اسلامی اخوت اور اللہ کے لیے دوستی و دشمنی کے آداب
آدابِ مجلس
مسلمان کی ساری زندگی اسلامی ضوابط کے دائرے میں بسر ہوتی ہے اور ساتھیوں کے ساتھ اکٹھے بیٹھنے میں بھی وہ مندرجہ ذیل آداب کا التزام کرتا ہے:
1: کسی مجلس میں بیٹھنے سے پہلے اہلِ مجلس کو سلام کہتا ہے،پھر اسے مجلس میں جہاں جگہ ملے بیٹھ جاتا ہے،کسی کو اس کی نشست سے اٹھاتا ہے نہ ہی اکٹھے بیٹھے ہوئے دو آدمیوں کے درمیان بلااجازت بیٹھتا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:((لَا یُقِیمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَّقْعَدِہِ ثُمَّ یَجْلِسُ فِیہِ،وَلٰکِنْ تَفَسَّحُوا وَتَوَسَّعُوا))
’’تم میں سے کوئی شخص دوسرے کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائے کہ پھر وہاں خود بیٹھے،البتہ مجلس میں فراخی اوروسعت پیدا کرو۔‘‘[1]
ابن عمر رضی اللہ عنہما کو اگر کوئی جگہ دینے کے لیے اٹھتا تو وہ اس جگہ پر نہیں بیٹھتے تھے۔[2]
جابر بن سمر ہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تو جہاں مجلس پہنچی(ختم)ہوتی،وہیں بیٹھ جاتے۔
آپ کا ارشاد ہے:’لَا یَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ یُّفَرِّقَ بَیْنَ اثْنَیْنِ إِلَّا بِإِذْنِھِمَا‘
’’کسی آدمی کے لیے جائز نہیں کہ وہ بلااجازت دو آدمیوں کے درمیان(بیٹھ کر)تفریق کرے۔‘‘ [3]
2: اگر ایک آدمی کسی جگہ سے اٹھ کر چلا جاتا اور پھر واپس آ جاتا ہے تو وہی اس جگہ کا زیادہ مستحق ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’إِذَا قَامَ أَحَدُکُمْ مِّنْ مَّجْلِسِہِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَیْہِ فَھُوَا أَحَقُّ بِہِ‘
’’تم میں سے کوئی اگر مجلس سے اٹھ کر چلا جائے اور پھر واپس آئے تو وہی اس جگہ کا زیادہ حق رکھتا ہے۔‘‘[4]
3: حلقہ ٔ مجلس کے درمیان میں نہ بیٹھے،حذیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:
’أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم لَعَنَ مَنْ جَلَسَ وَسْطَ الْحَلْقَۃِ‘
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص پر لعنت کی ہے جو حلقۂ مجلس کے درمیان بیٹھتا ہے۔‘‘ [5]
4: مجلس میں وقار وسکینت کی حالت میں بیٹھنا چاہیے۔اس دور ان انگلیوں میں انگلیاں ڈالنا،داڑھی یا انگوٹھی کے ساتھ کھیلتے رہنا،دانتوں کا خلال کرنا،ناک میں انگلی ڈالنا،زیادہ تھوکنا،بکثرت کھنکھارنا،بکثرت چھینک یا جمائی لیتے رہنا معیوب اور برا ہے،لہٰذا ان امور سے احتراز کرے۔مجلس میں پرسکون بیٹھے،کم از کم حرکت کرے،گفتگو میں توازن اور الفاظ میں حسنِ ترتیب ملحوظ رکھے،درست بات کہے،نیز زیادہ بولنے،خوش طبعی اور تمسخر کرنے سے احتراز کرے۔اپنے خاندان،کاروبار اور اپنی اولاد،تالیفات یا کسی بھی کام پر فخریہ گفتگو نہ کرے۔
اگر دوسرا بات کر رہا ہے تو توجہ سے اس کی بات سننے میں خودپسندی کا مظاہرہ نہ کرے،اس کے سلسلۂ گفتگو کو قطع نہ کرے اور یہ بھی نہ کہے کہ دوبارہ سناؤ کیونکہ اس سے متکلم کی طبیعت پر برا اثر پڑتا ہے۔
ان باتوں کا التزام واہتمام مسلمان دو و جہ سے کرتا ہے:
ایک یہ کہ اس کی کسی عادت یا عمل سے کسی بھائی کو تکلیف نہ پہنچے کیونکہ مسلمان کو ایذا دینا حرام ہے۔
حدیث میں ہے:’اَلْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِّسَانِہِ وَیَدِہِ‘
’’مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں۔‘‘ [1]
دوسری وجہ یہ کہ اس طرح وہ ساتھیوں کی محبت اور الفت حاصل کرے گاکیونکہ شارع نے باہمی محبت و الفت کا حکم دیا ہے اور اس کی ترغیب دی ہے۔[2]
5: کسی وجہ سے راستہ میں بیٹھنا پڑے تو اس صورتِ حال میں درج ذیل باتوں کو اپنائے:
٭ نگاہ نیچی رکھے اور راستہ میں گزرنے والی مومن عورتوں یا اپنے گھر کے دروازہ میں کھڑی عورت یا کسی ضرورت کے تحت مکان کی چھت پر جانے والی یا کھڑکی سے جھانکنے والی پر نظر بازی نہ کرے،اسی طرح کسی بھی شخص کو حسد کی نظر سے نہ دیکھے اورنہ ہی کسی کو اپنے سے حقیر گردانے۔
٭ راستہ سے گزرنے والوں کو کسی انداز میں ایذا نہ دے،سب وشتم،عیب جوئی اور اعتراض بازی سے اجتناب کرے۔گالی گلوچ،مار کٹائی اور چھینا جھپٹی جیسی قبیح حرکتوں سے لوگوں کی آمدروفت بند نہ کر دے۔
٭ پاس سے گزرنے والے سلام کہیں تو ان کا جواب دے کیونکہ سلام کا جواب دینا واجب ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَإِذَا حُيِّيتُم بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا﴾ ’’جب تمھیں سلام کہا جائے تو اس سے بہتر سلام کہو یا اسی کو لوٹا دو۔‘‘ [3]
٭ اگراس کے سامنے معروف(نیکی)پر عمل متروک ہو جائے یا اسے معمولی سمجھا جانے لگے تو اس پرامربالمعروف لازم ہو جاتا ہے اور یہ اس کی ذمہ داری ہے جس سے وہ صرف اسی صورت ہی عہدہ برآ ہو سکتا ہے کہ وہ خود یہ فریضہ سرانجام دے۔
اس کی مثال یہ ہے کہ نماز کی اذان ہو جائے اور حاضرینِ مجلس نماز باجماعت کے لیے جانے کو تیار نہ ہوں تو اس پر فرض ہے کہ ان سے مؤذن کے اعلانِ نماز پر عمل کرائے کہ اس وقت یہی معروف ہے جس کا حکم دینا اس پر فرض ہے۔دوسری مثال یہ ہے کہ اگر کوئی بھوکا یا ننگا شخص اس کے قریب سے گزر رہا ہو تو اس پر لازم ہے کہ اسے کھانا کھلائے اور کپڑے پہنائے بشرطیکہ اسے اس کی استطاعت ہو،وگرنہ کسی اورصاحبِ استطاعت کو اس کی تلقین کرے،بھوکے کو کھانا کھلانا اور ننگے کو لباس مہیا کرنا نیکی ہے جس پر عمل کرنا واجب ہے۔
٭ اگر اس کے سامنے اللہ کی نافرمانی کی جا رہی ہو تو اس سے منع کرے کیونکہ منکر کو مٹانا اسی طرح ضروری ہے،جس طرح نیکی کا حکم کرنا ضروری ہے اور یہ ہر مسلمان کا وظیفۂ زندگی اور فریضۂ حیات ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’مَنْ رَّأٰی مِنْکُمْ مُّنْکَرًا فَلْیُغَیِّرْہُ‘
’’تم میں سے جو شخص برا ئی دیکھے تو اسے تبدیل کرے۔‘‘[1]
یعنی اگر اس کے سامنے ایک شخص کسی پر ظلم و زیادتی کر رہا ہویا اسے مار رہا ہو یا اس کا مال چھین رہا ہو تو اس وقت مظلوم کی امداد اپنی وسعت و طاقت کے مطابق اس پر ضروری ہے۔
٭ کوئی راستہ بھٹک جائے تو اس کی رہنمائی کرے،اگر کوئی کسی مکان کی تلاش میں ہے تو اس کا پتہ بتائے،کسی آدمی کی دریافت مطلوب ہو تو نشاندہی کرے۔یہ ان تمام اشخاص کی ذمہ داری ہے جو دکانوں،مکانوں کے سامنے اور عام تفریح گاہوں اور باغیچوں میں بیٹھے ہوتے ہیں۔راستے میں بیٹھنے کے متعلق ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ عالی ہے:
((إِیَّاکُمْ وَالْجُلُوسَ عَلَی الطُّرُقَاتِ،فَقَالُوا:مَالَنَا بُدٌّ،إِنَّمَا ھِيَ مَجَالِسُنَا نَتَحَدَّثُ فِیھَا قَالَ:فَإِذَا أَتَیْتُمْ إِلَی الْمَجَالِسِ فَأَعْطُوا الطَّرِیقَ حَقَّھَا،قَالُوا:وَمَا حَقُّ الطَّرِیقِ؟ قَالَ:غَضُّ الْبَصَرِ،وَکَفُّ الْأَذٰی،وَرَدُّ السَّلَامِ،وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ،وَنَھْيٌ عَنِ الْمُنْکَرِ))
’’راستوں میں بیٹھنے سے پرہیز کرو‘‘ لوگوں نے کہا:ہم ان مجالس میں روزمرہ کی بات چیت کے لیے بیٹھتے ہیں،اس کے بغیر ہمارا کوئی چارہ نہیں۔فرمایا:’’پھر جب تم اپنی مجالس میں آؤ تو راستے کے حقوق ادا کرو۔‘‘ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی:راستے کے کیا حقوق ہیں ؟ فرمایا:’’نظر نیچی رکھنا،ایذا نہ دینا،سلام کا جواب دینا،اچھائی کا حکم کرنا اور برائی سے روکنا۔‘‘ [2]
بیٹھنے کے آداب میں یہ انتہائی ضروری ہے کہ جب اٹھے تو کفارئہ مجلس کے طور پر استغفار کرے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مجلس سے اٹھتے تو یہ دعا پڑھتے:
’سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ،أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوبُ إِلَیْکَ‘
’’اے اللہ تو اپنی تعریف کے ساتھ(ہر عیب سے)پاک ہے،میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی(حقیقی)معبود نہیں ہے۔تجھ سے(اپنی کوتاہیوں کی)معافی چاہتا ہوں اور تیری طرف ہی رجوع کرتا ہوں۔‘‘ [1]
آپ سے اس(دعا کے)بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا:’’یہ مجلس کی کوتاہیوں کا کفارہ ہے۔‘‘