حقوق العباد
کافروں کے حقوق
اہلِ اسلام کا عقیدہ ہے کہ ’’دین اسلام‘‘ کے سوا تمام ملل و ادیان باطل اور ان کے ماننے والے کافر ہیں جبکہ ’’دینِ اسلام‘‘ برحق اور اس کے ماننے والے مومن اور مسلمان ہیں۔ارشادِ حق تعالیٰ ہے:﴿إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللّٰهِ الْإِسْلَامُ﴾’’بے شک اللہ کے نزدیک دین اسلام ہی ہے۔‘‘ [3]
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:﴿وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴾
’’اور جو اسلام کے علاوہ کوئی اور دین تلاش کرتا ہے،وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان(اٹھانے)والوں میں سے ہو گا۔‘‘ [4]
ارشادِ عالی ہے:﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا﴾’’آج میں نے تمھارے لیے تمھارا دین مکمل کر دیا ہے اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی ہے اور میں نے تمھارے لیے اسلام کو بطورِ دین پسند کیا ہے۔‘‘ [5]
اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے ان ارشادات کی بنیاد پر مسلمان یقین رکھتا ہے کہ اسلام سے پہلے کے ادیان منسوخ ہو چکے ہیں اور اب بنی نوع انسان کے لیے ضابطہ ٔحیات صرف ’’اسلام‘‘ کے نام سے مقرر ہے،اس کے علاوہ اللہ کسی اور دین کو قبول نہیں کرے گا اور نہ کسی دوسری شریعت پر راضی ہو گا،لہٰذا جو شخص معمولاتِ زندگی اسلام کے مطابق نہیں بناتا وہ کافر ہے۔اس سلسلہ میں درج ذیل امور کا لحاظ ضروری ہے:
1: مسلمان کافر کو کفر پر قرار نہ بخشے،اور نہ اسے پسندیدگی سے دیکھے،اس لیے کہ کفر کو پسند کرنا بھی کفر ہے۔
2: اس سے بغض رکھے،اس لیے کہ اللہ تعالیٰ بھی اس سے بغض رکھتا ہے،اور مسلمان کی محبت یا بغض اللہ کے لیے ہے چونکہ اللہ بھی کافر سے بغض رکھتا ہے،لہٰذا مسلمان کو بھی اس سے بعض رکھنا چاہیے۔
3: کافر سے دوستی اور محبت نہ رکھے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿لَّا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ﴾
’’مومن اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو دوست نہ بنائیں۔‘‘ [1] ارشادِ ربانی ہے:﴿لَّا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللّٰهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ﴾’’اللہ اورروزِ آخرت پر ایمان لانے والے لوگوں کو تو نہیں پائے گا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)کی مخالفت کرنے والوں کے ساتھ محبت کرتے ہوں،چاہے(مخالفت کرنے والے)ان کے باپ،بیٹے،بھائی یا کنبہ کے لوگ ہی کیوں نہ ہوں۔‘‘ [2]
4: اگر کافر مسلمانوں کے ساتھ حالتِ جنگ میں(محارِب)نہ ہو تو اس کے ساتھ عدل و انصاف اور نیکی کا رویہ قائم رکھنا چاہیے۔اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿لَّا يَنْهَاكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُم مِّن دِيَارِكُمْ أَن تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ ۚ إِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ﴾
’’جنھوں نے دین میں تمھارے ساتھ لڑائی نہیں کی اور تمھیں تمھارے گھروں سے نہیں نکالا،ان کے ساتھ بھلائی اور انصاف کا سلوک کرنے سے اللہ تمھیں نہیں روکتا،بے شک اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔‘‘ [3]
یہ آیتِ کریمہ کافروں کے ساتھ عدل و انصاف کرنے کی اجازت دیتی ہے اور اس بات کی بھی کہ مسلمانوں کا ان کے ساتھ رویہ اچھا ہونا چاہیے۔اس سے صرف وہ کافر مستثنیٰ ہیں جو(دین کی و جہ سے)مسلمانوں کے ساتھ حالتِ جنگ میں ہیں،یعنی محارب ہیں کیونکہ ان کے لیے مخصوص احکام ہیں۔جن کا تذکرہ ’’أحکام المحاربین‘‘ کے عنوان سے ہوتا ہے۔
5: انسانی معاملات میں مسلمانوں کا معاملہ کافر کے ساتھ بھی رحمت و مہر بانی کا ہوتا ہے،یعنی بھوکے کو کھانا کھلائے،پیاسے کو پانی پلائے،بیمار ہے تو علاج کرے،ہلاکت کا اندیشہ ہے تو بچانے کی سعی کرے اور ایذا رسانی سے اجتناب کرے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:((اِرْحَمْ مَّنْ فِي الْأَرْضِ یَرْحَمْکَ مَنْ فِي السَّمَائِ))
’’تو زمین والوں پر رحم کر،آسمان والا تجھ پر رحم کرے گا۔‘‘ [1] نیز آپ کا ارشاد ہے:
’فِي کُلِّ ذَاتِ کَبِدٍ رَّطْبَۃٍ أَجْرٌ‘ ’’ہر زندہ،جگر والی مخلوق(کا بھلا کرنے)میں اجر ہے۔‘‘ [2]
6: اگر کافر حربی نہ ہو تو اس کے مال،خون اور عزت میں اسے ایذا نہ دے۔آپ نے فرمایا:
((قَالَ اللّٰہُ:یَا عِبَادِي!إِنَّي حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلٰی نَفْسِي،وَجَعَلْتُہُ بَیْنَکُمْ مُّحَرَّمًا فَلَا تَظَالَمُوا))
’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:’’اے میرے بندو!میں نے ظلم کرنے کو اپنے نفس پر حرام کر لیا ہے اور تمھارے لیے بھی اسے حرام قراردے دیا ہے،پس ایک دوسرے پر ظلم و زیادتی نہ کرو۔‘‘ [3]
نیز فرمایا:’مَنْ آذٰی ذِمِّیًّا فَأَنَا خَصْمُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ‘ ’’جو شخص کسی ذمی کو ایذا دیتا ہے،میں قیامت کے دن اس کا دشمن ہوں گا۔‘‘ [4]
7: کافر کو تحفے تحائف دینا جائز ہے،جیسا کہ اس سے تحفے قبول کرنا جائز ہے اور اگر وہ یہودی یا نصرانی اہل کتاب میں سے ہو تو اس کا کھانا(ذبیحہ)بھی کھایا جا سکتا ہے۔اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے:﴿وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَّكُمْ﴾’’اور اہل کتاب کا طعام(ذبیحہ)تمھارے لیے حلال ہے۔‘‘ [5]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں صحیح سند سے ثابت ہے کہ مدینہ منورہ میں آپ نے یہود کے کھانے کی دعوت قبول کی اور ان کا پیش کردہ کھانا کھایا۔[6]
8: کفار کے ساتھ مومنہ عورت کا نکاح نہیں ہو سکتا،البتہ کتابیہ عورت،یعنی عیسائی یا یہودی عورت کا مسلمان مرد سے نکاح ہو سکتا ہے۔اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے مومنہ عورت کو مطلق طور پر کفار کے ساتھ نکاح کرنے سے منع فرمایا ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:﴿لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ﴾
’’نہ مسلمان عورتیں ان(کافروں)کے لیے حلال ہیں اور نہ وہ(کافر مرد)ان کے لیے حلال ہیں۔‘‘ [1]
اور فرمایا:﴿وَلَا تُنكِحُوا الْمُشْرِكِينَ حَتَّىٰ يُؤْمِنُوا﴾’’اور مشرک مردوں کو مومن عورتوں کا نکاح نہ دو،یہاں تک کہ وہ ایمان لے آئیں۔‘‘ [2]
البتہ کتابیہ عورت کے ساتھ مسلمان مرد کا نکاح اس حکمِ ربانی کی بنا پر جائز ہے:
﴿وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ إِذَا آتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ وَلَا مُتَّخِذِي أَخْدَانٍ﴾
’’اور تم سے پہلے جو لوگ کتاب دیے گئے ان کی شریف عورتیں(تمھارے لیے حلال ہیں)جب تم گھر آباد کرنے کے لیے ان کا حق مہر ادا کرو،نہ کہ کھلی بدکاری اور مخفی آشنائی کے لیے۔‘‘ [3]
9: کافر چھینک مارے اور اللہ کی حمد(تعریف)بیان کرے تو جواب میں مسلمان کہے:
’یَھْدِیکُمُ اللّٰہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ‘ ’’اللہ تمھیں ہدایت دے اور تمھارے حال کو درست کرے۔‘‘ [4]
اس لیے کہ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر اس غرض سے چھینک مارتے تھے کہ آپ ان کے لیے رحم کی دعا کریں گے۔مگر آپ جواب میں ’یَھْدِیکُمُ اللّٰہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ‘ ہی فرماتے۔(حوالہ مذکورہ)
10: کافر کو سلام کی ابتدا نہ کرے اگر وہ سلام کہتا ہے تو جواب میں صرف ’’وَعَلَیْکُمْ‘‘ کہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے:’إذَا سَلَّمَ عَلَیْکُمْ أَھْلُ الْکِتَابِ فَقُولُوا:وَعَلَیْکُمْ‘ ’’اہل کتاب اگر تمھیں سلام کہیں تو جواب میں وعلیکم کہو۔‘‘ [5]
11: راستے میں چلتے وقت اسے تنگ راستے کی طرف مجبور کر دے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
’لَا تَبْدَأُوا الْیَھُودَ وَلَا النَّصَارٰی بِالسَّلَامِ،وَإِذَا لَقِیتُمْ أَحَدَھُمْ فِي طَرِیقٍ فَاضْطَرُّوہُ إِلٰی أَضْیَقِہِ‘
’’یہود و نصاریٰ کو سلام کرنے میں ابتدا نہ کرو۔اگر راستہ میں ملاقات ہو جائے تو اسے تنگ راستے پر جانے پر مجبور کر دو۔‘‘ [1]
12: کافر کے ساتھ عام آدابِ زندگی میں،چاہے واجب یا غیر واجب چیز یں ہوں،مشابہت نہیں کرنی چاہیے،مثلاً:داڑھی منڈانا کافر کا وطیرہ ہے جبکہ مسلمان داڑھی بڑھاتا ہے۔کافر اسے رنگتا نہیں ہے،جبکہ مسلمان کو چاہیے کہ داڑھی کے بال رنگے۔لباس،پگڑی،ٹوپی وغیرہ میں بھی کافر کے ساتھ مشابہت نہ کرے۔ارشادِ نبوی ہے:
’مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْھُمْ‘ ’’جو کسی قوم کے ساتھ مشابہت کرتا ہے،وہ انھیں میں سے ہے۔‘‘[2]
نیز فرمایا:’خَالِفُوا الْمُشْرِکِینَ،أَحْفُوا الشَّوَارِبَ وَأَوْفُوا اللِّحٰی‘’’مشرکین کی مخالفت کرو،مونچھیں کٹاؤ اور داڑھی بڑھاؤ۔‘‘ [3]
مزید فرمایا:’إِنَّ الْیَھُودَ وَالنَّصَارٰی لَا یَصْبُغُونَ فَخَالِفُوھُمْ‘ ’’یہود و نصارٰی بال نہیں رنگتے،تم ان کی مخالفت کرو۔‘‘ [4]
اس حدیث شریف سے داڑھی یا سر کے بالوں کو زرد یا سرخ رنگ سے رنگنا مراد ہے،اس لیے کہ سیاہ رنگ استعمال کرنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔
حدیثِ نبوی ہے:’غَیِّرُوا ھٰذَا۔الشَّعْرَ الْأَبْیَضَ۔بِشَيْئٍ وَّاجْتَنِبُوا السَّوَادَ‘ ’’یہ سفید بال تبدیل کرو اور سیاہ رنگ سے اجتناب کرو۔‘‘ [5]