اخلاقِ سیئہ

سستی و کاہلی

عاجزی اورسستی قابل مذمت صفات ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے درج ذیل الفاظ کے ساتھ تحفظ طلب فرماتے تھے: ((اَللّٰھُمَّ!إِنِّي أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْکَسَلِ وَالْجُبْنِ وَالْھَرَمِ وَالْبُخْلِ))’’اے اللہ!میں عاجزی و کاہلی،بزدلی،بڑھاپے اور کنجوسی سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں۔‘‘[2] بنا بریں کوئی بھی مسلمان عاجزی اورسستی وکاہلی کا مظاہرہ نہیں کرے گا بلکہ دانائی اور نشاط سے کام لے گا۔عمل اور محنت کو طرز زندگی بنائے گا،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کام کرنے اور محنت کرنے کی تلقین کی ہے،آپ نے فرمایا: ((اِحْرِصْ عَلٰی مَا یَنْفَعُکَ،وَاسْتَعِنْ بِاللّٰہِ وَلَا تَعْجَزْ،وَإِنْ أَصَابَکَ شَيْئٌ فَلَا تَقُلْ:لَوْ أَنِّي فَعَلْتُ کَانَ کَذَا وَکَذَا،وَلٰکِنْ قُلْ:قَدَّرَ اللّٰہُ وَمَا شَائَ فَعَلَ،فَإِنَّ ’لَوْ‘ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّیطَانِ)) ’’مفید کاموں کی حرص کر اور اللہ سے مدد طلب کر اور عاجزی کا مظاہرہ نہ کر۔اگر تجھے کوئی مصیبت پہنچے تو یہ نہ کہہ،اگر میں اس طرح کر لیتا تو یوں ہو جاتا،البتہ یہ کہہ کہ اللہ نے اسی طرح مقدر کیا تھا اور جو اس نے چاہا سو کیا۔اس لیے کہ ’’اگر‘‘کا لفظ شیطان کے عمل کادروازہ کھول دیتا ہے۔‘‘[3] یہ عاجزی،کاہلی،بزدلی اور کنجوسی کیوں ؟ اور اس بنیاد پر ترک عمل اور مفید کاموں کا چھوڑنا کس لیے؟ مومن تو نظام اسباب کا قائل ہے اور کائنات میں اس کے قانون ’’سنت‘‘کو تسلیم کرتا ہے اور رب کائنات نے انسانوں کو مسابقت اور ایک دوسرے کو رغبت دلانے کی دعوت دی ہے،جس میں ہر ایک دوسرے سے بڑھ کر اس مقصد کو پانے کی سعی کرتا ہے۔ارشادِ ربانی ہے: ﴿سَابِقُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ﴾ ’’اپنے رب کی بخشش کی طرف ایک دوسرے سے آگے بڑھو اور اس جنت کی طرف بھی جس کی چوڑائی آسمان و زمین کی طرح ہے۔‘‘[1] نیز فرمایا:﴿وَفِي ذَٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُونَ﴾’’اور(نجات کے)شائقین اس میں رغبت کریں۔‘‘[2] مسلمان بزدلی کا مظاہرہ نہیں کرتا اور نہ عمل ومحنت سے کنارہ کش ہوتا ہے۔اسے تو قضائے الٰہی کا یقین ہے،وہ تقدیر کو مانتا ہے اور یہ جانتا ہے کہ جو تکلیف اسے پہنچی،وہ ہٹ نہیں سکتی تھی اور جو ہٹ گئی ہے،وہ پہنچ نہیں سکتی تھی۔اچھے عمل کو وہ کیوں ترک کرے۔جبکہ وہ یہ قرآنی آواز سن رہا ہے:﴿وَمَا يَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَلَن يُكْفَرُوهُ﴾ ’’اور جو یہ اچھے کام کرتے ہیں،اس کی ہرگز ناقدری نہیں کی جائے گی۔‘‘[3] نیز ارشاد ہے:﴿وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنفُسِكُم مِّنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِندَ اللّٰهِ هُوَ خَيْرًا وَأَعْظَمَ أَجْرًا﴾ ’’اور جو نیک عمل تم اپنے لیے آگے بھیج رہے ہو،اسے اللہ کے ہاں بہتر اور ثواب میں بہت بڑا پاؤ گے۔‘‘[4] سستی و کاہلی کے مظاہر: ٭ کاہل آدمی نماز کی اذان سن کر سو جاتا ہے یا باتوں میں لگا رہتا ہے یا کسی اور کام میں مشغول رہتا ہے اور جب دیکھتا ہے کہ نماز کا وقت ختم ہونے کو ہے تو اٹھ کر آخر میں نماز پڑھتا ہے۔ ٭ ضروری کام ترک کر کے غیر ضروری تفریح میں مشغول رہے یا دوستوں کے ساتھ گپ شپ میں لگا رہے یا بازاروں میں آوارہ گردی کرتا رہے،یہ بھی سستی اور کاہلی کی وجہ سے ہے۔ سستی و کاہلی کے نقصان: ایسا انسان دنیا و آخرت کے مفید کام نہیں کرتا،مثلًا:علم حاصل کرنا،زمین کاشت کرنا،رہائشی مکانات وغیرہ کی تعمیر اور عذر یہ تراشتا ہے کہ بڑھاپے کی وجہ سے میں کام نہیں کر سکتا یا یہ کام کرنے کی میرے اندر استعداد نہیں ہے یا میرے پاس اس کام کے کرنے کا وقت ہی نہیں ہے۔اسی طرح وہ نیکی اور خیرات کے مواقع حاصل ہونے کے باوجود ان سے استفادہ نہیں کرتا۔حج کرنے کی فرصت اور قدرت ہے مگر حج نہیں کرتا،سامنے بے نوا ضرورت مند موجود ہیں مگر ان کی حاجت برآری نہیں کرتا،رمضان المبارک کا مہینہ رحمت بن کر آ گیا مگر یہ راتوں کا قیام نہیں کرتا۔ماں باپ دونوں یا ایک زندہ موجود ہیں اور ان کی خدمت کرنے کی استطاعت بھی ہے مگر عجز و کاہلی یا کنجوسی و بخل یا نافرمانی کی وجہ سے ان کی خدمت نہیں کرتا۔اللہ ایسی صورت حال سے ہمیں اپنی پناہ میں رکھے۔ ایک انسان ذلت و توہین سے نکل کر عزت و وقار کی زندگی میں محض سستی کی وجہ سے داخل نہیں ہو رہا اور بے عزتی کی زندگی بسر کر رہا ہے۔ ((اَللّٰھُمَّ!إِنَّا نَعُوذُبِکَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْکَسَلِ،وَنَعُوذُبِکَ مِنَ الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ،وَنَعُوذُ بِکَ مِنْ کُلِّ خُلُقٍ لَّا یُرْضِي وَعَمَلٍ لَّا یَنْفَعُ)) ’’اے اللہ!ہم عاجزی اور سستی سے تیری حفاظت چاہتے ہیں اور بزدلی اور کنجوسی سے تیری پناہ طلب کرتے ہیں اور ہر ناپسند عادت اور غیر مفید عمل سے تیری حفاظت کی درخواست کرتے ہیں۔‘‘