حقوق العباد

قرابت داروں کے حقوق

قریبی رشتہ داروں کے ساتھ مسلمان کا وہی برتاؤ ہوتا ہے جو والدین،اولاد اور بھائیوں کے ساتھ ہوتا ہے،وہ خالہ کو ماں کی طرح سمجھتا ہے۔چچا کو باپ کی حیثیت دیتا ہے جس طرح والدین کے ساتھ نباہ کرتا ہے،ماموں اور چچا کے لیے اطاعت شعاری و فرماں برداری کے بھی وہی جذبات رکھتا ہے،غرضیکہ جس کے ساتھ بھی اس کی کسی درجہ کی قرابت داری ہے،چاہے وہ مومن ہے یا کافر،ان کے ساتھ تعلقات جوڑتا اور ان کے ادب و احترام کو ملحوظ رکھتا ہے۔اور اسے اولاد اور والدین کے حقوق و آداب کی طرح لازم اور ضروری گردانتا ہے۔بڑے کی عزت کرتا اور چھوٹے پر رحم کھاتا ہے،بیماروں کی بیمار پرسی کرتا ہے اور مصیبت زدہ کی ہمدردی و غم خواری۔کوئی حادثہ سے دوچار ہو جائے تو تعزیت و تسلی کے لیے جاتا ہے۔وہ اس سے قطع تعلق کرتے رہیں تو یہ تعلقات جوڑتا رہتا ہے،ان کے لیے نرم پہلو رکھتا ہے،چاہے اس پر ظلم و ستم اور سختی کریں اور یہ سب کچھ اس جذبہ کے تحت کرتا ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی حکم ہے۔ارشادِ حق تعالیٰ ہے:﴿وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ﴾ ’’اور اللہ سے ڈرو جس کا نام لے کر تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو اور رشتوں کا خیال رکھو۔‘‘ [4] ارشادِ الٰہی ہے:﴿وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَىٰ بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللّٰهِ﴾ ’’اور رشتے دار آپس میں کتاب اللہ کی رو سے ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں۔‘‘ [1] فرمانِ عالی ہے:﴿فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِن تَوَلَّيْتُمْ أَن تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ﴾ ’’تم سے یہ بھی بعید نہیں کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو تم زمین میں فساد برپا کر دو اور اپنے رشتے ناتے توڑ ڈالو۔‘‘ [2] ارشادِ عالی ہے:﴿فَآتِ ذَا الْقُرْبَىٰ حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ يُرِيدُونَ وَجْهَ اللّٰهِ ۖ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾’’پس قرابت دار،مسکین اور مسافر کواس کا حق دو۔یہ ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو اللہ کی رضا چاہتے ہیں اور یہی لوگ کامیاب ہیں۔‘‘ [3] ارشادِ ربانی ہے:﴿إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ﴾’’بے شک اللہ انصاف کا،احسان کا اور قرابت داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے۔‘‘ [4] حکم ربانی ہے:﴿وَاعْبُدُوا اللّٰهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ۖ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾ ’’اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور رشتہ داروں،یتیموں،مسکینوں،قرابت دار ہمسائے،اجنبی ہمسائے،پہلو کے ساتھی،مسافر اور غلاموں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ۔‘‘ [5] اللہ نے فرمایا:﴿وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُو الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينُ فَارْزُقُوهُم مِّنْهُ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوفًا﴾ ’’اور تقسیم(وراثت)کے وقت اگر(غیر وارث)قرابت دار،یتیم اور مساکین آ جائیں تو انھیں بھی اس میں سے کچھ دے دیا کرو اور انھیں اچھی بات کہو۔‘‘ [6] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ رب العزت فرماتے ہیں:’أَنَا الرَّحْمٰنُ،وَ ہِيَ الرَّحِمُ شَقَقْتُ لَہَا اسْمًا مِنِ اسْمِي،مَنْ وَّصَلَہَا وَصَلْتُہُ،وَ مَنْ قَطَعَہَا بَتَتُّہٗ‘ ’’میں رحمن(بہت رحم کرنے والا)ہوں۔میں نے رحم(بمعنی رشتہ کے لفظ)کو اپنے نام سے مشتق کیا(نکالا)ہے۔جو اسے(رشتے داری کو)جوڑے گا،میں اسے(اپنی رحمت سے)جوڑوں گا اور جو اسے توڑے گا میں اسے توڑوں گا۔‘‘[7] ایک صحابی(رضی اللہ عنہ)نے عرض کی:اے اللہ کے رسول!میں کس کے ساتھ حسنِ سلوک کروں ؟ آپ نے فرمایا: ((أُمَّکَ قَالَ:قُلْتُ:ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:أُمَّکَ قَالَ:ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:أُمَّکَ قَالَ:قُلْتُ:ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:أَبَاکَ،ثُمَّ الْأَقْرَبَ فَالْأَقْرَبَ)) ’’اپنی ماں کے ساتھ،عرض کی:پھر کس کے ساتھ،فرمایا:اپنی ماں کے ساتھ،عرض کیا:پھر کس سے،فرمایا:اپنی ماں کے ساتھ،عرض کیا:پھر کس سے،فرمایا:اپنے باپ کے ساتھ،پھر قریب ترین اور پھر قریب تر رشتے دار کے ساتھ(اچھا سلوک کرو۔)‘‘ [1] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے اعمال کا سوال ہوا جو بہشت میں داخل کردیں اور جہنم سے دور کردیں۔ تو آپ نے فرمایا:’تَعْبُدُ اللّٰہَ وَلَا تُشْرِکُ بِہٖ شَیْئًا،وَ تُقِیمُ الصَّلاۃَ،وَ تُؤْتِي الزَّکَاۃَ،وَ تَصِلُ الرَّحِمَ‘ ’’اللہ کی عبادت کر،اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنا،نماز قائم کر،زکاۃدے اور صلہ رحمی کر۔‘‘ [2] خالہ کے بارے میں فرمایا:’اَلْخَالَۃُ بِمَنْزِلَۃِ الْأُمِّ‘ ’’خالہ ماں کے درجے میں ہے۔‘‘ [3] اور ایک جگہ فرمایا:’اَلصَّدَقَۃُ عَلَی الْمِسْکِینِ صَدَقَۃٌ،وَ ہِيَ عَلٰی ذِي الرَّحِمِ ثِنْتَانِ صَدَقَۃٌ وَّ صِلَۃٌ‘ ’’مسکین کو خیرات دینا(صرف)صدقہ ہے اور رشتہ دار کو دینا صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی۔‘‘ [4] اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے اپنی ماں کے ساتھ صلہ رحمی کا سوال کیا،جو کہ مشرکہ تھی اور مکہ سے انھیں ملنے آئی تھی تو آپ نے جواب میں فرمایا:’نَعَمْ،صِلِي أُمَّکِ‘ ’’ہاں،اپنی ماں کے ساتھ صلہ رحمی کر۔‘‘ [5]