حقوق العباد
بیوی کے حقوق
1: خاوند معروف طریقے کے ساتھ عورت سے نباہ کرے،جیسا کہ اللہ نے حکم دیا ہے:
﴿وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾’’اور ان(عورتوں)کے ساتھ دستور کے مطابق نباہ کرو۔‘‘ [5]
یعنی جب کھانا کھائے تو اسے کھلائے،کپڑا پہنے تو اسے بھی پہنائے،اس کی طرف سے نافرمانی کا خطرہ محسوس کرے تو اللہ کے حکم کے مطابق گالی گلوچ اور برا بھلا کہے بغیر اسے سمجھائے اگر کہا مان لے تو فبہا،ورنہ بستر کی جدائی اختیار کرے،اگر اس سزا سے درست ہو جائے تو بہتر،ورنہ چہرے کو چھوڑ کر ایسی معمولی ضرب کرے کہ اس کا خون بہائے نہ اسے زخمی کرے اور نہ ہی اس کا کوئی عضو توڑے۔حکم ربانی ہے:﴿وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ ۖ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا﴾
’’اور جن عورتوں کی نافرمانی کاتمھیں اندیشہ ہو تو انھیں سمجھاؤ اور(اگر نہ سمجھیں تو)شب باشی میں الگ کر دو اور(اگر اس پر بھی باز نہ آئیں تو)انھیں مارو اور اگر وہ تمھاری اطاعت کرنے لگیں تو پھر ان پر اور کوئی راستہ تلاش نہ کرو۔‘‘ [1]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے پوچھا:شوہر پر بیوی کے کیا حقوق ہیں ؟
تو آپ نے فرمایا:’أَنْ تُطْعِمَہَا إِذَا طَعِمْتَ،وَ تَکْسُوَہَا إِذَا اکْتَسَیْتَ،وَلَا تَضْرِبِ الْوَجْہَ،وَلَا تُقَبِّحْ وَلَا تَہْجُرْ إِلَّا فِي الْبَیْتِ‘
’’کہ جب تو کھانا کھائے اسے بھی کھلا،جب تو لباس پہنے اسے بھی پہنا،اس کے منہ پر نہ مار،اسے برا نہ کہہ اورعلیحدگی کو صرف گھر تک محدود رکھ۔‘‘ [2]
مزید فرمایا:’أَلَا!وَ حَقُّہُنَّ عَلَیْکُمْ أَنْ تُحْسِنُوا إِلَیْہِنَّ فِي کِسْوَتِہِنَّ وَطَعَامِہِنَّ‘
’’خبردار!تم پر عورتوں کا یہ حق ہے،کہ تم انھیں اچھا لباس اور اچھا کھانا مہیا کرو۔‘‘ [3]
نیز فرمایا:’لَا یَفْرَکْ مُؤْمِنٌ مُّؤْمِنَۃً،إِنْ کَرِہَ مِنْہَا خُلُقًا رَضِيَ مِنْہَا آخَرَ‘
’’کوئی مومن ایمان والی عورت سے نفرت نہ کرے،(اس لیے کہ)اگر اسے اس کی ایک عادت ناپسند ہے تو دوسری پسند آ جائے گی۔‘‘ [4]
2: بیوی کو ضروری دینی احکام سکھائے یا اسے اجازت دے کہ وہ مجالس علم و وعظ میں شریک ہو کراکتسابِ علم کرے،اس لیے کہ عورت کو کھانے پینے کی چیزوں کی نسبت،اپنے دین اور روح کی اصلاح کی زیادہ ضرورت ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا﴾
’’اے ایمان والو!اپنے آپ کو اور گھر والوں کو آگ سے بچاؤ۔‘‘ [5]
عورت بھی گھر والوں میں شامل ہے،لہٰذا ایمان اور عملِ صالح کے ساتھ اسے جہنم سے بچانا ضروری ہے اور عملِ صالح کے لیے علم و معرفت کی ضرورت ہے۔تاکہ علم کی بنیاد پر وہ اپنے عمل اور ایمان کو درست کر سکے اور اس لیے بھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((أَلَا!وَاسْتَوْصُوا بِالنِّسَائِ خَیْرًا،فَإِنَّمَا ہُنَّ عَوَانٍ عِنْدَکُمْ))
’’سنو!عورتوں کے بارے میں اچھی وصیت قبول کرو،وہ تمھارے پاس(رہنے کے لیے)پابند ہو چکی ہیں۔‘‘ [1]
اور ان کے لیے اچھی وصیت میں سے یہ بھی ہے کہ اسے اپنے دین کو درست کرنے کے لیے معلومات مہیا کی جائیں اور استقامت و اصلاحِ حال کے لیے اس کی تادیب و تربیت کا انتظام کیا جائے۔
3: اسلامی تعلیمات و آداب پر عمل پیرا ہونے کا اسے پابند کرے،بے پردہ باہر نکلنے اور غیر محرم مردوں کے اختلاط سے اسے منع کرے اور اس پر یہ بھی لازم ہے کہ اس کی حفاظت اور پوری نگہداشت کرے،اخلاقی اور عملی خرابیوں سے اسے بچائے،اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام سے بغاوت اور گناہ و فجور کی زندگی گزارنے کے لیے اس کے لیے میدان کھلا نہ چھوڑے،اس لیے کہ وہ ذمہ دار و نگہبان ہے،اس کی حفاظت اور صیانت اس کی ذمہ داری ہے۔
ارشادِ حق تعالیٰ ہے:﴿الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ﴾’’مرد عورتوں پر ذمہ دار ہیں۔‘‘ [2]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((اَلرَّجُلُ رَاعٍ فِي أَہْلِہٖ وَہُوَ مَسْؤلٌ عَنْ رَّعِیَّتِہٖ))
’’مرد اپنے اہل پر حاکم(اور ذمہ دار)ہے اور اس کی ذمہ داری کے بارے میں اس سے پوچھا جائے گا۔‘‘[3]
4: اگر دو یا دو سے زیادہ بیویاں ہوں تو ان کے درمیان مساوات وانصاف روا رکھے۔خور و نوش،لباس و رہائش اور رات گزارنے میں ان کے مابین عدل اور برابری کرے۔ان امور میں ظلم و زیادتی روا نہ رکھے کیونکہ اللہ جل شانہ نے اسے حرام قرار دیا ہے۔فرمانِ الٰہی ہے:﴿فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾’’اگر تمھیں خطرہ ہو کہ عدل و انصاف نہ کر سکو گے تو ایک ہی(سے نکاح کرو)یا جو(لونڈیاں)تمھاری ملکیت میں ہیں۔‘‘ [4]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ بھلائی کی وصیت فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:’خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِأَہْلِہٖ،وَ أَنا خَیْرُکُمْ لِأَہْلِي‘ ’’تم میں بہتر وہ ہے جو اپنے اہل کے لیے بہتر ہو اور میں اپنے اہل کے لیے تم سب سے بہتر ہوں۔‘‘[1]
5:اپنی بیوی کا کوئی راز ظاہر نہ کرے اور نہ اس کے کسی عیب کا تذکرہ کرے،اس لیے کہ وہ اس کا امین ہے اور اس کی حفاظت،نگہداشت اور دفاع کا اسے حکم دیا گیا ہے۔فرمانِ نبوی ہے:
’إِنَّ مِنْ أَشَرِّ النَّاسِ عِنْدَ اللّٰہِ مَنْزِلَۃً یَّوْمَ الْقِیَامَۃِ الرَّجُلَ یُفْضِي إِلَی امْرَأَتِہٖ وَ تُفْضِي إِلَیْہِ ثُمَّ یَنْشُرُ سِرَّہَا‘
’’اللہ کے نزدیک اس انسان کا ٹھکانہ قیامت کے دن بدترین ہو گا جو اپنی بیوی کے ساتھ تعلق قائم کرنے کے بعد اس کا راز ظاہر کرتا ہے۔‘‘ [2]