یت اللہ کا حج ترک کردینا

یت اللہ کا حج ترک کردینا

آخری زمانے میں پیش آنے والے واقعات اور فتنوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کعبۃ اللہ پر ایسا زمانہ آئے گا جب حج اور عمرہ ختم ہوجائے گا۔ سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ بیت اللہ کا حج ختم نہ ہو جائے ۔‘‘ (ابو یعلی) مگر یہ نشانی بہت ہی آ خر میں ہوگی اس لیے کہ یاجوج ماجوج کے بعد بھی حج ہوتا رہے گا۔سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ضرور بالضرور اس گھر کا حج کیا جائے گا، اور اس کاعمرہ بھی کیا جائے گا، یاجوج ماجوج کے نکلنے کے بعد بھی ۔‘‘ (بخاری) شاید کہ اس حدیث ’’ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ بیت اللہ کا حج ختم نہ ہو جائے ۔‘‘سے مراد یہ ہو کہ جنگوں کے زمانے میں بیت اللہ کا حج منقطع ہوجائے۔ اور پھر اس کے بعد دوبارہ حج کیا جانا شروع ہوجائے، یا ایسے بھی ہوسکتا ہے کہ بعض اقوام کوحج سے روک دیا جائے۔واللہ اعلم