حقوق العباد
جانوروں کے حقوق
مسلمان کا شیوہ ہے کہ وہ جانوروں کا خیال رکھتا ہے اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے عطا کردہ جذبۂ رحم کے تحت درج ذیل امور پر عمل کرنے کی سعی کرتا رہتا ہے۔
1: بھوک اور پیاس میں ان کی خوراک اور پانی کا وافر انتظام کرنا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’فِي کُلِّ ذَاتِ کَبِدٍ حَرّٰی أَجْرٌ‘ ’’ہر زندہ،جگر والی چیز(سے اچھا سلوک کرنے)میں ثواب ہے۔‘‘ [6]
نیز فرمایا:’مَنْ لَّا یَرْحَمُ لَا یُرْحَمُ‘ ’’جو(مخلوق پر)رحم نہیں کرتا،اس پر(بھی)رحم نہیں کیا جاتا۔‘‘ [7]
مزید فرمایا:’اِرْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْضِ یَرْحَمْکُمْ مَّنْ فِي السَّمَائِ‘ ’’تم زمین والوں پر رحم کرو،آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔‘‘ [1]
2: شفقت و رحم سے برتاؤ کرنا چاہیے،ابن عمر رضی اللہ عنہما نے دیکھا کہ کچھ لوگ ایک جانور(پرندہ)کو پکڑ کر اسے اپنے تیروں سے تختۂ مشق بنا ئے ہوئے ہیں۔
اس پر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا:’إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم لَعَنَ مَنِ اتَّخَذَ شَیْئًا فِیہِ الرُّوحُ غَرَضًا‘
’’بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص پر لعنت کی ہے جو زندہ چیز کو(تیر اندازی کے لیے)ہدف بناتا ہے۔‘‘[2]
اسی طرح آپ نے جانوروں کو باندھ کر قتل کرنے سے بھی منع فرمایا ہے۔[3]
ایک دن آپ نے حمرہ،یعنی سرخ چڑیا کو دیکھا کہ اپنے بچوں کی تلاش میں سرگرداں ہے جو ایک صحابی(رضی اللہ عنہ)نے گھونسلے سے اٹھا لیے تھے تو آپ نے فرمایا:
((مَنْ فَجَّعَ ھٰذِہِ بِوَلَدِھَا؟ رُدُّوا وَلَدَھَا إِلَیْھَا))’’کس نے اسے اس کے بچوں کی وجہ سے دکھ دیا ہے۔اس کے بچے اسے واپس کر دو۔‘‘ [4]
3: ذبح یا قتل کے وقت جانور کو راحت و آرام پہنچانا چاہیے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
((إِنَّ اللّٰہَ کَتَبَ الإِْحْسَانَ عَلٰی کُلِّ شَيْئٍ،فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَۃَ،وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ،وَلْیُحِدَّ أَحَدُکُمْ شَفْرَتَہُ،فَلْیُرِحْ ذَبِیحَتَہُ))
’’بے شک اللہ نے ہر چیز کے ساتھ احسان کرنا فرض کر دیا ہے۔جب تم قتل کرو تو اچھے انداز سے قتل کرو اور جب تم جانور ذبح کرو تو اچھے انداز سے ذبح کرو اور چاہیے کہ تمھاراہر فرداپنے ذبیحہ کو راحت دے اور اپنی چھری کو تیز کر لے۔‘‘ [5]
4: جانور کو مارنا،بھوکا رکھنا،اس کی طاقت سے زیادہ اس پر بوجھ لادنا،شکل بگاڑ دینا اور اسے آگ سے جلانا،غرضیکہ ہر قسم کے عذاب دینے سے احتراز کرنا چاہیے۔حدیث نبوی ہے:
((عُذِّبَتِ امْرَأَۃٌ فِي ھِرَّۃٍ رَبَطَتْھَا حَتّٰی مَاتَتْ فَدَخَلَتْ فِیھَا النَّارَ،لَا ھِيَ أَطْعَمَتْھَا وَلَا سَقَتْھَا إِذْ حَبَسَتْھَا،وَلَا ھِيَ تَرَکَتْھَا تَأْکُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ))
’’ایک عورت کو ایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا جسے اس نے باندھ کے رکھا تھا حتیٰ کہ وہ مرگئی تو اس کی وجہ سے وہ جہنم میں داخل ہوگئی،اس نے اسے باندھ کر نہ تو کھلایا نہ پلایا اورنہ اسے چھوڑ ا کہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی۔‘‘[1]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چیونٹیوں کے بل کے پاس سے گزرے جسے آگ سے جلا دیا گیا تھا۔
آپ نے فرمایا:’إِنَّہُ لَا یَنْبَغِي أَنْ یُّعَذِّبَ بِالنَّارِ إِلَّا رَبُّ النَّارِ‘ ’’آگ کی سزا تو آگ کا مالک(اللہ)ہی دے سکتا ہے۔‘‘ [2]
5: موذی جانور،کتا،بھیڑ یا،سانپ،بچھو،چوہا اور اسی طرح کے دوسرے جانوروں کو قتل کرنا جائز ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’خَمْسٌ فَوَاسِقُ یُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ:اَلْحَیَّۃُ،وَالْغُرَابُ الْأَبْقَعُ،وَالْفَأْرَۃُ،وَالْکَلْبُ الْعَقُورُ،وَالْحُدَیَّا‘
’’پانچ موذی جانور حل و حرم میں قتل کیے جائیں:سانپ،دھاری دار سیاہ و سفید کوا،چوہا،باؤلا کتا اور چیل۔‘‘ [3]
اور اسی طرح بچھو کو مار دینا اور اس پر لعنت کرنا آپ سے ثابت ہے۔[4]
6: کسی مصلحت کے تحت جانوروں کے کانوں پر آگ کے ساتھ نشان لگانا جائز ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مبارک ہاتھوں سے صدقہ کے اونٹوں کو داغ لگائے تھے۔[5]
اونٹ،گائے اور بھیڑ بکری کے علاوہ کسی اور جانور کو آگ سے داغ لگانے کی ممانعت ہے۔آپ نے ایک گدھا دیکھا کہ اس کے منہ کو آگ سے داغا گیا تھا تو فرمایا:
’لَعَنَ اللّٰہُ الَّذِي وَسَمَہُ‘ ’’اللہ اس پر لعنت کرے جس نے اس کے چہرے کو داغا ہے۔‘‘ [6]
7: جب جانور زکاۃ کے نصاب کو پہنچ جائیں تو اللہ کا حق،یعنی زکاۃ ادا کرنا۔
8: جانوروں کے معاملات میں اتنی مشغولیت سے احتراز کرنا کہ اللہ جل شانہ کی اطاعت اور اس کا ذکر جاتا رہے۔
ارشادِ باری ہے:﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَن ذِكْرِ اللّٰهِ﴾’’اے ایمان والو!تمھارے اموال اور اولادیں تمھیں اللہ کی یاد سے غافل نہ کر دیں۔‘‘ [7]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑوں کے بارے میں فرمایا:’اَلْخَیْلُ لِثَلَاثَۃٍ:لِرَجُلٍ أَجْرٌ،وَلِرَجُلٍ سِتْرٌ،وَعَلٰی رَجُلٍ وِّزْرٌ،فَأَمَّا الَّذِي لَہُ أَجْرٌ،فَرَجُلٌ رَّبَطَھَا فِي سَبِیلِ اللّٰہِ فَأَطَالَ لَھَا فِي مَرْجٍ أَوْرَوْضَۃٍ فَمَا أَصَابَتْ فِي طِیَلِھَا ذٰلِکَ فِي الْمَرْجِ وَالرَّوْضَۃِ کَانَ لَہُ حَسَنَاتٍ،وَلَوْ أَنَّھَا قَطَعَتْ فَاسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَیْنِ کَانَتْ آثَارُھَا وَأَرْوَاثُھَا حَسَنَاتٍ لَّہُ:فِھِيَ لِذٰلِکَ الرَّجُلِ أَجْرٌ،وَرَجُلٌ رَّبَطَھَا تَغَنِّیًا وَّتَعَفُّعًا وَّلَمْ یَنْسَ حَقَّ اللّٰہِ فِي رِقَابِھَا وَلَا ظُھُورِھَا فَھِيَ لَہُ سِتْرٌ،وَرَجُلٌ رَّبَطَھَا فَخْرًا وَّرِیَائً وَّنِوَائً فَھِيَ عَلٰی ذٰلِکَ وِزْرٌ‘
’’گھوڑے تین قسم کے ہیں،آدمی کے لیے ایک باعثِ ثواب،دوسراحجابِ عذاب اور تیسرا باعثِ بوجھ۔جس کے لیے باعثِ اجروثواب ہے،وہ شخص ہے جس نے اسے اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے باندھا اور چراگاہ یا باغ میں اس کی رسی کو لمبا کر دیا،پس یہ جہاں تک چرے گا اس کے لیے باعثِ ثواب ہو گا اور اگر رسی توڑ کر ایک بلندی یا دو بلندیاں جائے گا تو اس کے نشانہائے قدم اور اس کا گوبر مالک کے لیے باعثِ اجروثواب ہو گا:اور جس کے لیے گھوڑا حجابِ عذاب ہے،وہ شخص ہے جس نے اسے مال ودولت کمانے اور سوال سے بچنے کے لیے باندھا ہوا ہے اور ان کی گردنوں اور پیٹھوں میں اللہ تعالیٰ کے حقوق کو فراموش نہیں کیا[1] تو وہ اس کے لیے(عذاب سے)بچاؤ ہے اور گھوڑا بوجھ اور وبال اس شخص کے لیے ہے جس نے اسے اترانے،دکھلاوے اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے لیے باندھ رکھا ہے۔‘‘ [2]
جانوروں کے حقوق کی بابت یہ چند احکام بطورِ نمونہ مذکور ہیں جن پر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے جذبہ سے اور ’’شریعتِ اسلامیہ‘‘،جو انسان و حیوان سب کے لیے خیر و رحمت کا باعث ہے،پر چلتے ہوئے ہر مسلمان ان احکامات پر عمل کرنے کے لیے کوشاں رہتا ہے۔