اسلامی اخوت اور اللہ کے لیے دوستی و دشمنی کے آداب

اسلامی اخوت کے حقوق

1: مال کے ساتھ ایک دوسرے کی ہمدردی کہ دونوں ضرورت کے وقت ایک دوسرے کی مالی امداد کریں۔ہر ایک اپنی نقدی،رقوم اور روپے پیسے کو مشترکہ گردانے،جیسا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص آیا اوربولا:میں آپ کو اللہ کے لیے بھائی بنانا چاہتا ہوں۔جناب ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا:بھائی بنانے کا حق جانتے ہو؟ اس شخص نے کہا کہ آپ بتائیے،آپ نے فرمایا:تو اپنے دینار و درہم کا مجھ سے زیادہ حق دار نہیں ہو سکے گا۔اس شخص نے کہا:ابھی میں اس درجہ تک نہیں پہنچا۔تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا:پھر تم چلے جاؤ۔[1] 2: دونوں ایک دوسرے کے معاون و مددگار بن جائیں جس طرح کہ ایک انسان اپنے ذاتی معاملات پر نظر رکھتا ہے،دونوں ایک دوسرے کے معاملات پر اسی طرح نظر رکھیں۔ہر ایک کی کوشش ہو کہ وہ اپنی ذات اور اپنے اہل و عیال سے زیادہ اپنے بھائی کو اہمیت دے،ہر تین دن بعد اس کے بارے میں دریافت کرے،بیمار ہے تو بیمار پرسی کرے،کسی کام میں ہے تو ہاتھ بٹائے،اسے کوئی بات بھول گئی ہے تو یاد دلائے،ملے تو خوش آمدید کہے،ساتھ بیٹھے تو مجلس میں وسعت پیدا کرے،بات کرے تو توجہ سے سنے۔ 3: اپنی زبان سے اپنے بھائی کا تذکرہ بجز اچھائی کے بالکل نہ کرے۔اس کے سامنے یا پیٹھ پیچھے اس کے عیوب ذکر نہ کرے،اس کے راز فاش نہ کرے،اس کی مخفی باتوں کی ٹوہ میں نہ لگا رہے،اور جب اسے دیکھے کہ وہ کسی ذاتی کام کی غرض سے کہیں جا رہا ہے تو(اندازے لگا کر)اس کام کا ذکر کرنے میں پہل نہ کرے اور نہ ہی جائے مقصد کو جاننے کی کوشش کرے(اگر وہ خود بتائے تو الگ بات ہے)اسے اچھائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے میں نرم رویہ اختیار کرے،گفتگو میں جھگڑنے کا انداز اور بحث و جدل کا طریق نہ اپنائے اور کسی معاملہ میں بھی طرزِ عتاب و اظہارِ ناراضی نہ کرے۔ 4: اپنی زبان کا استعمال اپنے بھائی کے لیے اس انداز میں کرے جیسا کہ وہ خود اپنے لیے اس سے چاہتا ہے۔دوست کو جو نام پسند ہے اسی سے بلائے۔لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں تو رشک اور خوشی سے اس کی اطلاع اسے دے۔نصیحت کو اتنا طول نہ دے کہ وہ اکتا جائے اور لوگوں کے سامنے پند و نصائح سے احتراز کرے کیونکہ وہ اس طرح شرمندہ ہو گا۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:جو اپنے بھائی کو پوشیدہ سمجھاتا ہے،وہ اس کی خیرخواہی کر تا ہے اور اس کی زینت کا باعث ہے اور جو اعلانیہ نصیحت کرتا ہے،وہ اسے رسوا کر تا اور معیوب ٹھہراتا ہے۔ 5: دوست کی لغزشوں کو معاف اور کوتاہیوں سے صرف نظر کرے،عیوب پر پردہ ڈالے اور اس کے بارے میں حسنِ ظن کو اپنائے۔اگر وہ خفیہ یا اعلانیہ کسی گناہ کا مرتکب ہو جائے تو اس سے قطع تعلق نہ کرے اور نہ اخوت ہی میں کمی آنے دے بلکہ اس کی توبہ اور رجوع کا انتظار کرے،ہاں،اگر وہ جرم پر اصرار اور ضد کرتا ہے تو پھر اس سے تعلقات منقطع کرے یا تعلقات بحال رکھے،یہ اس کی مرضی پر منحصر ہے مگر خیرخواہی اور وعظ و نصیحت برابر کرتا رہے،اس امید پر کہ وہ جرم سے رجوع کرلے گا اور اللہ تعالیٰ اسے معاف فرما دے گا۔ ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:جس وقت تیرا بھائی بدل جائے اور نیکی کے حال پر قائم نہ رہے تو اس وجہ سے اسے مت چھوڑ کیونکہ اگر وہ خراب ہو سکتا ہے تو پھر ٹھیک بھی تو ہو سکتا ہے۔[1] 6: اخوت میں وفاداری،ثابت قدمی اور دوام ضروری ہے،اس لیے کہ اخوت ترک کرنے میں ثواب کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے اگر تیرا یہ بھائی فوت ہو جائے توحسنِ سلوک اس کی اولاد اور اس کے دوستوں کی طرف منتقل ہو جانا چاہیے۔اسی میں اخوت کی حفاظت اور وفاداری کا دوام ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بڑھیا کا احترام کیا جو آپ کے پاس آئی اور جب آپ سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا: ’إِنَّھَا کَانَتْ تَأْتِینَا زَمَنَ خَدِیجَۃَ،وَإِنَّ حُسْنَ الْعَھْدِ مِنَ الإِْیمَانِ‘ ’’یہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ایامِ زندگی میں ہمارے پاس آیا کرتی تھی اور عہد کی بہترین پاسداری بھی ایمان میں داخل ہے۔‘‘[2] وفا داری کا یہ بھی تقاضا ہے کہ دوست کے دشمن سے تعلقات استوارنہ کیے جائیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:تیرا دوست تیرے دشمن کی باتیں ماننے لگ جائے تو یوں سمجھ کہ وہ دونوں تیری دشمنی میں برابر ہیں۔ 7: بھائی پر اتنی مشقت نہ ڈالے جو وہ برداشت نہ کر سکے یا وہ اس پر خوش نہ ہو اور نہ ہی اس کے مرتبہ و مال سے کوئی منفعت حاصل کرنے کی سعی کرے،اس لیے کہ جب اخوت کی بنیاد اللہ کی رضا ہے تو پھر اس کے ذریعے سے دنیاوی منافع حاصل کرنا اور اپنی ضرر رساں چیز یں دور کرنا کہاں درست ہے؟ پھر جب ایک شخص خود تکلف نہیں کر رہا تو دوسرے کو بھی نہ کرنے دے کیونکہ یہ دونوں باتیں اخوت کے مقاصد کو تباہ کرنے والی ہیں،ان کے اجروثواب میں کمی کا باعث ہوتی ہیں،حالانکہ اسی کا حصول تو ان کا اولین مقصد ہے، لہٰذااخوت میں تکلف اور تحفظ کی بساط لپٹی ہونی چاہیے ورنہ الفت کے بجائے منافرت پیدا ہو جائے گی،ایک روایت میں ہے:’أَنَا وَأَتْقِیَائُ أُمَّتِي بُرَآئُ مِنَ التَّکَلُّفِ‘ ’’میں اور میری امت کے متقی تکلف سے بری ہیں۔‘‘[1] ایک صالح زاہد کا مقولہ ہے:جس کا تکلف ساقط ہو جائے اس کی الفت اور دوستی میں دوام آجائے گا،جس کا بوجھ ہلکا ہو جائے،اس کی محبت پائیدار ہوجائے گی۔ اگر انس و اپنائیت کوپانا اور اجنبیت کا احساس دور کرنا ہے تو ایک بھائی دوسرے کے ساتھ ان چار امور میں شریک ہو جائے۔اس کے گھر کا کھانا کھانے میں،اس کے بیت الخلا کو استعمال کرنے میں اور اس کے ساتھ نماز پڑھنے میں اور اس کے پاس سونے میں۔ان کاموں کے نتیجہ میں اخوت مستحکم ہو گی اوروہ رعب،جس سے اجنبیت بڑھ رہی تھی،جاتا رہے گا۔اور(اس طرح)مانوسیت اور انبساط کا دور دورہ برقرار رہے گا۔ 8: اپنے ساتھی اور اس کی اولاد کے حق میں دعائے خیر کرے جو وہ اپنی ذات اور اپنی اولاد کے لیے کرتا رہتا ہے۔اس کا بھائی زندہ ہے یا فوت شدہ،حاضر ہے یا غائب اس کے حق میں دعائیں ضرور کرتا رہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’مَا مِنْ عَبْدٍ مُّسْلِمٍ یَّدْعُو لِأَخِیہِ بِظَھْرِ الْغَیْبِ إِلَّا قَالَ الْمَلَکُ:وَلَکَ بِمِثْلٍ‘ ’’کوئی مسلمان بندہ ایسا نہیں ہے جو اپنے(مسلمان)بھائی کی غیر حاضری میں اس کے لیے دعائے خیر کرتا ہو مگر فرشتہ(وہی دعا اس کے حق میں کرتے ہوئے)کہتا ہے اور تیرے لیے بھی اسی کے مثل حاصل ہو۔‘‘ [2] ایک زاہد کا مقولہ ہے:اس نیک شخص کے مانند کون ہو سکتا ہے؟ کہ جب اس کا بھائی مرتا ہے تو اس کے دیگر وارث،وراثت کی تقسیم میں لگے ہوتے ہیں اور ان پر اس کے ترکہ سے نفع اندوزی کی دھن سوار ہوتی ہے۔جبکہ یہ نیک شخص غمگین ہوتا ہے اور اسے صرف یہی فکرلاحق ہوتی ہے کہ میرے بھائی نے آگے کے لیے کیا جمع کیا ہے؟ اور اب وہ کس حال میں ہے؟ وہ رات کی تاریکیوں میں منوں مٹی کے نیچے مدفون بھائی کے لیے مغفرت کی دعائیں کر رہا ہوتا ہے۔