آداب و حقوق
آدابِ تلاوت
قرآن مجید کی تلاوت کرتے وقت ہر مسلمان پر درج ذیل امور کا التزام کرنا ضروری ہے:
1: بہترین حالت میں تلاوت کلام پاک کرے،یعنی باوضو اور قبلہ رخ ہو کر اور ادب و وقار کے ساتھ بیٹھ کر پڑھے۔
2: تلاوت میں جلدی نہ کرے بلکہ ٹھہر ٹھہر کر پڑھے اور تین رات سے کم میں پورا قرآن نہ پڑھے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’لَمْ یَفْقَہْ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ‘’’جس نے قرآن تین رات سے کم(مدت)میں پڑھا،اس نے اسے نہیں سمجھا۔‘‘ [2]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے کہا تھا کہ وہ سات راتوں میں قرآن مجید ختم کریں۔اسی طرح عبداللہ بن مسعود،عثمان بن عفان اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم بھی سات راتوں میں ایک بار قرآن مجید ختم کیاکرتے تھے۔
3: خشوع و خضوع کے ساتھ تلاوت کرے،حزن و غم کا اظہار کرے اور اپنے اوپر رونے کی کیفیت طاری کرے۔
آپ نے فرمایا:’فَإِذَا قَرَأْتُمُوہُ فَابْکُوا،فَإِنْ لَّمْ تَبْکُوا فَتَبَاکَوْا‘’’جب تم قرآن کی تلاوت کرو تو روؤ اور اگر رونا نہ آئے تو رونے جیسی کیفیت ہی بنا لو۔‘‘ [3]
4: اچھی آواز سے تلاوت کرے۔(اور ہرممکن حد تک الفاظ کے صحیح تلفظ پر توجہ دے)اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’زَیِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِکُمْ‘ ’’اپنی آواز وں کے ساتھ قرآن کو مزین کرو۔‘‘ [4]
نیز فرمایا:’لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَّمْ یَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ‘ ’’جو اچھی آواز سے قرآن نہیں پڑھتا،وہ ہم میں سے نہیں ہے۔‘‘ [5]
مزید فرمایا:’مَا أَذِنَ اللّٰہُ لِشَيْئٍ مَّا أَذِنَ لِنَبِيٍّ حَسَنِ الصَّوْتِ یَتَغَنّٰی بِالْقُرْآنِ‘
’’اللہ تعالیٰ کسی بات(کو سننے)کے لیے(اتنی خوشی سے)کان نہیں لگاتا جتنا(خوش ہوکر)خوش آواز پیغمبرکے قرآن کے لیے کان لگاتا ہے جو اچھی آواز سے اسے پڑھتا ہے۔‘‘[1]
5: دکھاوے اور ریاکاری کی خواہش پیدا ہونے کا اندیشہ ہو یا کسی نمازی کی نماز میں خلل واقع ہونے کا خطرہ ہو تو تلاوت آہستہ آواز سے کرے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے:’اَلْجَاہِرُ بِالْقُرْآنِ کَالْجَاہِرِ بِالصَّدَقَۃِ‘
’’بلند آواز سے تلاوت کرنے والا،اس شخص جیسا ہے جو اعلانیہ خیرات کرتا ہے۔‘‘ [2]
اور یہ بات واضح ہے کہ خیرات پوشیدہ کرنی بہتر ہے،اِ لاَّ یہ کہ ظاہر کرنے میں کوئی(دینی)فائدہ مدنظر ہو،جیسے لوگوں کو خیرات کرنے پر آمادہ کرنا وغیرہ،تلاوت قرآن کا حکم بھی یہی ہے۔
6: قرآن کے معنی و مفہوم پر غور و تدبر کرتے ہوئے تلاوت کرے،تعظیم ملحوظ رکھے،حضورِ قلب کے ساتھ پڑھے اور معانی و اسرار پر پوری توجہ دے۔
7: تلاوت کے وقت غفلت و اعراض سے بچے اور اس کے احکام کی مخالفت کرنے والا نہ بنے،کہیں ایسا نہ ہو کہ خود ہی اس کی لعنت کا مستحق بن جائے،مثلاً:جب ایک انسان اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان پڑھتا ہے:﴿لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظَّالِمِينَ﴾’’خبردار!اللہ کی لعنت ظالموں پر ہے۔‘‘ [3]
اور یہ فرمان:﴿فَنَجْعَل لَّعْنَتَ اللّٰهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ﴾’’پھر ہم اللہ کی لعنت جھوٹے لوگوں پر کر دیں۔‘‘ [4]
تو اگر پڑھنے والا خود ظالم اور جھوٹا ہو تو یہ لعنت اسی پر واقع ہو گی۔اللہ محفوظ رکھے۔آمین!
8: تلاوت کرتے وقت پوری کوشش کرے کہ اللہ والوں کی صفات اس میں پیدا ہو جائیں اور انھی کی علامتیں اس میں نظر آئیں۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:قرآن پاک کی تلاوت کرنے والا رات میں پہچانا جاتا ہے جب لوگ سو رہے ہوتے ہیں،دن میں پہنچانا جاتا ہے جب لوگ کھا پی رہے ہوتے ہیں،رونے سے اس کی پہچان ہوتی ہے جبکہ لوگ ہنس رہے ہوتے ہیں،پرہیزگاری اس کی علامت ہے۔وہ خاموش طبع ہے۔خشوع و خضوع سے متصف ہے اور اللہ کے خوف و رجا کی کیفیت اس پر طاری ہے۔جبکہ عام لوگ ان صفاتِ عالیہ سے عاری ہوتے ہیں۔[5]
محمد بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:بیداری اور نیند کی کمی کی بنا پر جسم کی زردی سے ہم پہچان لیتے تھے کہ فلاں شخص قرآن کا قاری ہے۔[1]
وہیب بن ورد رحمہ اللہ کہتے ہیں:ایک آدمی کو کہا گیا کہ تم سوتے کیوں نہیں ؟ اس نے جواب دیا کہ قرآن کے عجائب نے میری نیند اڑا دی ہے،پھر ذوالنون کا یہ شعر پڑھا:
مَنَعَ الْقُرْآنُ بِوَعْدِہٖ وَ وَعِیدِہٖ مُقِیلَ الْعُیُونِ بِلَیْلِہَا أَنْ تَہْجَعَا
فَہِمُوا عَنِ الْمَلِکِ الْکَرِیمِ کَلَامَہٗ فَہْمًا تَذِلُّ لَہُ الرِّقَابُ وَ تَخْضَعَا
’’قرآن کے وعدہ و و عید نے راتوں میں آنکھوں کی نیند ختم کردی ہے۔انھوں نے معزز بادشاہ کے کلام کو سمجھ لیا ہے،تب ہی تو ان کی گردنیں اس کے آگے نیچی اور جھکی ہوئی ہیں۔‘‘[2]