ ثَنِیَّۃٍ إِلٰی بَازِلِ عَامِھَا،کُلُّھُنَّ خَلِفَۃٌ))
’’خبردار!بے شک شبہ عمد کا مقتول جو چابک،لاٹھی یا پتھر سے قتل ہوا،اس کی دیت مغلظہ ہے،یعنی ایک سو اونٹ،ان میں چالیس،پانچ سال سے نو سال تک کی تمام حاملہ اونٹنیاں ہوں گی۔‘‘[2]
اور اگر’ ’قتل عمد‘‘ہے اور ’’مقتول کے ورثاء‘‘دیت پر راضی ہو گئے ہیں تو وہ دیت سے زیادہ کا مطالبہ بھی کر سکتےہیں،اس لیے کہ وہ قصاص کا حق رکھتے تھے،لہٰذا وہ قصاص سے کم تر کوئی بھی مطالبہ کرنے کا استحقاق رکھتے ہیں،چاہے وہ دیت سے زیادہ ہے۔دیت کے اس تعین کی دلیل حدیث جابر رضی اللہ عنہ ہے۔فرماتے ہیں:
((فَرَضَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم عَلٰی أَھْلِ الإِْبِلِ مِائَۃً مِّنَ الإِْبِلِ،وَعَلٰی أَھْلِ الْبَقَرِ مِائَتَيْ بَقَرَۃٍ،وَعَلٰی
٭ عرف میں مثقال ڈیڑھ درہم کے وزن کا ہوتا ہے اور کبھی اس سے کم اور زیادہ بھی ہوتا ہے۔گو اونٹوں کی قیمت میں بھی کمی بیشی ہوتی ہے پھر بھی دیت میں اصل معیار اونٹ ہی ہیں باقی چیزیں ان کی عدم موجودگی میں ان کے بدل اور قیمت کی حیثیت رکھتی ہیں یہ قیمت عہد نبوی کے مطابق ہے آج کل موجودہ قیمت کا اعتبار ہو گا،واللہ اعلم۔(محمد عبدالجبار)
أَھْلِ الشَّاۃِ أَلْفَيْ شَاۃٍ))
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ والوں پر ایک سو اونٹ اور گائے والوں پر دو سو گائے اور بکری والوں پر دو ہزار بکریاں مقرر کی تھیں۔‘‘[1]
اور ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:((أَنَّ رَجُلًا مِّنْ بَنِي عَدِيٍّ قُتِلَ فَجَعَلَ النَّبِيُ صلی اللّٰه علیہ وسلم دِیَتَہُ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا))
’’بنو عدی کا ایک مرد قتل ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت بارہ ہزار درہم مقرر کی۔‘‘[2]
اسی طرح عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کی دستاویز میں،جسے تمام امت نے قبول کیا ہے،یہ الفاظ ہیں:((وَعَلٰی أَھْلِ الذَّھَبِ أَلْفُ دِینَارٍ))
’’اور سونے والوں پر ایک ہزار دینار ہے۔‘‘[3]
ان پانچ مقررہ دیات میں سے جو بھی قاتل ادا کرے گا،مقتول کے ولی کو اس کا قبول کرنا لازم ہو گا۔مسلمان آزاد عورت کی دیت مسلمان مرد کی دیت سے نصف ہے۔
موطا امام مالک میں عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے:’’یہ بات معروف رہی ہے کہ عورت کی دیت تہائی تک مرد کے برابر ہے،اس سے زائد میں عورت کی دیت مرد کی دیت سے نصف ہو جاتی ہے۔‘‘٭
ذمی یہودی یا نصرانی کی دیت مسلمان کی دیت سے نصف ہے اور ان کی عورتوں کی دیت ان کی اپنی دیت سے بقدر نصف ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:((عَقْلُ الْکَافِرِ نِصْفُ عَقْلِ الْمُؤْمِنِ))’’کافر کی دیت مسلمان کی دیت سے نصف ہے۔‘‘[4]
غلام کی دیت اس کی قیمت ہے،چاہے جتنی بھی ہو جائے،اس لیے کہ اگر وہ مقتول ہے تو اس کے قتل کی صورت میں مالک کو اس کی قیمت ادا کر دی جائے گی۔عورت کے پیٹ میں جنین،چاہے لڑکا ہے یا لڑکی تو اس(جنین)کی دیت ایک غلام یا لونڈی ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فیصلے میں فرمایاتھا کہ جنین میں ایک غلام یا لونڈی ہے،جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے۔[5]اور یہ اس صورت میں ہے کہ جنین(بچہ)پیٹ ہی میں مر جائے لیکن اگر زندہ پیدا ہو گیا اور پھر مر گیا تو اس میں قصاص ہے یا پھر پوری دیت ہے۔
٭ اگر ایسا زخم ہے جس کی دیت تہائی(کل دیت کے تیسرے حصے)تک پہنچتی ہے تو اس میں مرد و عورت برابر ہیں:لیکن اگر زخم کی دیت تہائی سے زیادہ بنتی ہے تو پھر ایک مرد کے زخم کی جتنی دیت ہو گی اس سے آدھی دیت عورت کے زخم کی ہو گی۔(محمدعبدالجبار)
تنبیہ:بعض علماء نے جنین(پیٹ میں بچہ)کی دیت اس کی ماں کادسواں حصہ بھی کہا ہے۔بنا بریں امام مالک رحمہ اللہ نے اس کی قیمت پچاس دینار یا چھ سو درہم قرار دی ہے۔
٭ اعضاء کی دیت کا تعین:
درج ذیل اعضاء میں(ایک مقتول کی)پوری دیت ہے:
1: عقل زائل ہو جائے۔
2: دونوں کانوں کے ضائع ہونے سے قوت سماعت ختم ہو جائے۔
3: دونوں آنکھوں کے ضیاع سے بینائی زائل ہو جائے۔
4: زبان یا ہونٹ کٹنے سے آواز ختم ہو جائے۔
5: ناک کٹنے سے سونگھنے کی قوت زائل ہو جائے۔
6: آلۂ تناسل یا خصیتین کٹنے سے قوت جماع مفقود ہو جائے۔
7: پیٹھ کی ہڈی ٹوٹنے سے کھڑا ہونے یا بیٹھنے سے معذور ہو جائے،اس لیے کہ عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کی دستاویز میں،جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھوایا تھا،تحریر ہے:((فِي الْأَنْفِ إِذَا أُوْعِبَ جَدْعُہُ الدِّیَۃُ،وَفِي اللِّسَانِ الدِّیَۃُ،وَفِي الشَّفَتَیْنِ الدِّیَۃُ،وَفِي الْبَیْضَتَیْنِ الدِّیَۃُ،وَفِي الصُّلْبِ الدِّیَۃُ،وَفِي الْعَیْنَیْنِ الدِّیَۃُ))
’’ناک پوری کٹ جائے تو اس میں پوری دیت ہے،زبان میں دیت ہے،ہونٹوں میں دیت ہے،خصیتین میں دیت ہے،آلۂ تناسل میں دیت ہے،پیٹھ میں دیت ہے اور دونوں آنکھوں میں دیت ہے۔‘‘[1]
اعضاء میں عورت کی دیت مرد کی دیت سے نصف(1/2)ہے اور زخموں میں مرد کی تہائی دیت سے زائد میں نصف دیت ہے اور اگر تہائی یا تہائی سے کم ہو تو اس کے زخم کی دیت مرد کے زخم کی دیت کے برابر ہے۔
٭ جن چیزوں میں نصف دیت واجب ہوتی ہے:
1. ایک آنکھ میں 2. ایک کان میں 3. ایک ہاتھ میں 4.ایک پاؤں میں 5.ایک ہونٹ میں 6.ایک خصیے میں 7. ایک ابرو میں 8. عورت کے ایک پستان میں۔
تنبیہ:ایک انگلی کے کٹنے میں دس اونٹ دیت ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
((دِیَۃُ أَصَابِعِ الْیَدَیْنِ وَالرِّجْلَیْنِ سَوَائٌ:عَشْرَۃٌ مِّنَ الإِْبِلِ لِکُلِّ إِصْبَعٍ))
’’ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کی دیت برابر ہے،یعنی ہر انگلی کے لیے دس اونٹ ہیں۔‘‘[2]
اور دانت میں پانچ اونٹ ہیں۔عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان مروی ہے:((وَفِي السِّنِّ خَمْسٌ مِّنَ الإِْبِلِ))’’اور دانت میں پانچ اونٹ ہیں۔‘‘[1]
سر،چہرہ اور مختلف اعضاء کے زخموں کا بیان:
٭ شجاج کی تعریف:
سر یا چہرے کے زخم کو’ ’ شجہ‘‘ کہتے ہیں جس کی جمع ’’شجاج‘‘ ہے۔سلف صالحین رحمہ اللہ کے ہاں یہ زخم دس ہیں۔پانچ کی دیت کا شارع سے بیان مذکور ہے اور پانچ کی دیت کی تحدید منقول نہیں ہے۔وہ پانچ زخم جن کی دیات مذکور ہیں:
٭ ہڈی ظاہر کرنے والا زخم:وہ زخم جو ہڈی کو ظاہر کر دے۔اس کی دیت پانچ اونٹ ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
’فِي الْمُوَاضِحَۃِ خَمْسٌ مِّنَ الإِْبِلِ‘ ’’ہڈی ظاہر کرنے والے زخم میں پانچ اونٹ ہیں۔‘‘[2]
٭ ہڈی توڑ دینے والا زخم:اس میں دس اونٹ دیت ہے،زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:((فِي الْھَاشِمَۃِ عَشْرٌ مِّنَ الإِْبِلِ))’’ہڈی توڑنے والے زخم میں دس اونٹ دیت ہے۔‘‘[3]
٭ ہڈی کو اپنی جگہ سے بدل دینے والا زخم:یعنی وہ زخم جس سے ہڈی اپنی جگہ چھوڑ دے،اس میں پندرہ اونٹ ہیں،عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے:
((وَفِي الْمُنَقِّلَۃِ خَمْسَ عَشْرَۃَ مِنَ الإِْبِلِ))
’’ہڈی کو جگہ سے ہٹا دینے والے زخم میں پندرہ اونٹ ہیں۔‘‘[4]
٭ دماغ کی جھلی تک پہنچنے والا زخم:جو زخم دماغ کی جھلی تک پہنچ جائے۔اس میں کل دیت کی تہائی(1/3)ہے۔عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے
:((وَفِي الْمَأْمُومَۃِ ثُلُثُ الدِّیَۃِ))’’اور دماغ کی جھلی تک پہنچنے والے زخم میں ایک تہائی دیت ہے۔‘‘[5]
٭ دماغ کی جھلی پھٹ جانے کی صورت میں:جس سے دماغ کی جھلی پھٹ جائے یا زخم اس سے بھی گہرا ہو جائے تو اس میں بھی ایک تہائی دیت ہے۔وہ پانچ زخم جن کی دیات مذکور نہیں ہیں:
1 الحارصۃ:جس سے جلد پر خراش آ جائے اور خون نہ بہے۔
2 الدامیۃ:جس سے چمڑا کٹ جائے اور خون بہہ جائے۔
3 الباضعۃ:جس سے گوشت کٹ جائے مگر گہرا نہ ہو۔
4 المتلاحمۃ:جس سے گوشت کٹ کر گہرا زخم بھی ہو جائے۔
5 السمحاق:جس سے گوشت پورا کٹ جائے،البتہ ہڈی کی اوپر کی جھلی محفوظ رہے۔
ان پانچوں زخموں میں اہل علم کے ہاں تحکیم کی جائے گی اور وہ یہ ہے کہ اس طرح اندازہ لگایا جائے،مثلاً:جسے زخم لگا ہے اسے غلام فرض کرلیا جائے گا،پھر زخم لگنے سے پہلے اس کی کیا قیمت ہوتی۔اگر کہا جائے کہ اس کی قیمت سو دینار تھی،اب جبکہ اسے زخم لگا ہے ٹھیک ہونے کے بعد اب اس کی قیمت کیا ہے؟ اگر کہا جائے کہ پچانوے دینار تو اس کو زخمی کرنے والے کی جیب سے کل دیت کی دسویں کا نصف،یعنی پانچ اونٹ دلائے جائیں گے اگر معلوم ہوکہ اس کی قیمت نوے دینار رہ گئی ہے تو اس کو کل دیت کا دسواں حصہ،یعنی دس اونٹ دلائے جائیں گے۔اس سے بھی آسان طریقہ یہ ہے کہ ہڈی ظاہر کرنے والے زخم کو معیار بنا لیا جائے،اس میں پانچ اونٹ ہیں،جیسا کہ اوپر مذکور ہوا۔تو جو زخم ہڈی ظاہر کرنے والے زخم کے پانچویں حصہ کے برابر ہے،اس کی دیت ایک اونٹ اور جو تین خمس(3/5)کی طرح ہے،اس میں تین اونٹ اور اس کا صحیح اندازہ وہ ماہر ڈاکٹر ہی لگا سکیں گے جو اس مضمون میں سپیشلسٹ ہیں۔
جراح:
٭ جراح کی تعریف:
سر اور چہرے کے علاوہ جسم کے کسی حصہ میں زخموں کو ’’جراح‘‘کہتے ہیں۔
٭ جراح کا حکم:’الجَائِفَۃِ‘ یعنی وہ زخم جو پیٹ کے اندرون حصہ تک پہنچ جائے،اس میں پوری دیت کی تہائی(1/3)ہے،جیسا کہ عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے:
((وَفِي الْجَائِفَۃِ ثُلُثُ الدِّیَۃِ))’’اور پیٹ کے اندر پہنچنے والے زخم میں ایک تہائی دیت ہے۔‘‘[1]
اور اس پسلی میں،جو ٹوٹ کر جڑ جائے،ایک اونٹ ہے۔
اگر بازو،پنڈلی کی ہڈی یا ہاتھ کی کلائی ٹوٹ کر درست ہو جائے تو اس میں سے ہر ایک میں دو اونٹ ہیں،اس لیے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے ان کے بارے میں یہی فیصلہ کیا ہے۔
مذکورہ زخموں کے علاوہ دیگر زخموں میں عدالت فیصلہ کرے گی یا انھیں ہڈی ظاہر کرنے والے زخم پر قیاس کر لیا جائے۔
٭ جنایت کس طرح ثابت ہو گی:قتل کے علاوہ دیگر ’’جنایات‘‘ کا اثبات دو طرح سے ممکن ہے:
1 جانی(مجرم)خود اعتراف جنایت کر لے۔
2 یا دو عادل گواہوں کی گواہی سے۔
رہا قتل تو اس کا اثبات مجرم کے اعتراف،دو عادل گواہوں اور قسامت سے بھی ہوتا ہے،بشرطیکہ ملوث ہونے کی معقول وجہ موجود ہو،مثلاً:قاتل اور مقتول کے مابین عداوت معروف و مشہور ہو وغیرہ۔
٭ قسامت:ایک شخص مقتول پایا گیا اور ’’اولیائے مقتول‘‘ ایک مرد یا جماعت پر دعویٰ کرتے ہیں کہ انھوں نے اسے قتل کیا ہے اور لوگوں میں ان کی عداوت بھی معروف ہے جس سے اس ظن کو تقویت مل رہی ہے کہ یہ شخص اس عداوت کی بھینٹ چڑھ گیا ہے۔یا قاتل اور مقتول کے مابین عداوت معروف نہیں ہے،البتہ ایک گواہ موجود ہے جو قتل کی شہادت دیتا ہے چونکہ ’’دعویٰ دم‘‘(اور نتیجتاًمستحق دم بننے)کے لیے دو گواہ ضروری ہیں لیکن ایک گواہ سے وہ شخص ملوث ضرور قرار پاتا ہے جس کے نتیجے میں ’’قسامت‘‘متعین ہو گی۔اب مقتول کے مرد ورثاء(عورتیں نہیں)پچاس قسموں کے ساتھ کسی ایک شخص پر خون کا اثبات کریں گے(قسمیں اٹھائیں گے کہ فلاں شخص ہی قاتل ہے)اور ان پر قسموں کی تقسیم وراثت کے انداز پر ہو گی۔حلف کے بعد ’’مدعیٰ علیہ‘‘پر خون ثابت ہو جائے گا اور اس سے قصاص لیا جائے گا یا اس کے عاقلہ دیت ادا کریں گے۔اگر مقتول کے کچھ ورثاء حلف اٹھانے سے انکار کر دیں تو ان سب کا استحقاق ختم ہو جائے گا اور پھر مدعیٰ علیہ پچاس حلف دے کر خون سے بری ہو جائے گا لیکن اگر مدعیٰ علیہ کے خلاف کوئی قتل کی وجہ موجود نہیں ہے،جس سے وہ ملوث ہوتا نظر آتا ہو تو ایک حلف کے ذریعے سے ہی وہ بری قرار پائے گا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک قتل کا قضیہ پیش ہوا تو آپ نے اس میں ’ ’قسامت‘‘کا فیصلہ دیا اور’’اولیائے دم‘‘(مقتول کے ورثاء)کو فرمایا:
((أَتَحْلِفُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ قَاتِلَکُمْ أَوْصَاحِبَکُمْ؟))’’کیا تم حلف اٹھا کر اپنے صاحب یا قاتل(کے خون)کے مستحق بن سکتے ہو۔‘‘
مقتول کے ورثاء نے عرض کی کہ ہم جس واقعے میں موجود نہیں تھے اس پر حلف کس طرح دے سکتے ہیں تو آپ نے فرمایا:((فَتُبْرِئُکُمْ یَھُودُ بِخَمْسِینَ))
’’پھر پچاس قسموں کے ساتھ یہودی(جن پر قتل کا الزام ہے)تم سے(تمھارے قتل کے الزام سے)بری ہوجائیں گے۔‘‘
اس پر ورثاء نے جواب دیا:یہ تو کافر ہیں ان کی قسم کا ہم کیسے اعتبار کریں،چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس(مقتول)کی دیت خود(بیت المال سے)ادا کر دی۔[1]