قضا اور شہادت کا بیان
قضا اور شہادت کا بیان
احکام قضا کا بیان:
٭ قضا کی تعریف:
احکام شریعت کے بیان اور ان کے نافذ کرنے کو’ ’قضا‘‘ کہا جاتا ہے۔
٭ قضا کا حکم:
یہ فرض کفایہ ہے اور امام پر لازم ہے کہ وہ ہر شہر میں ایک قاضی مقرر کرے جو احکام شریعت بیان کرے اور لوگوں سے ان پر عمل درآمد کرائے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:((لَا یَحِلُّ لِثَلَاثَۃِ نَفَرٍ یَّکُونُونَ بِأَرْضٍ فَلَاۃٍ إِلَّا أَمَّرُوا عَلَیْھِمْ أَحَدَھُمْ))’’جنگل میں رہنے والے تین آدمیوں کے لیے بھی بغیر امیر کے رہنا جائز نہیں ہے۔‘‘[6]
٭ منصب قضاکی اہمیت:
عہدہ ٔقضا ایک نازک منصب ہے اور شان و فضل کے اعتبار سے بہت بڑا ہے،اس لیے کہ اس میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی نیابت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خلافت کا پہلو ہے اور آپ نے اس کی نازک ذمہ داریوں کا اظہار بایں الفاظ فرمایا ہے:
((مَنْ جُعِلَ قَاضِیًا بَیْنَ النَّاسِ فَقَدْ ذُبِحَ بِغَیْرِ سِکِّینٍ))’’جسے لوگوں کے درمیان قاضی بنا دیا گیا،وہ بغیر چھری کے ذبح کیا گیا۔‘‘[7]
اور فرمایا:((اَلْقُضَاۃُ ثَلَاثَۃٌ:وَاحِدٌ فِي الْجَنَّۃِ،وَاثْنَانِ فِي النَّارِ،فَأَمَّا الَّذِي فِي الْجَنَّۃِ فَرَجُلٌ عَرَفَ الْحَقَّ فَقَضٰی بِہِ،وَرَجُلٌ عَرَفَ الْحَقَّ فَجَارَ فِي الْحُکْمِ فَھُوَ فِي النَّارِ،وَرَجُلٌ قَضٰی لِلنَّاسِ عَلٰی جَھْلٍ فَھُوَ فِي النَّارِ))
’’قاضی تین قسم کے ہیں:ایک جنت میں اور دو جہنم میں ہوں گے:حق کی معرفت حاصل کر کے فیصلہ کرنے والا جنتی ہے اور جو حق دریافت ہونے کے باوجود فیصلے میں ظلم کرے،وہ جہنمی ہے اورجہالت پر(بغیر علم کے)لوگوں کے فیصلے کرنے والا بھی جہنمی ہے۔‘‘[1]
اور آپ نے عبدالرحمن رضی اللہ عنہ بن سمرہ کو خطاب کرکے فرمایا:((لَا تَسْأَلِ الإِْمَارَۃَ فَإِنَّکَ إِنْ أُعْطِیتَھَا عَنْ غَیْرِ مَسْأَلَۃٍ أُعِنْتَ عَلَیْھَا،وَإِنْ أُعْطِیتَھَا عَنْ مَّسْأَلَۃٍ وُّکِلْتَ إِلَیْھَا))
’’امارت کا سوال نہ کرنا،بغیر سوال اگر تو امیر بنایا گیا تو اس پر تیری مدد کی جائے گی اور اگر مانگنے سے تجھے امارت ملی تو تم اسی کے سپرد کیے جاؤگے(اللہ کی مدد شامل حال نہیں ہو گی۔‘‘)[2]
اور فرمایا:((إِنَّکُمْ سَتَحْرِصُونَ عَلَی الإِْمَارَۃِ وَسَتَکُونُ نَدَامَۃً یَّوْمَ الْقِیَامَۃِ،فَنِعْمَ الْمُرْضِعَۃُ وَبِئْسَتِ الْفَاطِمَۃُ))
’’عنقریب لوگ امیر بننے کی حرص کریں گے اور عنقریب یہ امارت قیامت کے دن ندامت کا باعث ہو گی کیونکہ دودھ پلانے والی اچھی اور چھڑوانے والی بری ہوتی ہے۔‘‘[3]
٭ مانگنے والے کو عہدۂ قضا نہ دیا جائے:
منصب قضا پر اس شخص کو فائز نہ کیا جائے جو اس کا طلب گار یا حریص ہو،اس لیے کہ قضا ایک بھاری ذمے داری اور عظیم امانت ہے،لہٰذا وہی اس کا سوال کرے گا جو اس کی اہمیت نہیں سمجھتا اور کیا توقع ہے کہ وہ خیانت نہیں کرے گاجس کے نتیجے میں ناقابل برداشت حد تک دینی و اجتماعی خرابیاں پیدا ہو جائیں گی۔اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:((إِنَّا وَاللّٰہِ!لَا نُوَلِّي عَلٰی ھٰذَا الْعَمَلِ أَحَدًا سَأَلَہُ وَلَا أَحَدًا حَرَصَ عَلَیْہِ))
’’اللہ کی قسم!ہم یہ منصب کسی ایسے شخص کو نہیں دیں گے جو اس کا طلب گار یا حریص ہو۔‘‘[1] نیز فرمایا:((لَنْ۔أَوْ۔لَا نَسْتَعْمِلَ عَلٰی عَمَلِنَا مَنْ أَرَادَہُ))
’’ہم کسی ایسے شخص کو عامل ہرگز نہیں بنائیں گے،جو اس کی درخواست کرے۔‘‘[2]
٭ قاضی کے منصب قضا پر فائز ہونے کی شرائط:
یہ منصب اسی شخص کو دیا جائے جو درج ذیل صفات کا حامل ہو:
اسلام،عقل،بلوغت،آزادی،کتاب و سنت کا عالم،قضا کے بارے میں علم رکھنے والا،عدالت ظاہری اور حواس،مثلاً:کان،آنکھ [3] اور زبان کی سلامتی۔
٭ قاضی کے اخلاق:
اسے معاملات میں سخت ہونا چاہیے مگر درشتی کی حد تک نہیں۔نرم خو ضرور ہو مگر کمزوری سے مبرا ہو تاکہ کوئی اس سے غلط امید وابستہ نہ کرے اور صاحب حق اس سے خائف نہ ہو۔اسے حلیم الطبع ہونا چاہیے مگر اتنا نہیں کہ کم عقل،جھگڑالو اس پر چڑھ دوڑیں،حوصلہ مندی سے معاملہ فہمی کی استعداد رکھتا ہو،سمجھ دار اور ذکی ہو مگر خود پسند نہ ہو اور نہ ہی دوسروں کو حقیر جاننے والا ہو۔
اسے چاہیے کہ شہر کے درمیان ایک وسیع جگہ میں ’’مجلس قضا‘‘ منعقد کرے جو فریقین اور گواہوں کے لیے تنگ نہ ہو۔دیکھنے،بٹھانے اور آنے جانے میں فریقین کے مابین برابری کرے،اس بارے میں کسی فریق کو دوسرے پر فوقیت نہ دے۔قاضی کی مجلس میں فقہاء اور کتاب و سنت کے ماہرین حاضر ہوں تاکہ وہ مشکل مسائل میں ان سے مشورہ ومراجعت کرسکے۔
٭ قاضی کن چیزوں سے اجتناب کرے:
قاضی اپنے منصب کے تحفظ کے لیے بالخصوص امور ذیل کو ملحوظ رکھے:
1: غصہ،بیماری،بھوک،پیاس،گرمی،سردی،ملال اور طبیعت کی سستی و کاہلی کے وقت فیصلہ نہ کرے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:((لَا یَقْضِیَنَّ حَکَمٌ بَیْنَ اثْنَیْنِ وَھُوَ غَضْبَانُ))’’کوئی حاکم فریقین میں غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کرے۔‘‘[4]
2: گواہوں کی موجودگی کے بغیر فیصلہ نہ کرے۔
3: اپنے اور ان قرابت داروں کے متعلق جن کے لیے اس کی گواہی قبول نہیں کی جاتی،فیصلہ نہ کرے۔
4: فیصلے میں رشوت قبول نہ کرے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:((لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الرَّاشِي وَالْمُرْتَشِي))
’’رشوت دینے اور لینے والے پر اللہ کی لعنت ہے۔‘‘[1]
5: منصب قضا سے پہلے جن لوگوں سے اسے تحائف نہیں ملتے تھے،اب ان سے وصول نہ کرے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
((مَنِ اسْتَعْمَلْنَاہُ عَلٰی عَمَلٍ فَرَزَقْنَاہُ رِزْقًا،فَمَا أَخَذَ بَعْدَ ذٰلِکَ فَھُوَ غُلُولٌ))’’جسے ہم عامل بنائیں اور اسے تنخواہ دیں،اس کے علاوہ جو وہ لے گا خیانت ہو گی۔‘‘[2]
٭ قاضی کی ذمہ داریاں:
1: تمام دعوؤں اور جھگڑوں میں فریقین کے مابین فیصلہ کرے اور دلائل کے تضاد یا غیر واضح ہونے کی صورت میں فریقین کی رضامندی سے صلح کرائے۔
2: ظالموں اور بدکرداروں کو دبائے اور مظلوموں اور حق داروں کی مدد اور ان کی داد رسی کرے۔
3: خون اور زخموں میں ’ ’حدود‘‘ قائم کرے اور فیصلہ جات صادر کرے۔
4: نکاح،طلاق اور خرچہ جات کے بارے میں فیصلہ جات صادر کرے۔
5: یتیموں،دیوانوں،غیر حاضر اور ممنوع التصرف لوگوں(جنھیں مالی تصرف سے روک دیا گیا ہو)کے اموال کے تحفظ کے انتظامات کرائے۔
6: امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے محکمے کا کنٹرول جس کے ذریعے اچھائی کا حکم جاری کیا جاتا ہے اور برائی سے روکا جاتا ہے۔
7: جمعہ اور عیدین کی امامت۔
٭ قاضی کس طرح فیصلہ کرے:
درج ذیل چار طریقوں سے قاضی لوگوں کے حقوق کا تحفظ اور فیصلہ صادر کرے گا:
1: اقرار:’’مدعا علیہ‘‘ ’’مدعی‘‘ کا مطالبہ تسلیم کر لے تو ’’مدعی‘‘ کا حق ثابت ہو جاتا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْھَا))’’اگر وہ اعتراف کر لے تو اسے سنگسار کر دینا۔‘‘[3]
2: دلیل:(ثبوت دعویٰ)یعنی گواہوں کی گواہی سے دعویٰ ثابت ہو جاتا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((اَلْبَیِّنَۃُ عَلَی الْمُدَّعِي،وَالْیَمِینُ عَلَی الْمُدَّعٰی عَلَیْہِ))’’ثبوت مدعی پیش کرے اور قسم(اس)مدعا علیہ پر ہے۔‘‘[1]
اور فرمایا:’شَاھِدَاکَ أَوْ یَمِینُہُ‘ ’’(مدعی کے)دو گواہ ہوں یا(مدعا علیہ کی)قسم کا اعتبار کرو۔‘‘[2]
کم از کم دو گواہ ہونے چاہئیں اگر دو نہیں ہیں تو ایک گواہ اور’ ’مدعی‘‘ کی قسم سے بھی دعویٰ ثابت ہو جائے گا،اس لیے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
((أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم قَضٰی بِیَمِینٍ وَّشَاھِدٍ))’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قسم اور ایک گواہ کی بنیاد پر فیصلہ صادر فرمایا۔‘‘[3]
3:قسم:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالی ہے:((اَلْبَیِّنَّۃُ عَلَی الْمُدَّعِي،وَالْیَمِینُ عَلَی الْمُدَّعٰی عَلَیْہِ))
’’ثبوت دینا مدعی کی ذمے داری ہے اورقسم مدعا علیہ پر ہے۔‘‘[4]
مدعی اپنے دعوے پر ثبوت پیش نہ کر سکے تو ’’مدعا علیہ‘‘ ایک قسم اٹھا کر دعوے(الزام)سے بری ہوجائے گا۔
4: انکار::’’مدعا علیہ‘‘ اگر قسم اٹھانے سے انکار کر دے تو قاضی بطور ’’اتمام حجت‘‘ کہے:’’تو نے قسم اٹھا لی تو بری ہو جائے گا،ورنہ فیصلہ تیرے خلاف ہو گا۔‘‘ پھر بھی اگر وہ انکار کرے تو اس کے خلاف فیصلہ صادر کر دے،البتہ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’مدعا علیہ‘‘ کے ’’انکار حلف‘‘ کی صورت میں ’ ’مدعی‘‘ اپنے دعوے پر قسم اٹھائے گا اور اگر وہ حلف اٹھا لیتا ہے تو دعویٰ ثابت ہو جائے گا۔وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عمل سے استدلال کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’قسامت‘‘ کے اثبات کے لیے ’’مدعی‘‘ کو قسم اٹھانے کا کہا۔[5]
٭ فیصلے کی کیفیت اور اس کا طریقہ:
جھگڑنے والے دونوں فریق حاضر ہوں تو انھیں اپنے سامنے بٹھائے اور سوال کرے:تم میں ’ ’مدعی‘‘ کون ہے۔وہ اپنا دعویٰ سنائے اور تحریر کرے اور گواہوں کا اظہار کرے۔پھر ’’مدعا علیہ‘‘ سے دریافت کرے کہ تو اس دعوے کے بارے میں کیا کہتا ہے اگر وہ اقرار دعویٰ کر لے تو اس کے مطابق فیصلہ دے۔لیکن اگر وہ دعویٰ تسلیم کرنے سے انکار کر دے تو ’’مدعی‘‘ سے اس کے گواہ طلب کرے،اگر وہ پیش ہو کر گواہی دے دیں تو اس کے مطابق فیصلہ صادر کر دے۔لیکن اگر گواہ پیش کرنے کے لیے کچھ مدت کی درخواست کرے تو تاریخ متعین کر دے جس میں وہ انھیں حاضر کرسکے۔اگر اس کے باوجود گواہ نہ لا سکے تو ’’مدعا علیہ‘‘ کو قسم کا حکم دے۔اگر وہ قسم اٹھا لے تو اس کے لیے براء ت کا فیصلہ دے،اگر انکار کرے تو ’’اتمام حجت‘‘ کے طور پر کہے کہ اگر تو حلف نہیں اٹھائے گا تو فیصلہ تیرے خلاف ہو گا،پھر بھی حلف سے انکار کرے تو اثبات دعویٰ(الزام کے درست ہونے)کا فیصلہ کر دے مگر بہتر یہ ہے کہ اس سے قبل مدعی سے حلف لے،اس کے حلف کے بعد دعوے کے اثبات کا فیصلہ کرے،اس کی بنیاد صحیح مسلم میں مروی یہ حدیث ہے،وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
((جَائَ رَجُلٌ مِّنْ حَضْرَمَوْتَ وَرَجُلٌ مِنْ کِنْدَۃَ إِلَی النَّبِيِّ صلی اللّٰه علیہ وسلم،فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ:یَارَسُولَ اللّٰہِ!إِنَّ ھٰذَا قَدْ غَلَبَنِي عَلٰی أَرْضٍ لِّي کَانَتْ لِأَبِي فَقَالَ الْکِنْدِيُّ:ھِيَ أَرْضِي فِي یَدِي أَزْرَعُھَا،لَیْسَ لَہٗ فِیھَا حَقٌّ،فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللّٰه علیہ وسلم لِلْحَضْرَمِيِّ:أَلَکَ بَیِّنَۃٌ؟ قَالَ:لَا،قَالَ:فَلَکَ یَمِینُہُ،قَالَ:یَارَسُولَ اللّٰہِ!إِنَّ الرَّجُلَ فَاجِرٌ لَّا یُبَالِي عَلٰی مَا حَلَفَ عَلَیْہِ،وَلَیْسَ یَتَوَرَّعُ مِنْ شَيْئٍ،فَقَالَ:لَیْسَ لَکَ مِنْہُ إِلَّا ذٰلِکَ))
’’ایک حضرمی مرد اور دوسرا کندی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔حضرمی نے کہا:اے اللہ کے رسول!اس نے میری زمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے جو کہ میرے باپ کی تھی۔کندی نے کہا:یہ میری اپنی زمین ہے جس پر میرا قبضہ ہے،اس کا اس میں کوئی حق نہیں ہے۔آپ نے حضرمی کو کہا:’’تو ثبوت پیش کر کہ یہ زمین تیری ہے۔‘‘ اس نے کہا:کوئی ثبوت نہیں۔آپ نے فرمایا:’’وہ قسم اٹھائے گا۔‘‘ حضرمی نے کہا:یہ فاجر آدمی ہے،قسم کی پروا نہیں کرتا اور غیر محتاط ہے۔آپ نے فرمایا:’’تجھے اس کے حلف ہی پر اعتماد کرنا پڑے گا۔‘‘[1]
٭ تنبیہات:
1: گواہوں کے عادل ہونے کا قاضی کو ذاتی طور پر علم ہو تو ان کی بنیاد پر فیصلہ کر سکتا ہے۔
2: پردہ دار عورت پر دعوے کی صورت میں ضروری نہیں کہ وہ قاضی کی عدالت میں خود حاضر ہو بلکہ اس کی نیابت اس کا مقرر کردہ وکیل بھی کر سکتا ہے۔
3: اپنی ذاتی معلومات کی بنیاد پر قاضی فیصلہ نہیں کر سکتا،اس لیے کہ عدالت کی غیر جانبداری کے لیے یہ ضروری ہے بلکہ وہ گواہوں کی بنیاد پر فیصلہ صادر کرے گا،اس لیے بھی کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’اگر میں کسی مرد کو اللہ کی حدود پامال کرتے دیکھ لوں تو اکیلا اس کی گرفت نہیں کروں گا جب تک میرے ساتھ دوسرا گواہ نہیں ہو گا۔‘‘[2]
4: ’’مدعا علیہ‘‘ کا مجلس قضا میں حاضر ہونا ضروری ہے،جب تک وہ خود یا اس کا وکیل حاضر نہ ہو،قاضی فیصلہ صادر نہ کرے۔اگر ’’مدعا علیہ‘‘ غائب ہو تو اس سے خود حاضر ہونے یا اپنا وکیل بھیجنے کا مطالبہ کرے۔
5: حدود کے علاوہ دیگر معاملات میں ایک قاضی کی تحریر،دوسرے قاضی کی طرف معتبر سمجھی جاتی ہے،وہ اس پر دو گواہوں کی گواہی ثبت کرے۔
6: مدعی جب تک دعویٰ تحریری شکل میں پیش نہ کرے،قاضی دعوے کی سماعت نہ کرے،مثلاً:مدعی کہتا ہے:میں نے فلاں سے کچھ لینا ہے یا میرا خیال ہے کہ میں نے اس سے اتنی چیز لینی ہے۔بلکہ وہ دعوے کا تعین کرے اور حتمی انداز میں مدعیٰ علیہ پر تحریری دعویٰ کرے۔
7: قاضی کا ظاہری فیصلہ نفس الامر میں کسی چیز کو حلال یا حرام نہیں بنا سکتا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ،وَإِنَّکُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ،وَلَعَلَّ بَعْضَکُمْ أَنْ یَّکُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِہِ مِنْ بَعْضٍ،فَأَقْضِيَ عَلٰی نَحْوِ مَا أَسْمَعُ،فَمَنْ قَضَیْتُ لَہُ بِحَقِّ أَخِیہِ شَیْئًا فَلَا یَأْخُذْہُ،فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَہُ قِطْعَۃً مِّنَ النَّارِ))
’’میں انسان ہوں،(غیب نہیں جانتا)تم میرے پاس جھگڑے لاتے ہو،ہو سکتا ہے کہ تم میں سے بعض اپنی دلیل پیش کرنے میں تیز طرار ہو اور میں اپنی شنید کے مطابق فیصلہ کر دوں،چنانچہ جس کے لیے میں اس کے بھائی کے حق میں سے کسی چیز کا فیصلہ کر دوں تو وہ اسے نہ لے کیونکہ میں نے اس کے لیے جہنم کا ایک ٹکڑا کاٹ دیا ہے۔‘‘[1]
8: دونوں کے ثبوت میں اگر تعارض ہے اور کسی ایک کو دوسرے پر کوئی ترجیح حاصل نہیں ہے تو متنازع چیز کو دونوں میں تقسیم کر دے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ فیصلہ ثابت ہے۔[2]
شہادت کا بیان
٭ شہادت کی تعریف:
کسی نے جو دیکھا یا سنا،اسے صحیح طور پرقاضی کے سامنے بیان کرنا ’’شہادت‘‘ہے۔
٭ شہادت کا حکم:
جس طرح گواہی ادا کرنا ’’فرض کفایہ‘‘ہے،اسی طرح ’’امر واقعہ‘‘کا گواہ بننا بھی ’’فرض کفایہ‘‘ ہے،اس لیے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِن رِّجَالِكُمْ ۖ فَإِن لَّمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ﴾
’’اور اپنے مردوں میں سے دو گواہ بناؤ اگر دو آدمی میسر نہیں تو ایک مرد اور دو عورتیں۔‘‘[1]
اور فرمایا:﴿وَلَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ ۚ وَمَن يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ﴾’’اور گواہی نہ چھپاؤ،جو اسے چھپائے گا،یقینا اس کا دل گناہ گار ہو گا۔‘‘[2]
نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:((أَلَا أُخْبِرُ کُمْ بِخَیْرِ الشُّھَدَائِ الَّذِي یَأْتِي بِشَھَادَتِہِ قَبْلَ أَنْ یُّسْأَلَھَا))
’’کیا میں تمھیں اچھے گواہ کی خبر نہ دوں ؟ وہ ہے جو سوال سے پہلے اپنی گواہی پیش کر دے۔‘‘[3]
٭ گواہوں کی شرائط:
گواہ کے لیے مسلمان،عاقل،بالغ اور عادل ہونا شرط ہے اور اس پر کسی قسم کی تہمت بھی نہ ہو،یعنی ایسا نہ ہو جس کی گواہی کسی معقول وجہ سے قبول نہیں ہوتی،مثلاً:اس کا فریقین میں سے کسی ایک سے نسبی تعلق ہے یا ایک دوسرے کے لیے میاں بیوی کی گواہی کی صورت بن رہی ہے یا ایسی گواہی جس میں گواہ کو نفع حاصل ہو رہا ہے یا اس سے نقصان دور ہو رہا ہے یا گواہ اپنے مخالف کے خلاف شہادت دے رہا ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
((لَا تَجُوزُ شَھَادَۃُ خَائِنٍ وَّلَا خَائِنَۃٍ وَّلَا زَانٍ وَّلَا زَانِیَۃٍ وَّلَا ذِي غِمْرٍ عَلٰی أَخِیہِ،وَفِي رِوَایَۃٍ:رَدَّ شَھَادَۃَ الْقَانِعِ لِأَھْلِ الْبَیْتِ))
’’خیانت کرنے والے مرد اور عورت(اسی طرح)زنا کرنے والے مرد اور عورت کی گواہی نافذ نہیں ہوگی اور نہ عداوت والے کی اس کے بھائی کے خلاف۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے خاندان کے نوکر کی گواہی کو ان(خاندان والوں)کے لیے ناجائز قرار دیا ہے۔‘‘[4]
٭ شہادت کے احکام:
1: شاہد اسی چیز کی گواہی دے،جسے اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا یا کانوں سے سنا ہے۔ایک شخص نے شہادت کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا:((ھَلْ تَرَی الشَّمْسَ؟ قَالَ:نَعَمْ،فَقَالَ عَلٰی مِثْلِھَا:فَاشْھَدْ أَوْدَعْ))
’’سورج کو دیکھ رہے ہو؟‘‘ اس نے کہا:ہاں،فرمایا:’ ’اس کے مثل پرگواہ بن،ورنہ گواہی ترک کردو۔‘‘[5]
2: بیماری دور نہ ہونے یا موت کی وجہ سے ’’امر واقعہ‘‘ کا شاہد عدالت میں نہ آ سکے تو اس کی شہادت پر دوسرے شاہدوں کی گواہی معتبر ہو گی۔[6] جبکہ اس کی شہادت کے بغیر فیصلہ نہ ہو سکے۔
3: شاہد کا تزکیہ دو عادل مرد کریں گے(اس کی صفائی دیں گے)کہ یہ شاہد عادل اور گواہی کے لیے مستند ہے۔جبکہ قاضی شاہد کو نہ جانتا ہو۔اگر قاضی اس کے احوال جانتا ہے تو پھر تزکیے کی ضرورت نہیں ہے۔(راجح یہی ہے کہ ایک شخص بھی تزکیہ کرے تو کافی ہے۔)
4: اگر کسی گواہ کا دو مرد تزکیہ کریں اور دیگر مرد اس پر جرح کریں تو احتیاطاً جرح کے گواہوں کو ترجیح دی جائے گی(اور اس کی گواہی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔)
5: جھوٹے گواہ کی تادیب ضروری ہے،یعنی اسے ایسی سزا دی جائے کہ جھوٹی گواہی کی سوچ والا ہر شخص اس سے عبرت حاصل کرے۔
٭ گواہی کی اقسام:
1: زنا کے گواہ اس میں چار گواہ ہونے چاہئیں،اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَاللَّاتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ مِن نِّسَائِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوا عَلَيْهِنَّ أَرْبَعَةً مِّنكُمْ﴾
’’اور تمھاری عورتوں میں سے جو بدکاری کا ارتکاب کریں،ان پر اپنے(مردوں)میں سے چار گواہ طلب کرو۔‘‘[1]
لہٰذا چار گواہوں سے کم کفایت نہیں کریں گے۔
2: زنا کے علاوہ دیگر امور میں دو عادل گواہ کافی ہیں۔[2]
3: اموال کے دعوؤں میں ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی بھی معتبر ہے۔اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے:﴿فَإِن لَّمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ﴾
’’اگر دو مرد گواہ نہیں ہیں تو ایک مرد اور دو عورتیں ہونی چاہئیں۔‘‘[3]
4: احکام میں ایک گواہ اور ایک قسم کافی ہے۔ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
((أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم قَضٰی بِیَمِینٍ وَّشَاھِدٍ))’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ اور قسم کی بنیاد پر فیصلہ کیا ہے۔‘‘[4]
5:حمل اور ماہواری پر دو عورتوں کی گواہی کافی ہے،اس لیے کہ ان امور پر عورتیں ہی(صحیح طور پر)اطلاع پا سکتی ہیں۔
اقرار کا بیان:
٭ اقرار کی تعریف:
کسی کا یہ اعتراف کہ میں نے فلاں کی اتنی چیز دینی ہے،مثلاً:وہ کہے:زید کے میرے پاس پچاس ہزار درہم ہیں۔یافلاں سامان فلاں کی ملکیت ہے۔
٭ کس شخص کا اقرار قبول کیا جائے گا؟:
عاقل و بالغ شخص کا اقرار قبول کیا جاتا ہے۔مجنون،نابالغ اور مجبور و مقہور لڑکے کا اقرار معتبر نہیں ہے جیسا کہ آپ کے فرمان میں ہے:
((رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَۃٍ:عَنِ النَّائِمِ حَتّٰی یَسْتَیْقِظَ،وَعَنِ الصَّغِیرِ حَتّٰی یَکْبُرَ وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتّٰی یَعْقِلَ أَوْیُفِیقَ))
’’تین اشخاص مرفوع القلم ہیں:سویا ہوا بیدار ہونے تک،بچہ جوان ہونے تک،اور دیوانہ ہوش آنے تک۔‘‘[1]
نیز ارشاد فرمایا:((وُضِعَ عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأُ وَالنِّسْیَانُ وَمَا اسْتُکْرِھُوا عَلَیْہِ))’’میری امت سے خطا،نسیان اور جس پرانھیں مجبور کیا جائے،معاف کر دیا گیا ہے۔‘‘[2]
٭ اقرار کا حکم:
اقرار کرنے سے اقرار کردہ چیز اس کے ذمے ثابت ہو جاتی ہے جبکہ وہ عاقل،بالغ اور خود مختار ہو،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْھَا))’’اگر وہ عورت اعتراف کر لے تو اسے سنگسار کر دینا۔‘‘[3]
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے اعتراف کے نتیجے میں اس پر حد کا فیصلہ لاگو کرنے کا حکم دیا ہے۔
مفلس یامحجور علیہ(جسے مالی معاملات میں تصرف سے روک دیا گیا ہو)کا مالی معاملات میں اعتراف و اقرار لازم نہیں ہے۔٭ اس لیے کہ ہو سکتا ہے مفلس قرض خواہوں سے حسد کی وجہ سے ان پر کوئی غلط الزام لگا دے،نیز اس لیے بھی کہ اگر’ ’محجور علیہ‘‘ کا اقرار نافذ ہو جائے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اس پر کوئی پابندی عائد ہی نہیں کی گئی،البتہ ان دونوں کا اقرار ان کے ذمے رہے گا،جب بھی رکاوٹ دور ہو گی،ان کا اعتراف لاگو ہو جائے گا۔
وارث کے حق میں ’ ’قریب الموت‘‘ کا اقرار صحیح نہیں ہے،اِ لَّا یہ کہ وہ اپنے اقرار پر ثبوت پیش کرے،اس لیے کہ اس وقت اس پر کسی وارث کو زیادہ دینے کا الزام عائد ہو سکتا ہے،مثلاً:بیمار کہتا ہے کہ میرے فلاں بیٹے کا میرے پاس اتنا سرمایہ ہے،یہ ناقابل قبول ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
((لَا وَصِیَّۃَ لِوَارِثٍ))’’وارث کے لیے وصیت نہیں ہے۔‘‘[4]
اسی طرح مریض کا وارث کے حق میں یہ کہنا کہ فلاں بیٹے کو میں نے اتنا دینا ہے۔یہ درحقیقت وصیت کے معنی میں ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وارث کے لیے وصیت ممنوع قرار دی ہے۔ہاں،ورثاء اگر اس کی وصیت نافذ کریں تو
٭ یعنی اگر وہ اعتراف کرتے ہیں تو فوری طور پر اس پر عمل کروانا ضروری نہیں ہے۔(ص،ی)
یہ نافذ ہو جائے گی یا اس وصیت پر گواہ ثابت ہو جائیں کہ واقعی اس بیمار نے اتنی رقم اپنے فلاں بیٹے کو دینی ہے تو پھر اس کا ’’اقرار‘‘ صحیح قرار دیا جائے گا۔