غلاموں کا بیان
غلاموں کا بیان
غلامی کے بارے میں:
٭ غلامی کی تعریف:
کسی کی ملکیت میں آنا اور اس کا غلام ہونا ’’رق‘‘ کہلاتا ہے اور ’’رقیق‘‘ مملوک غلام کو کہتے ہیں۔یہ مادہ رقۃ سے ماخوذ ہے،جو غلظۃ(درشتی)کی ضد ہے،اس لیے کہ غلام بھی اپنے آقا کے لیے نرم ہوتا ہے اور مملوک ہونے کی وجہ سے سخت رویہ نہیں اپنا سکتا۔
٭ غلامی کا حکم:
اس کا حکم جواز ہے۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے:﴿وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾ ’’اور جن کے تمھارے دائیں ہاتھ مالک ہیں۔‘‘[1]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((مَنْ لَّطَمَ مَمْلُوکَہُ أَوْ ضَرَبَہُ فَکَفَّارَتُہُ أَنْ یُعْتِقَہُ))
’’جو اپنے غلام کو تھپڑ رسید کرتا ہے یا مارتا ہے،اس کا کفارہ یہ ہے کہ وہ اسے آزاد کر دے۔‘‘[2]
٭ غلامی کی تاریخ اور اس کے اسباب:
ہزاروں سالوں سے انسانوں میں غلامی کا وجود ملتا ہے اور دنیا کی قدیم ترین اقوام کے ہاں یہ موجود ہے جیسا کہ مصری،چینی،ہندوستانی،یونانی اور رومن اقوام،نیز آسمانی کتابوں توراۃ اور انجیل میں بھی اس کا ذکر ہے۔سیدہ ہاجرہ علیہا السلام(والدۂ اسماعیل علیہا السلام)سیدہ سارہ علیہا السلام کی لونڈی تھیں،جو شاہ مصر نے انھیں ہدیہ میں دی تھیں،سیدہ سارہ علیہا السلام نے آگے ابراہیم علیہ السلام کو دے دی،وہ ان کے پاس رہیں اور ان کے بطن اطہر سے اسماعیل علیہ السلام پیدا ہوئے۔کئی طریقوں سے انسانوں کو غلام بنایا جاتا تھا:
1: لڑائیوں میں مغلوب لوگ غالب و قاہر لوگوں کے غلام قرار پاتے اور ان کی عورتیں اور بچے بھی غلام شمار ہوتے۔
2: تنگ دستی کی وجہ سے لوگ اپنے بچے فروخت کر دیتے تھے۔
3: ڈاکہ اور چوری کے ذریعے سے بھی لوگوں کو ہتھیایا اور غلام بنایا جاتا ہے جیسا کہ کئی یورپین اقوام افریقہ میں غالب آئیں اور انھوں نے افریقیوں کو گرفتار کر کے یورپ میں لے جا کر فروخت کر دیا۔
اسی طرح یورپین بحری قزاق سمندر میں سے گزرنے والی کشتیوں پر دھاوا بول دیتے اور ان کے سواروں کو گرفتار کر کے یورپ کی منڈیوں میں لے جا کر فروخت کر دیتے اور قیمت کھا جاتے تھے۔
اسلام نے،جو اللہ کا سچا دین ہے،یہ سب اسباب ممنوع قرار دیے۔صرف ایک سبب بحال رہا،یعنی جنگ کے ذریعے سے غلام بنانا اور اسلام کا یہ اقدام انسانیت کے لیے رحمت ثابت ہوا،اس لیے کہ جنگی انتقام میں لوگ عورتوں اور بچوں کو بھی قتل کر دیتے تھے،اسلام نے انھیں غلام بنا کر رکھنے اور ان کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیا تاکہ وہ زندہ رہیں اور پھر ان کی آزادی کی صورتیں پیدا کی جائیں۔
لڑنے والے دشمنوں کے بارے میں بھی اسلام نے احسان کر کے انھیں چھوڑ دینے کا حکم دیا یا فدیہ لے کر انھیں آزاد کرنے کی تجویز دی۔٭ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿فَإِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّىٰ إِذَا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً حَتَّىٰ تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا﴾
’’جب تم کافروں کو جنگ میں ملو تو ان کی گردنیں اڑاؤ،جب خوب خون ریزی کر لو تو ان(زندہ بچ جانے والوں)کو مضبوطی سے باندھو،پھر احسان کر کے یا فدیہ(عوضانہ)لے کر(انھیں)چھوڑ دینا یہاں تک کہ جنگ ختم ہو جائے۔‘‘[1]
٭ غلاموں کے ساتھ مسلمانوں اور دیگر اقوام کابرتاؤ:
امت مسلمہ کے علاوہ دنیا کی تمام اقوام غلاموں کے بارے میں قریب قریب ایک ہی انداز اپنائے ہوئے تھیں۔ان کے ہاں غلام کو ہر چیز اور جملہ اغراض کے لیے استعمال کیا جاتا تھا اور بلاسبب اسے بھوکا رکھنا،مارکٹائی کرنا اور طاقت سے بڑھ کر اس سے کام لینا ایک عام وطیرہ تھا،اسے آگ سے داغ دیا جاتا اور اس کے اعضاء کاٹ دیے جاتے تھے،نیز اسے ’’آلۂ روح‘‘ گردانا گیا اور ’’زندہ سامان‘‘ کا نام دیا جاتا تھا۔
٭ امیر لشکر یا امام انھیں مجاہدین میں تقسیم کر دے گا۔گویا اسلام نے صرف کافر جنگی قیدیوں کو غلام بنانے کی صورت جائز قرار دی ہے جبکہ باقی دو صورتیں ناجائز قرار دی ہیں۔عصر حاضر میں مسلم ممالک جنگی قیدیوں کی بابت اگر کسی عالمی معاہدے کی پابندی قبول کر چکے ہوں تو وہ اس کی پابندی کریں گے ورنہ غلام بنانے میں کوئی حرج نہیں،بشرطیکہ حقیقی اسلامی جہاد کی صورت پیدا ہو جائے۔باقی جہاں تک جرائم پیشہ افراد کی طرف سے مختلف ممالک سے سمگل شدہ عورتوں کی تجارت کا تعلق ہے تو اس طریقے سے کسی عورت کو لونڈی بنانا درست نہیں ہے۔ایسے لوگ سخت گنہگار ہیں۔حکومت وقت کا فرض ہے کہ وہ انھیں عبرتناک سزا دے اور مظلوموں کو ان کے پنجۂ استبداد سے رہائی دلا کر ان کے گھروں تک پہنچائے۔اگر وہ ایسا نہیں کرتی اور کوئی مسلمان کسی وجہ سے اپنے طور پر ایسی کسی مظلوم عورت،مرد یا بچے کو خرید کر اس کے گھر پہنچاتا ہے تو یہ غلام یا لونڈی کی آزادی کے قائم مقام ہو گا بلکہ اس سے بھی زیادہ،واللہ اعلم۔(ع،ر)
اسلام نے اسے انسانی شرف و عزت سے نوازا،اسے مارنا،قتل کرنا حرام قرار دیا بلکہ اسے گالی دینے اور توہین و تذلیل کرنے سے بھی منع کیا اور اس کے ساتھ احسان و مروّت کا حکم دیا۔بطور مثال چند ایک نصوص ملاحظہ ہوں:
1: اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾
’’اور والدین،رشتہ داروں،یتیموں،مساکین،رشتے دار ہمسایہ،اجنبی ہمسایہ،پہلو کے ساتھی اور جن کے تمھارے ہاتھ مالک ہیں،ان سب کے ساتھ احسان کرو۔‘‘[1]
2: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((إِخْوَانُکُمْ وَخَوَلُکُمْ،جَعَلَھُمُ اللّٰہُ تَحْتَ أَیْدِیکُمْ،فَمَنْ کَانَ أَخُوہُ تَحْتَ یَدِہِ فَلْیُطْعِمْہُ مِمَّا یَأْکُلُ وَلْیُلْبِسْہُ مِمَّا یَلْبَسُ،وَلَا تُکَلِّفُوھُمْ مَّا یَغْلِبُھُمْ،فَإِنْ کَلَّفْتُمُوھُمْ فَأَعِینُوھُمْ عَلَیْہِ))
’’یہ تمھارے بھائی اور تمھارے خادم ہیں جنھیں اللہ نے تمھاری ملکیت میں دیا ہے۔جس کے قبضہ میں اس کا بھائی ہو،وہ جو کھاتا ہے اسے کھلائے،جو پہنتا ہے،اسے بھی پہنائے اور انھیں ان کی طاقت سے زیادہ کام کی تکلیف نہ دو،اگر ایسے کام کا مکلف بنایا ہے تو ان کے ساتھ تعاون(بھی)کرو۔‘‘[2]
اور فرمایا:((مَنْ لَّطَمَ مَمْلُوکَہُ أَوْضَرَبَہُ فَکَفَّارَتُہُ أَنْ یُّعْتِقَہُ))’’جو شخص اپنے غلام کوتھپڑ مارے یاضرب لگائے تواس کا کفارہ یہ ہے کہ وہ اسے آزاد کردے۔‘‘[3]
اس سے بڑھ کر یہ کہ اسلام نے غلام آزاد کرنے کا عمومی حکم دیا ہے اور اس کے لیے ترغیب و تشویق کو اپنایا ہے،درج ذیل امور اس پر شاہد ہیں:قتل خطا اور دیگر معاصی میں غلام آزاد کرنا گناہ کا کفارہ بنایا جیسا کہ ظہار،قسم اور روزہ توڑنے میں۔غلاموں میں سے جو قسط دار عوضانہ ادا کر کے آزاد ہونا چاہے،اس کی اجازت دے دی۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَالَّذِينَ يَبْتَغُونَ الْكِتَابَ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا ۖ وَآتُوهُم مِّن مَّالِ اللّٰهِ الَّذِي آتَاكُمْ﴾
’’اور تمھارے مملوک غلاموں میں جو’ ’مکاتبت‘‘ کا مطالبہ کریں،ان سے مکاتبت کر لو،اگر تم ان میں اچھائی دیکھتے ہو اور انھیں اللہ کے مال میں سے دو،جو اس نے تمھیں دیا ہے۔‘‘[1]
زکاۃ کے مصارف میں ایک مصرف غلام آزاد کرنے میں تعاون کرنا بھی ہے۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللّٰهِ وَابْنِ السَّبِيلِ ۖ فَرِيضَةً مِّنَ اللّٰهِ ۗ وَاللّٰهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ﴾
’’صدقات فقراء،مساکین اور اس میں کام کرنے والوں کے لیے اور جن کی تالیف قلب ٭ مطلوب ہے اور غلام آزاد کرنے میں اور مقروض لوگوں کے لیے اور اللہ کے راستے میں اور مسافروں کے لیے ہیں،یہ اللہ کی طرف سے فریضہ ہے،اللہ جاننے والا،حکمت والا ہے۔‘‘[2]
اگر کسی و جہ سے غلام کا کچھ حصہ آزاد ہو جائے تو آزادی اس کے تمام اجزاء میں سرایت کر آتی ہے،اس لیے کہ مسلمان جب کسی مقصد کے لیے غلام کا نصف یا ثلث آزاد کرتا ہے تو اسے شرعی حکم ہے کہ باقی کی قیمت ادا کر کے پورا غلام آزاد کرے،چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((مَنْ أَعْتَقَ شِرْکًا لَّہُ فِي عَبْدٍ،فَکَانَ لَہُ مَالٌ یَّبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ قُوِّمَ الْعَبْدُ عَلَیْہِ قِیمَۃَ عَدْلٍ فَأَعْطٰی شُرَکَاؤَہُ حِصَصَھُمْ وَعَتَقَ عَلَیْہِ الْعَبْدُ))
’’جس نے غلام میں اپنا حصہ آزاد کر دیا اور اس کے پاس اتنا مال ہے جو غلام کی قیمت کو پہنچتا ہے تو منصفانہ قیمت طے کر کے اس کے حصہ داروں کو اس کی قیمت ادا کرے اور(اس طرح پورا)غلام آزاد ہو جائے گا۔‘‘[3]
مالک اپنی لونڈی سے ہم بستری کر سکتا ہے تاکہ’ ’ام ولد‘‘(اس کے بچے کی ماں)ہونے کی صورت میں لونڈی آزاد ہو جائے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
((أَیُّمَا أَمَۃٍ وَّلَدَتْ مِنْ سَیِّدِھَا فَھِيَ حُرَّۃٌ بَعْدَ مَوْتِہِ))’’جو لونڈی اپنے سردار کی اولاد پیدا کر لے،وہ اس کی موت کے بعد آزاد ہے۔‘‘[4]
غلام کو اگر کسی نے مارا تو اس پر اسے آزادی کا پروانہ مل گیا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
((مَنْ ضَرَبَ غُلَامًا لَّہُ حَدًّا لَّمْ یَأْتِہِ أَوْلَطَمَہُ فَإِنَّ کَفَّارَتَہُ أَنْ یُّعْتِقَہُ))
’’جو اپنے غلام کو ناکردہ کام پر ’’حد‘‘ لگاتا ہے یا بلا وجہ تھپڑ مارتا ہے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ وہ اسے
٭ کسی کو اس لیے مال دینا تا کہ اگر کافر ہے تو اسلام لے آئے،لا چکا ہے تو اس پر قائم رہے۔واللہ اعلم(ع،ر)
آزاد کردے۔‘‘[1]
اگر کسی غلام کا مالک اس کا قرابت دار بن گیا تو وہ غلام آزاد ہو گیا،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:((مَنْ مَّلَکَ ذَا رَحِمٍ مَّحْرَمٍ فَھُوَ حُرٌّ))
’’جو شخص ’’ذی رحم‘‘(قرابت دار)کا مالک ہو جائے تو وہ(غلام)آزاد ہے۔‘‘[2]
تنبیہ:اس سوال کا جواب کہ اسلام نے مسلمانوں پر غلام آزاد کر دینا فرض کیوں نہیں قرار دیا تاکہ پھر کوئی بھی مسلمان اس حکم سے سرتابی نہ کر سکے؟ اس بارے میں ہم یہی کہیں گے کہ اسلام کی آمد کے وقت غلام لوگوں کی مِلک میں تھے اور یہ بات’ ’عادلہ شریعت‘‘ اور انسان کی جان،مال اور عزت کے محافظ دین کے مناسب نہیں تھی کہ وہ لوگوں پر فرض قرار دے کہ اپنے اموال اپنی ملکیت سے نکال دیں،پھر بہت سے غلاموں کے حق میں بھی یہ بات بہتر نہ تھی کہ وہ آزاد ہو جائیں،اس لیے کہ جو بچے،عورتیں کما نہیں سکتے تھے،وہ کس کے سہارے زندگی بسر کرتے،اس لیے انھیں مسلمان مالک کے قبضے اور تحویل میں رکھا تاکہ ان کی خوراک،لباس اور دیگر ضروریات زندگی مہیا ہوں۔یہ صورتحال ان کے حق میں اس سے ہزار درجہ بہتر تھی کہ انھیں محسن اور اچھے گھریلو ماحول سے نکال کر قطع تعلقی اور محرومی کے جہنم میں دھکیل دیا جاتا۔
غلاموں کے احکام
٭ غلاموں کی آزادی:
آزادی کی تعریف:مملوک غلام کو آزاد کر دینا اور اسے غلامی کی ذلت سے نکالنا عتق(آزادی)کہلاتا ہے۔
٭ آزاد کرنے کا حکم:
غلام آزاد کرنا مندوب اور مستحب ہے،اس لیے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿فَكُّ رَقَبَةٍ﴾
’’گردن آزاد کرنا ہے۔‘‘[3] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَۃً مُّؤْمِنَۃً،أَعْتَقَ اللّٰہُ بِکُلِّ إِرْبٍ مِّنْھَا إِرْبًا مِّنْہُ مِنَ النَّارِ،حَتّٰی فَرْجَہُ بِفَرْجِہِ))
’’جو شخص کسی مومن غلام کو آزاد کرتا ہے،اللہ تعالیٰ اس کے ایک ایک عضو کے عوض آزاد کرنے والے کو جہنم کی آگ سے آزاد کر دیتا ہے یہاں تک کہ(ہاتھ کے عوض ہاتھ اور پاؤں کے عوض پاؤں اور)شرم گاہ کے عوض شرم گاہ کو آزاد کر دیتا ہے۔‘‘[4]
٭ آزاد کرنے کی حکمت:
انسان کو غلامی کے نقصانات سے بچانا تاکہ وہ اپنی جان اور منافع کا مالک بن جائے اور اپنے ارادہ و اختیار کے مطابق اپنی جان اور منافع کے بارے میں فیصلہ کر سکے۔
٭ آزادی کے احکام:
1: مالک کے صریح لفظ:’’میں نے تجھے آزاد کر دیا ہے یا تو آزاد ہے۔‘‘ وغیرہ کہنے سے غلام آزاد ہو جاتا ہے۔اسی طرح کنائی الفاظ سے بھی،بشرطیکہ آزاد کرنے کی نیت سے کہے جائیں،غلام آزاد قرار پاتا ہے جیسا کہ میں نے تیرا راستہ کھلا کر دیا ہے۔یا میرا تیرے اوپر کوئی اختیار نہیں ہے۔‘‘
2: عاقل و بالغ،جو اپنے معاملات کو خوش اسلوبی سے سمجھتا ہے،کا آزاد کرنا ہی معتبر ہے جو اپنے مال میں تصرف کرنے کا مجاز ہے۔بنا بریں مجنون،نابالغ بچہ اور کم عقل جس پر مال میں تصرف کرنے کی پابندی ہے،اپنا غلام آزاد نہیں کر سکتے،اس لیے کہ یہ اپنے مال میں تصرف کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔
3: اگر غلام دو یا زیادہ آدمیوں کی مشترکہ ملکیت میں ہے اور ایک نے اپنا حصہ آزاد کر دیا اور وہ آزاد کرنے والا مال دار ہے تو وہ باقیوں کے حصے بھی ان کی قیمت ادا کر کے آزاد کرے گا۔لیکن اگر تنگ دست ہے تو جتنا اس نے آزاد کیا وہ آزاد ہے باقی غلام،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
((مَنْ أَعْتَقَ شِرْکًا لَّہُ فِي عَبْدٍ،فَکَانَ لَہُ مَالٌ یَّبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ قُوِّمَ الْعَبْدُ عَلَیْہِ قِیمَۃَ عَدْلٍ فَأَعْطٰی شُرَکَاؤَہُ حِصَصَھُمْ،وَعَتَقَ عَلَیْہِ الْعَبْدُ وَإِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مِنْہُ مَا عَتَقَ))
’’جو شخص مشترک غلام میں اپنا حصہ آزاد کرتا ہے اور اس کے پاس(پورے)غلام کی قیمت بھی ہے،پھر اس نے اپنے دیگر حصہ داروں کو ان کے حصے کی منصفانہ قیمت ادا کر دی تو وہ سارا آزاد ہو جائے گا،ورنہ جتنا آزاد ہو گا سو ہو گیا۔‘‘[1]
4: اگر کوئی شخص اپنا غلام آزاد کرنا کسی شرط کے ساتھ مشروط کرتا ہے تو شرط کے پائے جانے پر وہ آزاد ہو گا،ورنہ نہیں،مثلاً:کہتا ہے کہ ’’اگر میری عورت نے بچہ جنم دیا تو تو آزاد ہے،چنانچہ بچہ جنم دیتے ہی وہ غلام آزاد ہوجائے گا۔‘‘
5: جو اپنے غلام کا اکیلا مالک ہے اور اس نے اس کا کچھ حصہ آزاد کر دیا تو اس کا باقی بھی آزاد ہو جائے گا،[2] اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
’مَنْ أَعْتَقَ شِرْکًَا لَّہُ فِي عَبْدٍ ....‘ ’’جس نے غلام میں موجود اپنے حصے کو آزاد کیا۔‘‘٭
اسی طرح آپ کا یہ فرمان:’مَنْ أَعْتَقَ شَقِیصًا مِّنْ مَّمْلُوکِہِ ....‘ ’’جس نے اپنے مال سے غلام میں موجود اپنے حصے کو آزاد کیا تو وہی اسے اپنے مال سے پوری رہائی دلائے۔‘‘[1]
6: اگر کوئی شخص مرض الموت میں ایک یا زیادہ غلام آزاد کرتا ہے تو ایک تہائی جائیداد کے اندر وہ آزاد ہوں گے،اس لیے کہ مرض الموت میں غلام آزاد کرنا وصیت کی مانند ہے اور وصیت تہائی سے زائد میں جائز نہیں ہے۔
تدبیر کا بیان:
٭ تدبیر کی تعریف:
غلام کی آزادی کو مالک کی موت کے ساتھ معلق کرنا تدبیر کہلاتا ہے،مثلاً:مالک غلام کو یہ کہے کہ تو میری موت کے بعد آزاد ہے۔ایسا غلام مالک کی موت کے بعد آزاد ہو جائے گا۔
٭ تدبیر کا حکم:
غلام ’’مدبر‘‘ کرنا جائز ہے،الّا یہ کہ مالک کی ملکیت میں اس غلام کے علاوہ اور کوئی جائیداد نہ ہو تو پھر تدبیر ناجائز٭ ہے۔صحیح بخاری و مسلم میں جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
((أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ غُلَامًا لَّہُ عَنْ دُبُرٍ فَاحْتَاجَ،فَأَخَذَہُ النَّبِيُّ صلی اللّٰه علیہ وسلم فَقَالَ:’مَنْ یَّشْتَرِیہِ مِنِّي؟‘ فَاشْتَرَاہُ نُعَیْمُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بِکَذَا وَکَذَا(بِثَمَانِ مِائَۃِ دِرْھَمٍ)(فَأَخَذَ ثَمَنَہُ)فَدَفَعَہُ إِلَیْہِ))
’’ایک شخص نے اپنا غلام موت کے بعد آزاد کرنے کا کہا،پھر وہ خود محتاج ہو گیا۔آپ نے فرمایا:’’مجھ سے یہ غلام کون خریدتا ہے۔‘‘ چنانچہ نعیم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے آٹھ سو درہموں کے عوض اسے خرید لیا اور آپ نے یہ رقم غلام کے مالک کو دے دی اور فرمایا(اس محتاجی میں)تو اس کا زیادہ مستحق ہے۔‘‘[2]
٭ تدبیر میں حکمت:
مسلمان کے لیے سہولت اور آسائش پہنچانا مطلوب ہے کہ ایک شخص غلام آزاد کرنا چاہتا ہے مگر وہ زندگی میں اس کی خدمت کا بھی ضرورت مند ہے،اگر وہ اسے اپنی زندگی کے بعد آزاد کر دے تو آزادی کے ثواب کا مستحق ہو جائے گا اور زندگی بھر اس کی خدمت بھی اسے حاصل رہے گی۔
٭ تدبیر کے احکام:
1: مالک اپنے غلام کو جب یہ کہے کہ’ ’تو میرے بعد آزاد ہے۔‘‘یا ’’میں نے تجھے مدبر
٭ یعنی جب ایک مشترک غلام کا ایک حصہ آزاد کر دیا جائے تو اسلام دیگر حصہ داروں کو اس کی قیمت دے کر پورا غلام آزاد کرنے کی ترغیب دیتا ہے تو جو ایک ہی مالک کا غلام ہے اگر اسے جزوی آزادی مل جائے تو اسلام اس کی مکمل آزادی کو کیوں نہیں چاہے گا۔
٭ کیونکہ یہی غلام اس کا کل ترکہ ہے جب یہی آزاد ہو گیا تو اس کی تجہیز و تکفین کا کیا بنے گا۔اگر مقروض ہے تو قرض کہاں سے ادا ہو گا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ورثاء کو کیا ملے گا۔واللہ اعلم(ع،ر)
قرار دیا ہے۔‘‘یا ’’جب میں مر جاؤں گا تو تو آزاد ہے۔‘‘وغیرہ تو وہ غلام’ ’مدبر‘‘قرار پاتا ہے۔
2: موت کے بعد مدبر تہائی میں سے آزاد ہو گا۔٭ اگر تہائی میں آزاد نہیں ہو سکتا تو بقدر تہائی وہ آزاد ہوگا۔صحابہ رضی اللہ عنہم و تابعین رحمۃ اللہ علیہم کا مسلک یہی ہے،اس لیے کہ اس کا حکم وصیت کی طرح ہے اور وصیت کا نفاذ تہائی میں ہو سکتا ہے۔
3: ’’تدبیر‘‘کو شرط سے بھی معلق کیا جا سکتا ہے،لہٰذا شرط کے پائے جانے سے غلام مدبر ہو گا ورنہ نہیں،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((اَلْمُسْلِمُونَ عَلٰی شُرُوطِھِمْ))’’مسلمان اپنی طے(شدہ)شرطوں کی پابندی کریں۔‘‘[1]
مثلاً:مالک کہتا ہے:’’اگر میں اس بیماری میں فوت ہو گیا تو تو آزاد ہے۔‘‘ چنانچہ وہ اسی بیماری میں فوت ہو گیا تو اس کا غلام آزاد ہو جائے گا۔اگر فوت نہ ہوا تو وہ آزاد نہیں ہو گا۔
4: مدبرکو ادائیگی ٔ قرض یا کسی اور ضرورت کے تحت فروخت کیا جا سکتا ہے جیسا کہ(ابھی گزرا ہے کہ)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مالک کی ضرورت کی بنا پر اس کا ’’مدبر غلام‘‘ فروخت کر دیا تھا۔[2] اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنی مدبرہ لونڈی کو،جس نے ان پر جادو کر دیا تھا،فروخت کر دیا تھا۔اسے امام شافعی نے روایت کیا ہے۔[3]
5: لونڈی مدبرہ اگر حاملہ ہے(مالک سے نہیں بلکہ اس کے شوہر سے)تو اس کا حمل بھی اس کے ساتھ مدبر ہے،مالک کی موت سے وہ بھی آزاد ہو جائے گا،اس لیے کہ ابن عمر اور جابر رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں:((وَلَدُ الْمُدَبَّرَۃِ بِمَنْزِلَتِھَا))’’مدبرہ کی اولاد بھی اس کے حکم میں ہے۔‘‘[4]
6: مالک اپنی مدبرہ لونڈی سے ہم بستری کر سکتا ہے،اس لیے کہ وہ اس کی ملکیت میں ہے اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿إِلَّا عَلَىٰ أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ﴾’’مگر اپنی بیویوں یا مملوکہ لونڈیوں سے(جماع کرنے میں)بلاشبہ انھیں ملامت نہیں ہے۔‘‘[5]
جمہور صحابہ رضی اللہ عنہم مدبرہ لونڈی کے ساتھ وطی کے جواز کے قائل ہیں۔
7: اگر مدبر نے اپنے مالک کو قتل کر دیا تو وہ آزاد نہیں ہو سکے گا اور اس کی تدبیر باطل قرار پائے گی تاکہ مدبر اپنے مالکوں کو اپنی آزادی حاصل کرنے کے لیے قتل نہ کر سکیں۔
مکاتبت کا بیان:
٭ مکاتب غلام کی تعریف:
مالک اپنے غلام کے ساتھ معاہدہ کرلے کہ اگر تو مجھے اتنی اقساط میں
٭ یعنی اگر کل ترکے کی تہائی،اس غلام کی قیمت کے برابر ہے تو وہ آزاد ہو جائے گاورنہ بقدر تہائی آزاد ہوگا۔(ع،ر)
اتنا مال ادا کردے تو تو آزاد ہے اور اس کی تحریر ہو جائے۔اس صورت میں جملہ قسطیں ادا کرنے کے بعد وہ غلام آزاد ہو جائے گا۔
٭ مکاتبت کا حکم:
غلام کے ساتھ اس انداز کا معاہدہ کرنا مستحب ہے،اس لیے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَالَّذِينَ يَبْتَغُونَ الْكِتَابَ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا ۖ وَآتُوهُم مِّن مَّالِ اللّٰهِ الَّذِي آتَاكُمْ﴾
’’اورتمھارے جو غلام تم سے مکاتبت٭چاہیں اگر تم ان میں خیر محسوس کرو تو ان سے مکاتبت کر لو اور اللہ کے مال میں سے جو اس نے تمھیں دیا ہے،انھیں بھی دو۔‘‘[1]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((مَنْ أَعَانَ مُجَاھِدًا فِي سَبِیلِ اللّٰہِ أَوْغَارِمًا فِي عُسْرَتِہِ أَوْ مُکَاتَبًا فِي رَقَبَتِہِ،أَظَلَّہُ اللّٰہُ فِي ظِلِّہِ یَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّہُ))
’’جو شخص مقروض یا غازی یا مکاتب کے ساتھ تعاون کرتا ہے،اسے اللہ تعالیٰ اپنے سائے میں جگہ دے گا جس دن اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں ہو گا۔‘‘[2]
٭ مکاتب کے احکام:
1: مکاتبت کی آخری قسط ادا کرنے پر غلام آزاد ہو جائے گا۔
2: جب تک غلام نے ایک درہم بھی ادا کرنا ہے،وہ غلام ہے۔متعدد صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا قول یہی ہے اور عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کی روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((اَلْمُکَاتَبُ عَبْدٌ مَّا بَقِيَ عَلَیْہِ مِنْ مُّکَاتَبَتِہِ دِرْھَمٌ))’’ جب تک مکاتب پر ایک درہم بھی باقی ہے وہ غلام ہے۔‘‘[3]
3: مالک پر لازم ہے کہ وہ مکاتب کے ساتھ تعاون کرے تاکہ وہ قسطیں ادا کر کے آزاد ہو سکے،اس لیے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے:﴿فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ﴾’’اور اللہ کے مال میں سے جو اس نے تمھیں دیا ہے،انھیں بھی دو۔‘‘[4]
4: اگر غلام ایک ہی بار یا چند اقساط میں پوری قسطیں جمع کرانا چاہے تو مالک پر لازم ہے کہ وہ قبول کر لے اور اسے آزاد کر دے،اِ لَّا یہ کہ اس کا اس میں نقصان ہوتا ہو۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے یہی فیصلہ مروی ہے۔(المغني)
5: غلام کے قسطیں ادا کرنے سے پہلے اگر مالک فوت ہو جائے تو غلام مالک کے ورثاء کو بقیہ اقساط ادا کر دے گا اور اگر ادائیگی نہ کر سکا تو وہ مالک کے ورثاء کا غلام قرار پائے گا۔
6: مالک غلام کو سفر اور کام کرنے سے نہیں روک سکتا،البتہ وہ اسے شادی کرنے سے منع کر سکتا ہے،اس لیے کہ آپ کا فرمان ہے:
((أَیُّمَا عَبْدٍ تَزَوَّجَ بِغَیْرِ إِذْنِ مَوَالِیہِ فَھُوَ عَاھِرٌ))
٭ مکاتبت اس تحریری معاہدہ کو کہا جاتا ہے جو مالک اور غلام کے مابین قسطیں ادا کرنے کے لیے لکھا جاتا ہے۔(الاثری)
’’جو غلام اپنے مالکوں کی اجازت کے بغیر نکاح کر لے،وہ زانی ہے۔‘‘[1]
7: مالک اپنی مکاتبہ لونڈی سے وطی نہیں کر سکتا،اس لیے کہ مکاتبت کی وجہ سے وہ اس کی خدمت نہیں کرے گی اور نہ اس سے نفع حاصل کر سکتا ہے اور وطی بھی ان منافع میں سے ہے جو مکاتبت کی وجہ سے منقطع ہو جاتے ہیں۔جمہور ائمہ رحمۃ اللہ علیہم کی یہی رائے ہے۔
8: مکاتب اگر قسط ادا نہ کر سکے اور دوسری قسط کا وقت ہو جائے تو مالک اسے عاجز قرار دے کر غلام بنا سکتا ہے،حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’مکاتب کو اس وقت ’’رقیق‘‘ بنایا جائے،جب لگاتار دو قسطیں اس پر آ جائیں اور وہ ادا نہ کر سکے۔‘‘[2]
9: مکاتبہ لونڈی کا بچہ بھی اس کے ساتھ آزاد ہو جائے گا،اگر اس نے اپنی پوری قسطیں ادا کر دیں لیکن اگر قسطیں ادا کرنے سے قاصر رہی تو بچہ بھی اس کے ساتھ غلام قرار پائے گا،چاہے ’’مکاتبت‘‘کے وقت حمل تھا یا ’’مکاتبت‘‘کے بعد لونڈی حاملہ ہوئی۔یہی جمہور علماء کا مذہب ہے۔
10: ’’مکاتب‘‘ عاجز ہو جائے تو اس کے ہاتھ میں جو مال ہے،وہ سب مالک کی ملکیت ہو جائے گا،الّا یہ کہ اسے زکاۃ میں سے مال دیا گیا ہو تو اس صورت میں مالدار مالک اسے نہیں لے گاکیونکہ زکاۃ کے مستحق فقراء و مساکین ہیں۔
ام ولد کا بیان:
٭ ام ولد کی تعریف:
وہ لونڈی جس کے ساتھ اس کا مالک ہم بستر ہوا اور اس سے اولاد پیدا ہوگئی،ام ولد کہلاتی ہے۔
٭ لونڈی سے جماع کرنے کا حکم:
لونڈی کا مالک اس سے ہم بستر ہو سکتا ہے تو جب اولاد پیدا ہو گی،وہ ’’ام ولد‘‘ بن جائے گی،اس لیے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ﴿٢٩﴾إِلَّا عَلَىٰ أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ﴾
’’اور وہ لوگ جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔مگر اپنی بیویوں اور لونڈیوں سے کہ بلاشبہ(ان سےجماع کرنے پر)انھیں کچھ ملامت نہیں۔‘‘[3]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ماریہ قبطیہ سے مجامعت کی جن سے ابراہیم رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تو آپ نے فرمایا:((أَعْتَقَھَا وَلَدُھَا))
’’اس کے بچے نے اسے آزاد کر دیا ہے۔‘‘[4]
اسی طرح ہاجرہ علیہا السلام(اسماعیل علیہ السلام کی والدہ)حضرت ابراہیم خلیل الرحمن علیہ السلام کی لونڈی تھیں۔
٭ لونڈی سے مجامعت کی حکمت:
1: لونڈی کے ساتھ شفقت کہ اس کی شہوانی حاجت براری کا قانونی انتظام ہو۔٭
2: ’’ام ولد‘‘ ہونے کی صورت میں مالک کی وفات کے بعد اسے آزادی کی نعمت حاصل ہو گی۔
3: بیوی کے انداز پر مالک کے ساتھ رہنے سے گھر کے ایک فرد کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور صفائی،لباس،خوراک اور بستر میں سردار مالک کے ہاں قابل اعتنا ہو گی۔
4: جو مسلمان آزاد عورت سے نکاح کرنے کی استعداد نہیں رکھتا،وہ لونڈی کے ساتھ نباہ اور مجامعت کی صورت میں اچھی زندگی بسر کرسکتاہے۔٭یہ بھی اس پر تخفیف اور رحمت کی ایک صورت ہے۔
٭ ام ولد کے احکام:
1: جملہ امور،مثلاً:خدمت،وطی،آزادی،حد،پردہ اور نکاح میں یہ مکمل لونڈی کی طرح ہے،البتہ اسے فروخت نہیں کیا جا سکتاکیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بیع سے منع کیا ہے،نیز سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اس پر فتویٰ ہے۔[1]اور اس لیے بھی کہ اس کی بیع کا جواز،اس متوقع آزادی کے منافی ہے جو اسے مالک کی موت کی صورت میں حاصل ہو جائے گی۔
2: مالک کی موت کے نتیجے میں یہ آزاد قرارپائے گی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:((أَیُّمَا أَمَۃٍ وَّلَدَتْ مِنْ سَیِّدِھَا فَھِيَ حُرَّۃٌ بَعْدَ مَوْتِہِ))
’’جو لونڈی اپنے سردار کا بچہ جنم دے چکی ہے،وہ اس کی موت کے بعد آزاد ہے۔‘‘[2]
3: لونڈی کا بچہ مکمل تخلیق و تصویر کے بعد اگر ساقط ہو جائے تو بھی وہ ام ولد ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے:
((إِذَا وَلَدَتِ الْأَمَۃُ مِنْ سَیِّدِھَا فَقَدْ عَتَقَتْ،وَإِنْ کَانَ سِقْطًا))’’جب لونڈی اپنے سردار سے بچہ جنم دے،خواہ وہ ناتمام ہی ہو تو وہ آزاد ہو جائے گی۔‘‘[3]
4: ام ولد مسلمہ ہے یا کافرہ،وہ آزاد ہو گی،تاہم بعض علماء کافرہ کی آزادی کے قائل نہیں ہیں مگر نص کا عموم اس میں فرق نہیں کرتا اور جمہور کا مسلک بھی یہی ہے۔
5: مالک کی وفات کے بعد ام ولد آزاد ہو گی۔لیکن اس کے ساتھ جو مال ہے،وہ مالک کے ورثاء کا ہے،اس لیے کہ سردار کی موت سے پہلے وہ لونڈی تھی اور لونڈی کا مال سردار کی ملکیت ہوتا ہے،جو اب ورثاء کی طرف منتقل ہو جائے گا۔
6: مالک کی وفات کے بعد ام ولد ایک ماہواری بطور’ ’استبرائے رحم‘‘ انتظار کرے گی،اس لیے کہ وہ آزادی کے بعد
٭ اگر مالک اس کی خدمت کا محتاج ہے جس کی وجہ سے نہ وہ اسے آزاد کرتا ہے اور نہ ہی کسی سے اس کی شادی کرتا ہے اور اسے اس سے ہم بستر ہونے سے بھی روک دیا جائے تو لونڈی لازماً بدکاری کی راہ اختیار کرے گی اس کا حل اسلام نے یہ نکالا کہ مالک کو اس سے ہم بستر ہونے کی قانونی اجازت دے دی،یہ اجازت صرف مالک کو ہے نہ کہ اس کے کسی عزیز کو۔(ع،ر)٭کیونکہ آزاد عورت کی نسبت لونڈی کے حقوق کی ادائیگی آسان ہے۔(ع،ر)
اس کی ملکیت سے خارج ہو رہی ہے۔
ولاء کا بیان:
ولاء کی تعریف:
آزادی کے نتیجے میں غلام کا آزاد کرنے والے کے ساتھ جو تعلق و رشتہ قائم ہوتا ہے،اسے ولاء کہتے ہیں اور آزاد کرنے والا اس کا عصبہ قرار پاتا ہے۔غلام کے مرتے وقت اگر اس(غلام)کا کوئی عصبہ نسبی نہیں ہے تو یہ آزاد کرنے والااور اس کی عدم موجودگی میں اس کے عصبات(رشتہ دار)اس آزاد شدہ غلام کے وارث ہوتے ہیں،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:((إِنَّمَا الْوَلَائُ لِمَنْ أَعْتَقَ))’’ولاء کا حق اس کے لیے ہے جس نے آزاد کیا ہے۔‘‘[1]
٭ ولاء کا حکم:
ولاء مشروع اور جائز ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ﴾’’یہ غلام تمھارے دینی بھائی اور دوست ہیں۔‘‘[2]
اور آپ کا فرمان ہے:((إِنَّمَا الْوَلَائُ لِمَنْ أَعْتَقَ))’’(وراثت)ولاء اس کے لیے ہے جس نے(غلام کو)آزاد کیا ہے۔‘‘[3]
اور آپ نے یہ بھی فرمایا:((اَلْوَلَائُ لُحْمَۃٌ کَلُحْمَۃِ النَّسَبِ،لَا یُبَاعُ وَلَا یُوھَبُ))’’ولاء نسب کے تعلق کی طرح ایک تعلق ہے۔اسے نہ بیچا جا سکتا ہے اور نہ ہبہ کیا جا سکتا ہے۔‘‘[4]
٭ ولاء کے احکام:
1: جس طرح بھی غلام آزاد ہوا ہومکاتبت کے ذریعے یا تدبیر کی صورت میں یا کسی اور ذریعے سے(بہر صورت)ولاء اس شخص کے لیے ہو گی جس نے اسے آزاد کیا۔
2: ولاء نہ بیچی جا سکتی ہے اور نہ ہبہ کی جا سکتی ہے۔بنا بریں یہ تعلق بیع و ہبہ وغیرہ کے ذریعے سے کسی اور کی طرف منتقل بھی نہیں کیا جا سکتا،٭ اس لیے کہ یہ ایک نسب ہے اور نسب فروخت کی جانے والی چیز نہیں ہے اور نہ کسی حال میں اسے ہبہ کیا جا سکتا ہے جیسا کہ آپ کا فرمان عالی ہے:((اَلْوَلَائُ لُحْمَۃٌ کَلُحْمَۃِ النَّسَبِ،لَا یُبَاعُ وَلَا یُوھَبُ))
’’ولاء نسب کی طرح ایک تعلق ہے،جسے نہ بیچا جا سکتا ہے اور نہ ہبہ کیا جا سکتا ہے۔‘‘[5]
3: ولاء میں آزاد کرنے والا مرد ہے یا عورت،وہ آزاد کردہ غلام یا لونڈی کا وارث ہو گا۔اگر آزاد کرنے والاشخص اپنے آزاد کردہ غلام کی وفات کے وقت زندہ موجود نہیں تو اس کے عصبہ نسبی وارث ہوں گے،وہ بھی مرد،عورتیں وارث نہیں ہوں گی جیسا کہ ’’علم میراث‘‘ میں اس کی توضیح ہو چکی ہے۔
٭ آزاد کرنے والااپنے علاوہ کسی دوسرے شخص کو ولاء کا حق دار نہیں بنا سکتا،پیسے کے لالچ میں نہ محبت کے ہاتھوں مجبور ہو کر۔(ع،ر)