مہمان نوازی کے آداب

مہمان نوازی کے آداب

مسلمان کا شیوہ ہے کہ وہ مہمان کی عزت کرتا ہے اور اس کی مناسب توقیر بجا لاتا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلْیُکْرِمْ ضَیْفَہُ‘ ’’جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے،اسے چاہیے کہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔‘‘[1] نیز فرمایا:((مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلْیُکْرِمْ ضَیْفَہُ جَائِزَتَہُ‘ قَالُوا:وَمَا جَائِزَتُہُ؟ یَا رَسُولَ اللّٰہِ!قَالَ:جَائِزَتُہُ یَوْمُہُ وَلَیْلَتُہُ وَالضِّیَافَۃُ ثَلَاثَۃُ أَیَّامٍ فَمَا بَعْدَ ذٰلِکَ فَھُوَ صَدَقَۃٌ)) ’’جو اللہ اورروزِ آخرت پر ایمان لاتا ہے،وہ اپنے مہمان کی عزت کرتے ہوئے اسے اس کا انعام دے۔‘‘ لوگوں نے پوچھا:اس کا انعام کیا ہے؟ فرمایا:’’اس کا انعام(پرتکلف دعوت)ایک دن اور ایک رات تک ہے جبکہ ضیافت(عام روٹین کا کھانا)تین دن کے لیے ہے،اس کے بعد(مہمان کو جو کچھ پیش کیا جائے گا وہ)صدقہ و خیرات ہے۔‘‘[2] بنا بریں مسلمان مہمانداری میں درج ذیل آداب کا التزام کرے: