حدود کا بیان
حد قذف کا بیان
٭ قذف کی تعریف:
کسی کو زنا،فحش کاری یا لواطت(اغلام بازی،یعنی لڑکوں کے ساتھ بدفعلی)کا الزام دینا ’’قذف‘‘ ہے۔
٭ قذف کا حکم:
قذف کبیرہ گناہوں میں سے ہے،اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے جھوٹی الزام تراشی کرنے والوں کو فاسق کہا،ان کا عادل| ہونا ساقط کر دیا اور ان پر حد کا نفاذ واجب قرار دیا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا ۚ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ﴿٤﴾إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللّٰهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ﴾
’’اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر الزام لگائیں اور پھر چار گواہ نہ لائیں،ایسے لوگوں کو اسی(80)کوڑے مارو اور ان کی گواہی کبھی قبول نہ کرو اور یہی لوگ بدکردار ہیں مگر جو لوگ اس کے بعد توبہ کر لیں اور(اپنی)اصلاح کر لیں تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘[1]
٭ حد قذف کی مقدار:
اس کی حد اسی(80)درے ہیں،اس لیے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے:﴿فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً﴾’’ان کو اسّی دُرّے مارو۔‘‘[2]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام لگانے والوں کو اسی(80)درے لگوائے تھے۔[3]
٭ حد قذف کی حکمت:
مسلمان کی عزت و ناموس کا تحفظ اور اس کی کرامت و سلامتی کی حفاظت،اس کے ساتھ
٭ کسی شخص کی عدالت سے مراد یہ ہے کہ وہ کتاب و سنت کے مطابق صحیح العقیدہ ہو،کبیرہ گناہوں سے بچتا ہو اور عمومًاصغیرہ گناہوں سے بھی بچتا ہو۔شرابی ساقط العدالت ہوتا ہے جس کی و جہ سے کسی معاملے میں اس کی گواہی معتبر نہیں ہوتی۔واللہ اعلم۔(ع،ر)
ساتھ اسلامی معاشرے میں بے حیائی کے پھیلاؤ کی روک تھام اور مسلمانوں میں رذیل کاموں کی شہرت کو ختم کرنا بھی مطلوب ہے کیونکہ مسلمان معاشرہ پاک اور بے داغ ہوتا ہے۔
٭ ’’حد قذف‘‘ کی اقامت کی شرائط:
کسی پر حد قذف نافذ کرنے کے لیے درج ذیل شرطوں کا پایا جانا ضروری ہے:
1: الزام لگانے والا مسلمان عاقل اور بالغ ہو۔
2: جس پر الزام لگا ہے،وہ عفیف و پاک دامن ہو۔لوگوں میں اس کی شہرت گندی نہ ہو۔
3: جس پر الزام لگا ہے وہ حد کا مطالبہ کرے،اس لیے کہ یہ اسی کا حق ہے،چاہے اس حق کو استعمال کرے یا معاف کر دے۔
4: الزام لگانے والا چار گواہ الزام کی سچائی پر پیش نہ کر سکے۔
ان چار شرطوں میں سے کوئی ایک شرط بھی نہ پائی گئی تو حد نافذ نہیں ہو گی۔