حدود کا بیان
زنا کا بیان
٭ زنا کی تعریف:
عورت کی قبل یا دبر میں حرام وطی کرنا زنا کہلاتا ہے۔
٭ زنا کا حکم:
کفر و شرک اور ’’قتل نفس‘‘کے بعد زنا کبیرہ گناہ ہے اور علیٰ الاطلاق بہت بڑی بے حیائی ہے جسے اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے۔ارشاد جل شانہ ہے:
﴿وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَىٰ ۖ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا﴾’’اور زنا کے قریب نہ جاؤ،یہ بے حیائی ہے اور برا راستہ ہے۔‘‘[1]
زانی کے لیے اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے حد مقرر کی ہے،ارشاد ہے:﴿الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ﴾’’زانی مرد اور عورت ہر ایک کو سو درے مارو۔‘‘[2]
اور ایک آیت مبارکہ،جس کا حکم باقی اور تلاوت منسوخ ہے،میں فرمایا:٭((الَشَّیْخُ وَالشَّیْخَۃُ إِذَا زَنَیَا فَارْجُمُوھُمَا الْبَتَّۃَ،نَکَالًا مِّنَ اللّٰہِ))
’’شادی شدہ مرد اور عورت زنا کریں تو دونوں کولازماً رجم(سنگسار)کر دو،یہ اللہ کی طرف سے(ان کی)سزا ہے۔‘‘[3]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((لَا یَزْنِي الزَّانِي حِینَ یَزْنِي وَھُوَ مُؤْمِنٌ))
’’زانی ایمان کی حالت میں زنا نہیں کرتا(جب وہ زنا کرتا ہے تو ایمان سے خالی ہو جاتا ہے۔)‘‘[4]
٭ یعنی اس آیت کریمہ میں جس چیز کا حکم دیا گیا ہے وہ آج بھی ایک شرعی حکم کی حیثیت رکھتا ہے اگرچہ اس کی تلاوت منسوخ ہو گئی ہے جس کی وجہ سے اسے قرآن مجید میں نہیں لکھا گیا۔واللہ اعلم۔(ع،ر)
بڑے گناہوں کے بارے میں آپ سے پوچھا گیا تو فرمایا:’أَنْ تُزَانِيَ بِحَلِیلَۃِ جَارِکَ‘ ’’یہ کہ تو اپنے ہمسائے کی بیوی کے ساتھ زنا کرے۔‘‘[1]
٭ حرمتِ زنا کی حکمت:
اسلامی معاشرے کی پاکیزگی کی حفاظت،عام مسلمانوں کی عزتوں اور ان کے نفوس و ارواح کی طہارت و کرامت کا باقی رکھنا اور شرف نسب کو اختلاط کی غلاظت سے بچانا اور محفوظ کرنا حرمت زنا کے مقاصد میں سے ہے۔
٭ حد زنا کیا ہے؟:
اگر زانی غیر شادی شدہ ہے،یعنی زنا سے پہلے اس نے کسی عورت کے ساتھ شرعی نکاح نہیں کیا،جس کے بعد اسے اپنی بیوی کے ساتھ خلوت صحیحہ اور مجامعت حاصل ہوئی ہو تو ایسی صورت میں اسے ایک سو درے اور ایک سال کے لیے جلا وطنی کی سزا دی جائے گی۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ﴾’’زانی مرد اور عورت کو سو سو درے مارو۔‘‘[2]
اور اگر زانی مرد یا عورت شادی شدہ ہے تو اسے سنگسار کیا جائے(پتھر مارے جائیں۔)آیت مبارکہ،جس کی تلاوت منسوخ ہے،میں ہے:
((اَلشَّیْخُ وَالشَّیْخَۃُ إِذَا زَنَیَا فَارْجُمُوھُمَا الْبَتَّۃَ،نَکَالًا مِّنَ اللّٰہِ،وَاللّٰہُ عَزِیزٌ حَکِیمٌ))
’’شادی شدہ مرد اور عورت زنا کریں تو انھیں لازماً رجم کر دو،اللہ کی طرف سے یہ عبرت ہے اور وہی غالب،حکمت والا ہے۔‘‘[3]
نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غامدیہ رضی اللہ عنہا اور ماعز رضی اللہ عنہ کو رجم کرنے کا حکم دیا اور اسی طرح یہودی مرد اور عورت کو سنگسار کرنے کا فیصلہ ارشاد فرمایا۔[4]
٭ زانی پر حد قائم کرنے کی شرائط:
1: زانی مسلمان اور عاقل و بالغ ہو،اس نے یہ جرم اپنے اختیار سے کیا ہو جبرو اکراہ کے نتیجے میں نہیں،اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
((رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَۃٍ:عَنِ النَّائِمِ حَتّٰی یَسْتَیْقِظَ،وَعَنِ الصَّغِیرِ حَتّٰی یَکْبُرَ وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتّٰی یَعْقِلَ أَوْیُفِیقَ))
’’تین(اشخاص)مرفوع القلم ہیں،سویا ہوا جاگنے تک،نابالغ بالغ ہونے تک،اور مجنون افاقہ ہونے تک۔‘‘[1]
نیز فرمایا:((وُضِعَ عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأُ وَالنِّسْیَانُ وَمَا اسْتُکْرِھُوا عَلَیْہِ))’’میری امت سے خطا،بھول چوک اور جس چیز پر وہ مجبور کیے جائیں،معاف کر دیا گیا ہے۔‘‘[2]
2: جرم زنا قطعی طور پر ثابت ہو یا مجرم خود اقرار کرے کہ اس نے زنا کیا ہے جبکہ وہ طبعی طور پر درست حالت میں ہے یا چار عادل گواہ شہادت دیں کہ انھوں نے اسے زنا کرتے دیکھا ہے،اس وقت جب مرد کی شرم گاہ عورت کی شرم گاہ میں تھی جس طرح کہ سرمے کی سلائی سرمہ دانی اور رسی کنویں میں ہوتی ہے۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿وَاللَّاتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ مِن نِّسَائِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوا عَلَيْهِنَّ أَرْبَعَةً مِّنكُمْ﴾’’اور تمھاری عورتوں میں سے جو فحش کاری کرتی ہیں تو ان پر اپنے میں سے چار گواہ لاؤ۔‘‘[3]اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز رضی اللہ عنہ سے کہا:’’کیا تو نے اس عورت سے جماع کیا ہے؟‘‘ اس نے کہا:ہاں تو آپ نے فرمایا:
((کَمَا یَغِیبُ الْمِرْوَدُ فِي الْمُکْحَلَۃِ وَالرِّشَائُ فِي الْبِئْرِ))’’جس طرح سلائی سرمہ دانی میں غائب ہو جاتی ہے اور رسی کنویں میں۔‘‘[4]
3: حمل نمایاں ہو جائے اور پوچھنے پر عورت ایسی کوئی واضح بات نہ کہہ سکے جس سے اس سے ’’حد‘‘ ساقط ہو جائے،
مثلاً:یہ کہ وہ اغوا ہو گئی تھی یا شبہ کی بنا پر اس سے وطی ہو گئی تھی یا اسے زنا کی حرمت کا علم نہیں تھا،اگر وہ کسی انداز کا شک و شبہ پیش کر دیتی ہے تو اس پر حد لاگو نہیں ہو گی،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:’اِدْرَؤُوا الْحُدُودَ بِالشُّبُھَاتِ‘’’شبہات کی صورت میں حدود ہٹا دو(نافذ نہ کرو۔)‘‘ [5]
نیز ایک عجلانی کی عورت کے بارے میں آپ نے فرمایا:((لَوْ کُنْتُ رَاجِمًا أَحَدًا بِغَیْرِ بَیِّنَۃٍ لَّرَجَمْتُھَا))’’اگر میں کسی کو بغیر ثبوت کے رجم کرتا تو اسے ضرور کر دیتا۔‘‘[6]
4: اور وہ ’’اقرار زنا‘‘سے رجوع نہ کر چکا ہو،اگر’ ’حد‘‘ لگنے سے پہلے اپنی تکذیب کرے اور کہے میں نے زنا نہیں کیا تو اس پر حد نہیں لگے گی،اس لیے کہ ماعز رضی اللہ عنہ کو جب پتھر لگے تو وہ بھاگ کھڑے ہوئے،صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے اسے پکڑا اور مارا جس سے وہ فوت ہو گئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس بات کا پتہ چلا تو فرمایا:’’تم نے اسے کیوں نہ چھوڑ دیا؟‘‘گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے فرار کو اعتراف زنا سے رجوع قرار دیا،یہ بھی احادیث میں وارد ہے کہ بھاگتے ہوئے ماعز رضی اللہ عنہ نے کہا:مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جاؤ،میری قوم نے مجھے قتل کیا ہے اور دھوکے میں رکھا ہے،انھوں نے تو مجھے کہا تھا کہ آپ قتل کا حکم نہیں دیں گے۔[1]
٭ زنا کاروں پر حد قائم کرنے کا طریقہ:
زمین میں گڑھا کھودا جائے،زانی کو اس میں کھڑا کیا جائے اور سینے تک اسے دبا دیا جائے اور پھر پتھر مارے جائیں یہاں تک کہ وہ مر جائے۔یہ کارروائی امام اور مسلمانوں کی ایک جماعت،جو چار سے کم نہ ہو،کے سامنے انجام پائے۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَلْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَائِفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ﴾
’’اور ان کی سزا کے وقت ایمان والوں کی ایک جماعت حاضر ہونی چاہیے۔‘‘[2]
نیز اس بارے میں عورت اور مرد کا حکم برابر ہے،البتہ عورت کے کپڑے باندھ دیے جائیں تاکہ وہ ننگی نہ ہو۔
یہ حد رجم قائم کرنے کے لیے ضابطۂ کار ہے،غیر شادی شدہ کو درے مارنے کا طریقہ وہی ہے جو ’’قذف‘‘ اور شراب نوشی کی حد کا ہے۔
٭ لواطت کا بیان:
لواطت کی ’’حد‘‘ بھی سنگسار کرنا ہے،اس میں شادی شدہ اور غیر شادی شدہ کا فرق نہیں ہے،
اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((مَنْ وَّجَدْتُّمُوہُ یَعَمَلُ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ فَاقْتُلُوا الْفَاعِلَ وَالْمَفْعُولَ بِہِ))
’’جس کو تم قوم لوط والا عمل کرتے پاؤ تو فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کر دو۔‘‘[3]
جانوروں کے ساتھ بدفعلی کرنے والے کو بدترین تعزیری سزا دینی چاہیے اور قید کیا جائے،اس لیے کہ وہ بالاجماع فحش کاری کا مرتکب ہوا ہے اور تعزیری سزا اس کی منحرف فطرت کو درست کرنے کے لیے ہے۔بعض آثار میں یہ بھی وارد ہے کہ بدفعلی کرنے والے اور جانور دونوں کو قتل کر دیا جائے مگر وہ صحیح اسناد کے ساتھ ثابت نہیں ہوئے،لہٰذا علماء نے عدالت کی صوابدیدی تعزیری سزا پر ہی اکتفا کیا ہے جس سے اس کے فاسد مزاج کی درستی ہو جائے۔
غلام اور لونڈی زنا کریں تو ان کی سزا فقط درے ہیں،چاہے شادی شدہ ہی ہوں۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے:﴿فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنَاتِ مِنَ الْعَذَابِ﴾
’’ان کی سزا آزاد عورتوں کی سزا کی نصف ہے۔‘‘[1]
چونکہ موت آدھی نہیں ہو سکتی،لہٰذا اس سے مراد پچاس درے ہیں،رجم نہیں۔ان کا مالک یہ ’’حد‘‘ لگائے گا اور اگر مالک انھیں ’’عدالت مجاز‘‘ میں پیش کر دے تو یہ بھی جائز ہے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک کالی لونڈی کے پاس بھیجا تاکہ میں اس پر حد زنا قائم کروں تو میں نے اسے حالت نفاس میں پایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا:((إِذَا تَعَالَتْ مِنْ نِّفَاسِھَا فَاجْلِدْھَا خَمْسِینَ))
’’ جبنفاس سے فارغ ہو جائے تو اس کو پچاس درے لگانا۔‘‘[2]
اور فرمایا:((إِذَا زَنَتْ أَمَۃُ أَحَدِکُمْ فَتَبَّیَنَ زِنَاھَا فَلْیَجْلِدْھَا الْحَدَّ وَلَا یُثَرِّبْ عَلَیْھَا))
’’جب تم میں سے کسی کی لونڈی زنا کرے اور اس کا زنا ثابت ہو جائے تو وہ اس پر حد لگائے اور اسے طعن و تشنیع نہ کرے۔‘‘[3](اس لیے کہ شرعی سزا نے اسے پاک کر دیا ہے۔)