قضائے حاجت کے آداب

استنجا کرنے کے آداب

1: ہڈی یا لید سے صفائی نہ کرے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ((لَا تَسْتَنْجُوا بِالرَّوْثِ وَلَا بِالْعِظَامِ،فَإِنَّہُ زَادُ إِخْوَانِکُمْ مِّنَ الْجِنِّ))’’لید اور ہڈی سے استنجا نہ کرو،کہ یہ تمھارے بھائی جنوں کی خوراک ہے۔‘‘[5] اور ایسی چیز بھی استعمال نہ کرے جو اس مقصد کے لیے نہ ہو بلکہ اس میں کوئی اور فائدہ ہو،جیسے کپڑا یا لکھنے کے لیے کاغذ وغیرہ یا ایسی پاک چیز جسے گندگی کے ازالہ میں استعمال کرنا اس کے احترام کے خلاف ہے،جیسے کھانے کی اشیاء وغیرہ۔اس لیے کہ منافع ضائع کرنا اور مصالح کو خراب کرنا شرعاً حرام ہے۔ 2: دائیں ہاتھ سے ڈھیلے استعمال کرنا،استنجا کرنا یا شرم گاہ کو چھونا حرام ہے۔ ارشاد نبوی ہے:((لَا یُمْسِکَنَّ أَحَدُکُمْ ذَکَرَہُ بِیَمِینِہِ وَھُوَ یَبُولُ،وَلَا یَتَمَسَّحْ مِنَ الْخَلَائِ بِیَمِینِہِ)) ’’تم میں سے کوئی پیشاب کرتے وقت اپنے ذکر(شرم گاہ)کو اپنے دائیں ہاتھ سے نہ چھوئے اور نہ دائیں ہاتھ سے استنجا کرے۔‘‘[1] 3: طاق ڈھیلے استعمال کرے،اگر تین کے ساتھ صفائی نہ ہو تو پانچ استعمال کرے۔سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ((نَھَانَا(رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم)أَنْ نَّسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃَ لِغَائِطٍ أَوْبَوْلٍ،أَوْ أَنْ نَّسْتَنْجِيَ بِالْیَمِینِ أَوْ أَنْ نَّسْتَنْجِيَ بِأَقَلَّ مِنْ ثَلَاثَۃِ أَحْجَارٍ،أَوْ أَنْ نَّسْتَنْجِيَ بِرَجِیعٍ أَوْ بِعَظْمٍ)) ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع کیا ہے کہ پاخانہ یا پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف منہ کریں یا دائیں ہاتھ سے استنجا کریں یا تین ڈھیلوں سے کم سے استنجا کریں یا لید اور ہڈی سے استنجا کریں۔‘‘[2] 4: ڈھیلے اور پانی کے استعمال میں پہلے ڈھیلے اور بعد ازاں پانی سے استنجا کرے۔اگر ایک پر کفایت کرنا چاہے تو بھی جائز ہے،البتہ پانی بہتر ہے۔ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا عورتوں سے خطاب کرتے ہوئے فرماتی ہیں:((مُرْنَ أَزْوَاجَکُنَّ أَنْ یَّسْتَطِیبُوا بِالْمَائِ فَإِنِّي أَسْتَحْیِیھِمْ،فَإِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم کَانَ یَفْعَلُہُ)) ’’اپنے خاوندوں سے کہو کہ پانی کے ساتھ استنجا کیا کریں۔مجھے ان سے(یہ بات کرتے)شرم آتی ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔‘‘[3]