سفر کے آداب
احکامِ سفر
سفر ایک ایسی ضرورت ہے جس سے کسی کو بھی مفر نہیں،حج،عمرہ،جنگ،طلبِ علم،تجارت،دوستوں اور قرابت داروں کی ملاقات کے لیے سفر یا تو فرض ہے یا واجب۔[2] اسی لیے شارع نے سفر کے احکام و آداب بیان کرنے کا خاص طور پر اہتمام کیا ہے،چنانچہ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ احکامِ سفر کی آگاہی حاصل کرے اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کرے۔
احکامِ سفر:
1: چار رکعت والی نماز دو رکعت رہ جاتی ہے،البتہ نمازِ مغرب تین رکعت ہی پڑھے گا اسی طرح نمازِ فجر بھی کم نہیں ہوگی۔مسافر اپنا شہر چھوڑنے سے لیکر گھر واپس آنے تک قصر(نماز کم کرکے پڑھنا)کرے گا۔اِلَّا یہ کہ وہ کسی جگہ چار دن یا اس سے زیادہ رہنے اور مقیم ہونے کا ارادہ کر لے،پھر وہ چار رکعت والی نماز پوری ادا کرے گا اور جب وہاں سے گھر کی طرف واپس روانہ ہو تو پھر قصر شروع کر دے گا اور اپنے گھر واپس آنے تک قصر کرتا رہے گا۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ﴾
’’جب تم زمین میں سفر کرو تو نماز،قصر کرنے میں تم پر کوئی حرج نہیں ہے۔‘‘ [1]
انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلی اللّٰه علیہ وسلم مِنَ الْمَدِینَۃِ إِلٰی مَکَّۃَ فَکَانَ یُصَلِّي رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ حَتّٰی رَجَعْنَا إِلَی الْمَدِینَۃِ‘
’’ہم نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے مکہ مکرمہ گئے۔آپ(چار چار رکعت والی)نماز دو دو رکعت پڑھتے رہے،یہاں تک کہ مدینہ منورہ واپس آ گئے۔‘‘[2]
2: یہ ایک موقف ہے،جبکہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ 19 دن سے زیادہ قیام کا ارادہ ہوتو مقیم تصور ہوگا اورپوری نماز پڑھے ورنہ قصر ہی کرے گا،جبکہ بعض محققین کہتے ہیں کہ اپنی اقامت گاہ سے نکل کر جب تک آدمی کو مسافر سمجھا جاتا ہو تو وہ مسافر ہی ہے یہاں تک کہ وہ اپنی اقامت گاہ کو لوٹے۔
3: تین دن اور تین راتیں موزوں پر مسح کرنا جائز ہے۔علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’جَعَلَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ وَّلَیَالِیَھُنَّ لِلْمُسَافِرِ وَیَوْمًا وَّلَیْلَۃً لِّلْمُقِیمِ‘
’’رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم)نے مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں(موزوں پر مسح کے لیے)مقرر کیں اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات۔‘‘ [3]
4: پانی نہ ملے،تلاش میں تکلیف ہوتی ہو یا قیمت بہت زیادہ ہو تو پھر مسافر کے لیے تیمم جائز ہے۔ارشادِ باری ہے:
﴿وَإِن كُنتُم مَّرْضَىٰ أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِّنكُم مِّنَ الْغَائِطِ أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ﴾’’اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت کر کے آیا ہو یا تم نے عورتوں سے جماع کیا ہو اور پانی نہیں پاتے تو پاک مٹی سے تیمم کرو،پس چہرے اور ہاتھوں کا مسح کرلو۔‘‘ [4]
5: سفر میں روزہ افطار کرنے کی بھی اجازت ہے۔فرمانِ باری ہے:﴿فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ﴾
’’پس تم میں سے جو کوئی بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں(کے روزوں)سے گنتی(پورا کرنے کا حکم)ہے۔‘‘[1]
6: سفر میں نفل نماز سواری پر پڑھنا جائز ہے۔جیسا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر نفل پڑھ لیتے تھے،خواہ اس کا رخ جدھر بھی ہوتا۔[2]
7: اگر سفر میں جلدی ہو تو ظہر اور عصر،مغرب اور عشاء کی جمع تقدیم جائز ہے،یعنی ظہر اور عصر،ظہر کے وقت میں پڑھ لے اور مغرب اور عشاء،مغرب کے وقت میں اور اسی طرح جمع تاخیر بھی جائز ہے،یعنی ظہر کومؤخر کر کے عصر کے اول وقت میں پڑھے اور ساتھ ہی عصر بھی پڑھ لے اور اسی طرح مغرب اور عشاء،عشاء کے اول وقت میں پڑھ سکتا ہے۔
چنانچہ معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’غزوئہ تبوک میں ہم نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔آپ ظہرو عصر اکٹھی پڑھتے اور مغرب و عشاء بھی اکٹھی پڑھتے تھے۔‘‘[3]