آداب و حقوق

مراقبہ

مسلمان اپنی زندگی کے لمحات میں اللہ عزوجل کو پیشِ نظر رکھتا ہے اور یقین کرتا ہے کہ وہ اس کے ہر عمل سے آگاہ ہے،اوراس کے خفیہ گوشوں پر بھی اس کی نظر ہے اور وہ اس کی ہر حرکت کو دیکھ رہا ہے۔اس طرح اسے اللہ عزوجل کے جلال و کمال میں استغراق کی کیفیت حاصل ہوتی ہے،پھر اس کی یاد میں اسے اطمینان حاصل ہوتا ہے،اس کی اطاعت و فرماں برداری میں وہ فرحت و سرور محسوس کرتا ہے،اس کے قرب و جوارمیں رہنا اسے پسند آتا ہے اور وہ اسی کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اغیار سے منہ موڑ لیتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے مندرجہ ذیل فرمان میں مذکور ’’اپنے چہرے کو اللہ کے حوالے کرنے‘‘ کا یہی مطلب ہے:﴿وَمَنْ أَحْسَنُ دِينًا مِّمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلّٰهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ﴾’’اور اس سے بہتر دین کس کا ہے جو اپنا چہرہ اللہ کے سپرد کرتا ہے اس حال میں کہ وہ نیکی کرنے والا ہے؟‘‘ [4] ارشادِ ربانی ہے:﴿وَمَن يُسْلِمْ وَجْهَهُ إِلَى اللّٰهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَىٰ﴾ ’’اور جو اپنا چہرہ اللہ کے مطیع کر دے اور وہ اخلاص والا بھی ہو،پس اس نے مضبوط کڑا پکڑ لیا۔‘‘ [1] اور درج ذیل آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے اسی چیز کی دعوت دی ہے:﴿وَاعْلَمُوا أَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا فِي أَنفُسِكُمْ فَاحْذَرُوهُ﴾ ’’اور جان لو کہ بے شک اللہ تمھارے دلوں کی باتیں(بھی)جانتا ہے،پس اس سے ڈرو۔‘‘ [2] نیز فرمایا:﴿إِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا﴾’’بے شک اللہ تم پر نگران ہے۔‘‘ [3] مزید فرمایا:﴿وَمَا تَكُونُ فِي شَأْنٍ وَمَا تَتْلُو مِنْهُ مِن قُرْآنٍ وَلَا تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُودًا إِذْ تُفِيضُونَ فِيهِ﴾ ’’اور تم جس حال میں ہوتے ہو اور قرآن پڑھتے ہو اور جو بھی عمل کرتے ہو،ہم تمھارے سامنے ہوتے ہیں،جب تم اس میں مشغول ہوتے ہو۔‘‘ [4] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احسان کے متعلق ایک سوال کے جواب میں فرمایا:’أَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَأَنَّکَ تَرَاہُ،فَإِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَإِنَّہُ یَرَاکَ‘ ’’تو اللہ کی عبادت اس طرح کرے کہ گویا تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تو(تصور میں)اسے دیکھ نہیں سکتا تو(اتنا تصور ضرور ہوکہ)وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔‘‘ [5] سلف صالحین رحمۃ اللہ علیہم کا یہی طریقِ کار رہا،اسی طرح انھیں یقینِ کامل نصیب ہوا اور وہ مقربین کے درجہ پر فائز ہوئے۔چند اقوالِ مبارکہ ملاحظہ فرمائیے: ٭ جنید رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ نظر نیچی رکھنے میں کون سی چیز معاون بن سکتی ہے؟ فرمایا:تمھارا یہ جان لینا کہ تجھے دیکھنے والے کی نظر زیادہ تیز ہے تیری اس نگاہ سے جو کسی کی طرف اٹھ رہی ہے۔[6] ٭ سفیان ثوری رحمہ اللہ کہتے ہیں:اس(اللہ تعالیٰ)کی طرف نظر رکھ کہ جس سے کوئی چیز مخفی نہیں،اس سے امید قائم کر جو وفا اور عطا کا مالک ہے اور اس سے ڈر جو سزا دینے پر قادر ہے۔[7] ٭ عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے ایک شخص سے کہا:اے شخص!اللہ کے مراقبہ میں رہ۔اس نے پوچھا:کس طرح؟ فرمایا:ہمیشہ اس طرح رہ کہ گویا تو اللہ عزوجل کو دیکھ رہا ہے۔[8] اور بعض نے مراقبہ کی بابت درج ذیل اشعار ذکر کیے ہیں: إِذَا مَا خَلَوْتَ الدَّہْرَ یَوْمًا فَلَا تَقُلْ خَلَوْتُ وَلٰکِنْ قُلْ عَلَيَّ رَقِیْبُ ’’جب توکبھی کسی جگہ اکیلا ہو تو یہ نہ کہہ کہ میں اکیلا ہوں بلکہ یہ کہہ کہ میرے اوپر ایک نگران ہے۔‘‘ وَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰہَ یَغْفُلُ سَاعَۃً وَلَا أَنَّ مَا تُخْفِي عَلَیْہِ یَغِیبُ ’’اور یہ گمان مت کر کہ اللہ ایک لمحہ بھی غافل ہے اور نہ یہ گمان کر کہ جو کچھ تو اس سے چھپاتا ہے،وہ چیز اس سے غائب ہے۔‘‘ أَلَمْ تَرَ أَنَّ الْیَوْمَ أَسْرَعُ ذَاہِبٍ وَأَنَّ غَدًا لِّلنَّاظِرِینَ قَرِیبُ ’’کیا تو نہیں دیکھتا کہ آج کا دن کتنی تیزی سے جا رہا ہے اور آنے والا کل،دیکھنے والوں کے کتنا قریب ہے۔‘‘[1]