کھانے پینے کے آداب
کھانے سے پہلے کے آداب
مسلمان کی نظر میں سامانِ خور ونوش اصل مقصود نہیں،وہ محض اس لیے کھاتا پیتا ہے کہ بدن کو زندہ رکھ سکے اور اللہ کی عبادت کا فریضہ سرانجام دے سکے اور یہی عبادت اسے دارِ آخرت کی عزت وسعادت کا اہل بنائے گی۔
اس کا کھانا پینا محض کھانے پینے کی غرض کے لیے نہیں ہوتا اور نہ ہی لذت اور شوق کے لیے،یہی و جہ ہے کہ جب بھوک لگتی ہے تو کھاتا ہے،پیاس لگتی ہے توپیتا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
’نَحْنُ قَوْمٌ لَّا نَأْکُلُ حَتّٰی نَجُوعَ،وَإِذَا أَکَلْنَا فَلَا نَشْبَعُ‘
’’ہم بھوک کے بغیر نہیں کھاتے اور جب کھاتے ہیں تو شکم سیری نہیں کرتے۔‘‘ [2]
لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ خور و نوش کے شرعی آداب کی پابندی قبول کرے۔
کھانے سے پہلے کے آداب:
1: مسلمان کے لیے لازم ہے کہ وہ ان حلال اور پاک اشیاء سے کھانے پینے کی چیزیں تیار کرے جن میں حرام اور شبہ کا شائبہ نہ ہو۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ﴾’’اے ایمان والو!ہم نے جو پاک اور عمدہ روزی تمھیں دی ہے،اس سے کھاؤ۔‘‘ [3]
پاک روزی سے مراد وہ حلال ہے جس سے نہ تو گھن آتی ہو اور نہ وہ صحت کو خراب کرنے والی ہو۔
2: کھانے پینے میں اللہ کی عبادت کے لیے جسمانی قوت حاصل کرنے کی نیت کرے تاکہ خور و نوش اس کے لیے باعث ثواب ہو،اس لیے کہ اچھی نیت سے مباح کام بھی اطاعت شمار ہوتا ہے اور اس پر مسلمان کو اجر و ثواب دیا جاتا ہے۔
3: اگر ہاتھوں پر میل کچیل ہے یا صاف نہ ہونے کا گمان ہے تو کھانا شروع کرنے سے پہلے ہاتھ دھو لے۔
4: کھانا زمین پر کپڑے،دستر خوان پر رکھ کر کھائے کہ اس میں تواضع زیادہ ہے،میز،طشتری وغیرہ استعمال نہ کرے،
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’مَا أَکَلَ النَّبِيُّ صلی اللّٰه علیہ وسلم عَلٰی خِوَانٍ وَّلَا فِي سُکُرُّجَۃٍ‘
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میز یا طشتری پر رکھ کر کھانا نہیں کھایا۔‘‘ [1]
5: گھٹنوں کے بل اور دونوں قدموں کی پشت پر تواضع کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھائے یا دایاں گھٹنا کھڑا کرے اور بائیں پاؤں پر بیٹھ جائے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھا کرتے تھے۔چنانچہ آپ کا ارشاد عالی ہے:’إِنِّي لَا آکُلُ مُتَّکِئًا‘ ’’میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا۔‘‘[2]
نیز فرمایا:’آکُلُ کَمَا یَأْکُلُ الْعَبْدُ،وَأَجْلِسُ کَمَا یَجْلِسُ الْعَبْدُ فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدٌ‘
’’میں کھاتا ہوں جیسے بندہ کھاتا ہے اورمیں بیٹھتا ہوں جیسے بندہ بیٹھتا ہے اور میں بندہ ہی ہوں۔‘‘[3]
6: حاضر کھانے کو پسند کرے،عیب جوئی نہ کرے،پسند آتا ہے تو کھائے اگر کسی وجہ سے پسند نہیں ہے تو ترک کر دے۔ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
((مَا عَابَ النَّبِيُّ صلی اللّٰه علیہ وسلم طَعَامًا قَطُّ،إِنِ اشْتَھَاہُ أَکَلَہُ،وَإِنْ کَرِھَہُ تَرَکَہُ))
’’نبی ٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی کھانے میں عیب نہیں نکالا،اگر پسند ہوتا تو کھا لیتے اوراگر ناپسند ہوتا تو چھوڑ دیتے۔‘‘[4]
7: کوشش کرے کہ کھانا مہمان،گھر کے افراد یا خادم کے ساتھ کھائے۔حدیث نبوی ہے:((فَاجْتَمِعُوا عَلٰی طَعَامِکُمْ وَاذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ عَلَیْہِ یُبَارَکْ لَکُمْ فِیہِ))
’’اکٹھے کھانا کھاؤ،اس پر اللہ کا نام لو(بسم اللہ پڑھو)تمھارے لیے اس میں برکت ہو گی۔‘‘ [5]