جنایات کا بیان

جنایات کا بیان

انسانی جان پر جنایت: ٭ انسانی جان پر جنایت کی تعریف: کسی انسان پر اس انداز کی ظلم و زیادتی کہ اس کے جسم سے جان نکل جائے یا بعض اعضاء تلف(بیکار)ہو جائیں یا جسم پر زخم لگ جائے۔ ٭ انسانی جان پر جنایت کا حکم: ناحق طور پر قتل کرنا یا کسی عضو کو تلف کر دینا یا جسم پر زخم لگانا حرام اور کفر کے بعد مومن کے قتل سے بڑا کوئی گناہ نہیں ہے۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا﴾ ’’اور جو عمدًا کسی مومن کو قتل کر دیتا ہے اس کی سزا جہنم ہے،وہ اس میں ہمیشہ رہے گا اور اللہ نے اس پر غضب کیا ہے اور اس پر لعنت کی ہے اور اس کے لیے بڑا عذاب تیار کیا ہے۔‘‘[1] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:((أَوَّلُ مَا یُقْضٰی بَیْنَ النَّاسِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فِي الدِّمَائِ)) ’’قیامت کے دن سب سے پہلے خونوں کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔‘‘[2] نیز فرمایا:((لَا یَزَالُ الْمُؤْمِنُ فِي فُسْحَۃٍ مِّنْ دِینِہِ مَالَمْ یُصِبْ دَمًا حَرَامًا)) ’’مومن اپنے دین میں بڑھتا ہے،جب تک کہ کسی حرام خون کا ارتکاب نہ کرے۔‘‘[3] نفس پر جنایت کی اقسام: نفس پر جنایت کی درج ذیل تین اقسام ہیں: ٭ قتل عمد: یعنی جنایت کرنے والا جان بوجھ کر قتل کے ارادے سے کسی کو لوہے کی چیز یا لاٹھی یا پتھر مارے یا اوپر سے پھینک دے یا پانی میں ڈبو دے یا آگ میں جلا دے یا گلا گھونٹ دے یا زہر دار چیز کھلا دے اور وہ اسی وجہ سے مر جائے یا اعضاء تلف کر دے یا بدن کے کسی حصے پر زخم لگائے۔اس’ ’ارادی جنایت‘‘ کا حکم یہ ہے کہ اس میں قصاص لازم ہے،چنانچہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيهَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْأَنفَ بِالْأَنفِ وَالْأُذُنَ بِالْأُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ﴾ ’’اور ہم نے(تورات میں)ان پر لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان،آنکھ کے بدلے آنکھ،ناک کے بدلے ناک،کان کے بدلے کان،دانت کے بدلے دانت اور زخموں میں بھی قصاص ہے۔‘‘[4] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((مَنْ قُتِلَ لَہُ قَتِیلٌ فَھُوَ بِخَیْرِ النَّظَرَیْنِ:إِمَّا أَنْ یُّفْدٰی،وَإِمَّا أَنْ یُّقِیدَ)) ’’جس کا قتل ہو جائے،وہ دو میں سے ایک بات چن لے،چاہے تو اسے دیت(مخصوص مالی معاوضہ)ادا کی جائے یا قصاص لے۔‘‘[5] آپ کے ایک اور فرمان میں ہے:((مَنْ أُصِیبَ بِدَمٍ أَوْ خَبْلٍ فَھُوَ بِالْخِیَارِ بَیْنَ إِحْدٰی ثَلَاثٍ:إِمَّا أَنْ یَّقْتَصَّ أَوْ یَأْخُذَ الْعَقْلَ أَوْ یَعْفُوَ،فَإِنْ أَرَادَ رَابِعَۃً فَخُذُوا عَلٰی یَدَیْہِ)) ’’جس کا خون ہو جائے یا(اعضاء میں)زخم تو اسے تین میں سے ایک کا اختیار ہے یا قصاص لے یا دیت قبول کر لے یا پھر معاف کر دے،اگر وہ چوتھی بات کا ارادہ کرے تو اس کے ہاتھ پکڑ لو۔‘‘[1] ٭ قتل شبہ عمد: جس میں جنایت کرنے والے(مجرم)نے صرف سزا کا ارادہ کیا تھا،قتل یا زخم کا نہیں،مثلاً:کسی کو لاٹھی سے معمولی ضرب لگاتا ہے جس سے عادتًا انسان قتل نہیں ہوتا یا تھپڑ مارتا ہے یا اس کے ساتھ سر ٹکراتا ہے یا معمولی پانی میں پھینکتا ہے یا اس کے سامنے چیختا ہے یا اسے دھمکی دیتا ہے اور وہ مر جاتا ہے۔اس قسم کی جنایت میں قصور وار کے ’’عاقلہ‘‘(افرادِ قبیلہ)پر دیت ہے اور جنایت کرنے والے(مجرم)پر کفارہ ہے،اس لیے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَمَن قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ إِلَىٰ أَهْلِهِ إِلَّا أَن يَصَّدَّقُوا﴾ ’’اور جو کسی مومن کو غلطی سے قتل کر دیتا ہے تو(اس کا کفارہ یہ ہے کہ)مومن غلام آزاد کیا جائے اور اس(مقتول)کے اہل کو دیت دی جائے۔اِلَّا یہ کہ وہ معاف کر دیں۔‘‘[2] ٭ قتل خطا: ایک مسلمان جائز اور مباح کام کر رہا ہے،مثلاً:تیر اندازی یا شکار یا گوشت کے ٹکڑے کرنا وغیرہ مگر اس میں غلطی سے کوئی انسان قتل ہو جائے یا زخمی ہو جائے۔اس قسم کی کوتاہی کی سزا دوسری قسم میں مذکور سزا کی طرح ہے،البتہ اس میں دیت ہلکی ہے اور کوتاہی کرنے والا عنداللہ گناہ گار نہیں ہوتا۔اس کے برعکس’ ’شبہ عمد‘‘ میں دیت مغلّظہ(بھاری دیت)ہے اور وہ گناہ گار بھی ہے۔ احکام جنایات: ٭قصاص کے واجب ہونے کی شرائط: قتل یا اعضاء کے ضیاع یا زخم میں قصاص کا واجب ہونا درج ذیل شرائط کے ساتھ مشروط ہے: 1: مقتول معصوم ہو،اگر وہ شادی شدہ زانی ہے یا مرتد ہے یاغیر معاہد کافر ہے تو پھر قصاص نہیں ہے بلکہ اس کا خون اس کے اپنے جرائم کے نتیجے میں ضائع ہے۔ 2: قاتل مکلف،یعنی عاقل و بالغ ہو،اگر وہ نابالغ ہے یا مجنون ہے تو مکلف نہ ہونے کی وجہ سے اس پر قصاص نہیں ہے،اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نابالغ،مجنون اور سوئے ہوئے کو مرفوع القلم قرار دیا ہے۔[3] 3: دین میں قاتل اور مقتول دونوں برابر ہوں،اس لیے کہ کافر کے بدلے میں مسلمان کو قتل نہیں کیا جا سکتا کیونکہ آپ کا فرمان ہے:’لَا یُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِکَافِرٍ‘ ’’کافر کے بدلے میں مسلمان کو قتل نہ کیا جائے۔‘‘[4] 4: یہ ہے کہ قاتل مقتول کا والد،ماں یا دادا اور دادی نہ ہو،اس لیے کہ آپ کا فرمان ہے: ((لَا یُقْتَلُ وَالِدٌ بِوَلَدِہِ))’’اولاد کے بدلے میں والد کو قتل نہ کیا جائے۔‘‘[1] ٭ قصاص لینے کی شرائط: قصاص درج ذیل شروط کے پورا ہونے کے بعد لیا جا سکتا ہے: 1: جس کے لیے قصاص لینا ہے،اس کا مکلف،یعنی عاقل و بالغ ہونا ضروری ہے،اگر وہ نابالغ یا مجنون ہے تو مجرم کو پابند رکھا جائے گا کہ بچے کے بالغ ہونے یا مجنون کے افاقے کے بعد وہ چاہیں تو قصاص لیں یا دیت قبول کریں یا معاف کر دیں،صحابہ رضی اللہ عنہم سے یہی بات مروی ہے۔ 2: خون کے مستحقین،یعنی مقتول کے ورثاء قصاص لینے پر متفق ہوں،اگر کسی ایک نے معاف کر دیا تو پھر قصاص نہیں ہو گا اور جس نے قصاص معاف نہیں کیا،دیت میں سے اس کو بھی حصہ ملے گا۔ 3: قصاص لینے میں ظلم وزیادتی سے بچا جائے،یعنی اسی طرح کا زخم لگایا جائے جس طرح کا مجرم نے لگایا تھا اور قاتل کے علاوہ کسی اور کو قتل نہ کیا جائے،نیز قتل کرنے والی حاملہ عورت کو قصاص میں وضع حمل اور مدت رضاعت سے پہلے قتل نہ کیا جائے کیونکہ ایک عورت نے کسی عورت کو عمدًا قتل کردیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((لَا تُقْتَلُ حَتّٰی تَضَعَ مَا فِي بَطْنِھَا إِنْ کَانَتْ حَامِلًا،وَحَتّٰی تُکَفِّلَ وَلَدَھَا))’’اگر یہ حاملہ ہے تو ’’وضع حمل‘‘ اور اپنے بچے کی کفالت سے پہلے اسے قتل نہ کیا جائے۔‘‘[2] 4: قصاص سلطان یا اس کے نائب کی موجودگی میں ہونا چاہیے تاکہ ظلم و تعدی نہ ہو سکے۔[3] 5: قصاص تیز دھار آلہ سے لیا جائے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((لَا قَوَدَ إِلَّا بِالسَّیْفِ))’’قصاص صرف تلوار سے لیا جاتا ہے۔‘‘٭ قصاص،دیت اور معاف کرنے میں اختیار: مسلمان کے لیے قصاص لینا ثابت ہو جائے تو اسے اختیار ہے کہ قصاص لے یا دیت قبول کر لے یا پھر معاف کر دے۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے:﴿فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ﴾ ’’جس(قاتل)کو اس کے بھائی(مقتول کے وارث)کی طرف سے کچھ معاف کر دیا جائے تو معروف ٭ یاد رہے کہ مسلمانوں کے باہمی جھگڑوں کا فیصلہ اسلامی عدالت کرتی ہے وہی کسی قصاص یا حد کے نفاذ کی مجاز ہے اگر کوئی شخص از خود قصاص لیتا یا کوئی حد جاری کرتا ہے تو وہ مجرم ہو گا۔واللہ اعلم۔(محمد عبدالجبار) طریقے سے پیروی کی جائے(دیت طلب کی جائے)اور(قاتل یا اس کے عاقلہ)نیکی اور خوش خلقی کے ساتھ اس کی ادائیگی کریں۔‘‘[1] نیز فرمان ربانی ہے: ﴿فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللّٰهِ﴾’’پس جو معاف کرتا ہے اور اصلاح کرتا ہے،اس کا اجر اللہ پر ہے۔‘‘[2] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:((مَنْ قُتِلَ لَہُ قَتِیلٌ فَھُوَ بِخَیْرِ النَّظَرَیْنِ:إِمَّا أَنْ یُّفْدٰی،وَإِمَّا أَنْ یُّقِیدَ)) ’’جس کا قتل ہو جائے تو اسے دو چیزوں میں اختیار ہے چاہے تو اسے دیت دی جائے یا قصاص دلایا جائے۔‘‘[3] نیز فرمایا:((مَا عَفَا رَجُلٌ إِلَّا زَادَہُ اللّٰہُ بِہِ عِزًّا))’’جو مردکسی کو معاف کر دیتا ہے،اللہ اس کے بدلے اس کی عزت بڑھا دیتا ہے۔‘‘[4] تنبیہ: 1: جو وارث دیت قبول کر لے تو قصاص لینے میں اس کا حق ساقط ہو جاتا ہے،چنانچہ قبول دیت کے بعد اگر اس نے قصاص کا مطالبہ کیا تو اسے یہ حاصل نہیں ہو سکے گا اور اگر وہ انتقام لینے پر تل جائے اور قاتل کو قتل کر دے تو اس کو قتل کیا جائے گا،البتہ قصاص اختیار کرنے کے بعد بھی فیصلہ بدل کر وہ دیت لینا قبول کر سکتا ہے۔ 2: قاتل کے مر جانے کے بعد ’’اولیائے مقتول‘‘ صرف دیت کا مطالبہ کر سکتے ہیں،اس لیے کہ قاتل کی موت کی وجہ سے قصاص ممکن نہیں رہا ہے،یہ اس لیے بھی کہ قصاص میں غیر قاتل(قاتل کے بجائے اس کے کسی عزیز)کو قتل نہیں کیا جا سکتا،اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَمَن قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِ سُلْطَانًا فَلَا يُسْرِف فِّي الْقَتْلِ ۖ إِنَّهُ كَانَ مَنصُورًا﴾ ’’اور جو شخص ظلم سے قتل کیا جائے،ہم نے اس کے وارث کو اختیار دیا ہے(کہ ظالم قاتل سے بدلہ لے)تو اسے چاہیے کہ(قصاص کے وقت قاتل کے)قتل میں زیادتی نہ کرے بے شک اس کی مدد کی جائے گی۔‘‘[5] ’’قتل میں زیادتی‘‘ کا مفہوم یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ غیر قاتل کو قتل کر دے۔ 3: قاتل خطا اور شبہ عمد دونوں پر کفارہ ہے،چاہے مقتول ماں کے پیٹ میں بچہ ہے یا بڑا،چاہے آزاد ہے یا غلام۔ایسے قتل کا کفارہ ایک مومن غلام کو آزاد کرنا ہے۔اگر وہ اس کی طاقت نہیں پاتا تو دوماہ لگاتار روزے رکھنے ہیں،اس لیے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ ۖ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ تَوْبَةً مِّنَ اللّٰهِ ۗ وَكَانَ اللّٰهُ عَلِيمًا حَكِيمًا﴾ ’’اور ایک مومن گردن کا آزاد کرنا ہے۔جو نہیں پاتا وہ لگاتار دو ماہ کے روزے رکھے۔یہ اللہ کے حضور توبہ کے طور پر ہے اور اللہ جاننے والا،حکمت والا ہے۔‘‘[1] اعضائے جسم پر جنایت ٭ جنایت اعضاء کی تعریف: کوئی انسان دوسرے پر ظلم و زیادتی کرتا ہے اور اس کی آنکھ نکال دیتا ہے،ٹانگ توڑ دیتا ہے یا ہاتھ کاٹ دیتا ہے تو یہ ’’اعضائے جسم‘‘ پر جنایت ہے۔ ٭ جنایت اعضاء کا حکم: قصور وار نے اگر جان بوجھ کر اور ارادے سے یہ کام کیا ہے اور وہ مظلوم اس کا بیٹا یا بیٹی نہیں اور اسلام اور آزادی میں دونوں برابر ہیں تو ظالم سے قصاص لیا جائے گا۔اس طرح کہ جو عضو اس نے توڑا یا کاٹا ہے۔جانی(مجرم)کا وہی عضو توڑا یا کاٹا جائے گا اور اگر اس نے زخم لگایا ہے تو اسے زخمی کیا جائے گا۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ﴾’’زخموں میں بھی قصاص ہے۔‘‘[2] اِلاّ یہ کہ’ ’صاحب حق‘‘(قصاص لینے کے بجائے)دیت قبول کر لے یا معاف کر دے۔ ٭ اعضاء پر جنایت کا قصاص لینے کی شرائط: اعضاء کا قصاص لینے کی درج ذیل شرطیں ہیں: 1 قصاص لینے میں حد سے تجاوز کا خطرہ نہ ہو،اگر یہ خطرہ موجود ہے تو قصاص نہیں ہے۔ 2 قصاص لینا ممکن ہو اگر ممکن نہیں تو دیت لی جائے۔ 3 جس عضو کو قصاص میں کاٹنا چاہتے ہیں وہ نام اور محل(جگہ)میں ضائع یا بیکار ہونے والے عضو کے مماثل ہونا چاہیے،لہٰذا بائیں عضو کے بدلے میں دایاں عضو نہیں کاٹا جائے گا اور نہ ہی پاؤں کے بدلے میں ہاتھ اور اگر کسی کی چھ انگلیاں ہوں تو زائد انگلی کے بدلہ میں اصلی انگلی نہیں کاٹی جائے گی دیت دی جائے گی۔واللہ اعلم۔ 4 دونوں عضو صحت اور کمال میں برابر ہونے چاہئیں،لہٰذا تندرست ہاتھ کے بدلے میں شل ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا اور نہ تندرست آنکھ کے بدلے کانی آنکھ نکالی جائے گی۔ 5 اگر زخم سر یا چہرے میں لگا ہے،جسے’ ’ شجہ‘‘کہتے ہیں تو اس میں قصاص نہیں ہے۔اسی طرح ٹوٹی ہڈی اور معدہ تک پہنچنے والے زخم میں بھی قصاص نہیں ہے مگر ان میں دیت واجب ہے۔ تنبیہ:اگر ایک شخص کو قتل کرنے یا اس کے جسم کے کسی عضو کو ناکارہ کرنے میں ایک جماعت شریک ہے تو سب سے قصاص لیا جائے گا،اس لیے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں سات آدمیوں نے مل کر ایک شخص کو قتل کر دیا تھا تو انھوں نے سب کو قصاصًا قتل کر دیا اور فرمایا:((لَوْ تَمَالَأَ عَلَیْہِ أَھْلُ صَنْعَائَ لَقَتَلْتُھُمْ بِہِ جَمِیعًا)) ’’اگر اس کے قتل پر صنعاء شہر کے(تمام)لوگ مجتمع ہوتے تو میں اس کے عوض سب کو قتل کر دیتا۔‘‘[1] جنایت کے بڑھ جانے کی صورت میں اضافے کے مطابق فیصلہ ہو گا،مثلاً:ایک شخص نے کسی کی انگلی کاٹ دی اور زخم مندمل نہیں ہوا اور ہاتھ شل ہو گیا تو قصاص یا دیت اس(نتیجے)کے مطابق ہو گی۔ قصاص میں زخم بڑھ جائے تو وہ ضائع ہے،مثلاً:ایک شخص نے قصاص میں دوسرے کا ہاتھ کاٹا اور وہ مر گیا تو قصاص لینے والا ضامن نہیں الّا یہ کہ اس نے قصاص لینے میں تجاوز کیا ہو،مثلاً:اس نے کند آلے کے ساتھ کاٹا ہے یا زہر آلود آلہ استعمال کیا ہے تو پھر وہ ضامن ہو گا۔ متاثرہ شخص کے زخم یا عضو کے بیکار ہونے کی صورت میں ان کے ٹھیک ہونے سے پہلے مجرم سے قصاص نہیں لیا جاتا،اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زخم کے مندمل ہونے سے پہلے قصاص لینے سے منع کیا ہے۔٭[2] اگر کسی نے اس حکم کی خلاف ورزی کی اور زخم ختم ہونے سے پہلے قصاص لے لیا،پھر زخم کے پھیلاؤ کی وجہ سے عضو ضائع ہو گیا تو اب وہ دوبارہ قصاص کا مطالبہ نہیں کر سکتا،اس لیے کہ اس نے حکم نبوی کی خلاف ورزی کر کے قصاص لینے میں جلد بازی کی ہے۔