مہمان نوازی کے آداب

دعوتِ طعام میں حاضر ہونے کے آداب

1: میزبانوں کو زیادہ انتظار نہ کرائے،اس طرح وہ پریشان ہوں گے اور نہ وہاں پہنچنے میں جلدی کرے کہ تیاری سے پہلے اچانک پہنچنے سے انھیں تکلیف ہو گی۔ 2: اندرون خانہ آنے کے بعد تواضع و انکساری کے ساتھ بیٹھ جائے اور صاحبِ خانہ جس جگہ بٹھائے وہیں بیٹھے،اس سے الگ نہ ہو۔ 3: میزبان مہمان کے لیے کھانا جلد پیش کرے،اس لیے کہ اس میں اس کی عزت و توقیر ہو گی اور شارع نے مہمان کی عزت کرنے کا حکم دیا ہے: ((مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلْیُکْرِمْ ضَیْفَہُ))’’جو اللہ اوریومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔‘‘ [4] 4: میزبان سب مہمانوں کے فارغ ہونے سے پہلے،بقیہ کھانا اٹھانے میں جلدی نہ کرے۔ 5: کفایت کے انداز سے کھانا پیش کرے،تھوڑی چیز پیش کرنا بے مروتی ہے اور زیادہ حاضر کرنا تصنع اور بناوٹ ہے، دونوں باتیں قابلِ مذمت ہیں۔ 6: جب کسی کے پاس مہمان بن کر جائے تو وہاں تین دن سے زیادہ نہ رہے۔اِلاّ یہ کہ میز بان مجبور کرے اور واپسی پر اس سے اجازت طلب کرے۔ 7: مہمان کی روانگی کے وقت میزبان گھر کے باہر تک اس کے ساتھ جائے کہ یہ سلف صالحین رحمۃ اللہ علیہم کا طرزِ عمل ہے اور شرعاً مہمان کی توقیر میں داخل ہے۔ 8: مہمان خوش ہو کر واپس جائے،چاہے اس کی خدمت میں کوئی کمی رہ گئی ہو،اس لیے کہ یہ بات خوش خلقی میں داخل ہے،جس پر روزہ و قیام کا ثواب ملتا ہے۔ 9: مسلمان کے پاس تین بستر ہونے چاہئیں: ایک اپنے لیے دوسرا بیوی کے لیے اور تیسرا مہمان کے لیے اور ان سے زائدممنوع ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:’فِرَاشٌ لِّلرَّجُلِ وَفِرَاشٌ لِّامْرَأَتِہِ وَالثَّالِثُ لِلضَّیْفِ،وَالرَّابِعُ لِلشَّیْطَانِ‘ ’’ایک بستر مرد کے لیے،دوسرا اس کی بیوی کے لیے،تیسرا مہمان کے لیے اور چوتھا شیطان کے لیے ہوتا ہے۔‘‘[1]