آداب و حقوق

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ادب

ایک مسلمان کا شعوری احساس یہ ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پوری طرح ادب ملحوظ رکھنا فرض اور لازم ہے کیونکہ 1: ہر مومن مرد،عورت پر اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے صراحتاً اپنے کلام میں نبی(صلی اللہ علیہ وسلم)کے آداب ملحوظ خاطر رکھنے کو لازم قرار دیا۔ارشادِ الٰہی ہے:﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ وَرَسُولِهِ ۖ﴾ ’’اے ایمان والو!اللہ اور اس کے رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)سے آگے مت بڑھو۔‘‘ [3] ارشادِ عالی ہے:﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَن تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُونَۖ﴾اے ایمان والو!اپنی آوازیں نبی(صلی اللہ علیہ وسلم)کی آواز سے اونچی نہ کرو اور ان کے سامنے ایسے زور سے نہ بولو جیسے تم ایک دوسرے کے سامنے بولا کرتے ہو۔کہیں ایسا نہ ہو کہ تمھارے اعمال ضائع ہو جائیں اور تمھیں پتہ بھی نہ چلے۔‘‘ [4] فرمانِ الٰہی ہے:﴿إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ عِندَ رَسُولِ اللّٰهِ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوَىٰ ۚ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ عَظِيمٌ﴾ ’’بے شک جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنی آواز پست رکھتے ہیں،ان کے دل اللہ نے تقویٰ کے لیے آزما لیے ہیں۔ان کے لیے مغفرت اور بڑا ثواب ہے۔‘‘ [1] فرمانِ عالی ہے:﴿إِنَّ الَّذِينَ يُنَادُونَكَ مِن وَرَاءِ الْحُجُرَاتِ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ﴿٤﴾وَلَوْ أَنَّهُمْ صَبَرُوا حَتَّىٰ تَخْرُجَ إِلَيْهِمْ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ﴾’’بے شک جو لوگ آپ کو حجروں کے پیچھے(باہر)سے پکارتے ہیں،ان میں اکثر بے عقل ہیں اور اگر یہ آپ کے نکلنے تک صبر کر لیتے تو یہ ان کے لیے بہتر تھا۔‘‘ [2] حق تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿لَّا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُم بَعْضًا﴾ ’’(مومنو!)پیغمبر کے بلانے کو اس طرح خیال نہ کرنا جس طرح تمھارا ایک دوسرے کو بلانا ہے۔‘‘ [3] ایک جگہ فرمایا:﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللّٰهِ وَرَسُولِهِ وَإِذَا كَانُوا مَعَهُ عَلَىٰ أَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ يَذْهَبُوا حَتَّىٰ يَسْتَأْذِنُوهُ﴾ ’’مومن تو وہ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)پر ایمان لائے اور جب کسی اجتماعی کام کے لیے پیغمبر کے ساتھ ہوں تو وہ اس سے اجازت لیے بغیر نہیں جاتے۔‘‘[4] ارشادِ ربانی ہے:﴿إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَأْذِنُونَكَ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِاللّٰهِ وَرَسُولِهِ ۚ فَإِذَا اسْتَأْذَنُوكَ لِبَعْضِ شَأْنِهِمْ فَأْذَن لِّمَن شِئْتَ مِنْهُمْ﴾’’بے شک جو لوگ آپ سے اجازت طلب کرتے ہیں(پھر کہیں جاتے ہیں)،وہی اللہ اور اس کے رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)کے ساتھ ایمان رکھتے ہیں،سو جب یہ لوگ کسی کام کے لیے آپ سے اجازت مانگیں تو ان میں سے جس کے لیے چاہیں آپ اجازت دے دیں۔‘‘ [5] ارشادِ گرامی ہے:﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَةً ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَأَطْهَرُ ۚ فَإِن لَّمْ تَجِدُوا فَإِنَّ اللّٰهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ﴾ ’’اے ایمان والو!جب تم اللہ کے رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)کے ساتھ سرگوشی کرو تو سرگوشی کرنے سے پہلے(مساکین کو)خیرات کرو،یہ(عادت)تمھارے لیے بہتر اور پاک کرنے والی ہے۔اگر تم(خیرات کے لیے)کوئی چیز نہ پاؤ تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ [6] 2: ایمانداروں پر اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و محبت،لازم و فرض قرار دی ہے۔ ارشادِ ربانی ہے:﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللّٰهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ﴾ ’’اے ایمان والو!اللہ اور(اس کے)رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)کی اطاعت کرو۔‘‘ [7] مزید فرمایا:﴿فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ ’’جو لوگ اس(رسول)کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں،انھیں ڈرنا چاہیے(ایسا نہ ہو)کہ انھیں کوئی آزمائش یا دردناک عذاب پہنچ جائے۔‘‘ [1] نیز فرمایا:﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا﴾’’اور رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)تم کو جو دے،وہ لے لو اور جس سے منع کرے،اس سے رک جاؤ۔‘‘ [2] اور فرمایا:﴿قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو۔اللہ بھی تم سے محبت کرے گا اور تمھاری کوتاہیاں معاف کر دے گا۔‘‘ [3] جس ہستی کی فرماں برداری فرض و لازم اور نافرمانی حرام ہو،ہر حال میں اس کے آداب کا لحاظ ضروری ہے۔ 3:اللہ عزوجل نے آپ کو امام اورحاکم مقرر کیا ہے۔ارشاد الٰہی ہے:﴿انَّا أَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَاكَ اللّٰهُ﴾ ’’یقینا ہم نے تجھ پر سچی کتاب نازل کی ہے تاکہ تم اللہ کے دکھائے ہوئے طر یق پر لوگوں میں فیصلے کرو۔‘‘ [4] ارشادِ عالی ہے:﴿وَأَنِ احْكُم بَيْنَهُم بِمَا أَنزَلَ اللّٰهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ﴾ ’’اور اللہ نے جو اتارا ہے،اس کے مطابق ان میں فیصلہ کریں اور ان کی خواہشات کے پیچھے نہ چلیں۔‘‘[5] ارشادِ ربانی ہے:﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾ ’’تیرے رب کی قسم!یہ مومن نہیں ہو سکتے حتیٰ کہ آپس کے تمام اختلافات میں آپ کو حاکم تسلیم کر لیں اور پھر جو فیصلہ آپ ان میں کر دیں،اس سے اپنے اندر کسی قسم کی تنگی نہ پائیں اور(اسے)صحیح طور پر تسلیم کر لیں۔‘‘ [6] ارشادِ گرامی ہے:﴿لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللّٰهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللّٰهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ﴾ ’’یقینا اللہ اور آخرت کی امید رکھنے والوں کے لیے،اللہ کے رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)کی ذات میں بہترین نمونہ ہے۔‘‘[7] 4:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے آپ کی محبت ضروری قرار دی ہے،چنانچہ آپ کا ارشادِ عالی ہے:’(وَالَّذِي نَفْسِي بِیَدِہِ)لَا یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتّٰی أَکُونَ أَحَبَّ إِلَیْہِ مِنْ وَّالِدِہِ وَوَلَدِہِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ‘ ’’اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا حتیٰ کہ میں اس کے ہاں،اس کے والدین،اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ عزیز ہو جاؤں۔‘‘ [1] 5: ربِّ کائنات نے آپ کو خصوصی جسمانی و اخلاقی حسن و جمال سے نوازا ہے،نفس و ذات کے تمام تر کمالات آپ کو عطا کیے ہیں۔چنانچہ آپ سب سے زیادہ خوبصورت اور اکمل ہیں،پھر ایسی ذات کا احترام کیوں ضروری نہ ہو؟ آپ کے ادب کو واجب کر دینے والی چیزوں میں سے بعض امور کا ہم نے تذکرہ کردیا ہے۔اس سلسلہ میں یہ جاننا انتہائی ضروری ہے کہ آخر آپ کا ادب ملحوظ رکھنے کا مقصد کیا ہے؟اور آپ کے احترام میں کیا امور داخل ہیں ؟ 1. ہر بات میں آپ کی پیروی کرنا اور دین و دنیا کی سب راہوں میں آپ کے نقشِ قدم پر چلنا ہی آپ کا ادب ہے۔ 2. آپ کی محبت اور توقیر و تعظیم پر کسی اور کی محبت اور توقیر و تعظیم فائق نہیں ہے،چاہے مخلوق میں سے کوئی بھی ہو۔ 3. جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دوستی ہے،اس سے محبت اور جس سے دشمنی ہے،اس سے بغض اور جس کام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پسند کیا،اس پر رضا اور جس کام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوئے ہیں،اس پر ناراض ہونا بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ادب ہے۔ 4. آقائے نامدار(صلی اللہ علیہ وسلم)کے تذکرہ کے وقت آپ کے نام کی جلالت و توقیر کو ملحوظ رکھنا،آپ پر درود پڑھنا،آپ کی عاداتِ مبارکہ و صفاتِ عالیہ کو بڑا جاننا بھی آپ کا ادب ہے۔ 5. دین و دنیا کی جس بات کی نبی ٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے یا دنیاوی و اخروی حیات کے جن خفیہ گوشوں کی آپ نے نشاندہی کی ہے،اس کی پوری تصدیق کرنا۔ 6. آپ کے طریقۂ عالیہ کے احیا کی سعی کرنا اور شریعتِ اسلامیہ کو پھیلانا،نیز آپ کے پیغام کا ابلاغ اور آپ کی وصیتوں کا نفاذ بھی آپ کا ادب ہے۔ 7. جو شخص مسجد نبوی میں یاآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کے پاس آئے تو ادب و احترام کا تقاضا یہ ہے کہ اپنی آواز پست رکھے۔ 8. آپ کی محبت کی بنیاد پر نیک لوگوں سے محبت اور ان سے دوستی رکھنا جبکہ فاسق ونافرمان لوگوں سے بغض و عداوت اور دشمنی رکھنا بھی آپ ہی کے ساتھ محبت کا اظہار ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ادب و احترام کے یہ چند نتائج ہیں،جنھیں ملحوظ رکھنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کیونکہ اس پر کمال و سعادت کا حصول موقوف ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ادب کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور آپ کا تابع فرمان بنائے،دین کی نصرت میں ہم سے کام لے اور آخرت میں آپ کی شفاعت کا ہمیں مستحق بنائے۔آمین!