آداب و حقوق
محاسبہ
ایک مسلمان اپنے آپ کا محاسبہ اس طرح کرے کہ وہ دنیا کی اس زندگی میں دن رات نیک عمل کرتا رہے تاکہ دارِ آخرت میں یہ عمل اس کے لیے مفید بن جائیں،اس کی عزت افزائی کا باعث بنیں اور اسے اللہ جل شانہ کی رضاحاصل ہو۔دنیا کاروبار کا زمانہ ہے جس میں اللہ عزوجل کے مقرر کردہ فرائض اصل سرمایہ ہیں جن کی حفاظت انتہائی ضروری ہے۔نوافل اصل سرمایہ سے زائد منافع ہیں جس کے لیے پوری توجہ دینی چاہیے اور گناہ و معاصی سرمائے کا خسارہ ہیں جن سے ہمیں بچنا ہے۔ہر دن انسان اپنے یومیہ عمل کا اس طرح محاسبہ کرے کہ اگر فرائض میں کمی آ رہی ہے تو خود کو ملامت کرے،زجر و توبیخ کرے اور ان کی تلافی کی کوشش شروع کر دے،اگر ان کی قضا ہو سکتی ہے تو کرے اگر قضا ممکن نہیں تو نوافل سے ان کی تلافی کرے،اسی طرح اگر نوافل میں کمی محسوس کرتا ہے تو اس کمی کو پورا کرے اور اگر گناہوں کے ارتکاب سے خسارہ ہو رہا ہے تو استغفار،ندامت،انابت اور عملِ خیر کے ذریعے خرابی کی اصلاح کرے۔محاسبۂ نفس کا یہی مطلب ہے اور نفس کی اصلاح،تزکیہ اور تطہیر کا یہی ایک راستہ ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَلْتَنظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ۖ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۚ إِنَّ اللّٰهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ﴾
’’اے ایمان والو!اللہ سے ڈرو اور ہر نفس دیکھے کہ کل(قیامت)کے لیے اس نے کیا آگے بھیجا ہے۔اور اللہ سے ڈرو،بے شک اللہ تمھارے اعمال کی خبر رکھتا ہے۔‘‘ [2]
یہاں اللہ تعالیٰ کے فرمان:وَلْتَنظُرْ نَفْسٌ میں نفس کے محاسبہ کا حکم ہے کہ اس نے کل،جس کا انتظار کیا جا رہا ہے،کے لیے کیا کچھ آگے بھیجا ہے۔
نیز فرمایا:﴿وَتُوبُوا إِلَى اللّٰهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾
’’اور اے مومنو!سب اللہ کی طرف رجوع کرو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔‘‘ [1]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’إِنِّي أَتُوبُ إِلَی اللّٰہِ وَ أَسْتَغْفِرُہُ فِي الْیَوْمِ مِائَۃَ مَرَّۃٍ‘
’’میں اللہ کی طرف رجوع کرتا ہوں اور ایک دن میں سوسو بار اس سے بخشش طلب کرتا ہوں۔‘‘ [2] عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’حَاسِبُوا أَنْفُسَکُمْ قَبْلَ أَنْ تُحَاسَبُوا‘ ’’اس سے قبل کہ تم سے حساب لیا جائے،خود اپنا محاسبہ کر لو۔‘‘ [3]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ رات کے وقت اپنے پاؤں پر درہ مارتے اور فرماتے:تو نے آج کیا کام کیا ہے؟
باغ میں مصروفیت کی وجہ سے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نماز سے غافل رہے تو انھوں نے سارا باغ خیرات کر دیا۔یہ محاسبٔہ نفس انھوں نے خود کو سزا دینے اور تادیب سکھانے کے طور پر کیا تھا۔
اس امت کے صالحین رحمۃ اللہ علیہم اپنی کمزوریوں کا اسی طرح جائزہ لیتے تھے اور تقویٰ کا التزام کرتے اور نفس کی خواہشات سے اجتناب کرتے تھے۔یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے درج ذیل فرمان پر عمل کا نتیجہ تھا:﴿وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ﴿٤٠﴾فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَىٰ﴾
’’اور جو اپنے رب کے آگے کھڑا ہونے سے ڈر گیا اور اپنے نفس کو خواہش سے بچا لیا،پس اس کا ٹھکانا جنت ہے۔‘‘[4]