درندوں اورجمادات کا گفتگو کرنا
درندوں اورجمادات کا گفتگو کرنا
۱۱۶۔درندوں اورجمادات کا گفتگو کرنا
۱۱۷۔لاٹھی (کوڑے) کا ایک کونا بات کرے گا
۱۱۸۔جوتے کا تسمہ بات کرے گا
۱۱۹۔انسان کی ران اس کے گھر والوں کی متعلق خبریں دے گی
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خبر بھی دی ہے کہ قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ درندے، وحشی جانور باتیں کرنے لگیں گے اور انسان کا کوڑا ،جوتے کا تسمہ اور انسان کی ران باتیں کریں گے۔ سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ درندے انسانوں سے باتیں کریں گے۔ اور یہاں تک کہ اس کے کوڑے کا کونا باتیں کرے گااس کے جوتے کا تسمہ باتیں کرے گاا ور اس کی ران اسے خبر دے گی کہ اس کے بعد اس کے اہل خانہ نے کیا کیا ۔‘‘ (ترمذی)
وحشی درندوں سے مراد جنگلی درندے ہیں جیسے شیر، بھیڑیا اور ہر چیز پھاڑ کرنے والا جانور۔ یہ عمومی طور پر انسانوں سے بات چیت ہوسکتی ہے، اس میں مومن اور کافر کی کوئی تمیز نہیں ۔
انسان کے ساتھ اس کے کوڑے کا باتیں کرنا اور ران کا اس کو خبر دینا کہ اس کے بعد اس کے اہل خانہ نے کیا کیا یہ دو نشانیاں ایسی ہیں جو ابھی تک پیش نہیں آئیں لیکن ایسا ضرور ہو کر رہے گا۔ اس لیے کہ ان کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کی طرف سے دی ہے۔
بعض محققین کا کہنا ہے کہ کوڑے کا کلام کرنا، تسمے کا باتیں کرنا اورران کا خبر دینا اس سے مقصود ہمارے اس دور میں نئی نئی ایجادات ہیں جیسے موبائل فون، پیغام رسانی کے ذرائع اور دیگر اس قسم کے وسائل نشرو اشاعت و ذرائع ابلاغ۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ حدیث اپنے ظاہری الفاظ کے مطابق ہی پوری ہوگی اور ایسا وقت ضرور آئے گا جب یہ چیزیں انسانوں کی طرح باتیں کریں گی۔ واللہ اعلم۔
چوپائے کا کلام کرنا:
یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں پیش آچکاہے۔ سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
’’ایک اعرابی کسی شہر کے نواح میں اپنی بکریاں چرا رہا تھا، کہ اچانک ایک بھیڑیا آیا ؛ اوراس کے ریوڑ سے ایک بکری اٹھاکر لے گیا۔ اعرابی نے اس بھیڑیے کو پالیا اور اس سے بکری چھڑا لی۔ اور اسے مار بھگایا، بھیڑیاوہاں سے چل پڑااور پھر اپنی دم ہلاتے ہوئے مڑکر اس دیہاتی سے مخاطب ہوا اور کہا : تم نے مجھ سے وہ رزق چھین لیا جو رزق اللہ نے مجھے دیا تھا۔ چرواہاکہنے لگا: عجیب بات ہے بھیڑیا مجھ سے باتیں کررہا ہے؟ تو بھیڑیے نے کہا:اللہ کی قسم! تو اس سے زیادہ عجیب چیز چھوڑے گا۔ چرواہے نے کہا: اس سے بڑھ کر عجیب کیا ہے ؟ بھیڑیے نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو کھجوروں کے باغوں اور دو حروں (سنگلاخ مقامات )کے بیچ لوگوں سے گزری ہوئی باتیں اور آنے والی باتیں بیان کررہے ہیں ۔ پھر دیہاتی اپنی بکریوں کوہانکتے ہوئے مدینہ آگیا۔ پھروہ چلتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا، اور آپ کے دروازے پر دستک دی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تو فرمایا : بکریوں والا اعرابی کہا ں ہے ؟ وہ اعرابی کھڑا ہوگیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں سے بیان کرو جو کچھ تم نے دیکھا ہے اور جو کچھ تم نے سناہے۔ دیہاتی نے لوگوں سے وہ سب کچھ بیان کیا جو اس نے بھیڑیے میں دیکھا یا اس سے سنا۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ اس نے سچ کہا، قیامت سے پہلے ایک نشانی ہوگی۔اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تم میں سے کوئی ایک اپنے گھر سے نکلے گا، اور اس کا جوتا یا اس کا کوڑا، یا اس کی لاٹھی اس کو خبر دیں گے جو کچھ اس کے بعد اس کے گھروالوں نے کیا ہے ۔‘‘ (مسند احمد)
بیل کا کلام کرنا:
یہ بھی اس سے پہلے گزر چکاہے۔ سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیا ن کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ ایک انسان ایک بیل پر بوجھ لادے چلائے لے جارہا تھا کہ بیل اس کی طرف متوجہ ہوا اور کہنے لگا: مجھے اس کام کے لیے نہیں پیدا کیا گیا لیکن مجھے کھیتی باڑی کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ لوگ حیرانگی اور خوف سے کہنے لگے : سبحان اللہ ! بیل بھی بات کرتا ہے ؟ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’میں اس کو سچ سمجھتا ہوں ، اور ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما بھی اس کوسچ سمجھتے ہیں ۔‘‘ (مسلم)
وحشی جانوروں اور حیوانات کا کلام کرنا جو کہ حدیث میں وارد ہوا ہے، یہ اپنے ظاہر کے مطابق حقیقی کلام ہے۔ واللہ اعلم۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’ وہ جتنا چاہے اور زیادہ پیدا کرسکتاہے بے شک اللہ تعالیٰ سب کچھ کر سکتا ہے ۔‘‘ (فاطر:۱)