آداب و حقوق
توبہ
اس سے مراد یہ ہے کہ انسان اللہ کی نافرمانیوں سے فی الفور دور ہو جائے اور پہلے گناہوں پر اظہارِ ندامت کرے اور آئندہ کے لیے یہ پختہ عزم کرے کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور گناہ پھر کبھی نہیں کروں گا۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللّٰهِ تَوْبَةً نَّصُوحًا عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يُكَفِّرَ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ﴾
’’اے ایمان لانے والو!اللہ کی طرف خالص توبہ(رجوع)کرو،امید ہے وہ تم سے تمھاری برائیاں دور کر دے گا اور تمھیں باغات میں،جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں،داخل کرے گا۔‘‘ [2]
نیز ارشاد فرمایا:﴿وَتُوبُوا إِلَى اللّٰهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾
’’اور اے ایمان والو!سب اللہ کی طرف توبہ(رجوع)کرو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔‘‘ [3]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’یَاأَ یُّہَا النَّاسُ!تُوبُوا إِلَی اللّٰہِ فَإِنِّي أَتُوبُ إِلَی اللّٰہِ فِي الْیَوْمِ مِائَۃَ مَرَّۃٍ‘
’’اے لوگو!اللہ کی طرف توبہ(رجوع)کرو۔میں بھی دن میں اللہ تعالیٰ کی طرف سو بار توبہ(رجوع)کرتا ہوں۔‘‘ [4]
نیز فرمایا:’مَنْ تَابَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَّغْرِبِہَا تَابَ اللّٰہُ عَلَیْہِ‘
’’جس نے سورج کے مغرب سے طلوع ہونے سے پہلے توبہ کر لی،اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لیں گے۔‘‘ [5]
مزید فرمایا:((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَبْسُطُ یَدَہُ بِاللَّیْلِ لِیَتُوبَ مُسِيئُ النَّہَارِ،وَ یَبْسُطُ یَدَہُ بِالنَّہَارِ لِیَتُوبَ مُسِيئُ اللَّیْلَ،حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَّغْرِبِہَا))
’’بے شک اللہ عزوجل رات کو اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ دن میں گناہ کرنے والا توبہ کر لے اور دن کو ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ رات کو گناہ کرنے والا توبہ کر لے حتی کہ سورج مغرب سے طلوع ہوجائے۔‘‘[1]
اور فرمایا:((لَلّٰہُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَۃِ عَبْدِہِ الْمُؤْمِنِ مِنْ رَّجُلٍ فِي أَرْضٍ دَوِیَّۃٍ مَہْلَکَۃٍ،مَعَہُ رَاحِلَتُہُ عَلَیْہَا طَعَامُہُ وَ شَرَابُہُ فَنَامَ فَاسْتَیْقَظَ وَ قَدْ ذَہَبَتْ،فَطَلَبَہَا حَتّٰی أَدْرَکَہُ الْعَطَشُ،ثُمَّ قَالَ:أَرْجِعُ إِلٰی مَکَانِيَ الَّذِي کُنْتُ فِیہِ فَأَنَامُ حَتّٰی أَمُوتَ،فَوَضَعَ رَأْسَہُ عَلٰی سَاعِدِہِ لِیَمُوتَ فَاسْتَیْقَظَ وَ عِنْدَہُ رَاحِلَتُہُ وَ عَلَیْہَا زَادُہُ وَ طَعَامُہُ وَ شَرَابُہُ،فَاللّٰہُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَۃِ الْعَبْدِ الْمُؤْمِنِ مِنْ ہٰذَا بِرَاحِلَتِہِ وَ زَادِہِ))
’’یقینا اللہ اپنے مومن بندے کی توبہ پر اس آدمی سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جو مہلک ویرانے میں ہو،اس کے ساتھ اس کی سواری ہو جس پر اس کے کھانے،پینے کی چیزیں ہوں اور پھر وہ سو جائے،بیدار ہو کر دیکھے تو اس کی سواری غائب ہو،پھر اسے تلاش کرتے کرتے پیاس لگ جائے۔آخر کار(دل میں)کہے کہ اسی جگہ جا کر سوجاتا ہوں حتیٰ کہ میری موت واقع ہو جائے۔پھر وہ مرنے کے لیے کلائی پر سر رکھ کر لیٹ جائے جب بیدار ہوتا ہے تو اچانک دیکھتا ہے کہ اس کی سواری اس کے سامنے موجود ہے جس پراس کا زادِ راہ،طعام و مشروب لدا ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ پر اس آدمی سے بڑھ کر خوش ہوتا ہے جو(گم ہونے کے بعد)اپنی سواری،اور زادِ راہ کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔‘‘ [2]
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ اور دیگر لوگوں نے ان کی توبہ قبول ہونے پر مبارکباد دی تھی۔[3]