حقوق العباد

خاوند کے حقوق

1: اللہ کی نافرمانی کے سوا عورت مرد کی ہر بات کی فرماں برداری کرے۔ارشادِ حق تعالیٰ ہے: ﴿فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا﴾’’اگر وہ تمھارا کہا مان لیں تو پھر ان پر اور کوئی راستہ تلاش نہ کرو۔‘‘[3] اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَہٗ إِلٰی فِرَاشِہٖ فَلَمْ تَاْتِہٖ فَبَاتَ غَضْبَانَ عَلَیْہَا،لَعَنَتْہَا الْمَلَائِکَۃُ حَتّٰی تُصْبِحَ‘ ’’جب مرد اپنی عورت کو اپنے بستر پر بلائے لیکن وہ اس کے پاس نہ جائے اور وہ(خاوند)ناراض ہی رات گزار دے تو فرشتے اس عورت پر صبح تک لعنت کرتے رہتے ہیں۔‘‘[4] نیز فرمایا:’لَوْ کُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ یَّسْجُدَ لِأَحَدٍ لَّأَمَرْتُ الْمَرْاَۃَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِہَا‘ ’’اگر میں کسی کو حکم دینے والا ہوتا کہ وہ کسی(غیر اللہ)کو سجدہ کرے تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔‘‘[5] 2: خاوند کے مال و متاع،عزت و ناموس اور گھر کے جملہ امور میں اس کی محافظ بنے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُ﴾ ’’نیک عورتیں خاوندوں کی تابع فرماں ہیں،غیب میں(خاوندوں کی غیر حاضری میں ان کے حقوق کی)حفاظت کرنے والی ہیں،اس لیے کہ اللہ نے(ان کے)حقوق محفوظ رکھے ہیں۔‘‘ [1] آپ نے فرمایا:’وَالْمَرْأَۃُ رَاعِیَۃٌ عَلٰی بَیتِ زَوْجِہَا وَوَلِدِہٖ‘ ’’اور عورت اپنے خاوند کے گھر اور اس کی اولاد کی نگران ہے۔‘‘ [2] نیز فرمایا:’فَأَمَّا حَقُّکُمْ عَلٰی نِسَآئِ کُمْ،فَلَا یُوطِئْنَ فُرُشَکُمْ مَّنْ تَکْرَھُونَ،وَلَا یَأْذَنَّ فِي بُیُوتِکُمْ لِمَنْ تَکْرَہُونَ‘ ’’تمھارا ان پر یہ حق ہے کہ وہ تمھارے بستر پر انھیں نہ آنے دیں جنھیں تم پسند نہیں کرتے اور تمھارے گھروں کے اندر انھیں آنے کی اجازت نہ دیں جنھیں تم نا پسند کرتے ہو۔‘‘ [3] 3: بیوی کو چاہیے کہ خاوند کے گھر میں رہے،اس کی اجازت و مرضی کے بغیر نہ نکلے،اپنی نظر نیچی رکھے،اونچی آواز سے کلام نہ کرے،اپنے ہاتھ کو برائی سے روکے اور زبان کو فحش کلامی سے بچائے۔رشتہ داروں کے ساتھ احسان میں وہی معاملہ اختیار کرے جو اس کا خاوند اختیار کیے ہوئے ہے۔اس لیے کہ جو عورت مرد کے والدین اور قرابت داروں کے ساتھ اچھی نہیں ہے،وہ خاوند کے لیے اچھی کہاں ہوئی؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَىٰ﴾ ’’اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور(عہدِ نبوت سے)پہلی جاہلیت کی طرح بناؤ سنگھار نہ کرو۔‘‘ [4] نیز فرمایا:﴿فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ﴾ ’’پس(کسی اجنبی شخص کے ساتھ)نرم لہجے سے بات نہ کرو کہ جس کے دل میں بیماری ہے وہ(برائی کا)طمع کرے گا۔‘‘ [5] مزید فرمایا:﴿لَّا يُحِبُّ اللّٰهُ الْجَهْرَ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلَّا مَن ظُلِمَ﴾’’اللہ تعالیٰ اعلانیہ بری بات کہنے کو پسند نہیں کرتا مگر جس پر ظلم کیا گیا ہو۔‘‘[6] نیز حکم ربانی ہے:﴿وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا﴾ ’’اور مومن عورتوں سے کہیے کہ اپنی آنکھیں جھکا کر رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کا اظہار نہ کریں،سوائے اس چیز کے جو(عادتًا)ظاہر ہو جاتا ہے۔‘‘[7] فرمانِ نبوی ہے:’خَیْرُ النِّسَائِ الَّتِي إِذَا نَظَرْتَ إِلَیْہَا سَرَّتْکَ،وَ إِذَا أَمَرْتَہَا أَطَاعَتْکَ،وَ إِذَا غِبْتَ عَنْہَا حَفِظَتْکَ فِي نَفْسِہَا وَ مَالِکَ‘ ’’بہترین بیوی وہ ہے کہ جب تو اسے دیکھے تو تجھے خوش کرے،جب تو اسے حکم کرے تو تیری اطاعت کرے اور جب تو اس سے غائب ہو تو اپنے نفس اور تیرے مال کی حفاظت کرے۔‘‘ [1] نیز فرمایا:’لَا تَمْنَعُوا إِمَائَ اللّٰہِ مَسَاجِدَ اللّٰہِ،وَ إِذَا اسْتَأْذَنَتْ أَحَدَکُمْ امْرَأَتُہُ إِلَی الْمَسْجِدِ فَلَا یَمْنَعْہَا‘ ’’اللہ کی بندیوں کو مساجد سے نہ روکو اگر کسی کی عورت اس سے مسجد جانے کی اجازت طلب کرے تووہ اسے منع نہ کرے۔‘‘ [2] مزید فرمایا:’اِئْذَنُوا لِلنِّسَائِ بِاللَّیْلِ إِلَی الْمَسَاجِدِ‘ ’’عورتوں کو رات کے وقت مساجد میں جانے کی اجازت دے دیا کرو۔‘‘ [3]